کیا اسلام ایک ضابطہ حیات ہے؟


asif Mehmoodکیااسلام ایک ضابطہ حیات ہے ؟میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔اسلام کے بارے میںاس سے سطحی اور کمزور بات شاید ہی کبھی کی گئی ہو۔افسوس اس بات کا ہے کہ یہ بات اسلام کے مقدمے کے باب میں بیان کی جاتی ہے اور تکرار کے ساتھ۔

ضابطہ ایک انتہائی محدود اور جامد تصور ہے۔یہ دو جمع دو چار کی طرح ہوتا ہے اور بیان کر دیتا ہے کہ فلاں چیز یوں ہو گی ،فلاں فعل جرم کہلائے گا ،فلاں کام کی یہ سزا ہو گی، وغیرہ وغیرہ۔ضابطہ معاملے کی جزئیات تک طے کر دیتا ہے۔وہ بتا دیتا ہے، اشارہ سرخ ہو تو گاڑی رک جائے گی اور سبز ہو توچل پڑے گی ۔آپ بنک جاتے ہیں وہاں کا اپنا ایک ضابطہ ہوتا ہے۔دفاتر کا اپنا ضابطہ ہوتا ہے۔موٹر وے پر سفر کریں وہاں ایک الگ ضابطہ ہے۔ائر پورٹس کے ضابطے الگ ہیں۔ پاکستان میں تعزیرات پاکستان کی صورت میں ایک ضابطہ فوجداری موجود ہے۔ ہمارا قانونی ڈھانچہ بھی ایک ضابطہ ہے۔ایک دور میں امام ابو یوسف کی کتاب الخراج بھی ضابطے کے طور پر نافذ العمل رہی۔ پھر ایک دور آ یا فتا وی عالمگیری کو ضابطے کا درجہ حاصل رہا۔زمان و مکاں بدلتے رہیں گے ضابطے تبدیل ہوتے رہیں گے۔ضابطہ نہ کامل ہو سکتا ہے نہ ابدی۔ایک وقت آتا ہے، جب معلوم ہوتا ہے ،ضابطے کی کئی چیزیں عہد موجود میں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ تب ایک نیا ضابطہ یا معنوی ترمیم ضروری ہو جاتی ہے، بصورت دیگر وہ ضابطہ ناقص اور متروک قرار پاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ پرانا ہو چکا ہے، یہ نئے دور کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا۔اسی طرح ضابطہ بے لچک بھی ہوتا ہے۔وہ ایک چیز طے کر دیتا ہے ۔بھلے آپ کی پرواز فکر کوئی دوسرا نتیجہ نکال رہی ہو، ضابطے پر عمل ضروری ہوتا۔ضابطہ جب بن جائے تو اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہوتی، وہ صرف تقلید اور تقلید محض کا تقاضا کرتا ہے۔
اسلام کسی نظام کا نام بھی نہیں ہے۔نظام بھی ایک محدود تصور ہے۔زمان و مکاں کی تبدیلی اعلی سے اعلی نظام کو مجموعہ نقائص ثابت کر سکتی ہے۔ایک نظام آج آپ کو انتہائی باکمال محسوس ہو تا ہے، ہو سکتا ہے، انسان کی فکر کا ارتقا کچھ عرصہ بعد اس کو ٹھکرا دے اور ایک نئے نظام کی ضرورت محسوس ہونے لگے۔دنیا میں کتنے ہی نظام آ چکے اور کسے معلوم ابھی کتنے ہی او ر نظام آئیں گے۔اسلام کو اس محدود تصور میں قید نہیںکیا جا سکتا۔

تو پھر اسلام کیا ہے؟

اسلام ہدایت، نصیحت اور خیر خواہی ہے۔اسلام نے کوئی ضابطہ دیا ہے نہ ہی کوئی نظام ۔اسلام نے کچھ بنیادی اصول طے کر دیے ہیں۔ان اصولوں کی روشنی میں آپ ہر دور میں اس دور کی ضروریات اور چیلنجز کے مطابق ضابطے بھی تشکیل دے سکتے ہیں اور نظام بھی استوار کر سکتے ہیں۔زمانے کے انداز بدلیں گے نئے چیلنجز سامنے آ ئیں گے تو یہ ضابطے اور یہ نظام بھی تبدیل کر دیے جائیں گے۔صرف یہ اہتمام کیا جائے گاکہ نئے ضابطے اور نئے نظام اسلامی اصولوں کے مطابق ہوں یا متصادم نہ ہوں۔اسلام کا یہی تو وہ حسن ہے جو اسے تا قیامت ہر دور میں متحرک قوت نافذہ کے طور پر زندہ رکھتا ہے ۔عبادات کی استثناءکے ساتھ اس نے کوئی ضابطہ اور کوئی نظام وضع نہیں کیا۔اس نے شعور انسانی کو مقید نہیں کیا ،اسے آزاد چھوڑا ہے۔صرف آزاد نہیں چھوڑا، اس کی تحسین اور حوصلہ افزائی کی ہے۔ آپ اجتہاد میں غلطی بھی کریں گے تو مواخذہ نہیں ہو گا بلکہ ایک اجر ملے گا۔اسلام نے صرف رہنما اصول دیے ہیں ۔ان اصولوں کی روشنی میں فکر انسانی اس کے مشاہدات اورتجربات کوئی سا بھی ضابطہ ا ور کوئی سا بھی نظام بنانے میں آزاد ہیں۔

اسلام کا ضابطہ حیات ہونا یا نہ ہونا، یہ محض ترکیب لفظی کا معاملہ نہیں۔اس مغالطے سے ایک کامل فکر تشکیل پاتی ہے جو بقائے باہمی اور خیر خواہی کی بجائے تصادم اور تناﺅ کو فروغ دیتی ہے۔جب آپ اسلام کو ضابطہ حیات اور نظام قرار دے کر اسکی آفاقیت کو محدود کر تے ہیں تو اس سے کچھ مسائل جنم لیتے ہیں۔چند مسائل کا تعلق مسلم سماج کی نفسیاتی تشکیل سے ہے اور کچھ مسلم سماج اور غیر مسلم معاشروں کے باہمی تعلق کی الجھنوںسے متعلق ہے۔

داخلی سطح پر یہ سوچ ایک نفسیاتی گرہ بن جاتی ہے اور منتشر الخیالی پر منتج ہوتی ہے۔ہر آدمی اپنی اپنی استعداد فکر کے مطابق سوالات کے منجدھار میںپھنس جاتا ہے۔مثلااسلام اگر ایک مکمل ضابطہ حیات ہے تو ہم کسی بھی اور ضابطے کو کیوں مانیں؟ آپ غور فرمائیں تو آ پ کو روایتی مذہبی فکر میں ایک طبقہ یہ سوال اٹھاتا دکھائی دے گا کہ اسلام تو خود ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، ایسے میں ہم پاکستان پینل کوڈ کو کیوں مانیں جس کا غالب حصہ دانش فرنگ سے ماخوذ ہے۔جب اسلام کو ایک ضابطہ حیات بنا دیا جاتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فرد کو دوسرے تمام ضابطے باطل لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔انسان نے صدیوں کے تجربات سے کچھ نتائج فکر اخذ کیے ہیں۔یہ انسانیت کا اجتماعی ورثہ ہیں۔یہ سوچ اس سارے ورثے کو حریف تصور کرتی ہے اور اس کی نفی کر دیتی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سماج کے ارتقائی عمل سے کٹ جاتا ہے۔اس کے اندر نفرت اور بے گانگی کے جذبات جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں ۔لیکن اگر ایک فرد یہ جان لے کہ اسلام کسی ضابطے کا نام نہیں بلکہ ایک اعلی آفاقی ہدایت کا نام ہے جو کسی بھی خیر کی نفی نہیںکرتا۔وہ بنیادی طور پر کسی کا حریف نہیں سب کا خیر خواہ ہے۔وہ انسان کی دانش اجتماعی کی نفی نہیں کرتا صرف اس کی تہذیب کرتا ہے۔وہ کسی بھی تہذیب کو تباہ کرنے نہیں آیا بلکہ تزکیہ کرنے آیا ہے۔جہاں جہاں خرابیاں ہیں انہیں دور کر دیتا ہے۔حیات اجتماعی میں جہاں انسانی تجربات سود مند ہوں وہ ان کی قدر کرتا ہے تو پھر فرد کی نفسیاتی کیفیت کچھ اور ہو جاتی ہے۔پھر وہ یہ سوال نہیں اٹھاتا کہ کتاب الخراج کی جگہ پاکستان پینل کوڈ کیوں نافذ ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر اس میں اسلام کی نصوص کے خلاف کچھ نہیں تو اس سے فائدہ حاصل کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔اسلام کو ضابطہ سمجھیں تو سوال اٹھیں گے کہ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ موٹر وے پر حد رفتار ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ ہو گی؟ کہاں لکھا ہے کہ سرخ اشارے پر گاڑی روکنا ہو گی ؟کہاں لکھا ہے کہ ایک پارلیمنٹ ہو گی ؟کہاں لکھا ہے کہ دوسرے ملک میں جانے سے پہلے ویزالینا ہو گا ؟کہاں لکھا ہے کہ مسلم امت سرحدوں میں تقسیم ہو جائے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اگر اسلام ایک ضابطہ حیات ہے تو اسے ہر چیز کے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔اس نے ان چیزوں کا ذکر نہیں کیا اس لیے یہ سب کی سب غیر اسلامی ہیں۔یہ باطل نظام کی فروعات ہیں جنہیں ختم کرنا عین اسلام ہے۔لیکن اگر ہم اسلام کو ہدایت سمجھیں گے تو رہنما اصول موجود ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کی جائے اگر وہ نصوص شریعت کے خلاف نہ ہو۔اولی الامر نظام ریاست چلانے کے لیے دنیا کے کسی بھی ضابطے اور کسی بھی نظام سے چیزیں لے سکتا ہے شرط صرف اتنی سی ہے کہ وہ دین سے متصادم نہ ہوں۔جدید طرز زندگی میں ترقی یافتہ ممالک کے ضابطوں اور نظاموں میں سے خیر کی ہر چیز لی جا سکتی ہے کیونکہ انسان کی دانش اجتماعی کا مظہر ہے۔ اسے حریف سمجھیں گے تو خیر سے محروم ہو جائیں گے۔ہر چیز اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتی۔نہ ہی یہ تقسیم دین کا مقصود ہے۔ہم نے شدت جذبات میں ہر شے کو اس زاویے سے دیکھا تو اسلامی علوم اور غیر اسلامی علوم کی تفریق کر ڈالی یہاں تک کہ بات اسلامی شہد تک آن پہنچی ۔کچھ بعید نہیں چند سالوں میں بریلوی شہد الگ دستیاب ہو اور دیو بندی اور شیعہ شہد الگ۔

اسی سوچ نے غیر مسلم معاشروں کے بارے میں ایک خاص رویے کو جنم دیا۔ وہ کفریہ معاشرے ٹھہرے اور انہیں بتایا گیا کہ ہمارے پاس ایک مکمل ضابطہ حیات اور مکمل نظام موجود ہے۔مکمل ضابطہ اور مکمل نظام کی بات کو ایک حریفانہ تصور کے طور پر لیا گیا۔جیسے اسلام آئے گا تو دیگر تہذیبوں کو مٹا کر ایک اسلامی تہذیب لاے گا۔سب نظام ختم کر دے گا۔تمام ضابطے کالعدم ہو جائیں گے۔ایک طرف یہ دعوے اور دوسری جانب مسلم دنیا کی حالت زار…. دنیا سوچتی ہو گی یہ کون سا ضابطہ ہمیں دینا چاہتے ہیں۔تصادم کی اس کیفیت نے اسلام کی کیا خدمت کی؟

اسلام نہ کسی کی تہذیب کو ختم کرنے کے درپے ہے نہ کسی نظام کو۔نہ اس کا مقصود یہ ہے کہ عرب کلچر ساری دنیا میں رائج ہو جائے نہ وہ کسی خاص رہن سہن اور تہذیب کا علمبردار ہے جو باقیوں کو مٹا کر غلبہ چاہتا ہے۔وہ حریف نہیں ایک خیر خواہ ہے۔ساری دنیا کا خیر خواہ۔ تمام تہذیبوں کا خیر خواہ۔ وہ کسی کو مٹانے نہیں آیا۔ وہ تزکیہ کرنے آیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

19 thoughts on “کیا اسلام ایک ضابطہ حیات ہے؟

  • 11-04-2016 at 2:41 pm
    Permalink

    Very thoughtful and thought provoking. Bravo

  • 11-04-2016 at 3:05 pm
    Permalink

    ماشاء اللہ

  • 11-04-2016 at 3:18 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور مدلل تحریر۔ دیکھۓ جوابی دلائل کیا سامنے آتے ہیں۔ ویسے برسبیل تذکرہ کیا ھم اسلام کو ایک نظریۂ حیات تسلیم کرسکتے ہیں؟؟؟

  • 11-04-2016 at 3:46 pm
    Permalink

    قرآن حکیم میں اسلام کو “دین” بتایا گیا ھے جبکہ اس کے مقابل کفار و مشرکین کے پاس جو نظام یا طرزِ حیات؟؟ موجود تھا اسے بھی دین کہا گیا (“لکم دینکم ولی دین”۔ سورہ الکافرون، آخری آیت)۔ اہلِ علم سے توقع ھے کہ قرآنِ مجید میں پیش کردہ اصطلاح “دین” کی ایسی تشریح پیش فرمائیں گے جس سے معلوم ھو سکے کہ اسلام ضابطۂ حیات ھے یا کیا ھے؟ مزید آیتِ کریمہ” الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا ” سورہ المائدہ آیت 3) سے بھی وضاحت ھوتی ھے کہ اسلام ایک دین ھے جسے کمال تک پہنچایا جا چکا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالٰی نے اپنی نعمت کا اتمام فرمایا دینِ اسلام سے اپنی رضامندی کا اظہار فرمایا۔ اس آیتِ کریمہ میں لفظ “دین: دو مرتبہ مذکور ھے۔ اب سوال یہ ھے کہ “دین” کیا ھے جسے تکمیل تک پہنچا دیا گیا ھے، جس پر عمل پیرا ھونے کا لازمی ماحصل نعمت کا اتمام ھے اوررضاۓ ربانی سے سرفراز ھونا ھے۔
    امید ھے کہ آصف محمود بھائی کی جانب سے شروع کردہ اس مکالمہ پر دونوں نکتہ ھاۓ نظر کے دلائل فکری بالیدگی کا سبب ھوں گے۔

    • 12-04-2016 at 12:19 pm
      Permalink

      اس کا جواب بھی قرآن نے دے دیا ہے کہ دین کیا ہے ، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی قوم کو اور اس وقت کے اہل شریعت و کتاب (یہود و نصاریٰ) کو صاف صاف بتا دیتا ہے کہ یہ دین کوئی نیا دین نہیں اس دین کے تقاضے اور مبادی کوئی نئے نہیں یہ وہی دین ہے جو ہم نے اس سے پہلے نوح پہ نازل کیا ، ابراہیم پہ نازل کیا ، عیسیٰ نازل کیا موسیٰ پہ نازل کیا

      شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّـهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ (42-13)

      وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّـهَ (4-131)

      وَوَصَّىٰ بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (2-132)

      إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (4-163)

      اللہ پورے قرآن میں جسے دین کہتا ہے وہ کوئی نیا دین نہیں وہی ہے جو پہلے انبیا پر نازل کیا گیا وہی عبادات ، کھانے پینے کی وہی نجاست و پاکیزگی ، رشتوں کی وہی حرمت ، اخلاقیات کی وہی امر و نواہی اور آخرت کی وہی جوابدہی ۔۔ یہی دین ہے یہ کبھی نا نظام حیات بن کر نازل ہوا نہ ریاست قائم کرنے کا داعی بن کر نہ ساری دنیا میں غلبہ قائم کرنے کا دعویٰ لے کر ۔

    • 12-04-2016 at 12:26 pm
      Permalink

      اس تکمیل کا جواب بھی قرآن سے پتہ چل جاتا ہے ، بنی اسرائیل اور بنی اسمعیل مرور زمانہ سے دین میں جو بدعات اور پابندیاں دین کے نام سے رائج کر چکی تھیں ، حضرت عیسیٰ کا وعدہ تھا کہ یہ سب خرافات آنے والا رسول ختم کردے گا اور دین کو مکمل کر دے گا اور پھر نئے زمانوں میں کسی نئے آسمانی پیغام کے بغیر بھی یہ رہتی دنیا تک انسانوں کی پرہیزگاری کا پیغام بنا رہے گا ۔ اس آیت کے نزول سے ذرا پہلے نعمت کی تکمیل کی آیت نازل ہوچکی تھی اس کے ساتھ ہی اس آیت میں ساری تکمیل کا اعلان ہوگیا اور آخری خطبے کے موقع پر دنیا کو جتا دیا گیا۔

  • 11-04-2016 at 8:12 pm
    Permalink

    نہایت عمدہ قابل غور اور فکر انگیز.
    ایسا مضمون جو واقعی میں فکر کے زاوئیے کو نئی دنیا و معانی سے روشناس کرے.اس پر تفصیلی مکالمہ ہونا چاہیئے.

  • 11-04-2016 at 9:08 pm
    Permalink

    کرۂ ارض اللہ کی ھدایت کے نور سے روشن ھو کر رہیگا خواہ ارتقاء کا یہ سفر کافروں/ مشرکوں کیلۓ ناگوار ھو۔يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (8) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9) سورہ الصف
    دینِ حق تمام ادیان پر اپنی حقانیت ظاھر کردے گا، اسی مقصد کیلۓ انبیاۓ کرام کی بعثت ھوئی جو ھدایت (کا نور) اپنے ھمراہ لاتے رھے۔
    انفس و آفاق میں نوعِ انسانی کیلۓ ھدایت کی نشانیاں موجود ہیں (کیونکہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر (ضابطۂ حیات/قوانین) کی پیروی کرتے ہیں (“طوعاً او کرھاً” اور “یفعلون ما یؤمرون”)

    • 12-04-2016 at 11:06 am
      Permalink

      اگر آپ عربی سے واقف ہوں تو یہ اشکال بھی حل ہوجائے گا ، قرآن اس آیت میں اپنے رسول کی بعثت کے بعد پیدا ہونے والے نتیجے کا اعلان کررہا ہے ایک رسول ، اللہ کی عدالت بن کر کسی قوم پر نازل ہوتا ہے اس رسول کی قوم کے پاس دو راستے ہوتے ہیں اتمام حجت کے بعد یا تو اس کو رسول پر ایمان لانا ہوتا ہے یا اس کو سزا دے کر ختم کردیا جاتا ہے ، رسول اللہ کی قوم میں اجتماعی نافرمانی نہیں ہوئی غالب اکثریت نے اسلام قبول کرلیا جنھوں نے انکار کیا ان کی حیات کی مہلت ختم کر دی گئی ، انھیں خود مسلمانوں کے ہاتھوں اسی عذاب سے دوچار کردیا گیا جیسے پہلے رسولوں کی قوموں کو انکار پر فرشتوں کے ہاتھوں اجتماعی عذاب دیا جاتا رہا تھا ۔ اور ماننے والوں کو زمین کا اقتدار انعام میں بخش دیا گیا ، یہ سب جزیرہ عرب میں دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور وہ پورا خطہ جو ابراہیم علیہ سلام کی ذریت کے لیے اللہ نے طے کردیا تھا ، انھیں دے دیا گیا اور اس خطے میں ہر دوسرے دین کو مغلوب کردیا گیا ، یہ آیت اسی کا اعلان کر رہی ہے ، اس کا تعلق ساری دنیا سے نہیں ، یہاں بھی ’’ دین ’’ نہیں ’’الدین’’ کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی خاص اس خطے کے تمام ادیان پر اسلام کا غلبہ ، اور ’’مشرکون ’’ نہیں ’’المشرکون’’ سے خاص اس خطے کے مشرکین کو ظاہر کیا گیا ہے ساری دنیا کے مشرکین کو نہیں
      عربی کی اس ’’ال’’ سے ناواقفیت کی بنا پر ہمارے مترجمین اس کا ترجمہ غلط کر دیتے ہیں ۔ یہ ’’ال’’ عموم نہیں بلکہ خاص کسی جگہ یا لوگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔
      یہ محمد رسول اللہ کی بعثت کا خاص مقصد تھا کہ ابراہیم علیہ سلام کا یہ علاقہ شرک سے پاک ایک موحد معاشرہ بنا کر دنیا کے سامنے اس کی غالب تہذیبوں کے بیچوں بیچ ایک نمونے کے طور پر رکھ دیا جائے ۔ اسی مقصد کے لیے پہلے بنی اسرائیل کو منتخب کیا گیا تھا اور ان کے بعد بنی اسمعیل کو منتخب کیا گیا ۔
      لوگوں نے اس اصل بات کو چھوڑ کر اسلام کو دنیا پر غالب آنے وال سیاسی نظام بنا دیا !

  • 12-04-2016 at 2:25 am
    Permalink

    ماشااللہ۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

  • 12-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    محمد کامران عثمانی صاحب۔ بہت خوب۔
    “دین” ” الدین ” کے موضوع پرمزید گفتگو کی کافی گنجائش موجود ھے۔ احقر کی راۓ میں”علی الدین کلہ” میں تمام ادیان شامل ھونے چاہئیں صرف خطۂ عرب کے نہیں۔ اگر تمام انبیاۓ کرام ایک ہی دین کی ترویج کرتے رھے (اور درحقیقت وہ کرتے رہے جیسا کہ قرآنِ حکیم میں مذکور ھے اور آپ نے حوالہ جات بھی دۓ) اور وہ سب “مسلم” تھے تو تفریقِ مذاہب کی اساس کیا ھے؟ کیا یہ ممکن ھے کہ “الکافرون” اور “المشرکون” کی اصطلاح خطۂ عرب کے کچھ مخصوص کرداروں کے ساتھ ساتھ “ایک مخصوص ذہنی و نفسیاتی کیفیت کے حامل اور کسی خاص طرز معاشرت پرعمل پیرا” افراد/ گروہ کی بھی نشاندہی کرتی ھوں ؟؟ آحقر کی راۓ یہ ھے کہ لازم نہیں بہترین لباس کسی سے مقابلے کی نیت یا ارادے کے ساتھ زیب تن کیا جاۓ، اگر وہ لباس واقعتاً بہترین ھوگا تو ساری دنیا خود ھی تعریف کرے گی۔
    اسلام دینِ فطرت ھے (وَلَہُ أَسْلَمَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعاً وَکَرْہاً. (آل عمران۳: ۸۳)
    ’’آسمانوں اور زمین میں جو بھی زندہ وجود ہے، وہ اس کے آگے ، خواہ خوشی سے اور خواہ جبر سے ، سرفگندہ ہے‘‘) تو جو بھی دینِ فطرت سے ھم آہنگ ھوگا اقوام عالم میں سرفرازی اس کا مقدر ھوگی۔
    ” عبادات ، کھانے پینے کی وہی نجاست و پاکیزگی ، رشتوں کی وہی حرمت ، اخلاقیات کی وہی امر و نواہی اور آخرت کی وہی جوابدہی ۔۔ یہی دین ہے ” اس مکالمے کا اہم ترین پہلو ہی یہ ھے کہ واضح ھو کہ کیا دین انہی امور سے ہی متعلق ھے جیسا کہ آپ نے بیان فرمایا ھے یا اس کا دائرۂ کار سیاست و معیشت کو بھی محیط ھے۔۔۔

  • 12-04-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    “تو جو بھی دینِ فطرت سے ھم آہنگ ھوگا اقوام عالم میں سرفرازی اس کا مقدر ھوگی”۔
    وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (139) سورہ آل عمران
    وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ (47) سورہ الروم
    كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ }
    الآيات آل عمران11
    ثُمَّ نُنَجِّي رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِينَ (103) سورہ یونس

  • 13-04-2016 at 4:12 pm
    Permalink

    ایک خوبصورت تحریر

  • 13-04-2016 at 10:59 pm
    Permalink

    بصد احترام مجھے آپ کی بات سے شدید اختلاف ہے اسلام ایک کامل ضابطہٴ حیات ہے ۔ اسلام کے جو اصول آپ مان رہے ہیں ان میں کبھی بھی ردوبدل نہیں ہو سکتا وہ اٹل ہیں ۔۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ وقت کے ساتھ احکام تبدیل ہوتے ہیں ۔۔۔ احکام نہیں تبدیل ہوتے ہاں ِیہ ہے کہ بدلتے زمانے کے ساتھ جو نئی چیزیں ، نئے وسائل اور ذرائع دریافت ہوتے ہیں اسلامی اصولوں کے مطابق ان پراحکام لگائے جاتے ہیں پہلے سے موجود کوئی حکم کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتا ۔۔۔ اس لئے کسی کو اسلام کے ضابطہٴ حیات کہلائے جانے سے تکلیف نہیں ہونی چاہئے ۔۔۔

  • 14-04-2016 at 1:25 am
    Permalink

    “یہ بات بھی غلط ہے کہ وقت کے ساتھ احکام تبدیل ہوتے ہیں”
    افضل خان بھائی۔ اتنا غیر لچکدار (قطعی) نکتۂ نگاہ نہ رکھیں۔
    آب آمد تیمم برخاست۔۔۔۔۔۔ جب پانی نہیں ھوتا تو آپ وضو کی آیت پر نہیں، مسح کی آیت پر عمل کرتے ہیں۔
    مکی زندگی میں کوئی قتال نہیں کیا گیا، جبکہ قرآنِ حکیم میں کہا گیا ھے کہ ان کو جہاں پاؤ قتل کردو یا دوسری جگہ ھے کہ ائمتہ الکفر کو قتل کردو۔ آپ فرمائیں گے کہ یہ مدنی آیات ہیں اور اس وقت کے احکامات ہیں جب مدینہ منورہ میں اسلامی حکومت (نبئ کریم کی ایمان افروز قیادت میں) قائم ھو چکی تھی۔ آج ھمارے سامنے قرآن مکمل طور پر موجود ھے، کچھ گروہ اس بات کا تعین کۓ بغیر کہ قتال کا حکم مدنی ریاست کے قیام کی شرط سے جڑا ھے، قتال کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔
    جناب۔ رہنما اصول اسی لۓ تشکیل ھوتے ہیں کہ حالات اور ضروریات کے مطابق پالیسیاں اور حکمت عملی ترتیب دی جاۓ اور ذیلی قوانین بناۓ جائیں، یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا اور کئی نئے نئے ضوابط وجود پذیر ھوں گے۔

  • 14-04-2016 at 3:51 am
    Permalink

    مجھے ذاتی طور پر آپ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ میرے ذہن میں موجود ایک اشکال کو آپ نے نہایت عمدہ طور پر رفع کر دیا۔ جزاک اللہ!
    تبصروں میں بھی عموماً معاملہ فہمی دیکھنے کو ملی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مسائل کا ادراک اور حل کی خواہش رکھنے والے لوگ میری توقع سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔
    بیشک اسلام وہی دین ہے جو اس سے پہلے بھی نازل ہوتا رہا۔ یہودی، نصرانی، مسلمان، حتیٰ کہ شاید ہندو اور بدھ وغیرہ بھی اس دائرے میں لائے جا سکتے ہیں اگرقرآن کے اس دعوےٰ پر غور کیا جائے کہ گزشتہ انبیا کو یہی دین دے کر بھیجا گیا تھا۔ اس صورت میں مخصوص شریعتوں سے ماورا ہو کر اس اسلام کی جستجو کرنا آسان ہو جائے گا جو ان سب میں قدرِ مشترک اور اصلِ اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔
    لفظ دین پر ہونے والی بحث میں حصہ لینے کا میں اہل تو نہیں لیکن میری ایک رائے ہے جو ناگوار نہ گزرنے کی شرط پر میں دینا چاہوں گا۔ دین غالباً راستے یا روش کے معنےٰ رکھتا ہے۔ کفار کی روش کو بھی دین کہہ کر ہی پکارا گیا ہے۔ پھر یہ لفظ مختلف انبیا کے ذکر میں زمان و مکان سے بالاتر ہو کر خدا نے قرآن میں استعمال کیا ہے۔ شاید اس سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ واقعی کسی بے لچک ضابطے کی بجائے ایک روش کا نام ہے جس کا مجموعی تاثر اور بنیاد خیر یا شر پر قائم ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔

  • 14-04-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    جناب آصف صاحب، کسی بھی مذہب پر تبصرہ کرنے سے پہلے اس کا مکمل مطالعہ ضروری ہے۔ آپ نے اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر اپنا نقطہ نظر بتایا ہے۔
    گزارش ہے کہ اسلام قرآن وحدیث کا مجموعے کا نام ہے۔ آ پ سے سوال ہے کہ
    کیا آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر پڑھ رکھا ہے۔؟؟؟؟؟
    کیا آپ نے احادیث کی چھ مستند کتب کا بغور مطالعہ کر رکھا ہے؟؟؟
    کیا آپ نے فقہ کی کتب سے استفادہ کر رکھا ہے؟؟؟؟
    کیا آپ نے پوری اسلامی تاریخ اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کر رکھا ہے۔؟؟؟

    اگر جواب نفی میں ہے ، تو آپ کو ایسے موضوع پر تبصرہ کر کے اپنی دانش دکھانے کا کوئی حق نہیں ہے۔
    پہلے مکمل مطالعہ کیجے، پھر مندرجہ بالا کتب سے شہادتیں اکھٹیں کریں، آخر میں تبصرہ کرنے کی جسارت کریں۔

  • 14-04-2016 at 6:09 pm
    Permalink

    محترم راحیل فاروق۔ بہت پر مغز/ بامعنی استخراج فرمایا ھے آپ نے۔ ذرا مندرجہ ذیل آیاتِ کریمہ میں “الناس” (انسان/ عام لوگ) پر بھی غور فرمائیں اور دیکھیں کہ دینِ اسلام مسلمانوں کی بات کر رہا ھے یا پوری نوعِ انسانی کی۔۔۔۔۔
    1۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ (96) سورہ آلِ عمران (سب سے پہلا “بیت ” جو تمام انسانوں کیلۓ وضع کیا گیا مکہ میں ھے جسے تمام عالمین/ پوری نسلِ انسانی کی ھدایت کا مرکز بنا کر برکت کا باعث بنا دیا گیا ھے)
    2۔ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ (97) سورہ آلِ عمران ( اور اللہ کی خاطر/ اور اللہ کیلۓ “الناس” میں سے جو اس سفر کی استطاعت رکھے وہ “حِج البیت” کرے۔ اور جو اس حقیقت/سچائی پر پردہ ڈال دے “من کَفَرَ” تو جان لے کہ اللہ کو اس بات سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا اگر تمام انسانیت گمراھی کی راہ پر چل پڑے” غنی عن العالمین “)۔

  • 15-04-2016 at 4:15 pm
    Permalink

    بہت فکر انگیز تحریر جس میں مصنف نے بہت سی باتوں کا صحیح اور مدلل جواب دیا لیکن جو چیز تشنہ نظر آئی اس کی طرف اشارہ کردیتا ہوں کہ سمجھانا تو اہل علم و نظر کا کام ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اسلام ایک “مکمل” ضابطہ حیات ہے، لفظ مکمل کے بغیر یہ بات کہیں بھی کسی نے نہیں کی یعنی اسلام گویا مجموعہ ضوابط ہے جن کو ۵ شعبہ جات میں بیان کیا جاسکتا ہے؛
    ۱- ایمانیات
    ۲- عبادات
    ۳- معاملات
    ۴- معاشرت
    ۵- معارفت

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اوّل الذکر نکتہ جسے دلیل قطعی سے مکمل اور مفصل بیان کردیا گیا ہے جبکہ موخرالذکر چار نکات کے طریقے احادیث میں بیان کیئے گئے ہیں جن میں اکثر مفصل بیان کے ساتھ موجود ہیں۔ جو باتیں دور نبوی ﷺ میں پیش آمدہ نہیں ہوئیں وہ بعدہُ انہی اصولوں کے تحت طے کی گئیں یوں تمام امور وقتاََ فوقتاََ طے ہوتے گئے اور اسی طرح قیامت تک طے ہوتے رہیں گے اور اسی کا نام اجتہاد ہے۔ ان میں جو اصول و ضوابط طے ہوچکے وہ ویسے ہی قابل عمل ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، البتہ جو نئے امور پیش آمدہ ہونگے وہ اسی اصول کے تحت طے کیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ناسخ اور منسوخ کا اجرہ صرف نبی ہی کر سکتا ہے اس لیئے جو معاملات طے شدہ ہیں اُن میں ناسخ اور منسوخ ممکن نہیں، یہ اجتہاد صرف نئے امور کے لیئے ہی کیا جائے گا

Comments are closed.