ہم اور ہمارے بچے


kid علم اور ہنر سے لیس اِنسان اپنے خاندان، شہر اور ملک کے لیے حقیقی سرمائے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِنسانی بچہ سرمائے کے انہی ذخائر میں ابتدائی سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہم نے بچوں کے معاملے میں غالب کا اُصول اپنا رکھا ہے یعنی ’میٹھے ہوں اور بہت ہوں‘ اور یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ اِنسانی بچے بہت سے ہوں تو میٹھے نہیں ہوں گے۔ محض معاشی پہلو سے قطع نظر اِنسانی بچے خود رو پودے نہیں۔ وقت کی شاہ راہ کے دو رویہ کھڑی اِن نازک قلموں کی احتیاط سے کانٹ چھانٹ کی جاتی ہے، اِنھیں وقت پر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، اِن کی جڑوں میں زرخیز مٹی اور سر پر شفقت اور اِلتفات کا دھانی بادل چاہیے۔ بچوں کو یہ اِحساس ملنا چاہیے کہ دُنیا میں اِن کی آمد ایک خوش گوار واقعہ ہے اور اِنھیں ایک قیمتی متاع تصور کیا جاتا ہے۔ غذا، لباس اور علاج معالجے کی بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں، اُنھیں بچپن کی معصومیت سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیاجاتا ہے، اِستحصال، تشدداور غفلت سے تحفظ دیا جاتا ہے۔ اِن کی سوجھ بوجھ کی مناسبت سے تدریجی طور پر اِنھیں زندگی کرنے کے رنگ ڈھنگ سکھائے جاتے ہیں۔ اپنی بے کراں صلاحیتوں اور بے پایاںامکانات سے آشنا کیا جاتا ہے اور پھر معاشرہ اُن سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے عرصہ حیات میں مفید اور ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرتے ہوئے اِنسانی اِرتقا کے سفر میںنئے دَر واکریں گے۔اِن سادہ سی باتوں میںعلامت اور اِستعارے کے بہت سے پھول ٹانکے جاسکتے ہیں لیکن یہ لوازمات پورے کرنا معاشرے کا فرض ہے اور بچوں کا حق۔
اِس تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میںزندہ پیدا ہونے والے ایک ہزار بچوں میں سے 76 شیر خوارگی ہی میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔لاکھوں بچوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔تین میں سے دو بچے کتاب اور تختی سے محروم رہتے ہیں، ہمارے گھروں، مدرسوںاور گلی کوچوں میں بچوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد عام ہے۔ بچوں کے ساتھ ہمارے رویے تحکمانہ ہیں، شرم وحیا کے منافقت آمیزدعوے کرنے والے معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کوسِرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔لاکھوں بچوں کی صلاحیتیں اور امکانات بچپن میں چائے کی دُکانوں، آٹو ورکشاپوں اور قالین بافی جیسے کاموں کی نذر ہوجاتے ہیں۔ہمارے ہاں ہر برس سیکڑوں بچے اغوا کیے جاتے ہیں، ہزاروں بچے نامساعد حالات سے تنگ آکر گھروں سے بھاگ نکلتے ہیں۔سکولوں میں تعلیم دینے پر مامور خواتین وحضرات کی بڑی تعداد تمدنی تربیت سے محروم ہے۔ سیکڑوں بچے جیلوں میں ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں۔ اَن گنت بچوں کے لیے صاف ستھرے لباس اورپاو¿ں میں جوتے کا خواب پورا نہیں ہوتا۔ اِن کی تفریح عصرِحاضر سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ تعلیم اِنھیں معاشرے میں قابل ِاحترام مقام کی ضمانت دیتی ہے۔کہاں پھولوں کی وہ پھلواری اور کہاں خار وخس کا یہ جہاں!
تو کیا ہمیں اپنے بچوں سے محبت نہیں؟ بچوں کے بارے میں ہمارے رویے دراصل اِنسانی زِندگی اور معیارِ زِندگی کے بارے میں ہمارے تصور ات کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں بالغ افراد کے تصورِ زِندگی میں مایوسی، نااُمیدی، بے گانگی اور اذیت کے عناصر پائے جاتے ہوں، جہاں بڑوں کی دُنیا میں علم کی جا طاقت، اہلیت کی بجائے رتبے، شرکت کی بجائے جبر اور رواداری کی جگہ منافرت کے سکے رائج ہوں۔جہاں اِستحقاق کی بجائے ا ِستحصال کا دور دورہ ہو، جہاں زر دیانت سے گھر نہ بدلتا ہو، وہاں بچوں کے بارے میں یکسر مختلف رویوں اور افعال کی توقع رکھناخود فریبی ہے۔ اِنسانی فرد یا اِجتماع کے رویّے خانوں میں نہیں بانٹے جا سکتے۔ بچوں کے حقوق اور تحفظ کی ذمہ داریاں ایسے جمہوری، روادار، علم دوست اور مائل بہ ترقی معاشرے ہی میں پوری کی جا سکتی ہیںجہاں اِنفرادی اور اِجتماعی دائروں میں انصاف، علم اور محنت کے اُصول کار فرما ہوں۔ بچوں کے حقوق دستکاری کا نمایشی نمونہ نہیں جنہیںڈرائنگ روم کی دیوار پر سجالیا جائے۔ بچوں کے حقوق اِنسانی ترقی اور اِنسانی امکان سے وابستگی کا عہد ہیں جو فرد اور اِجتماع کو سنجیدگی سے نبھانا ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments