شرمندہ تو ہم ہیں


rashid ahmadمحترمہ اقدس طلحہ سندھیلا صاحبہ نے ” آپ شرمندہ کیوں ہیں” کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔ اس سے اتفاق کرتے ہوئے کچھ باتوں کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ اپنا نیپکین بغیر خاکی لفافے کی ترسیل کی خواہشمند ایک مخصوص معاشرتی نظام کی پیداوار یہ خواتین شاید نہیں جانتیں کہ اسی معاشرہ میں ایک ایسا گاؤں بھی ہے جسے ”کالیوں کا قبرستان” کہا جاتا ہے۔ جہاں ان خواتین کو ”گاڑا” جاتا ہے جنہیں عزت کے نام پر کاری قرار دے کر موت کی وادی میں دھتکار دیا جاتا ہے۔ نہ ان کی نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ ان کی قبر پر دعا کرنے پر بھی غیرعلانیہ پابندی ہے اور ایسی گمنام قبروں پر پھول رکھنا تو خیر ایک ”عیاشی” ہے جس کا حق ان ”کاری” خواتین کو تو کسی طور نہیں دیا جا سکتا۔

دیواروں پر نیپکین چسپاں کر کے ” مرد کنڈوم سے شرمندہ نہیں تو میں نیپکن سے کیوں شرمندہ ہوں؟” کے نعرہ ہائے مستانہ بلند کرنے والی ان خواتین کے علم میں ہی نہیں کہ اس ستم زدہ معاشرہ میں اکثر خواتین وہ ہیں جنہیں بچے پیدا کرنے اور جانوروں کی طرح کام کرنے سے زیادہ کوئی حق نہیں دیا جاتا۔ جن کا بچپن بھائیوں کی نذر ہو جاتا ہے کہ والدین اپنی نرینہ اولادوں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں اور بیٹیوں کو ”پرایا دھن” کہہ کر ساری عمر ان کے حقوق غصب کئے جاتے ہیں۔ انہیں تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بات بے بات ان کو رلایا جاتا ہے۔ ان کا بچپن ماں کے ساتھ کام کرتے کرتے نکل جاتا ہے اورمعصوم ہاتھوں پر پڑنے والے چھالے ساری عمر محرومیوں کے زخم تازہ رکھتی ہیں۔ جوانی ابھی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہوتی ہے کہ انہیں ”پیا دیس” کے نام پر ایک اور آگ کے دریا میں ساری عمر تیرنے کے لئے بھیج دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کر دی جاتی ہے کہ یہاں سے تمہاری ڈولی جارہی ہے تو واپس تمہارا جنازہ ہی آنا چاہئے اور وہ بیچاری اس ”نصیحت” پر عمل کرنے کے لئے اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔ خون خاک نشیناں خاک ہو جاتا ہے۔ جوانی جنازے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ بیچاری روز مر مر کے جیتی ہے۔ اس کے فرشتوں کے علم میں بھی نہیں ہوگا کہ اس کے نام پر اور اس کے حقوق کے نام پر کچھ لوگ دیواروں پر نیپکین چسپاں کر کے اس کا سوگ منا رہے ہیں۔

محترمہ اقدس صاحبہ نے صحیح کہا کہ ان احتجاج کرنے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسائل تو ان بیچاریوں کے ہیں جن کی شادیاں صرف جائیداد بچانے کی خاطر قرآن مجید سے کر دی جاتی ہیں اور ان بیچاریوں کے جذبات،احساسات اور خوشیاں دریا برد ہو جاتی ہیں اور اگر کوئی معاشرہ کی ان فرسودہ روایات کو توڑنے کی جسارت کرے تو اسے بھرے بازار ننگا کر کے گھسیٹا جاتا ہے تا کہ باقیوں کو عبرت دی جاسکے۔ یہ باتیں اگر مبالغہ یا کہانیاں لگیں تو کسی دن کا اخبار اٹھا لیں امید ہے افاقہ ہوگا۔

مسائل تو اس خاتون کے ہیں جسے دو خاندانوں کے ”صلح” کی بھینٹ چڑھا کر ونی کر دیا جاتا ہے اور جو بیچاری ساری عمر نا کردہ گناہوں کی حسرت کی داد میں لمحہ لمحہ گھلتی ہے اور جسے خاندان میں بس ایک ٹشو پیپر جتنی اہمیت ملتی ہے۔ جب چاہا استعمال کیا اور جب دل کیا پھینک دیا۔ جس کا نہ کوئی حق ہے اور نہ کوئی عزت۔ جسے گھٹیا، ذلیل، کمینی اور زر خرید مال کہہ کر اس کے جذبات کو کوڑے دان میں پھینکا جاتا ہے۔ بیٹے نہ پیدا ہونے پر بیوی کو زندہ جلانے کے واقعات بھی ان احتجاجیوں کے علم میں نہیں ہوں گے اور جہیز نہ لانے پر ساری عمر طعنے سہنے کی اذیت میں مبتلا روحیں بھی ان کے مبلغ علم کے حدود میں نہیں آتیں۔ زندگی جنہیں گھناونا مذاق لگتی ہے مسائل تو ان کے ہیں۔

بڑے بڑے شہروں میں اعلی قسم کی مہنگی خوشبوئیں لگا کر دیواروں پر نیپکن چسپاں کرنے والی خواتین کو کیا خبر کہ اس معاشرہ میں وہ خواتین بھی ہیں جنہیں شادی کی رات مرد کا بستر رنگین نہ کرنے کے جرم میں کاری قرار دے کر قتل کیا جاتا ہے۔ وہ ستم زدگان بھی اسی معاشرہ میں ہیں جنہیں مرد اپنی اناوں کی تسکین کے لئے کاری قرار دے کر ان کی زندگیاں جہنم بناتے ہیں۔ جنہیں معمولی باتوں پہ کاری قرار دے دیا جاتا ہے۔ مسائل تو ان کے ہیں جنہیں وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ جن کی جائیدادیں والدین اور بہن بھائی ہتھیا لیتے ہیں۔ مسائل تو ان کے ہیں جنہیں ساری زندگی گھر کی چاردیواری سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مسائل تو ان کے ہیں جنہیں مذہب کے نام پر بھٹہ میں زندہ جلا دیا جاتا ہے اور زندگی تو اس کی جہنم ہے جو طلوع آفتاب سے قبل کھیتوں میں قدم رکھتی ہے اور شام ڈھلے جب گھر کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو غلیظ کی گالیوں سے اس کا استقبال ہوتا ہے اور جسے رات سونے سے قبل پیٹ بھر کے روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔

یونیورسٹی کی دیواروں پر نیپکن چسپاں کرنے والی ان خواتین کا تو پتہ نہیں کہ کس بات پر شرمندہ ہیں مگر میں ان خواتین سے ضرور شرمندہ ہوں جن سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے اور جن کے مسائل کا علم شاید ان فیمینسٹوں کے فرشتوں کو بھی نہ ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

راشد احمد

راشداحمد بیک وقت طالب علم بھی ہیں اور استاد بھی۔ تعلق صحرا کی دھرتی تھرپارکر سے ہے۔ اچھے لکھاریوں پر پہلے رشک کرتے ہیں پھر باقاعدہ ان سے حسد کرتے ہیں۔یہ سوچ کرحیران ہوتے رہتے ہیں کہ آخر لوگ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔

rashid-ahmad has 16 posts and counting.See all posts by rashid-ahmad

3 thoughts on “شرمندہ تو ہم ہیں

  • 11-04-2016 at 11:29 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر جو ہمارے اس مظلوم معاشرہ کی عکاس ہے جس کی آواز ایوانوں میں تو دور علاقہ کی چوکی تک بھی پہنچنے سے قبل دم توڑ جاتی ہے.خدا رحم فرمائے ہم پر.

  • 12-04-2016 at 9:13 am
    Permalink

    محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا صاحبہ کا مضمون ”آپ شرمندہ کیوں ہیں” ۔ اور اس میں اضافه یعنی راشد بلوچ بھائی کا مضمون “شدمنده تو هم هیں”
    دونوں بهت خوب اور جاندار هونے کے ساتھ ساتھ نپے تلے الفاظ اور حقیقی پهلوؤں په لکھے گئے هیں
    میں بس یه کهنا چاهتا هوں
    “سونے په سوهاگه” هیں آپ دونوں کی تحریریں دونوں کو اکٹھا پڑھنے کا مزه آگیا اور خدا اور هم خود مل کر همارے معاشرے کو بدلیں
    اور پھر مل کر لکھیں اقدس طلحه سندھیلا لکھے
    هم تابنده و پائنده کیوں هیں اور راشد لکھے هم تو تابنده و پائنده هیں

  • 12-04-2016 at 10:45 am
    Permalink

    مکرم راشد صاحب
    ماشاءاللہ.
    مضمون نہایت عمدہ اور حقیقت پر مبنی ہے.
    صنف نازک پر ظلم وبربریت کی کہانی صدیوں سے ہے. اور شاید قیامت تک رہے گی.
    لیکن علم،احساس اور شعور کی طاقت سے اس بیماری پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے.

Comments are closed.