مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے


zeffer_imran

اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے، کہ ہماری فلم انڈسٹری کی تنزلی کے کیا اسباب رہے ہیں۔ یا یہ کہ کیا وجہ ہے، ہمارے ٹیلے ویژن ڈرامے کا وہ معیار نہیں رہا، جو کبھی پاکستان ٹیلے ویژن کارپوریشن کے ڈراموں کا ہوا کرتا تھا۔ مجھے جب کبھی ایسے سوالات کا سامنا ہوا، یہ کہہ کر صاف بچ نکلا، کہ بتایئے، پاکستان میں کون سا شعبہ ہے جو ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ہے؟ خواہ ریل ویز ہو، پی آئی اے، واپڈا ہو، یا صحت کا شعبہ، عدالت ہو، یا پولِس کا نظام، سچ تو یہ ہے، کہ ہم منہ کے بل نیچے ہی گرتے گئے ہیں۔

ٹیلے ویژن چینلز کا احوال یہ ہے، کہ اس کی تمام پروگرامنگ کو سیلز ڈیپارٹ منٹ کنٹرول کرتا ہے، اور اس ڈیپارٹ منٹ کو ایڈ ایجینسیاں کنٹرول کرتی ہیں۔ کہنے کو “کانٹینٹ” کا شعبہ بھی ہے لیکن اس شعبے کا کام سیلز ڈیپارٹمنٹ منٹ سے کوآرڈے نیشن ہے۔ کانٹینٹ کے شعبے میں زیادہ تر وہ لوگ بھرتی ہیں، جنھوں نے شاید ہی اردو ادب کا مطالعہ کیا ہو، اور محض اردو ادب ہی کیا، کسی بھی زبان کے ادب کا مطالعہ کیا ہو۔ ان میں سے کتنے ہیں جو خود ایک لفظ بھی لکھ سکتے ہیں یہ الگ موضوع ہے۔

ان کی گفت گو سے ظاہر ہوتا ہے، کہ وہ ہالے وڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں، یا ہندستانی سینما پر نظر ہے۔ ایک بار ایک انتہائی “مقبول” کانٹینٹ ہیڈ کو یہ کہتے سنا، کہ “مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، کہ کوئی ہروگرام کسی دوسرے پروگرام کی نقل ہے، یا چوری کا خیال ہے۔ مجھے اس سے غرض ہوتی ہے، کہ میرا پروگرام ریٹنگ اٹھاے گا، یا نہیں۔” بھِیڑ چال کا یہ عالم ہے کہ ایک چینل پر ترکی سے درآمد کیا ڈراما “عشقِ ممنوع” دکھایا گیا، جس نے کام یابی کے رِکارڈ قائم کیے، تو ہر طرف سے یہ آواز آنے لگی، کہ “عشقِ ممنوع” جیسا ڈراما بنا کر لائیں۔ یہ ہوا یا نہیں، لیکن تھوک کے حساب سے ترکی ڈرامے اٹھا لیے گئے۔

یادش بہ خیر، یہی ٹی وی چینلز کچھ عرصہ پہلے تک یہ کہتے نہ تھکتے تھے، کہ ہندوستانی ٹیلے ویژن چینل کو پاکستان میں بین کیا جائے۔ کیوں کہ یہ نظریہ پاکستان اور پاکستانی ثقافت کے لیے خطرہ ہیں۔ بہتان تراشنے والوں کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں ساتھ دینے پر ٹیلے ویژن چینل مالکان کو یوں تحفہ دیا کہ ہندوستانی ٹیلے ویژن چینلز پر بندش کا فیصلہ سنایا۔

پھر ہم نے دیکھا کہ انہی پاکستانی چینلز پہ ہندوستانی پروگراموں کی بھرمار ہونے لگی۔ اب نہ نظریہ پاکستان کو خطرہ لاحق تھا، نہ پاکستانی ثقافت کے مسخ ہونے کا ڈر۔ جیسا کہ پہلے کہا ہے کہ ٹیلے ویژن چینل کی پروگرامنگ کو سیلز ڈیپارٹمنٹ منٹ کنٹرول کرتا ہے، تو اشتہاری کمپنیوں سے جو کانٹینٹ چلانے کا حکم ملتا ہے، یہ نشر کرنے کو تیار ہیں۔

یہ ایسے پروگرام نہیں چلائیں گے جو ان کے کلائنٹ کے مفادات سے ٹکراتے ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یکسانیت کو دور کیا جائے، کسی دوسرے موضوع پہ طبع آزمائی کی جائے تو یہ تبھی ممکن ہے جب سیلز کا شعبہ اس کی منظوری دے۔ لیکن وہ منظوری کیوں دے گا، کیوں کہ اشتہاری کمپنیاں یہ کرتی ہیں کہ جس طرح کے پروگرام “ریٹنگ” اٹھاتے ہیں، انہی کو ایڈ دیئے جائیں۔ مثلاً شادی کی فلم کو زیادہ لوگ دیکھنا چاہیں گے تو چینلز شادی کی فلم دکھانے لگیں‌ گے۔

ثبوت کے لیے مارننگ شو کے نام پر ہونے والے شادی شوز کا جائزہ لیجیے۔ ایک چینل پہ جس طرح کے پروگرام نے توجہ حاصل کی سبھی اس سے ملتے جلتے پروگرام بنانے لگتے ہیں۔ نشر کرتے ہیں۔ لہاذا پروگرام کا معیار، اس کا “ریٹنگ” ہے۔ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ “ریٹنگ” بھی “ریٹ” لگا کر لی جاتی ہے۔

معاملہ یہ ہے کہ “مینوں نوٹ وخا، میرا موڈ بنے۔” یہ فلمی گانا نہیں، ہمارا قومی مزاج ہے۔ بات شوبز کی تنزلی کی ہو رہی تھی، لیکن دیکھا جائے، تو ہمارے ہر شعبے کی تنزلی کا سبب یہی فلمی نغمہ ہے۔ :مینوں نوٹ وخا، میرا موڈ بنے”۔ ہوتا یہ ہے کہ ہم کسی شعبے پر تنقید تو کرتے ہیں، لیکن حل تجویز نہیں کرتے۔ پاکستان میں ہر ادارے کی ترقی کا واحد حل ہے یہ ہے کہ اس فلمی نغمے پر فی الفور پا بندی عائد کی جائے۔ “مینوں نوٹ وخا، میرا موڈ بنے۔”


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

One thought on “مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے

  • 17-01-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    “مینوں نوٹ وخا، میرا موڈ بنے” بنا نوٹ دیکھے بھلا کیوں اپنے کاکے ظفری کی تعریف کریں. دوسرے مجھے سخت رنج ھوا ھے ظفر کا آخری سطر والا مطالبہ پڑھ کر ….علامہ الطاف باجوہ نامی عظیم پنجابی فلمی شاعر جو الباکستانی سوچ ،رویوں اور عمومی کردار کی نہ صرف بھرپور عکاسی کرنے کی قدرت رکھتے ھیں بلکہ ان سب کو سادہ ترین الفاظ کا پیرھن بھی کمال مہارت سے پہناتے ھیں . مجھے اس مطالبے کے پیجھے اردو دان خلقوں کی مخصوص پنجابی دشمنی کی بو بھی محسوس ھوئ ھے. ایک علاقائ زبان کے شہکار ادب پارے کی بندش کا مطالبہ کرنے کی بجائے بہتر ھوتا کہ “قومی مزاج” کی کمال مہارت سے عکاسی کرنے پر ظفر عمران علامہ الطاف باجوہ کو خراج تحسین پیش کرتے.

Comments are closed.