گڈھا نہیں بھرتا


wajahatاردو افسانے کی آبرو رفیق حسین نے ایک مزے کا قصہ لکھا ہے۔ محکمہ نہر کے ایک ماتحت اہلکار کا ذکر ہے۔ بابو جی کو جعلی کام نکال کر محکمے کا پیسہ غتر بود کرنے کی عادت تھی۔ اکثر لکھتے تھے کہ ’رجھا مکرونہ میل سات پر بھینسوں نے چل چل کر نہر کی پٹری کو خراب اور خستہ کر دیا ہے، فدوی کو اجازت دی جائے کہ مرمت کروا دے ‘۔ اور پھر خود کو کم ترین قرار دے کر دستخط کرتے تھے اور مزے اڑاتے تھے۔ قسمت کی خرابی ہو کہ کہیں چالو نہر پر تبادلہ ہوگیا جہاں مرمت کا کام نکالنا مشکل تھا۔ روٹیوں کے لالے پڑ گئے۔ قسمت نے یاوری کی اور ایک ولایت پلٹ افسر صاحب علاقہ بن کر تشریف لے آئے۔ بابو جی نے چھوٹتے ہی عرض داشت لکھی کہ ’نہر کے کنارے گڈھا پڑ گیا ہے۔ اس میں پانی مرتا ہے، حکم ہو جائے تو اسے پٹوا دیا جائے‘۔ پچاس روپے کا بل بنا۔ پھر پرچہ لگا کہ گڈھا پوری طرح بھرا نہیں جاسکا کیوں کہ خرچ زیادہ ہو رہا تھا۔ اجازت ہو تو کام مکمل کر لیا جائے۔ اجازت مل گئی ۔سو روپے کا بل بنا کر حسب قاعدہ ارسال کیا گیا۔ اتفاق سے بن موسم چار چھینٹے پڑ گئے۔ بارش میں تازہ مٹی کا بہہ جانا عین قرین قیاس ہے. چنانچہ باران رحمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو سو روپے مزید بٹورے۔ کچھ دن بعد عرضی گزاری گئی کہ روپیہ کافی خرچ ہو چکا ہے کام کو پوری طرح مکمل کئے بغیر چھوڑنا مناسب نہیں۔ اجازت ہو تو ایک کونا جو باقی ہے، بھر دیا جائے کہ روز روز کی زحمت ختم ہو۔ جواب آیا کہ تم وجہ بیان کرو کہ کیوں پہلی ہی دفعہ گڈھا نہیں پٹ گیا، دوسری دفعہ بھی کام باقی رہا، تیسری دفعہ بھی یہ کام کیوں نہیں پورا ہوا. یہ گڈھا کس جگہ اور کس موقعے پر ہے ۔ یہ گڈھا کب پڑا اور کیسے پڑا؟ ہم تمھارے سرکل کے معائنہ پر آتے ہیں اور اس گڈھے کو خود ملاحظہ کریں گے۔ صاحب تشریف لائے۔ ناشتہ کیا گیا، زمین داروں کی چغلیاں کی گئیں۔ تیتر کے شکار کا ذکر رہا۔ صاحب بار بار گڈھے کا پوچھتے تھے اور بابو جی ٹال ٹال دیتے تھے۔ شام ہونے کو آئی، صاحب بہادر گھوڑی سے نیچے اتر آئے اور غصے سے کانپتے ہوئے پوچھا۔ بابو، گڈھا؟ جلدی بولو گڈھا کہاں ہے؟ بابو ہم کو جھوٹ بولا، ابھی تم بولے گا کہ گڈھا کدھر ہے. بابو جی نے سر جھکا لیا اور قمیض اٹھا کر پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’حضور یہ گڈھا ہے، کیا کروں بھرتا ہی نہیں‘۔

ہماری نیم پختہ نہر کے کنارے ایک گڈھا گزشتہ دنوں دریافت ہوا ہے۔ محل وقوع اس گڈھے کا بحر اوقیانوس کے پار پاناما کے ساحل بتایا گیا ہے۔ درخواست پر درخواست چلی آرہی ہے، فریاد کی جا رہی ہے کہ گڈھے کو پاٹنے کا فوری انتظام کیا جائے. اگر ممکن ہو تو منتخب وزیراعظم کو گڈھے میں ڈال کر مٹی اچھی طرح بھر دی جائے اور بوٹوں سے کونے دبا دے جائیں کہ یہ قصہ ہمیشہ کے لئے جاتا رہے۔ مگر صاحب اس گڈھے کی تاریخ پرانی ہے۔ ہمارے ملک میں یہ گڈھا پہلی دفعہ چار جون 1948 کو نمودار ہوا۔ سندھ چیف کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو پر بد عنوانی، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باسٹھ الزامات لگائے گئے تھے۔ تب تجویز کیا گیا کہ گڈھا اندازے سے کچھ بڑا ہے۔ ایوب کھوڑو کی تدفین سے ازالہ ممکن نہیں۔ چنانچہ 6 جنوری 1949 کو وزیراعظم لیاقت علی نے دستور ساز اسمبلی سے پیروڈا کا قانون منظور کرایا جس کے تحت بد اعمالی، رشوت ستانی، بد عنوانی، اقربا پروری اور دانستہ بد انتظامی کے مرتکب ہونے والے وزرا یا ارکان اسمبلی کو دس برس تک پبلک عہدے کے لئے نا اہل قرار دیا جا سکتا تھا۔ منتخب افراد کے سر پر لٹکائے جانے والی اس تلوار کا نفاذ موثر بہ ماضی یعنی 14 اگست 1947ءسے ہونا تھا۔ ایسا اچھا اور جامع قانون بھی ہمارا گڈھا پاٹنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ سترہ اپریل 1953 ءکو بیورو کریسی کے نمائندے گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم ناظم الدین اور ان کی کابینہ کو نا اہلی اور بد عنوانی کے الزامات لگا کر برطرف کر دیا۔ منتخب نمائندوں کی لحد پر یہ کتبہ لگنے کے باوجود گڈھے کے بارے میں اطلاعات برابر چلی آتی تھیں۔ کبھی مشرقی پاکستان میں سمگلنگ کا غلغلہ ہوتا تھا تو کبھی سیٹھ قاسم کا نولکھا ہار اس گڈھے کے کنارے پایا جاتا تھا۔ چناچہ ہماری دستگیری کو جنرل ایوب خان تشریف لائے، انہوں نے سیاستدانوں کو عوامی عہدوں سے باہر رکھنے کے لئے 21 مارچ 1959ءکو پوڈو کا قانون نافذ کیا جس کے تحت بد عنوانی، اقربا پروری، کرپشن اور عھدے کے غلط استعمال پر سیاسی افراد کو پندرہ سال کے لئے سیاست سے خارج کیا جاسکتا تھا۔ لیکن یہ قانون مذکورہ گڈھے کے بارے میں تسلی بخش نتائج نہیں دے سکا۔ چناچہ پانچ ماہ بعد سات اگست 1959 کو صدر ایوب خان نے ایبڈو کا قانون نافذ کیا جس کے تحت کسی سیاسی اور عوامی عہدے دار کو چھے برس تک سیاست سے خارج کیا جاسکتا تھا۔ 98 سیاستدانوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ ستر نے رضاکارانہ طور پر سیاست سے توبہ کر لی۔ 22 اپنا مقدمہ ہار گئے اور چھ سیاستدان پاک صاف قرار پائے۔

ایوب خان کے زیر سایہ ہمارے ملک نے بہت ترقی کی۔ دنیا میں ہمارا پرچم بہت اونچا ہوگیا یہاں تک کہ ہمارے پرچم کا زمین سے رشتہ کمزور ہوگیا ۔ یہاں تک کہ 25 مارچ 1969 کو یحییٰ خان نامی سچا سپاہی منصہ شہود پر ظاہر ہوا جس نے سات دسمبر 1969ءکو ہمارے گڈھے میں بدعنوانی کے 303 شگاف دریافت کئے۔ ان افسروں کو یک بینی و دو گوش نکال باہر کیا گیا۔ لیکن چرخ کج رفتار کی ریشہ دوانیوں کے باعث اچانک گڈھا اتنا بڑا ہوگیا کہ آدھا ملک اس میں غائب ہوگیا۔ چنانچہ صدر ذولفقار علی بھٹو نے عنان حکومت سنبھالی اور بارہ مارچ 1972 کو 1300 چھوٹے اور بڑے بد عنوان شگاف، روزن اور رخنے دریافت کر کے انہیں خارج البلد کر دیا۔ زمین کے رنگ نیارے ہیں۔ مسٹر بھٹو اور ان کے بہت سے رفقا خود بد عنوان ہو گئے۔ چنانچہ ایک مرد حق بنام ضیا الحق نمودار ہوا جو نوے دن میں انتخابات کروا کے نہر کو چالو رکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اداریے لکھ کر، بیانات دے کر اور جنرل فیض علی چشتی سے ملاقاتیں کر کر کے حکومت کی توجہ احتساب کے گڈھے کی طرف دلائی چنانچہ احتساب شروع کر دیا گیا۔ آٹھ برس بعد 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں نہایت پاک صاف سیاست دان منتخب ہوئے۔ نہر کی پٹری ریل کی پٹری کی طرح پختہ اور عارض محبوب کی طرح ہموار نظر آنے لگی۔

بد قسمتی سے جنرل ضیا الحق کا جہاز تکنیکی خرابی کے باعث خراب ہوگیا اور بے نظیر بھٹو اور ان کے بد عنوان حواری پھاوڑے لے کر گڑھا کھودنے لگے۔ ضلع بنوں کے پیر مغاں غلام اسحاق خان نے ان بد عنوان لوگوں کو نہلایا، کفن پہنایا اور نومبر 1990میں نواز شریف نامی اوورسیئر کا تقرر کیا۔ اعانت پر جام صادق نامی مستعد اہلکار لگایا مگر بد عنوانی کے گڈھے میں بہت سی ارضیاتی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں۔ جولائی 1993 میں غلام اسحاق خاں سمیت سب اہلکار ڈوب گئے اور آصف زرداری کی قیادت میں ایک بدعنوان ٹولے نے نہر پر ناکہ لگا لیا۔ فروری 1997 میں ایک بار پھر نواز شریف کو بحال کیا گیا جس نے سیف الرحمٰن نامی معروف ماہر انہار و گڈھاجات کو احتساب کمشن کا نام دے کر گڈھا پاٹنے کی ذمہ داری دی۔ سیف الرحمٰن صاحب بہت مستعد تھے لیکن انہوں نے نہر کی دوسرے کنارے پر اپنے بھٹہ خشت نصب کر رکھے تھے۔ گڑھے سے مٹی چوری ہوتی رہی اور پرویز مشرف کو کارگل کی پہاڑیوں سے اتر کر احتساب بیورو قائم کرنا پڑا۔ مذکورہ بیورو کو ذمہ داری دی گئی کہ بد عنوانی کے گڈھے میں قومی ضمیر کی مٹی ڈالی جائے۔

یہ گڈھا بہت سخت جاں ہے۔ 2008 سے 2013 کی انتہائی بد عنوان حکومت کے باوجود نہر اپنے دھڑے پر چلتی رہی اور گڈھا اپنی جگہ کھٹکتا رہا۔ اس دوران NRO نامی کٹاو¿ بھی سامنے آیا۔ تو صاحب ستر برس گزر گئے۔ پاناما کے کٹاو¿ میں مشرق و مغرب کی بہت سی آبشاریں گر رہیں ہیں۔ اس کٹاو¿ میں ہمارے گڈھے کا کچھ حصہ بھی نمودار ہوا ہے۔ جاننا چاہئے کہ ہمارا گڈھا اصل میں جہالت کا گڈھا ہے، جمہور دشمنی کا گڈھا ہے، عورت دشمنی کا گڈھا ہے، ذات پات کا گڈھا ہے۔ یہ کچھ کئے بغیر معیشت چلانے کے شوق کا گڈھا ہے۔ بد عنوانی کے خلاف یہ شور و غل اصل میں جمہوریت کے خوبصورت بارہ سنگھے کو گھیرنے کے لئے ہانکے کا شور ہے تا کہ اس غزال کو بحران کے گڑھے میں گرایا جا سکے۔ صاحب کوئی تو ہے جسے ہمارا گڈھا بہت عزیز ہے۔ رفیق حسین کے بابو جی کو ڈھونڈ کر ان سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ اپنا رزق نہر کے بہاو¿ میں تلاش کریں اور گڈھے کی مٹی کا جعلی بل نہ بھیجیں۔


Comments

FB Login Required - comments

14 thoughts on “گڈھا نہیں بھرتا

  • 11-04-2016 at 9:35 pm
    Permalink

    بہت اچھا مثال سے ایک بہت اھم نقطہ واضح کر دیا آپ نے

    • 12-04-2016 at 12:37 pm
      Permalink

      نجانے یہ گڈھا کب بھرے گا۔
      ہماری زندگیوں میں تو ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

  • 11-04-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    میرا خیال ہے کہ پانامہ لیکس پر لکھنے والوں کو اب اپنا قلم توڑ دینا چاہیئے ۔

    • 12-04-2016 at 7:49 am
      Permalink

      Aizan”

  • 11-04-2016 at 11:11 pm
    Permalink

    أبو جهل كا دوسرا نام وجاهت مسعود

  • 12-04-2016 at 12:31 am
    Permalink

    کمال لکھا ہے!

  • 12-04-2016 at 4:57 am
    Permalink

    یہ الفاظ، یہ انداز وجاہت مسعود صاحب آپ سے ہزاروں اختلاف سہی لیکن ایسے لکھے پر آپ پر پیار آتا هے_

  • 12-04-2016 at 12:14 pm
    Permalink

    ضلع بنوں کے پیر مغاں غلام اسحاق خان
    ghulam ishaaq sahib distt bannu sey nahi balkay distt swabi sey taaluq rakhty they . umeed ha ayenda khayal rakha jaye ga !

  • 12-04-2016 at 4:35 pm
    Permalink

    یہ گڑها صرف قبر کی مٹی سے بھرتا هے

  • 13-04-2016 at 1:31 am
    Permalink

    حضور قیام پاکستان کے بعد ہی سے کیوں؟ کہانی کو ذرا مزید پیچھے، کم از کم مغلوں کے دور تک لے جاتے تو زیادہ معلومات افزا اور عبرت آموز رہتا۔

  • 13-04-2016 at 2:14 am
    Permalink

    محترم امان صاحب، میں تو پاکستان میں پیدا ہوا تھا۔ اپنے ملک ہی کے بارے میں لکھتا ہوں۔ مغلوں کی کہانی مغلوں کے لواحقین کو لکھنی چاہیے۔

  • 13-04-2016 at 4:02 am
    Permalink

    ویسے آپ کے مضمون لفظ “عورت دشمنی” کی تک سمجه نہ آئی….ویسےاب لگتا هے کہ عورت کی تصویر اور تزکرےکے بغیر نه ماچس بکتی هے نه سخن….

  • 13-04-2016 at 4:04 am
    Permalink

    یا شاید جمہوریت کی منزلت کی وجه بهی اسکا مونث هونا تو نهیں…

  • 13-04-2016 at 12:56 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود! آپ کی تحریر آپ کی صداقت پر گواہ ہے لیکن آپ کا یہ کہنا کہ اس گڈھے کو بھرنے کے لیے ’’ ممکن ہو تو منتخب وزیراعظم کو گڈھے میں ڈال کر مٹی اچھی طرح بھر دی جائے اور بوٹوں سے کونے دبا دے جائیں کہ یہ قصہ ہمیشہ کے لئے جاتا رہے۔‘‘ کافی نہیں۔ بھائی اس گڈھے کو بھرنے کے لیے پانچوں اسمبلیوں میں بیٹھنے والوں اوراُن کے ’’کوار گندل‘‘ قسم کے حواری بھی گڈھے میں پھینکے جائیں تو تبھی ممکن ہو سکتا ہے کہ یہ گڈھا بھر سکے ۔ اور اگر سطح ہموار ہی رکھنی ہے تو دوبئی و لندن سے بھی ایک دو بھیڑیوں کو لا کر ان سب کے ساتھ گڈھے میں ڈال دو اور یہ سب کچھ کر لینے کے بعد زمین کو ’’پدرا‘‘ کرنے کے لیے اس پر فوج کی انجیئرنگ کور‘‘ سے ولڈوزر چلوانے چاہئیں ۔ تبھی یہ گڈھا مستقل طور پر بھرا رہے گا ۔ کیا کہتے ہیں آپ؟

Comments are closed.