اب قلم سے ازار بند ہی ڈال


asif Mehmoodکیا آپ نے جرمن سفارت خانے کے اہلکار کو نرغے میں لینے والے فرزندانِ صحافت کو دادِ شجاعت دیتے دیکھا ہے؟نہیں دیکھا تو پہلی فرصت میں آ زادیِ صحافت کے اس شاہکار کا مشاہدہ کر لیجیے ، کیا عجب کہ کل اس ویڈیو کلپ کو ’ زومبی ‘ قرار دے کر آسکر ایوارڈ کے لیے چن لیا جائے۔سوال یہ ہے : نومولود مقدس گائے کی یہ مجہول چاند ماری کہاں جا کر رکے گی؟
ابھی کل ہی نومولود مقدس گائے نے شاہد آفریدی کو سینگوں پر لے لیا تھا۔آفریدی نے ایک فقرہ کہا اور فرزندانِ صحافت با جماعت محو رقص ہو گئے: ’ مینوں دھرتی قلعی کرادے، میں نچاں ساری رات“۔آفریدی تو گھر جا کر سو رہے، مقدس گائے ساری رات سکرین پر ٹکریں مارتی رہی ۔رب کا شکر ادا کر بھائی، جس نے ہماری گائے بنائی۔لمحہ موجود کی صحافت…. سطحیت سے ہم آغوش،مطالعے سے بیزار،خبر کے نام پر خواہشات کا دیوان،زبان و بیان کے اسالیب سے نا آشنا،بریکنگ نیوز کا طوفانِ بد تمیزی،ریٹنگ کی خاطرمعقولیت کا ابطال،بعض ایسے ہیں جنہیں گاﺅں اور محلے میں کوئی سلام نہیں کرتا تھا ، مائک اور کیمرا پکڑے وہ فراعینِ مصر کے داماد بنے پھرتے ہیں۔مطالعہ ہے نہ تہذیب نفس،کس کس بات کا رونا روئیں؟اب میر انیس ہی آئیں تو کوئی مرثیہ ہو۔
سوالات کا معیار یہ ہے کہ این ڈی ایم اے نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ انڈین پلیٹس کی وجہ سے مزید زلزلے آ سکتے ہیں۔ایک مقدس گائے نوکدار سینگوںسمیت اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی:” جناب آپ نے بہت بات کر لی مجھے صرف یہ بتائیے جب انڈیا والے یہ پلیٹیں لگا رہے تھے اس وقت آ پ کہاں تھے“۔این ڈی ایم اے کے اہلکار مسکرا کر چپ ہو گئے۔اب ہر کوئی شاہد آفریدی تو ہو نہیں سکتا کہ آ گے سے کہتا:’ تم سے اسی گھٹیا سوال کی امید تھی‘۔
مجھے یاد ہے،قاضی حسین احمد مرحوم جاپان جا رہے تھے۔سی ٹی بی ٹی کا معاملہ ان دنوں عروج پر تھا،جانے سے پہلے انہوں نے صحافیوں کو چائے پر بلایا۔دوران گفتگو ایک صاحب اٹھے،اور بادی النظر میں وہ خاصے منجھے ہوئے اور معتبر صحافی دکھائی دے رہے تھے، فرمانے لگے: قاضی صاحب آپ اپنے دورہ جاپان میں سنکیانگ بھی جائیں گے؟ قاضی صاحب نے بے بسی سے ساتھ بیٹھے سعود ساحر کی جانب دیکھا۔ شاہ جی نے آزاد صحافت سے دست بستہ گذارش کی کہ قاضی صاحب جاپان جا رہے ہیں اور سنکیانگ چین میں ہے۔حالانکہ وہ یہ بھی کہ سکتے تھے، ’تم سے اسی گھٹیا سوال کی امید تھی‘۔
صحافت پہلے زرد ہوتی تھی، اب پالتو بھی ہو گئی ہے۔آپ نمایاں کالم نگاروں کی ایک فہرست بنا لیںاور خود فیصلہ کر لیں کیا کہیں کوئی معروضیت باقی رہ گئی ہے۔ کوئی نواز شریف کا حدی خواں ہے تو کوئی عمران کا قصیدہ گو۔کون اپنی آزادی صحافت کس کے دستر خوان پر چھیچھڑوں کے ساتھ چھوڑ آ یا ہے دو سطریں پڑھ کر ہی سب معلوم ہو جاتا ہے۔حد ہو گئی ہے بعض احباب کالم نہیں، سیاسی آقاﺅں کی پریس ریلیزیں لکھتے چلے جا رہے ہیں۔جالب ہوتے تو کہتے :۔خبط عظمت کا یہ عالم ہے کہ بیرونِ ملک مشاعروں پہ جائیں تو واپس آکر پورا احوال لکھتے ہیںکہ کس کس نے کب کب ہماری کیسے کیسے میزبانی کی ۔گویا قوم ان نابغوں کے شب و روز نہ جان پائے تو سعادت سے محروم رہ جائے۔ کچھ وہ ہیں جو اردو کالم میں صدر اوبامہ کو مشورے دیتے ہیں۔معلوم نہیں انہیں کس نے بتایا ہے کہ اوبامہ کی صبح ان کا کالم پڑھ کر ہوتی ہے؟جس کے پاس ابھی اپنا پاسپورٹ نہیں وہ امورخارجہ کا ماہر بنا پھرتا ہے ، جس نے ساری زندگی کبھی کرکٹ کا بلا نہیں پکڑا وہ وقار یونس اور آفریدی کو بتانا چاہتا ہے کہ ان کی پلاننگ کیا ہونی چاہیے۔جسے پاکستان کے حدود اربعہ کا علم نہیں وہ خطے کی تزویراتی صورتحال پر صفحے سیاہ کرتا جا رہا ہے۔ بریکنگ نیوز کا ایک طوفان بدتمیزی ہے۔گدھا گاڑی کی بیل گاڑی سے ٹکر ہو جائے تو نہ صرف یہ بریکنگ نیوز بنتی ہے بلکہ پھولی سانسوں کے ہنگام کوئی صاحب ’کسی کیمرہ مین کے ساتھ‘ آپ کو گدھے اور بیل کے آباﺅ اجداد کی رقابت کی کہانی بھی سنا دے گا ۔یہی نہیں اگلے چار روز اس پر ڈفلی بھی بجائی جائے گی کہ یہ خبر سب سے پہلے ہم نے بریک کی۔سوال یہ ہے کیا صحافت اس چاند ماری کا نام ہے؟
سماج صرف سیاست کا نام نہیں۔سماج کے اور بھی بہت سے مسائل ہیں۔مگر صحافت کو سیاست لاحق ہو چکی ہے۔اخبار کا صفحہِ اول ہو یا ادارتی صفحہ آپ کو سیاست ہی ملے گی۔فلاں نے یہ فرما دیا اور فلاں رہنما نے یہ فرما دیا۔تعلیم، صحت،صفائی جیسے مسائل تو گویا تر جیح ہی نہیں۔جبکہ آپ امریکہ، برطانیہ کے اخبارات دیکھیں سیاست کو وہاں اتنی ہی جگہ ملتی ہے جتنی دیگر ایشوز کو۔قوم کی اگر تربیت نہیں ہو سکی اور تہذیب نفس کی کمی ہے تو اس کی ذمہ دار یہ صحافتی روش بھی ہے۔
مکالمے کا کلچر ہماری تہذیبی روایات میں سے ایک ہے۔آج ہمارے ٹاک شوز اس روایت کو چاٹ رہے ہیں۔ہم اپنی نئی نسل کو بتا رہے ہیں کہ گفتگو کے آداب تو محض تکلفات ہیں ۔بات تو لڑ کر کرنی چاہئے۔جیسے ہمارے سیاست دان کرتے ہیں۔ زیادہ بہتر ہے کہ منہ سے تھوڑی جھاگ بھی نکل آئے۔ ریٹنگ کے چکر میں اینکرز نے بھی ،الا ماشاءاللہ، سنجیدہ اسلوب گفتگو ترک کر دیا ہے۔کامیاب شو اب وہ نہیں جس میں ڈھنگ کی کوئی بات ہو۔کامیاب شو وہ ہے جو مجمع لگا سکے۔چنانچہ جو اچھی ڈگڈگی بجا لے وہی کامیاب….
ذمہ داری کا احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔نرسوں نے لاہور میں اپنے مطالبات کے لئے جلوس نکا لا تو ایک چینل نے اس کی فوٹیج پر گانا چلا دیا ’جی ٹی روڈ تے بریکاں لگیاں نی بلو تیری ٹور ویکھ کے‘۔معلوم نہیں ایسے لوگوں کو ماں کی آغوش میں کبھی تربیت لینے کا موقع ملا یا یہ کسی ورکشاپ پر تیار ہوئے؟
ایک اور منظر بھی دل پر نقش سا ہو گیا ہے۔ایک گھر میں لاش پڑی ہے۔کسی ماں کے معصوم بچے کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ایک چینل کا رپورٹر وہاں موجود ہے۔اس کو سٹوڈیو میں بیٹھی اینکر کہتی ہے کیا آپ ہماری مقتول کی ماں سے بات کروا سکتے ہیں۔وہ مجہول شخص مائیک اس خاتون کے آگے کر کے پو چھتا ہے ’آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟‘ کاش کوئی شخص جوتا اتار لیتا۔ شاید احساسات کی کچھ ترجمانی ہو جاتی۔
ایسا ہی ایک اور منظر۔سیلاب کے دنوں میں میک اپ سے لدی ایک اینکر ایک آدمی کو روکتی ہے۔اس آدمی کا ایک ہاتھ میں بیٹا اور دوسرے میں معصوم سی بچی ہے۔وہ شخص پانی سے نکل کر ابھی ابھی خشک جگہ پر آیا ہے۔محترمہ مائیک اس کے سامنے کر کے پوچھتی ہیں ’آج 14 اگست ہے کیا آپ ہمیں قومی ترانہ سنائیں گے‘۔ وہ آدمی بے بسی سے کہتا ہے ’میرے بچے بھوکے ہیں کچھ کھانے کو ملے گا‘…. بد ذوقی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔کاش اس آدمی کے پاﺅں میں بھی ایک جوتا ہوتا۔
میڈیا کو خود احتسابی کی آج شدید ضرورت ہے۔زیادہ بہتر ہو گا معاشرے کی بجائے یہ احتساب ہم خود کر لیں۔ورنہ یہ جاننے کے لئے تو کسی بریکنگ نیوز کی ضرورت نہیں کہ ہر آدمی کے پاﺅں میں دو جوتے ہوتے ہیں۔ تنگ آ کر کسی روزمعاشرے نے یہ جوتے اتار کے رسید دینی شروع کر دی تو پھرنومولود مقدس گائے پنجابی فلموں کی ہیروئن کی طرح اچھل اچھل کر دھرتی پامال کر دے گی کہ ’ آزادی صحافت خطرے میں ہے‘۔ وہ لوگ معروف صحافی بن گئے ہیں مہذب معاشرے میںجو شاید ریڑھی لگائیں۔
دیکھیے حبیب جالب کہاں یاد آئے:
’قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال
فکر تعمیر ملک، دل سے نکال
تیرا پرچم ہے تیرا دست سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل؟
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال‘


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “اب قلم سے ازار بند ہی ڈال

  • 18-01-2016 at 5:10 am
    Permalink

    واقعی ہماری صحافت کو سیاست کا عارضہ لاحق ھے۔اللہ اس بیمار کو جلد صحت دے۔

  • 19-01-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    Wah… Kia Baat Hey janaab. Maza Aa Gaya

Comments are closed.