ٹمبکٹو، نیٹکو اور خیال تارڑ !


waqar ahmad malik یہ بشام تھا۔ میں نے گاڑی ایف ڈبلیو او کے کیمپ میں کھڑی کی اور نیٹکو بس میں اپنی سیٹ پر آ بیٹھا۔ ابھی کانوائے چلنے میں کچھ وقت تھا لیکن مسلسل دس گھنٹے گاڑی چلانے کے بعد تھکن غالب تھی۔ رضوان کا مہمان نوا ز چہرہ بھی دھندلا دکھائی دے رہا تھا ۔ رضوان اینڈ کمپنی کے لیے یہ وقت یعنی صبح کا وقت جب کانوائے ان کی ہوٹل میں آ کر رکتا ہے قیامت خیز ہوتا ہے۔ سیکڑوں لوگوں کو ایک گھنٹہ دورانیہ کے اندر ناشتہ مہیا کرنا آسان کام نہیں ہے۔ پھر معاملہ یوں بھی حساس ہوتا ہے کہ کانوائے میں اوسطا دو سو ہنزائی سواریوں میں پچاس ساٹھ رضوان کے رشتہ دار نکل آتے ہیں۔ اس قدر لمبا سفر کرنے والا ہر مسافر ’کمر سیدھی‘ کرنا چاہتا ہے ۔ مڈ وے بشام میں تقریبا تین سے چار کمرے اسی مقصد کے لیے خالی رکھے جاتے ہیں۔ایک گھنٹہ میں سیکڑوں مسافروں کی کمریں سیدھی کرانا اور ناشتہ دیناآسان کام نہیں ہے خصوصا جب پچاس ساٹھ مسافر آپ کے رشتہ دار ہوں۔

میں نیٹکو کی سیٹ پر براجمان تھا۔ اور کیا ہی آرام دہ سیٹ تھی۔ مجھے ڈائیوو وغیرہ کی بسوں سے کہیں زیادہ آرام دہ لگی کہ نیٹکو میں ٹانگیں پسارنے کے لیے وافر جگہ ہوتی ہے اور ایسا ڈیزائن غالبا طویل سفر کو مد نظر رکھ کر بنا یا گیا ہو گا۔

کانوائے چلنا شروع ہوا تو سکون کا سانس لیا۔ مجھے اب مزید ڈرائیونگ نہیں کرنی تھی۔ مزے سے سونا تھا۔

قراقرم ہائی وے کا ایک غیر تحریر شدہ آئین ہے جو بیس تیس برس میں تشکیل پایا ہے۔ اس آئین سے عدم واقفیت بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ نیٹکو بس کے حوالے سے آئین کہتا ہے کہ اگر نیٹکوبس سامنے سے آ رہی ہو اور ایک گاڑی کے گزرنے کا راستہ ہو تو رک جائیں اور بس کو گزرنے دیں کیونکہ نیٹکو نے بریک نہیں لگانی۔ بدقسمتی سے نیٹکو کے ڈرائیور آئین میں درج اپنے لیے امتیازی سلوک سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔

تصور کریں کہ کوئی نوارد ایسی جگہ جہاں ایک گاڑی گزرنے کا راستہ ہو اپنی گاڑی ڈال دے اور سامنے سے نیٹکو آ رہی ہو۔ توبہ توبہ

waqar04نیٹکو پاکستان کا فخر ہے۔ یہ ہماری سچ اور دیانت والی شہرت کا اظہار ہے ۔ پاکستان میں جی ٹی ایس اور واران جیسی بس سروسز کرپشن کے باعث اجڑ گئیں۔ پرزے بیچ کر کھا لیے گئے۔ وہاں نیٹکو ایک منفرد سروس ہے جس کے ماتھے پر ’گورنمنٹ آف پاکستان ‘ لکھا ہو تا ہے اور ہر سال منافع میں جاتی ہے۔

نیٹکو کو یہ اعزا ز بھی حاصل ہے کہ گذشتہ پچیس تیس سال سے پاکستان کی بین الاقوامی بس سروس ہے۔ سوست اور گلگت سے کاشغر جاتی ہے۔

نیٹکو یعنی ناردرن ایریا ز ٹرانسپورٹ کمپنی کیوں منافع میں ہے؟ اس کا جواب اس واقعہ میں تلاش کیجئے

دو سال پہلے کی بات ہے ایک جاپانی ٹورسٹ پہلی دفعہ گلگت بلتستان آیا (یوں ہزاروں جاپانی ہر سال آتے ہیں) گلگت میں ہوٹل سے چیک آﺅٹ کیا تو چالیس ہزار ڈالر کی خطیر رقم ہوٹل میں بھول گیا۔ ہوٹل میں بستر ٹھیک کرتے ہوئے ایک ملازم کی نظر پڑی تو اس نے رقم اٹھائی اور جاپانی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ یہ حرکت گلگت بلتستان میں ایک بہت ہی عمومی سی حرکت ہے ۔ یعنی آ پ کہہ سکتے ہیں کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا۔اس طرح کے سیکڑوں واقعات ہر سال پیش آتے ہیں۔ اس ملازم نے جاپانی کو ڈھونڈ نکالا اور رقم اس کے حوالے کی۔ دوسری طرف جاپانی حیران پریشان…. کہ پہلی دفعہ پاکستان آیا تھا اور پاکستان کے حوالے سے منفی باتیں ذہن میں حاوی تھیں۔ اس اللہ کے بندے نے یہ واقعہ اخباروں تک پہنچا دیا۔ واویلا مچ گیا۔ پاکستان کے ٹی وی چینلز نے یہ واقعہ اٹھایا اور یہاں تک کہ وزیر اعظم کے نوٹس میں آیا۔ وزیر اعظم پاکستان نے اس ملازم کو ایک ایوارڈ سے نوازا۔

waqar03یہاں اس کہانی میں ایک پیچیدگی ہے۔ جب یہ خبر پہلی دفعہ میں نے پڑھی تو شدید حیران ہوا کہ اس طرح کے واقعات تو گلگت بلتستان کا معمول ہیں۔ مڈ وے بشام کے جس رضوان کا ذکر گذشتہ قسط میں کیا تھا ، اس سے واقفیت انہی بنیادوں پر ہوئی تھی۔ میں ایک دفعہ ایک یو یس بی اس کے ہوٹل میں بھول گیا جس کی مالیت شاید تین سو روپے ہو گی۔ دو سال کا عرصہ گزر گیا، تیسرے سال صرف چائے پینے کے مختصر وقفے کے لیے رکا تو ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہا ، کہ آپ دو سال پہلے کچھ بھول گئے تھے۔ ایک یو ایس بی تھی۔ ویسے تو مجھے یقین ہے کہ آپ کی تھی لیکن تصدیق چاہتا ہوں ۔ میں نے کہا مجھے بالکل یاد نہیں ہے۔ وہ یو یس بی اور ایک لیپ ٹاپ لے کر آیا اور کہا کہ اس یو ایس بی میں ڈیٹا دیکھیں اور آپ کی ہے تو رکھ لیں۔ جب میں نے یو ایس بی میں تصویریں دیکھیں تو حیران ہوا کہ وہ یو ایس بی میری ہی تھی ۔

تو یو ایس بی سے لیکر لاکھوں روپوں کی بات ہو ، گلگت بلتستان کے باسیوں کا ردعمل بہت مکینکی ہے ۔ کیسے مکینکی ہے ۔ اس کا اندازہ بی بی سی کے رپورٹر کے اس انٹر ویو سے کریں جو اس نے اس ہوٹل کے ملازم سے کیا تھا جس نے جاپانی کو رقم واپس کی تھی۔

رپورٹر نے پوچھا۔ کیا آپ کو معلوم تھا کہ اتنی بڑی رقم تھی؟

جواب : جی ہاں معلوم تھا۔

رپورٹر : کیا آپ کے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ یہ رقم رکھ لوں

جواب: نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔ وہ رقم تو اس کی تھی

رپورٹر: نہیں لیکن آپ نہیں سمجھتے کہ آپ کی بہت ضرورتیں پوری ہو جاتیں

جواب: ہاں صاحب تنگی رہتی ہے ۔ بچے پڑھتے ہیں ان کی فیسوں کا مسائل ہیں ، لیکن یہ رقم تو اس کی تھی۔

یعنی رپورٹر گھما پھرا کر سو سوال بھی پوچھتا اس ملازم کے ذہن نے ہر سوال پر الجھنا تھا کہ یہ رقم تو اس کی تھی۔

یہ واقعہ بہت دن گلگت بلتستان میں زباں زد عام رہا۔ اس ملازم کے بارے میں سنا کہ فقط اس بات پر حیران ہے کہ اس کو ایوارڈ کس کارنامے پر دیا گیا ہے ۔ ایک انسان کی رقم تھی اس کے حوالے کر دی اس میں ایوارڈ کی نوبت کیسے آگئی۔

اس کو نہیں معلوم کہ باقی پاکستان میں جب کوئی ایسا کام کرتاہے تو کارنامہ کہلاتا ہے ۔ نیکی کہلاتا ہے۔ سچ جو عمومی انسانی رویہ ہونا چاہیے زبوں حال معاشروں میں سچ بولنا کارنامہ ہوتا ہے۔ ہاں گلگت بلتستان کے اپنے اخبارات یا ٹیلی ویژن کے لیے یہ کوئی خبر نہیں ہو گی۔ ان کے لیے یہ خبر ہو گی کہ کسی مقامی نے کسی سیاح کے پیسے اڑا لیے۔

اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نیٹکو کیوں منافع میں جاتی ہے ۔ نیٹکو کا کثیر عملہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھتا ہے ۔

کے کے ایچ پر نیٹکو رواں تھی۔ میں شیشے سے باہر کے مناظر سے خوفزدہ ہو رہا تھا، جس رفتار سے بس چل رہی تھی اور نیچے دریائے سندھ سیکڑوں فٹ گہرائی میں بہتا نظر آ رہا تھا اس میں نیند کا تصور بھی محال تھا۔ میں نے فورا پردے آگے کر دیے۔ ایک دم سکون ہو گیا اور یہ راز بھی کھل گیا کہ اس قدر خوبصورت مناظر کے باوجود تمام سواریوں نے شیشوں کے آگے پردے کیوں سرکا رکھے ہیں۔

waqar02میں نے سر سیٹ پر ٹکایا اور آنکھیں موند لیں۔ سوچنے لگا کہ جب میں لوک ورثہ میں تھا تو وہاں ایک صاحب نے ایک دفعہ کہا کہ ” تارڑ صاحب شمال کے حوالے سے بہت مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہیں“ میں نے اس وقت تک تارڑ صاحب کو نہیں پڑھا تھا اس لیے کوئی رائے نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن ان صاحب سے یہ ضرور پوچھا کہ آپ نے شمال (گلگت بلتستان) دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا نہیں شمال نہیں دیکھا لیکن پڑھنے سے اندازہ تو ہو جاتا ہے۔ میں نے ترنت جواب دیا یہ اندازہ نہیں صریحاً بد دیانتی ہے ۔

میں نے فورا شمال کے حوالے سے تارڑ صاحب کی کتابیں خریدیں۔ جیسے جیسے پڑھتا گیا، حیرت میں ڈوبتا گیا۔ پہلی دفعہ زور قلم کا اندازہ ہوا۔ گلگت بلتستان میں سیکڑوں جگہوں پر ایسی کیفیت گزری جس سے مصنف کا بھی کا بھی سامنا ہوا۔ ایک نمایا ں فرق اظہار کا نظر آیا۔

اوہ ۔۔بالکل بالکل ۔۔یہی ہو تا ہے ۔

کچھ ایسے زاویے تھے جو تارڑ صاحب کی آنکھ کا ہی کرشمہ تھے ۔ اور میری جمالیاتی تربیت کے لیے کام آئے۔

لیکن کیا تارڑ صاحب مبالغہ آمیزی کرتے ہیں؟ شمال سے انسیت و واقفیت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مبالغہ آمیزی دور کی بات تارڑ صاحب کا قلم بہت سے مقامات پر رہ جاتا ہے ۔ وہ منظر کے مکمل اظہار میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

اور اس حوالے سے سب سے بڑی گواہی تارڑ صاحب کی اہلیہ کی ہے جو ان کو عموماً کہا کرتی تھیں کہ یہ منظر اب اتنا بھی خوبصورت نہیں ہو سکتا جتنا آپ نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے۔

waqar01فیری میڈوز کے تذکرے پر تو تڑپ ہی اٹھیں کہ یہ تو بالکل ہی ناممکن ہے۔ جب پہلی دفعہ تارڑ صاحب کے ساتھ فیری میڈوز گئیں اور منظر کھلا۔ تا حد نظر پھیلا پائن کا جنگل، رائے کوٹ کا گلیئشر اور پس منظر میں نانگا پربت کی برفانی سلطنت۔ تو ان کے منہ سے صرف ایک جملہ نکلا۔۔دنیا کا کوئی قلم لفظوں سے اس منظر کو بیان نہیں کر سکتا۔

میں جب بھی رائے کوٹ کے پل پر رکتا تھا تو عجیب سی کیفیت ہوتی۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کیا ہے ۔ یہ کچھ خواب آور سا اثر ہے۔ یہ کچھ دیو مالائی ہے ۔

تارڑ صاحب کی ایک کتاب میں ایک باب کا عنوان دیکھا، ”رائے کوٹ کا پل اور دریائے سندھ کی گہری گونج“

جیسے ہی یہ عنوان دیکھا تو تڑپ ہی اٹھا۔ سمجھ آ گئی۔ دریائے سندھ رائے کوٹ پر ایک عجیب گہری گونج دیتا ہے۔ اگر آپ پنڈی سے گلگت جا رہے ہیں تو پل عبور کرتے ہی جو مقام ہے وہاں سے دریائے سند ھ نوے درجہ کے زاویے پر نیچے بہہ رہا ہے۔ یہ صورتحال دریا کی دوسری جانب چٹانوں کی ہے۔ دریا کی آواز کی لہریں آپ تک پہنچتے پہنچتے دو سے تین دفعہ چٹانوں سے ٹکراتیں ہیں جس کی وجہ سے یہ گونج عجیب سی لگتی ہے۔

اب ہو سکتا ہے آواز کے چٹانوں کے ساتھ ٹکراﺅ پر تارڑ صاحب نے اتنا غوروفکر نہ کیا ہو لیکن جو نتیجہ ہے وہ کمال اخذ کیا اور عنوان ہی رکھ دیا۔

نیٹکو رواں تھی۔ نالہ کیال گزرا ۔ تھوڑی دیر بعد دریائے سندھ دوبارہ نظر آنا شروع ہو گیا۔

دریائے سندھ اور شاہراہ ریشم ۔۔دونوں باغی ہیں ۔۔ان سنگلاخ اور عظیم پہاڑوں میں سے راستہ بنانا اور پھر اپنی اس باغیانہ روش پر قائم رہناحوصلے کا کام ہیں ۔

دونوں باغی متوازی ہیں‘ اکٹھے ہیں‘ ایک دوسرے کے حسن میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں ’ ڈھارس بندھاتے ہیں ‘ باقاعدہ’ جاندار ‘ہیںاور مکمل ہیں ۔

داسو کے نواح کے اشارے آنا شروع ہو گئے تھے۔ داسو ایک گمشدہ بستی کا نام ہے۔ پاکستان کا ٹمبکٹو ہے۔

پاکستان کا ٹمبکٹو نزدیک آ رہا تھا۔ میں نے شیشے کے آگے سے پردے ہٹادیے۔


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

10 thoughts on “ٹمبکٹو، نیٹکو اور خیال تارڑ !

  • 11-04-2016 at 10:33 pm
    Permalink

    سبحان اللہ بہت خوبصورت۔
    آپ کا قلم آباد رہے اور یونہی دردوحسن کی تصویریں بناتا رہے۔

  • 12-04-2016 at 3:32 am
    Permalink

    Well Articulated, keep it up!

  • 12-04-2016 at 6:44 am
    Permalink

    زندہ باد
    تارڑ اور شمال میرے اور وقار صاحب کے درمیان وہ رشتہ ہیں جنھوں نے ملے بغیر ہی مجھے ان سے محبت پہ مجبور کر دیا ہے۔
    رہا انداز تحریر تو اب استادوں کی تعریف کیا کرنی، بس اللہ اور برکت دے۔ آمین۔

  • 12-04-2016 at 8:33 am
    Permalink

    Provoking

  • 12-04-2016 at 10:48 am
    Permalink

    aap ki tehreeron nay tarar sahb ki safar shumal k or K-2 Kahani ki yad dila di ha .plz agr possible ho to regularly is topic per likhn.Thanks

  • 12-04-2016 at 4:55 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت لکھا ہے وقار صاحب، مظاہرِ فطرت اور اشیا کی انسانی تجسیم خوب کرتے ہیں آپ۔ لطیف پیرائے میں تہذیب و ثقافت کا بیان آپ کا خاصہ ہے۔

  • 12-04-2016 at 7:33 pm
    Permalink

    محترم ملک صاحب آپ کا پروگرام بھی بہت اچھا ہے تاہم “جو مزہ تحریر میں ہے وہ تقریرمیں کہاں ؟ بطورایک ناظر اورقاری مجھے آپ کی تحریر زیادہ اچھی لگی کہ اس میں مستقبل کے ایک انتہائی اچھے لکھاری اور لمحوں اورمنظروں کو تحریر کے ذریعے امر کرنے والے ادیب کی جھلک واضح طورپرمحسوس کی جاسکتی ہے۔امید ہے کہ قلم رواں رہے گا

  • 12-04-2016 at 8:59 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت ۔۔اور وہی کیفیت جو تارڑ صاحب کو پڑھنے پر ہوتی ہے۔۔۔

  • 12-04-2016 at 11:56 pm
    Permalink

    نیت جناب کی اچھی ہے۔ لیکن معلومات ناقص ہیں۔

    نیٹکو منافع نہیں کماتی، بلکہ مسلسل گورنمنٹ سبسڈی پر چل رہی ہے۔

    کرپشن کے الزام میں لتھڑا ایک ایم ڈی انتظامی سیاست اور چوری چکاری کے ذریعے کروڑوں کمانے کے بعد اب انتخابی سیاست میں ملوث ہے، جبکہ دوسرا “یوسفزئی” نامی موجودہ ایم ڈی نیب کے نرغے میں ہے، کیونکہ موصوف نے کالا دھن جمع کرنےمیں تیزرفتاری کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔

    اب شنید یہ ہے کہ تیسرا ایم ڈی موجودہ گورنر غضنفر علیخان کا بیٹا سلیم خان (لنگور کی شکل والا نام نہاد پرنس) بننے جارہا ہے۔ اگر ایسا ہوا، تو نیٹکو کی ایسی کی تیسی ہوجائے گی۔

    گلگت بلتستان کے عوام البتہ سادہ ہیں، نیک ہیں، خوددار ہیں۔ لیکن وائے قسمت کہ ان کے علاقے پر ایک بڑے آسیب کا سایا ہے، جس میں ہوا بھر بھر کو اسے اتنا بڑا کردیا گیا ہے کہ اب لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہتے ہیں، بلکہ فرصت ملنے پر ایک دوسرے کے گردن بھی اڑاتے ہیں (محاروہ)۔ یہ عفریت اور یہ آسیب فرقہ واریت کا آسیب ہے جس کی بیج انگریزوں اور ڈوگروں نے رکھی اور اس کی آبیاری ایک مخصوص ادارے نے اپنی احمقانہ “پالیسی” کے تحت کی۔

    وقار ملک صاحب، آپ اچھے ہیں، بہت اچھے ہیں، لیکن سرسری باتوں سے کام نہیں چلے گاگا۔ گوگل مشکل کشا ہے۔ تھوڑا بہت تحقیق کر لیجئے، معلومات میسر ہیں۔ تجزیہ آسان ہوگا، تارڑ کے ناول کی طرح ارغوانی بادلوں کے ناپید رنگوں میں لپٹا افسانوی جھوٹ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

  • 13-04-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت ..گلگت کے لوگوں کے بارے می میری رائے ہی بدل دی…بہت بہترین لکھتے ہیں اپ… اپکا کا قلم سلامت رہے…..

Comments are closed.