شرمندگی کے جھوٹے پیمانے


mehwish‏کچھ دن سے ایک یونیورسٹی کے باہر ہونے والے ایک مظاہرے پہ بحث سن اور دیکھ رہی ہوں۔ کالج کے طالب علموں نے دیوار پہ سینیٹری نیپکین لگائے اور ان پہ کچھ فکر آمیز جملے تحریر کئے۔

 بحیثیت عورت مجھے ان طالب علموں کے اس عمل پہ رشک آیا۔ ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ چونکہ ہم صنفِ نازک ہیں اس لئے ہمیں بہت سی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ “دوپٹہ ایسے اوڑھنا، زیادہ میک اپ نہیں کرنا، اونچی ہیل نہ پہنو، زیادہ زور سے باتیں نہ کرو، اور ہاں حیض کے اوقات میں جمیز بانڈ کی اولاد بن جاؤ۔”

مرد حضرات کو اس بات کا صحیح سے ادراک نہ ہو لیکن حیض کے متعلق عورت کی زندگی میں معاشرہ ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ کئے رکھتا ہے۔ ہم عورتوں کے دماغ میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ حیض ایک “ناپاک” اور “خراب” چیز ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو معلوم پڑ گیا کہ آپ کو حیض آ رہا ہے  تو نا جانے وہ آپ کے بارے میں کیا سوچے گا۔ سینیٹری نیپکین ایسے کاغذوں میں لپیٹ کے خریدے جاتے تھے جیسے اس میں صحت اور صفائی کی اشیاء نہیں بلکہ چرس یا کوکین خریدی جا رہی ہے۔ ان حالات میں خوب دل لگا کے جھوٹ بولنا بھی جائز ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پہ اگر دوران حیض کوئی باہر چلنے کا کہے تو فوراََ کوئی بہانہ بنا لیں جیسے کہ پیٹ خراب ہے، سر میں درد ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسکے علاوہ حیض سے متعلق سوال کا جواب دینا بھی ایک غیر اخلاقی عمل گردانا چاہتا ہے۔ (کاش کہ کوئی سب کو بتلائے کہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ حیض سے جڑی کئی بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں ڈپریشن کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔) لہٰذا ان پہ غور کرنا آپ کی اپنی صحت کے لئے ہی مفید ہے۔)

‏اس یونیورسٹی کے شاگردوں کے اس عمل پہ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ جناب یہ مسئلہ پاکستانی عورتوں کو درپیش اصل مسائل (تیزاب پھینکنا یا زندہ جلانا وغیرہ) کی ترجمانی نہیں کرتا۔ لیکن ذرا ایک لمحے کو ٹھہریے اور سوچیے کہ احتجاج کرنے والوں نے کب کہا کہ یہ مسئلہ پاکستان کی تمام عورتوں کو یکساں درپیش ہے؟ وہ تو معاشرے کہ ایک طبقے کی نمائندگی کر رہی ہیں جن کو واقعی اپنی روز مرہ زندگی میں ایسے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ گاؤں کی عورت جو مرد کے شانہ بہ شانہ کھیتوں میں کام کرتی ہے اس کے لیے واقعی شاید حیض اور سینٹری نیپکن ایک معمولی سا مسئلہ ہو لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ حیض اور اس سے جڑی باتیں پاکستان کی کسی عورت کا مسئلہ نہیں۔ بلکہ حیض سے جُڑی بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کے حوالے سے معاشی طور پہ کمزور طبقہ اس لئے بھی مدد نہیں ڈھونڈتا کیونکہ اس کا اول تو اسے علم نہیں ہوتا دوسرا یہ ‘شرم’ کی فضا اسے اس بارے میں بتانے کی جسارت نہیں کرنے دیتی۔

‏اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے یہ تو مراعات یافتہ لوگوں کے رونے ہیں۔ جن کو ویسے ہی ہر طرح کا عیش و آرام میسر ہے۔ دیکھا جائے تو بات کسی حد تک غلط بھی نہیں۔ پاکستان میں ‘فیمینزم’ کا مطلب اخذ کرنے میں کافی لوگ زیادتی تو کرتے ہی ہیں۔ مثال کے طور پہ وہ خواتین جنہوں نے ساری زندگی والد کی کمائی پہ گزاری اور پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنے خاوند کے ماتحت ہوگئیں۔ پھر ‘بیگم صاحبہ’ کلچر کا استعمال انہوں نے جی بھر کے کیا۔ ایک نو عمر بچی رکھ لی جو ان کے بچے سنبھالتی رہے، ایک خادم رکھا جو ان کو ہر جگہ ڈرائیو کر کے لے جائے۔۔۔ اور باقی سارا وقت کمیٹی لنچ اور لان کی نمائشوں پر لگا دیا – ان کے منہ سے حقوق نسواں کا راگ تھوڑا معیوب سا لگتا تو ہے۔ لیکن رکئے! ان بیگم صاحبان کا بھی تعلق ان مسائل سے ہے۔ کیونکہ اتفاقاََ حیض محل میں بیٹھی عورت کو بھی آتا ہے اور کھیت میں کام کرنے والی عورت کو بھی۔ ساتھ ہی ساتھ اس سے جڑے مسائل کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔

‏شاید مراعات ملنے والے بھی اس مسئلے پہ بات کرنا چاہتے ہیں اور 18 گھنٹے ڈیوٹی دینے والی خواتین بھی جو بہت مشکل سے اپنے بچوں کے پیٹ پال رہی ہیں۔ اپنے تئیں، ان طالب علموں نے ایک بہت اہم مسئلے پہ سب کی توجہ مرکوز کروائی ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو کل اپنے گھر بنائیں گے، ایک نئی نسل کو پروان چڑھائیں گے۔ اگر ان کی یہ سوچ قائم رہی اور انہیں یوں ہی معاشرے کے مسائل پہ بات کرنے کی ہمت رہی تو ان کے بچے اس خوف اور پریشانی کا شکار نہیں ہوں گے جیسے ہم بھگت چکے۔

‏جب امیر طبقہ یا زندگی کے تمام سہولیات سے فیض یاب طقبہ معاشرے میں تبدیلی چاہتا ہے تو اس تبدیلی کا آنا زیادہ ممکنات میں سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ امیر لوگ ہیں انہیں کیا معلوم تکلیف کیا ہوتی ہے کچھ حد تک درست ہے۔ مگر اس بات پہ ان کے کسی مثبت عمل کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بنانا نقصان دہ ہے۔ وہ غریب عورت جو تعلیم یافتہ بھی نہیں، جس کے پاس ویسے ہی زندگی کی مشکلات اتنی زیادہ ہیں کہ وہ وقت نکال کے اپنے حقوق کے لئے این جی او کیا بچوں کے لئے ٹھیک سے اسکول تک نہیں ڈھونڈ سکتی۔۔۔ کیا آپ کی امید اس سے ہے کہ وہ حیض کی  بابت ایک آگہی مہم چلائے؟

ویسے بھی کچھ ہماری قوم کو عورتوں کے حقوق کی آگاہی دینے والوں یا حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے والوں کو محض غلط ثابت کرنے کے لئے ان کے خلاف تنقید برائے تنقید کرنے کا شوق ہے۔ تازہ مثال شرمین عبید چنائے کی ہے جس نے فلم کیا بنا دی اس کے پیچھے عوام پڑ گئے کہ ملک کو بدنام کر رہی ہے۔ جو مولوی حضرات منبر پہ بیٹھ کر یا مولوی زدہ سوچ رکھنے ولے لوگ سارا دن مردوں کو برین واش کرتے ہیں کہ عورت ان کی ملکیت ہے اور معاشرے میں ایک بہت بدترین بیماری کے پھیلاؤ کی مسلسل ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف بولنا کفر کے زمرے میں آتا ہے۔

‏سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکی ڈھابے پہ بیٹھ کے چائے پینا چاہتی ہے اور اس کو وہ اپنا حق سمجھتی ہے تو اس میں کیا برائی ہے؟ اور جو عورت کھیت میں بیٹھ کے ڈھابہ چلا رہی ہے اس میں کیا برائی ہے؟ سیدھا سا جواب ہے، کوئی بھی نہیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پدرانہ نظام میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ایک عورت اگر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ حیض، جو ایک قدرتی عمل ہے اور جس سے انسان کی بقا جڑی ہوئی ہے اس کی وجہ سے عورت کو ناپاک یا گندہ یا کسی ‘خفیہ مشن پہ موجود ایجنٹ’ بنانا بیوقوفی ہے ۔۔۔ تو اس میں کیا برائی ہے؟ حیض کے بارے میں بات کرنے میں شرم کیوں محسوس کرنی چاہیے؟ کیا یہ ایک عام سی بات نہیں؟ کیا ہماری بچیوں کو اس بات کی سمجھ نہیں ہونی چاہیے کہ حیض آخر ہے کیا؟

‏اور ہم کس معاشرے کی اقدار کی بات کر رہے ہیں؟ جہاں ویسے ہی غیرت کے نام پہ عورت کا قتل جائز بنا دیا جاتا ہے؟ جہاں عورت کے حقوق کے لئے ایک بل پاس کروانے کے خلاف مولانا حضرات سڑکوں پہ ریلیاں نکالتے ہیں اور یہی اعتراض کرنے والے ان تختہ دار اور غیرت کے ٹھیکے داروں کے سامنے خاموش رہتے ہیں۔

عورت اور غیرت کو جوڑ کے جتنا پامال ہم نے عورت کو کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنے معاشرے اور اس کی اقدار کی عزت ایک جگہ مگر جن اقدار میں کھوکلی شرم و حیاء اور پاکدامنی اور غیرت کے دار بنا کے عورت کو ٹانگ دیا جاتا ہے، ان اقدار کے اوپر سوال اٹھانے والے بہادر لوگ ہیں۔ اور ایسی اقداروں کا سرے سے مٹ جانا ہی معاشرے کی بقاء کا سبب بن سکتا ہے۔

‏عورت کے حق کے لئے بات کرنے والا ہر انسان قابل عزت ہے۔ ہر شخص جو عورت کو انسان سمجھے گا اور اس کے ساتھ ہونے والے مسائل پہ روشنی ڈالے گا اس کو بولنے کا پورا حق ملنا چاہیے۔ آپ اس سے اختلاف رکھ سکتے ہیں یا اپنے حساب سے اس میں کمی بیشی کے مشورے دے سکتے ہیں لیکن آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں کیا معلوم؟ یا یہ کیوں بول رہے ہیں؟ یا یہ کہ انہیں بولنے کا کوئی حق نہیں وغیرہ۔

‏شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا

‏اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے


Comments

FB Login Required - comments

22 thoughts on “شرمندگی کے جھوٹے پیمانے

  • 11-04-2016 at 9:38 pm
    Permalink

    زبردست۔ بہت خوب لکھا آپ نے، ہمارے معاشرے میں عورت کو جب کوئی چاہتا ہے تو نمائشی بنا دیتا ہے اور کبھی چاہتا ہے تو اچھوت۔ یہ دوہرا معیار اب ختم ہونا چاہیے

    • 13-04-2016 at 10:59 am
      Permalink

      یہ بتائیے کہ ایک کمرشل پراڈکٹ کی ایسی بھونڈی پبلسٹی سے لوگوں، خصوصاً مردوں میں حیض کے مسائل کیسے اجاگر کیا جاسکتا ہے؟
      یقیناً حیض سے وابستہ بہت سے جسمانی و نفسیاتی عوامل ہیں۔ اللہ تعالی سے بڑھ کر مخلوق کا خیر خواہ کون ہو گا۔ جبھی اس نے اسے “اذیٰ” یا ایک تکلیف دہ چیز قرار دے کر اپنے ماننے والے مردوں کو ان ایام میں اپنی بیویوں سے جنسی تعلق قائم کرنے،،، اور اس مخصوص حالت میں ڈسٹرب کرنے،،، سے روک دیا۔ حدیث کی رو سے ایسا کرنے والے کو بڑا جرمانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
      اسی طرح عورتوں کی جسمانی و نفسیاتی سہولت کے پیش نظر اللہ رحیم و کریم نے اپنی سب سے اہم عبادت، نماز تک کو معاف فرما دیا۔ دوسری اہم ترین عبادت، رمضان کے روزوں کی قضا کرنے کی رخصت عنایت فرما دی۔
      باقی اس کی تفصیلات قرآن و سنت میںپوری شرح کے ساتھ موجود ہیں۔ ہمیں غیروں کے ٹھونسے نظریات کی جگالی اور پرچار کے بجائے اپنی اصل روحانی اساس کی طرف لوٹناچاہیے۔
      آجکل مولانا رومی مغرب میں بہت اِن ہیں انھی کی فکرملاحظہ فرمائیے۔
      دستِ ہر نا اہل بیمارت کُنَد
      سُوئے مادر آ کہ تیمارت کُنَد

  • 11-04-2016 at 11:02 pm
    Permalink

    سینیٹری نیپکین ایسے کاغذوں میں لپیٹ کے خریدے جاتے تھے جیسے اس میں صحت اور صفائی کی اشیاء نہیں بلکہ چرس یا کوکین خریدی جا رہی ہے۔

    • 11-04-2016 at 11:52 pm
      Permalink

      اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
      خون جگر کی چند بوندوں سے آپ نے جس طرح شمع جلائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اک دن اس شمع کا اجالا ضرور پھیلائے گا۔

  • 12-04-2016 at 12:05 am
    Permalink

    حیض اور اس سے متعلقہ مسائل کے متعلق شعور بیدار کرنا باالکل اور بات ہے اور نیپکن کو کنڈوم سے جوڑ کر اسے آزادانہ لیجانے کے مطالبہ کرنا اور بات ہے۔مذکورہ احتجاجی خواتین دوسرا مطالبہ کررہی ہیں۔پہلی بات تو یہ کہ ہمارے معاشرہ ابھی بھی کچھ اقدار رکھتا ہے اور یہ انہیں اقدار میں سے ایک قدر ہے کہ عام طور پر دکاندار کاکی لفافے میں اس طرح کی چیزیں ڈال کر دیتے ہیں۔اگر آپ دکاندار سے مطالبہ کریں کہ مجھے بغیر خای لفافہ کے یہ چیزیں دیں تو کیا وہ انکار کرے گا؟َوہ تو خوشی سے دے گا کیونکہ اسکی تو بچت ہوگی۔
    اصل مسئلہ بالکل ایسا ہے کہ اس کے متعلق شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے یعنی حیض،لیکن جس رنگ میں اسے پیش کیا جارہا ہے وہ بہرحال غلط ہے

  • 12-04-2016 at 8:15 am
    Permalink

    حیرت سے سوچتا ہوں طبقات کی سفاک جنگ میں نازک حقیقت کس بے رحمی سے کچلی جاتی ہے. اپنے قبیلے کی بہر صورت تائید اور اٹل عصبیت میں انسان کو بعض دفعہ کس درجہ سطحی دلائل پر قناعت کرنا پڑتی ہے. مولوی تو خیر ہے ہی built in عورت دشمن. نہ اس کی بیٹی یونیورسٹی پڑھتی ہے نہ یہ اسلامک ڈیپارٹمنٹ میں خود پڑھاتا ہے بلکہ یہ تو معاشرے میں آئے روز کی بات ہے کہ ادھر مولوی کی بیٹی بالغ ہوئی ادھر اس نے عدالت میں جا کے تبدیلی باپ کی درخواست گزاری ہے. مگر افسوس فیض جیسے شاعر پر ، منٹو جیسے سفاک کہانی کار پر اور پورے ترقی پسند ادیبوں پر کہ انھوں نے حیض پر اشعار کہے نہ اس پر افسانے لکھے. یہ تو اچھا ہوا حقوق نسواں پر یہ مظاہرہ ہوگیا اور عورت نے مردوں کو اپنے مسئلے سے آگاہ کردیا اب یقینا انھوں نے صحت و صفائی کے سارے مسائل سیکھ لئے ہیں.اس فطری سلسلے میں جو عورت کی تعلیم ہو سکتی تھی اسے دے دی گئی. اس کی نفسیاتی اور طبی مسائل کی گتھیاں سلجھا لی گئیں.
    ویسے کوئی جانتا بھی ہے جس عورت کو اپنے مسئلے کی ترویج و اشاعت کی آج توفیق ملی اسی عورت کے اسی مسئلے کا اعتراف اور اس کے خصوصی احترام کا ذکر تعلیمی انداز میں صدیوں پہلے کسی کتاب میں کر دیا گیا تھا.
    آئیے اس کتاب اور حاملین کتاب کا ٹھٹھا اڑائیں کہ ویسے بھی آج کی آدھی دانش نے زندگی کا مقصد دلائل کے بجائے مولوی کا ٹھٹھا اڑانے کو جان رکھا ہے.

    • 12-04-2016 at 8:23 am
      Permalink

      Hafiz sb, is mein maulvi ka thatha kahan urra?

  • 12-04-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    محترمہ مہوش بدر اور اُن سے پہلے اسی موضوع پر محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا کا مضمون، دونوں کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو معاملہ مزید کھل کر سامنے آ جاتا ہے ۔ میرےخیال میں ان دونوں نے اپنے اپنے انداز میں موضوع کے اعتبار سے جو کچھ لکھا ہے وہ تو صاف پڑھا جا سکتا ہے لیکن انہوں نے ’’ بین السطور‘‘ بھی بہت کچھ کہا ہے اور ایسے اشارے دیے ہیں جن پر سوچنے کی ضرورت ہے ۔ البتہ یہ بھی خیال رکھا جانا چاہیے کہ ہمارے ہاں ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ کوئی شوہر،گھریلو خریداری کے لیے سٹور پر جائے اور وہاں سے بیوی کے لیے سینٹری نیپکن بھی خرید لائے! اب اِس میں قصور کس کا ہے، معاشری اقدار کا؟ دکانداریا شوہر کا؟ یا پھرخاتون خانہ کا، جس پر بعض اقدار کے تحت کئی جگہوں پر گھر سے باہر نہ نکلنے کی پابندی ہے؟

  • 12-04-2016 at 1:31 pm
    Permalink

    کبھی تو یہ نظام بدلے گا_______ کبھی توانسان اس سسٹم کو چینج کرینگے۔۔ جہاں ہر انسان آزاد ہو گا اور انسان انسان کیساتھ جُڑ جائے گا اور اس گلوبلائزڈ سسٹم میں کوئی کلاسیفیکیشن نہ ہو گی اور جو شے تمام انسانیت کے مفاد میں ہو گی اُس کو اپنا لیا جائےگا اور باقی تمام قوانین جن سے انسانیت کی تذلیل ہو اُن کو ریجیکٹ کر دیا جائے گا ۔۔ یہ نام نہاد سرحدیں بھی عملآ ختم کر دی جائیں یا کم از کم کُچھ حدود ایسی متعین کی جائیں جن سے ایک عام انسان با آسانی مُوو کر سکے۔۔۔ انسان انسان سے محفوظ ہو جائے۔ اور سب انسان مل کر اس زمین کو جنت کا عملی نمونہ بنا نے میں اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔ اس سیارے کے تمام انسان ایک خاندان بن جائیں۔۔۔ اس نفع نقصان کے چکر والے نظام سرمایہ داری کی بجائے اشتراکیت ہو جس میں انسانیت اور انسان کی بقاء مقدم ہو۔ اور یہ سیارہ تمام انسانوں کا سانجھا ہو جائے۔_________________ وہ وقت ضرور آئیگا۔۔۔۔ بہت جلد آئیگا۔۔۔۔۔۔۔

  • 12-04-2016 at 2:27 pm
    Permalink

    کس آزادی کو لے کر چسکے لیے جا رہے ہیں او بھائی جو چیز ہی پوشیدگی کی ہے اس کو اس طرح اچھالنا کہ یہ زندگی موت کا مسئلہ بنانا کوئی عقلمندی ہے عورتوں کے مسائل اگر حیض نفاس کی تشہیر سے حل ہوتے ہیں تو ضرور کرین آزادی اظہار کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہر غلط کو بھی صحیح کے پلڑے میں رکھ دیا جائے
    ہاں اس کار خیر کا آوازہ کس یونیورسٹی کے نصیب میں آیا ہے ضرور آگاہ کریے گا

    • 13-04-2016 at 7:29 pm
      Permalink

      بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔

  • 12-04-2016 at 4:03 pm
    Permalink

    jis aazadi k lye hamari mulk ki upper class khwateen beechen hoti hen un k lye ek choti si kahani pesh e khidmat he. apni ray se zaroor aagah kejiyega.
    *-*آزادی*-*
    بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا کہ بکریوں کو آزادی دو بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں چلو ہم بھی نکلتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتے ہیں
    ایک بوڑھی بکری بولی بیٹی ہوش کے ناخن لو یہ بھیڑئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آو
    مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں
    بوڑھی بکری سن کر بولی بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو اگر ان کی باتوں میں آگئی تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے
    بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے باہر خوبصورت کھیت ہونگے ہرے بھرے باغ ہونگے ہر طرف ہریالی ہوگی خوشیاں ہی خوشیاں ہونگی تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو اب ہم مزید یہ قید برداشت نہیں کرسکتیں یہ کہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کردی ریوڑ کے مالک نے جب یہ صورتحال دیکھی تو مجبورا انہیں کھول کر آزاد کردیا بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں
    مگر یہ کیا؟؟؟؟ بھیڑئیوں نے تو ان پر حملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا
    آج عورتوں کے حقوق کی بات کرنے والے درحقیقت عورتوں تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں انہیں عورتوں کے حقوق کی نہیں اپنی غلیظ پیاس کی فکر ہے کاش کہ کوئی سمجھے!!!!!!!

    • 12-04-2016 at 8:33 pm
      Permalink

      علی صاحب آپ کا شکریہ، آپ نے اپنا ماضی الضمیر لکھ دیا. بے شک آپ کے عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے مشابہت دینے میں عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں…

  • 13-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    اگلا احتجاج مردوں کی جانب سے ہو گا جو کونڈم پھیلا کر اپنی شرمندگی کم کرنے کی کوشش کریں گے ۔

  • 13-04-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    بہت خوب…مجھے اپنے ملک کی ان بچیوں پر فخر ہے، جو ان جہالت پر مبنی باتوں کو challange کرتی ہیں….اور بہت عمدہ تحریر.

  • 13-04-2016 at 8:23 pm
    Permalink

    جی ہاں عجیب بات ہے کہ حیض و نفاس کی تشہیر کیوں نہیں کی جاتی اور اس جاہل انپڑھ معاشرے میں یہ کتنا بڑا ظلم عظیم ہے کہ ہم اس کام کو عیاں نہیں کرتے بلکہ مسلہ تو اس جامد مذہبیت کا ہے کہ جو اس کام کو برا سمجھتی ہے ..

    بلکہ میں تو کہتا ہوں بول و براز کی سر عام تشہیر کیوں نہیں کی جاتی اس مردوں کے معاشرے میں جب کوئی مردووا دھوتی اٹھاۓ رفع حاجت کرتا ہے تو ایک عورت سر عام ایسا کیوں نہیں کر سکتی ..

    آخر ہمارے پخانوں اور ہمارے پشابوں پر پابندی کب تلک ..

    کیا ہی آزاد منظر ہو کہ پیشاب کی بہتی دھاریں اور در و دیوار سے لپٹے ہوۓ پاخانے ہماری شخصی آزادی کے ثبوت کے طور پر چہار سو نظر آویں .

  • 14-04-2016 at 2:30 pm
    Permalink

    ایسے خاکی لفافوں میں تو زنانہ انڈر گارمنٹس کی خریداری ہوتی ہے اس کی خریداری پر اپنے حقوق جتانے کا وقت کب آئے گا بلکہ آگیا ہے زرا محترمہ سوچیں کہ اپنے کسی کام میں مصروفیت کے سبب اپنے بھائی کو یا محلے کے کسی لڑکے کو سائز بتا کر انڈر گارمنٹس منگواتی ہیں تعلیم ایک الگ چیز ہے اس بارے میں تعلیم دی جائے اچھی بات ہے لیکن اقدار اپنی جگہ زیادہ اہم ہیں اور جو طریقہ اس کی تعلیم کے لیے وضع کیا گیا ہے انتہائی بھونڈا اور بیہودہ ہے

  • 15-04-2016 at 3:00 am
    Permalink

    har society ki norms hoti hain ab jb log mukamal azadi chahtay hain tou so bismillah g.karo roads pay baith k jitna chahay urine.hathon main utha k phiray yay alwaz k pampers .ab sirf iss column ko parhna ni banta blkay jb dil ko laga tou iss pay amal keejiyay aur bghair sharmindgi k sab k samnay laaiyay k vrna tou liberal honay pay shak hi rhay ga

  • 15-04-2016 at 11:50 am
    Permalink

    واہ ملائیت !!!! حیض جیسے موضوع کو بھی لبرل اور مذھبیت میں تقسیم کر نے تمھاری ذھنیت کو اکیس توپوں کی سلامی

  • 16-04-2016 at 12:56 am
    Permalink

    Well said ramiz sahib.Thumbs up.My point of view is same.He who appreciates act of those silly girls must encourage their ladies to do same for supporting your hero girls

  • 20-04-2016 at 1:17 am
    Permalink

    Mujhye tuo sumjh nahi a rahi hai keh yahan pr jung keyun ho rahi hai, yahan tuo kyah kahin bhi kisi ourat ko kisi mard ka koi acha kam keyun nazar nahi ata hai? .our nahi kisi mard ko kisi khatoon ka koi acha kam nazar ata hai

  • 20-04-2016 at 2:42 am
    Permalink

    کاش ہم چادر اور چاردیواری کے مقدس جذبوں کو آزادی کے نام پر ننگا نہ کریں۔ کاش ہم اپنی مزہبی اقدار کو غیر مذاہب کی بے راہ روی کے بد تمیز اور گندے نالے کی نظر نہ کریں۔ کاش ہم بیکن ہاوس کی بچیوں کو یہ سیکھا سکیں کہ بچیو تم ایک اسلامی گھرانے میں پیدا ہوئی ہو اور اسلام میں پردے کی بڑی اہمیت ہے ۔اگر تم اپنے جسم ، اور چہرے کا پردہ نہیں کر سکتیں تو خدا کے واسطے اپنی شرمگاہوں کا ہی پردہ کرنا سیکھ لو ۔کیوںکہ حیض کا تعلق تو براہ راست عورت کی شرمگاہ سے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں اتنی آزادی مانگتی ہو جتنی ایک بازاری عورت بھی نہیں مانگتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زرا تو سوچو ۔۔۔۔۔۔بچیاں سب کی سسانجھی ہوتی ہیں ۔

Comments are closed.