فرقہ واریت: ذمہ دار کون


mujahid ali

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فرمایا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت ایجنسیوں کی وجہ سے پھیلی ہے ، اس میں علما یا مذہبی تنظیموں کا ہاتھ نہیں ہے۔ مولانا کے پاس اپنی بات کا کوئی جواز ضرور ہو گا لیکن وہ قوم کو بہر صورت اس بات کے لئے جوابدہ رہیں گے کہ وہ خود کیوں ایجنسیوں کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔

دنیا اس وقت دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے جس مسئلہ سے دوچار ہے، اسے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر حل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس حد تک تو مولانا فضل الرحمان کی بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ ماضی میں ایک خاص مقصد سے دینی انتہا پسندی کو عام کرکے بعض قومی اور بین الاقوامی مقاصد حاصل کئے گئے تھے۔ لیکن عالمی طاقتوں اور ملکی ایجنسیوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دینی رہنماؤں ، اداروں، مدرسوں اور گروہوں کو ہی استعمال کیا تھا۔ اس لئے اگر کوئی عالم دین یا مذہب کے نام پر سیاست کرنے ولا شخص اب ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرا کر خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے تو وہ دراصل اپنے آپ کو اور قوم کو  دھوکہ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ کیوں کہ کوئی ایجنسی بھی اس وقت تک اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک معاشرے میں اسے ان مقاصد کی تکمیل کے لئے آلہ کار بننے والے عناصر نہ مل جائیں۔ کیا مولانا فضل الرحمان اتنے بھولے اور سادہ ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کی صفوں میں کب کس نے اپنا مالی اور تنظیمی مفاد حاصل کرنے کے لئے کون سے سمجھوتے کئے اور کون سے نعرے ایجاد کئے۔ مولانا موصوف گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل کسی نہ کسی صور ت اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ وہ ایک مدرسہ کے استاد اور مہتمم سے ترقی کرتے ہوئے قومی سطح کے لیڈر ہی نہیں بنے بلکہ اقتدار میں حصہ دار رہنے کی وجہ سے ان کے ذاتی اور خاندان کے وسائل میں بھی حسب مقدور اضافہ ہؤا ہے۔ اس بارے میں وہ اگر قوم ملک کو نہیں تو اپنے ضمیر کو ضرور جوابدہ ہیں۔ مولانا کے تازہ ارشاد کی روشنی میں البتہ یہ کہنا ضروری ہے کہ ایجنسیوں اور خفیہ طاقتوں کے اشارے کے بغیر کسی شخص کو اقتدار میں اس قدر حصہ نہیں مل سکتا جس قدر مولانا وصول کر چکے ہیں اور مسلسل کررہے ہیں۔ خواہ وہ شخص مولانا فضل الرحمان جیسا نابغہ ہی FazalurRahman_11-21-2013_127315_lکیوں نہ ہو۔

ملتان کے مدرسہ قاسم العلوم میں ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کرنا بھی انتہا پسندی ہے۔ یہ بات بھی تکنیکی لحاظ سے درست ہے کیوں کہ اسی قسم کی دولت کا کچھ حصہ دراصل دہشت گردوں کی پرداخت پر صرف ہوتا ہے جو عام لوگوں کی دولت لوٹنے والے عناصر کسی نہ کسی طریقے اور مقصدسے انتہا پسند گروہوں کو فراہم کرتے ہیں۔ پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے کالے دھن کے حوالے سے دنیا کو سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ کیا اس دولت کا کچھ حصہ دہشت گردی سے حاصل کیا گیا ہے اور کیا یہ وسائل کسی طریقہ سے دہشت گردی کے لئے صرف ہوتے ہیں۔ ان سوالات کا جواب تلاش کرنا دنیا بھر کے انسانوں کی سلامتی اور تحفظ کے لئے اہم ہو چکا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس معاملہ کو سیاسی کھیل اور ذاتی عناد نکالنے کا ذریعہ بنا کر جو طوفان کھڑا کیا گیا ہے ،اس کا اصل حقائق اور مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے قائد اور حکومت وقت میں شامل مولانا فضل ارحمان بھی جب ان انکشافات کو اپنے گروہی و سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں تو کیسے ان کی دیانت اور پاک دامنی پر یقین کیا جائے۔

مولانا کو اس بات سے بہت تکلیف ہے کہ داڑھی کو دہشت گرد کی علامت بنا لیا گیا ہے۔ اس بات پر بھی مولانا کی تائید کی جا سکتی ہے۔ لیکن پہلے انہیں یہ اقرار کرنا ہوگا کہ داڑھی والوں نے خود دین کے نام پر نفرت، تعصب اور تشدد عام کرنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ کیا مولانا خود دہشت گردی میں ملوث طالبان کے من پسند گروہوں کے سرپرست اور حامی نہیں رہے اور کیا اب وہ اپنے اس کردار سے تائب ہو چکے ہیں۔ جب تک ملک کے مذہبی رہنما خود احتسابی کے عمل سے گزرتے ہوئے ان غلطیوں کی اصلاح کا بیڑا نہیں اٹھائیں گے جن کی وجہ سے یہ معاشرہ توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ کی آماجگاہ بن چکا ہے، اس وقت تک مولوی اور اس سے متعلق علامات کے بارے میں غلط فہمی بھی موجود رہے گی اور مدرسوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مراکز بھی سمجھا جاتا رہے گا۔ اگر مولانا اور ان کے ساتھی آج سے اصلاح احوال کے کام کا آغاز کریں تو وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کا کفارہ بھی ادا کرسکیں گے اور صورت حال کی بہتری میں حکومت اور سماجی رضاکاروں کے کام کو آگے بھی بڑھا سکیں گے۔ لیکن مذہبی منافرت کی بنیاد پر دکانداری کرنے والوں سے اس بات کی توقع عبث ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali