اوئے! جو ملا کا گستاخ ہے وہ ۔۔۔


adnan-khan-kakar-mukalima-3

جانثار خان مظلوم دھم سے کرسی پر بیٹھے اور میرے سامنے رکھا ہوا پانی کا پورا گلاس ایک ہی سانس میں چڑھا گئے۔

ہم: خیر تو ہے جانثار مظلوم صاحب؟ آپ کا بلڈ پریشر کچھ ہائی لگتا ہے۔ کیا نواز شریف نے کسی نئے پراجیکٹ کا اعلان کر دیا ہے جو آپ اتنے خفا ہیں؟ نواز شریف کے ترقیاتی کاموں کی خبر پر ہی آپ اتنے شدید ناراض دکھائی دیتے ہیں، حکومتی کرپشن یا نااہلی کی خبر پر تو آپ کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی ہے۔

جانثار مظلوم: جیسا نواز شریف ہے ویسے ہی تم ہو، پٹواری نہ ہوئے تو۔
ہم: مظلوم بھیا ہم کب سے ن لیگ کے حامی ہو گئے ہیں؟ آپ کی علامات تو وہی ہیں جو مالیخولیا کے مرض میں بیان کی جاتی ہیں۔ ہر در و دیوار کے آگے پیچھے آپ کو پٹواری دکھائی دیتے ہیں اور آپ ڈرے سہمے جاتے ہیں۔
جانثار مظلوم: جو عمران خان کے ساتھ نہیں ہے وہ ن لیگی پٹواری ہے۔ دیکھو تم نے ملا کے خلاف جو لکھا ہے، وہ قابل برداشت نہیں ہے۔ بندے میں اتنی جرات تو ہونی چاہیے کہ سیدهی بات کرسکے۔ کیا ملا ملا لگا رکهی ہے۔ صاف اسلام کا نام لیتے ہوئے ڈر کیوں لگتا ہے؟
ہم: بخدا ہم نے کیا لکھ دیا ہے؟ کچھ ہمیں بھی تو بتائیں؟
جانثار مظلوم: دیکھو تم نے لکھا ہے کہ ’آج دینِ حق کفارکے دین سے زیادہ رسوا ہے کیونکہ ہمارا ملا مومنوں کو کافر بنانے پر لگا ہوا ہے۔ یہ کم نگاہ، کم سمجھ اور ہرزہ گرد ہے جسکی وجہ سے آج ملت فرد، فرد میں بٹ گئی ہے۔ مکتب، ملا اور اسرار قرآن کا تعلق ایسا ہی ہے جو کسی پیدائشی اندھے کا سورج کی روشنی سے ہوتا ہے۔ آج کافر کا دین فکراور تدبیرِ جہاد ہے جبکہ ملا کا دین فی سبیل اللہ فساد ہے‘۔
ہم: بخدا یہ تو واقعی ہم نے کل پرسوں ہی ایک جگہ لکھا تھا۔
جانثار مظلوم: دیکھو اگر تمہیں ملا سے اتنی ہی تکلیف ہے تو پھر تو کفار کے ملک چلے جاؤ۔ یہ ملک اقبال اور قائد اعظم نے مسلمانوں کے رہنے کے لیے بنایا ہے اور ملا کو برا کہنے والا ہرگز بھی مسلمان نہیں ہو سکتا ہے۔ تم نے جو یہ لکھا ہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ تم ملا کے پردے میں اسلام کے خلاف بات کرنے کے خواہش مند ہو۔ ایسے شخص میں تو ہمیں صاف صاف کفر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں رہنا ہے تو تمہیں اقبال کے افکار کے مطابق رہنا ہو گا۔ حکیم الامت ہی اس ملک کے نظریاتی بانی ہیں اور تمہیں ان کے حکم پر چلنا ہو گا۔

ہم: بات تو آپ کی درست ہے۔ ایسی بات کرنے والے پر تو کفر کا فتوی واقعی لگتا ہے۔ لیکن جب بات سمجھ میں آ جائے تو پھر اسی شخص کا نام رحمت اللہ علیہ کہہ کر لیا جاتا ہے۔
جانثار مظلوم: کیا مطلب؟ کیا اب تمہارا نام لے کر رحمت اللہ علیہ بھی کہا جائے جبکہ تم ملا کو برا کہتے ہو اور یہ بہتان لگاتے ہو کہ اس کا دین محض فساد ہے، جبکہ کفار کی مداح سرائی میں تم اتنے بڑھ گئے ہو کہ مسلمانوں کی بجائے تم ان کی صلیبی جنگ کو جہاد کہتے ہو؟ تم اقبال کے افکار کے مطابق نہیں سوچ سکتے تو جاؤ جہنم میں اور کفار کے ملک چلے جاؤ۔
ہم: جانثار مظلوم بھائی، بدقسمتی یا خوش قسمتی سے جن الفاظ پر آپ ناراض ہو رہے ہیں، یہ عاجز محض ان کو نقل کرنے کا مجرم ہے۔ یہ کسی اور کے الفاظ ہیں۔
جانثار مظلوم: کس کم بخت اور اسلام کو نہ سمجھنے والے گمراہ شخص کے الفاظ ہیں؟
confusedwmہم: جس شخص کے ہیں وہ یہ اشعار کہہ گزرا ہے کہ

دین حق از کافری رسوا تر است
زانکہ ملا مومن کافر گر است
کم نگاہ و کور ذوق و ہرزہ گرد
ملت از قال و اقولش فرد فرد
مکتب و ملا و اسرارِ کتاب
کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب
دین کافر فکر و تدبیر و جہاد
دین ملا فی سبیل اللہ فساد

جانثار مظلوم: کیا مطلب ہے اس کا؟ مجھے ترکی اور فارسی وغیرہ کی شد بد نہیں ہے۔
ہم: فارسی تو ہمیں بھی نہیں آتی ہے لیکن سنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ ’آج دینِ حق کفارکے دین سے زیادہ رسوا ہے کیونکہ ہمارا ملا مومنوں کو کافر بنانے پر لگا ہوا ہے۔ یہ کم نگاہ، کم سمجھ اور ہرزہ گرد ہے جسکی وجہ سے آج ملت فرد فرد میں بٹ گئی ہے۔ مکتب، ملا اور اسرار قرآن کا تعلق ایسا ہی ہے جو کسی پیدائشی اندھے کا سورج کی روشنی سے ہوتا ہے۔ آج کافر کا دین فکراور تدبیرِ جہاد ہے جبکہ ملا کا دین فی سبیل اللہ فساد ہے‘۔
جانثار مظلوم: افسوس۔ اقبال کے پاکستان میں ہم نے یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ لوگ ایسی اسلام دشمن شاعری کریں گے۔ کس نے یہ اشعار کہے ہیں؟
ہم: اس شخص کا نام ہے سر ڈاکٹر حکیم الامت شاعر مشرق فکری بانی پاکستان محمد اقبال سیالکوٹی ثم لاہوری۔
جانثار مظلوم: کیا مطلب؟ یہ تو دل میں بغض اسلام رکھنے والے گمراہوں کی پوری ٹیم لگتی ہے۔ ہمارا خیال تو تھا کہ یہ کسی ایک شخص کی کارستانی ہے۔
ہم: آسان الفاظ میں یہ علامہ اقبال کے اشعار ہیں جو کہ جاوید نامہ میں موجود ہیں۔ اب آپ کے حکم کے مطابق تو علامہ اقبال بھی پٹواری ہیں اور ملا کے پردے میں اسلام پر تنقید کر رہے ہیں۔
جانثار مظلوم: علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ نے کسی وجہ سے ملا کو یہ سب کچھ کہا ہو گا۔ وہ تو نہایت نیک شخص ہیں۔
ہم: لیکن آپ تو فتوی دے چکے ہیں کہ ملا کو برا کہنے والا دراصل اسلام کو برا کہہ رہا ہوتا ہے۔
جانثار مظلوم: یہ معاملہ تم پٹواریوں کی سمجھ سے باہر ہے۔ اس زمانے کے ملا تحریک پاکستان کے مخالف تھے اس لیے اقبال نے یہ کہا تھا۔
ہم: اقبال کے زمانے میں تحریک پاکستان شروع نہیں ہوئی تھی۔ بہرحال اب آپ کا یہ موقف ہے کہ آج کے زمانے میں ملا کو برا کہنا در حقیقت اسلام کو برا کہنا ہے؟
جانثار مظلوم: بالکل یہی بات ہے۔ جو شخص ملا کو برا کہے وہ اصل میں دل ہی دل میں اسلام کو برا کہتا ہے۔ جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی تو ملا کے پردے میں اسلام کو برا کہنے کہنے والے تمام لوگوں کو قانون کے شکنجے میں جکڑ کر جیل میں چکی پسوائی جائے گی۔
ہم: بھائی جانثار یہ جان کر خوشی ہوئی کہ تحریک انصاف کی حکومت سب پر یکساں انصاف کرے گی اور سب سے پہلے اپنے Imran-khan-angryچیئرمین صاحب کی چکی پر ستم کرے گی۔
جانثار مظلوم: کیا مطلب ہے تمہارا؟
ہم: آج کے سیاستدانوں میں ملا کے متعلق سب سے زیادہ برے الفاظ عمران خان ہی فرماتے ہیں۔ وہ بھی جلسوں میں لاؤڈ سپیکر پر اور پریس کانفرنسوں میں سارے پاکستان کے سامنے۔ ملا کو تو چلو علامہ اقبال یہ کہہ گزرے ہیں کہ اس کا دین فی سبیل اللہ فساد ہے، لیکن عمران خان تو علما کو بھی نہیں بخشتے ہیں اور پاکستان میں علما کی سب سے بڑی جماعت جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ کے متعلق کیا کیا بد گوئی کرتے رہے ہیں۔
جانثار مظلوم: لیکن ملا ڈیزل ہے بھی تو کرپشن اور موقع پرستی کا بادشاہ، ڈیزل کے پرمٹ پر بک جاتا ہے۔ خان صاحب اس کے متعلق تو سو فیصد سچ کہتے ہیں۔ ویسے کیا کہا ہے خان صاحب نے؟
ہم: مولانا پر ان الزامات کو کوئی ثبوت ہے آپ کے پاس؟ مولانا کے متعلق عمران خان کہتے ہیں کہ ’زرداری اور آپ کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی سازش کی کیا ضرورت ہے، فضل الرحمان کے دور میں پشتونوں کا خون ہوا، مولانا فضل اُلرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو کسی اور ایجنٹ کی کیا ضرورت ہے؟‘۔ سمن آباد میں جلسے کے دوران عمران خان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ڈیزل کی قیمت بڑھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ”فض الرحمان“ پر پچاس فیصد جی ایس ٹی لگا کر اس کو اور مہنگا کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا حقیقی نام بھول گیا ہے اور اب تحریک انصاف والے انہیں ”مولانا ڈیزل “کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔ عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کو منافق اعظم قرار دیا ہے۔
کوچے کوچے میں جا کر ایسی ایسی بد کلامی کی ہے کہ کسی کو برا نہ کہنے والے مولانا فضل الرحمان نے بھی تنگ آ کر عمران خان میں وہی کفر دیکھنا شروع کر دیا ہے جو کہ آپ کو ملا کے خلاف بات کرنے والے میں دکھائی دیتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ’عمران خان کو ووٹ دینا شرعاً حرام ہے۔ ہمیں یقین تھا کہ عمران خان یہودی اور قادیانی لابی کے ایجنٹ ہیں‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان مولانا سعید احمد عثمانی کے نام سے جعلی فتویٰ سامنے لائے جبکہ مولانا سعید عثمانی کا 2010 میں انتقال ہو چکا۔

جبکہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے میں یہ ساری برائیاں دیکھنے کے بعد جب وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والی ایک کل جماعتی کانفرنس میں نمازِ مغرب کا وقفہ کیا گیا تو کانفرنس میں موجود قائدین، اعلیٰ عسکری قیادت اور عمران خان نے بھی مولانا فضل اُلرحمن کی امامت میں نماز پڑھی۔ خواجہ آصف کہیں درست ہی تو نہیں کہتے ہیں، کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔ بندے میں اتنی جرات تو ہونی چاہیئے کہ سیدهی بات کرسکے۔ کیا ملا ڈیزل ملا ڈیزل لگا رکهی ہے۔ عمران خان کو صاف اسلام کا نام لیتے ہوئے ڈر کیوں لگتا ہے۔

جانثار مظلوم: تم پٹواری یہ بات سمجھنے سے قاصر ہو کہ بعض حالات میں یہ سب حکمت عملی کا حصہ ہوتا ہے۔ کوئی اور ملا کو برا کہتے تو درحقیقت وہ بزدل شخص اسلام پر تنقید کر رہا ہوتا ہے، لیکن علامہ اقبال یا عمران خان ملا کو برا کہیں، تو وہ اسلام میں بگاڑ پیدا کرنے والے طبقے کے خلاف ایک آفاقی حقیقت بیان کر رہے ہوتے ہیں جو کہ تم لفافہ خور پٹواری سمجھ کر بھی ماننے سے انکاری ہوتے ہو۔

ہم: ہم تو بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’اوئے! جو ملا کا گستاخ ہے، وہ عمران خان ہے!‘۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar