برطانیہ کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی ڈائری


moqaddus kazmiایک وقت تھا جب کوئی ٹیکسی ڈرائیور دوستوں کی محفل میں ہوتا اور کسی سیاسی ایشو پر بات کرتا تو میں اسے اہمیت نہ دیتا کہ چھوڑو یار اسے سیاست کا کیا پتہ ؟ he is just a taxi driver، اور پھر اس کی بات خواہ وہ کتنے ہی پتے کی ہوتی ہوا میں اڑا دیتا۔ مگر کیا پتہ تھا کہ ایک دن میں خود بھی ٹیکسی ڈرائیوربن جائوں گا۔ اور پھر جب حالات نے واقعی مجھے اس نہج پہ آکھڑا کیا کہ مجھے خود ایک دن  ٹیکسی ڈرائیور بننا پڑا۔ تو تب مجھے احساس ہوا کہ میں شاید ٹھیک ہی کہتا تھا۔

 اس پیشے کو بددلی سے اپنانےسے  پہلے جب کہ میں کسی ایشیئن ٹی وی پر پاکستانی صورت حال پر لال بجھکڑ یا تھرڈ کلاس سیاسی پنڈت بن کر چلا جاتا تھا اور سیاسی حالات کو اپنی خواھشات کے مطابق ڈھالنے کی ناکام کوشش کرتا تھا۔ مگر جب ٹیکسی ڈرائیونگ شروع کی تو وہاں بھی یہ کہہ کر جانا بند کردیا ہے اب میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔ لہذا اب میں کسی قسم کا سیاسی تبصرہ نہیں کرسکتا۔ اس لیے مجھے معاف ہی رکھیے گا۔

تو کیا ٹیکسی ایک برا پیشہ ہے؟ اگر ہے تو میں کیا کررہا ہوں اس پیشے میں؟کون سی مجبوری مجھے پھر اس پیشے سے باندھے ہوئے ہے اور کیا میں کبھی اس پیشے سے جان چھڑا سکوں گا؟  مجبوری کی تاویل فی الحال یہی ہے جو ایک مداری سےلے کر طوائف کی ہوتی ہے کہ وہ اس پاپی  پیٹ کی خاطر یہ دھندہ کرتا ہے۔ مگر پھر ہم اس کے  عادی کیوں  ہو جاتےہیں؟ اس کی تاویل بھی یہی ہے کہ جس طرح برطانیہ میں منگیتروں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کو پہلے تین سال اور اب پانچ سال تک، کہ جب تک ان کا غیرمعینہ مدت کے لیے  برطانیہ کا ویزہ نہ لگ جائے ان کو ہر قسم کی ذلت ورسوائی برداشت کرنا پڑتی ہے  اور پھر جیسے ہی اس کا ویزہ لگ جاتا ہے تو اس عرصے میں وہ اپنی عزت افزائی کا عادی بھی ہوجاتا ہے۔ اور اسی طرح ہنسی خوشی رہنا شروع کردیتا ہے۔

میرا خیال ہے  کہ میں بھی اپنی ٹیکسی کہانی کسی سرے سے شروع کروں تو شاید آپ کو زیادہ سمجھ آنے لگے گی۔ اور پھر اس سے زیادہ تر لوگوں کے  چمٹے رہنےکے اسباب بھی۔

ایک برطانوی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں ہر چوتھا پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور اور ہر آٹھواں ڈاکٹر پاکستانی ہے۔ ہے ناں حیرت کی بات؟ مگر ٹیکسی ڈرائیور ہی کیوں؟ برطانیہ ہی نہیں یورپ میں امریکہ میں بھی ٹیکسی ڈرائیور پاکستانی ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات تو سمجھ آتی ہیں کہ یہ ٹیکسی ڈرائیور زیادہ ترپاکستان کے دور دراز علاقوں مثلاً کشمیر، پنجاب وغیرہ کے دور افتادہ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور زیادہ تر ان پڑھ ہوتےہیں، جو غیرقانونی تارکین وطن کی صورت میں یا منگیتر کی صورت میں یہاں وارد ہوتے ہیں تو پھر یا تو کسی ریسٹورینٹ، کسی ٹیک اوے پر شروع شروع میں کام کرتے ہیں جہاں ان کو بارہ سے چودہ گھنٹے کی مزدوری بسیں  پچیس پائونڈ ملتی ہے، اور ایک گندی سی رہائش۔ پھر ان کی کوئی راھنمائی کرتا ہے کہ ٹیکسی کرلو کیونکہ اس میں خود ہی تم اس کے باس ہوتے ہوں جب چاہو، شروع کرو اور جب چاہو کام ختم کرکے گھر واپس آجائو۔ یہ سن کر کس کے منہ میں پانی نہیں آئےگا۔ لہذا اب وہ منگیتر یا غیر قانونی تارک وطن کسی طرح اپنےکاغذ درست کرنے کے بعد اس پیشے کی طرف راغب ہوجائے گا۔ منگیتر کےسسرال والوں میں  اگر پہلے سے ٹیکسی ڈرائیور ہیں تو وہ اپنے داماد کو اسی پیشے پر لگا دیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ اس کے بڑے فائدے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اپنی آمدن چھپا کر برطانوی benefits یا سادہ الفاظ میں حکومتی زکواۃ لے سکتے ہیں اور پیسے کی کافی بچت کرسکتے ہیں۔ حکومتی زکوۃ زیادہ لینی ہوتو کئی جوڑے جھوٹی موٹی لڑائی ظاہر کرکے، جعلی علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ جس میں دونوں کے benefits  میں اضافہ ہو جاتا ہےکہ دونوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہوتا ہے۔ پھر ٹیکس کی بچت اور فیملی ٹیکس کریڈٹ وغیرہ مل ملا کر کافی پیسہ بغیر محنت کےمل جاتا ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتاہے کہ پاکستانی لوگ ان پڑھ بھی ہوں گے مگر ان کو اپنے سارے benefits  کا علم ہوتا ہے۔ کہ کہاں سے اور کیسے لینے ہیں، اور اگر گھر میں اولاد معذو ر پیدا ہوجائے جیسے کہ ہماری کشمیری برادری میں فرسٹ کزن میرج کا زیادہ رواج ہے تو benefits میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اب آپ تصور کرلیں کہ جب آپ حکومتِ برطانیہ کو یہ بآور کروانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ کی آمدنی کم ہے تو وہ ہمدردی کے طور پر آپ کےبچوں کی تعداد کو سامنے رکھتے ہوئے، نہ صرف ان کو رہائش فری دے گی بلکہ  دیگر سہولیات کے علاوہ بس تک کا کرایہ بھی دے گی۔ تو پھر کون پاگل ہوگا جو ھڈ حرام ہونا پسند نہ کرے گا۔ اس ضمن میں یہ بھی یاد رہے کہ یہ ٹیکس فراڈ صرف ہم لوگ ہی نہیں بلکہ گورے، کالے جس جس کا دائو لگتا ہے وہ  بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے گریز نہیں کرتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر پکڑا جائے تو پھر اگلا پچھلا بھی واپس کرنا پڑتا ہے جیل کے علاوہ۔ مگر یہ کہ جرم ہمشہ اسی خواھش پر یا یقین پر کیا جاتا ہے کہ میں نے کونسا پکڑا جانا ہے، مگر جس طرح قانوں روز بروز سخت ہوتے جا رہے ہیں، اس صورت میں بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔

ٹیکسی سے متعلق بے شمار واقعات ہوتے رہتےہیں جو ڈرائیور آپس میں شیئر کرتے ہیں اور کچھ سنگین قسم کے واقعات اخبار کی زینت بھی بن جاتے ہیں۔

برطانیہ میں ٹیکسی ڈرائیور تین قسم کے ہیں، پرائیویٹ ھائر، منی بس  اور بلیک کیب ڈرائیور

پرائیویٹ ھائر اور منی بس و ہ ٹیکسی کی قسم ہے جسے بلیک کیب ٹیکسی ڈرائیور، بطور ٹیکسی ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ اسے بھاڑے پر لی گئی کار تصور کرتے ہیں کیونکہ پرائیویٹ ھائر یا منی بس صرف وہی سواری اٹھا سکتی ہے جو کسی بسیں  کے اپریٹر کے ذریعے بُک کی گئی ہو، یہ بسیں  دراصل مختلف رجسٹرڈ کمپنیاں ہوتی ہیں جو پرائیویٹ ھائر کو کام یا جابز دیتی ہیں۔ لہذا پرائیویٹ ھائر کے ڈرائیورز کو ان کمپنیوں کے ساتھ کچھ معاوضے کے عوض منسلک ہونا پڑتا ہے اور یہ انہی اپریٹیرز کے ذریعے کام حاصل کرتی ہیں، مِنی بس اور پرائیوٹ ھائر میں فرق صرف سیٹوں کا ہوتا ہے، پرائیویٹ ھائر میں زیادہ سے زیادہ چار مسافر جبکہ مِنی بس میں زیادہ سے زیادہ آٹھ مسافر سفر کر سکتے ہیں، منی بس کا فی میل کرایہ، پرائیویٹ ھائر سے کچھ زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ بلیک کیب کہیں سے بھی سواری اٹھا سکتے ہیں، اور ان کو بس لین میں بھی گاڑی چلانے کی اجاز ت ہوتی ہے جو کہ پرائیویٹ ھائرکو نہیں ہوتی اسی لیے ٹیکسی ڈرائیور ہوتے ہوئے بھی اس فرق سے بعض بلیک کیب ڈرائیور بے حد مغرور ہوجاتےہیں اور وہ پرائیویٹ ھائر ڈرائیور کو ایک فوج کے سپاھی کے برابر ، مِنی بس والے کو لانس نائیک جبکہ اپنے آپ کو حوالدار سمجھتےہیں۔ بلیک کیب والے ڈرائیور کی آکڑ ہی مان نہیں ہوتی جبکہ پرائیوٹ ھائر ڈرائیور، بلیک کیب والوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور خود کو اپنا باس قرار دے کر خود پر ہی رعب ڈال کر اپنے من کو تسلی دے لیتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام لوگ اپنے تئیں جو مرضی سمجھتے پھریں مگر افسوس کہ مسافروں کے لیے یہ برابر کا درجہ ہی رکھتے ہیں۔ ان کے لیے سب ٹیکسیاں ہی ہیں۔ اور عزت بھی سب کی برابر ہی ہوتی ہے بشرطیکہ، مسافر سے کرائے پر جھگڑا  نہ ہوجائے۔ ورنہ جیسے ہی کرائے پر جھگڑا شروع ہوجائے تو برطانیہ کے لوگ جتنی ہماری عزت کرتےہیں وہ سچ سارا باہر آجاتا ہے۔ اور جس طرح ہم جاہلوں کے آگے کوئی عربی بدو صلواتیں بھی سنا رہا ہوں تو ہم احتراماً اس کے آگے ہاتھ باندھ کر، سر جھکا کر اسے تعظیم سے ہلانا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح جب تک گورا ہمیں ’’پاکی‘‘  ’’پاکی‘‘ کہے ہم برا نہیں مناتے کہ وہ ہمیں پاک صاف ہونے کی سند عطا کررہا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ کوئی  نامناسب لفظ آگے لگاتا ہے جس کی ہمیں سمجھ ہوتی ہے تو یا تو ہم جیسوں کو پارہ چڑھ جاتا ہے اوراگر ایک آدھ گورا  ہوتو  اسے پھینٹا بھی لگا دیا جاتا ہے یا اسے اس کی منزل سے کہیں دور لے جا کر لات مار کر پرانے ٹیپ ریکارڈ کی کیسٹ کی طرح eject کر  دیا جاتا ہے اور اگر گورے تعداد میں زیادہ ہوں تو ایمان کے کمزور درجے پر عمل کرتے ہوئے یا قسمت کا لکھا سمجھ کر  درگزر کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ اقبال سے ہی ہم نے اپنے تئیں یہ درویشی سیکھی ہے کہ

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

کمزور مخالف ہوتو فولاد ہے مومن


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “برطانیہ کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی ڈائری

  • 11-04-2016 at 5:42 pm
    Permalink

    کمزور مخالف ہوتو فولاد ہے مومن 😀

  • 11-04-2016 at 10:33 pm
    Permalink

    مقدس صاحب۔ تحریر پڑھ کر مزا آیا۔
    ہم پاکستان سمجھتے ہیں ادھر گورے اخلاقی طور پر ہم سے بہت بہتر ہوتے ہیں، فراڈ نہیں کرتے، جھوٹ نہیں بولتے، رشوت نہیں لیتے، کام ایمان داری سے کرتے ہیں۔ ذرا اس بارے میں بھی آگاہ فرمائیے۔ کیا یہ سنا ہوا درست ہے؟

    • 11-04-2016 at 11:28 pm
      Permalink

      محترم آپ میری آنے والی اقساط پڑھتے جائیے بشرطیکہ چھپنے کے قابل ہوئیں تو میں دراصل ایک ابزرور کی طرح سب معلومات شئیر کروں گا اور پھر سب کچھ کھلتا چلا جائے گا۔ مگر پھر بھی میں کہوں گا کہ میری رائے یا بات کو آخری مت سمجھیے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ میرا ویژن اور نقطہ نظر وہ نہ ہوجو کسی دوسرے کا ہوسکتا ہے، شکریہ

  • 15-04-2016 at 1:47 pm
    Permalink

    Very nice work…sir

    looking forward to see more articles from you.

Comments are closed.