ابن خلدون اور ہماری دانش کا افلاس


zeeshan hashimکچھ دن قبل ’ہم سب ‘ میں ابن خلدون کے معاشی نظریات پر خاکسار کی ایک تحریر شائع ہوئی ۔ تحریر سادہ سی تھی جس میں محض ابن خلدون کی مشہور تصنیف ’مقدمہ ابن خلدون‘ سے چند اقتباسات پیش کئے گئے تھے جو خاکسار کی نظر میں دور جدید کی معیشت کے ایک سنجیدہ طالب علم کے لیے اہم تھے – اس پر مجھے بہت سارے دوستوں کی طرف سے یہ پیغامات ملے کہ ابن خلدون میں دو مشہور معیشت دانوں ایڈم سمتھ اور کینز کی فکر واضح طور پر پائی جاتی ہے – یاد رہے کہ ایڈم سمتھ اور کینز کا زمانہ ابن خلدون کے بہت بعد میں آتا ہے –

یہ ایک بہترین مفکر کی عظمت ہے کہ ایک زرعی پیداوار اور جنگوں کی معیشت کے عہد میں خالص صنعتی ذریعہ پیداوار، اس کی تنظیم اور قوموں کے عروج و زوال میں معیشت کی مرکزی اہمیت کا بیانیہ لکھ رہا ہے – حق یہ ہے کہ اس شخصیت کو سراہا جائے اور اس کی تعظیم کی جائے۔

مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور کسی بھی مذہب کو قبول کرنا یا رد کرنا بھی ہر فرد کا حق انتخاب ہے – یہ کوئی اصول نہیں کہ ایک شخص اگر مذہبی ہے تو اس میں ذہنی صلاحیت اور تخلیقی قابلیت کی کمی پائی جائے گی – بعض لوگوں کے نزدیک ابن خلدون ایک معیشت دان نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ایک مذہبی عالم بھی تھا – ایک صاحب نے یہ اعتراض اٹھایا کہ میں نے صفحے بھرنے کے لئے ابن خلدون کی تعلیمات پیش کر دیں – ان اعتراضات کی جڑیں تعصبات میں دھنسی ہوئی ہیں ۔

کچھ دوستوں نے پوری تحریر کو غور سے پڑھنے کے بجائے اعتراضات کی انگھیٹی میں پھونک مارنے کو دانشورانہ عمل سمجھا۔ اعتراض کیا گیا کہ میں ابن خلدون کے بھیس میں آزاد معیشت یعنی سرمایہ داری کی تبلیغ کر رہا ہوں اور یہ کہ میں ،ابن خلدون، اور سرمایہ داری زر یعنی روپیہ پیسہ کو سب سے بڑی قدر مانتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ابن خلدون اور آزاد مارکیٹ کی معیشت میں روپیہ پیسہ کو محض تبادلہ کا ایک ذریعہ مانتے ہیں ۔ بنیادی قدر کا درجہ پیداواری صلاحیت و قابلیت اور پیداواری عمل کو حاصل ہے۔ یاد رہے کہ یہاں قدر سے مراد قوت، حیثیت، اور معیار ہے – آئیے تفصیل سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سرمایہ داری کا بنیادی عامل پیداوار ہے ، اس کے بعد تقسیم پیداوار اور اس کے استعمال یا خرچ کو اہمیت حاصل ہے – پیداوار سے مراد ہر اس شے یا خدمت کی فراہمی ہے جو لوگ اپنی ضرورت یا خواہش کے سبب طلب کرتے ہیں ۔ پیداوار کو بنیادی اہمیت دینے کے معاملے میں سرمایہ داری اور سوشلزم میں کوئی اختلاف نہیں – اس بات کو سمجھنے کے لئے ہمیں پس منظر میں جانا ہو گا – فلسفہ مغرب کی تاریخ میں دو تحریکوں کی اہمیت مسلم ہے – ایک فلسفہ کی وہ تحریک جس نے فلسفی لاک سے جنم لیا، اس تحریک کے بنیادی خدوخال مادی تھے ، انسانی آزادی کو سماجی سیاسی اور معاشی تنظیم میں مرکزی اہمیت دی گئی – اسی مکتب فکر سے بعد میں افادیت پسندی یعنی Utilitarianism نے جنم لیا ۔ مارکس کے بعد یہ تحریک دو حصوں میں تقسیم ہو گئی (لاک بینتھم اور مل وغیرہ کے مکتب فکر کے لوگ لبرل کہلائے اور مارکس کے پیروکار سوشلسٹ یا مارکسسٹ کہلائے ) مگر تاریخ کے مادی تصور اور ارتقا ، پیداواری قوتوں کی طرف بنیادی جھکاﺅ ، صنعتی تنظیم، عقلیت پسندی ، اور سائنسی و تجرباتی اسلوب مطالعہ کے باب میں دونوں میں باہم اتفاق رہا – (بحوالہ ہسٹری آف ماڈرن ویسٹرن فلاسفی … برٹرینڈ رسل) اختلاف پیداوار کی تقسیم کے طریقہ کار (جس میں سرمایہ داری آزاد منڈی کا تصور پیش کرتی ہے تو سوشلزم مزدوروں کی جمہوریت میں ریاست کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے) اور نجی جائیداد وغیرہ کے معاملے میں ہے – ہم اگر کارل مارکس کا مطالعہ کریں تو ہمیں جا بجا مارکس صنعتی پیداوار کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے ملتا ہے جیسے وہ دی کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھتا ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ صنعتی پیداوار ہے جس کے بدولت جاگیرداری کو شکست ہوئی وگرنہ جاگیرداری کو شکست دینا ممکن نہ تھا ۔

دوسری تحریک جو لبرل و سوشل ازم کے تصادم میں سامنے آئی ، وہ تھی رومانوی تحریک جس کے فلسفیانہ جد امجد روسو ، فشٹے اور نطشے تھے ۔ اس تحریک کا ہیرو نپولین تھا – اس کا نتیجہ ہٹلر اور مسولینی کی شکل میں فاشسٹ اور نازی انقلابات اور تباہیوں کی صورت میں سامنے آیا – دور حاضر کی سیاسی فلسفیانہ فکر میں یہ تحریک انتہائی کمزور ہے مگر سماجی پہلوو¿ں میں ادب کا نفسیاتی رجحان یقینا اس جانب ہے ۔

جہاں جہاں سوشلسٹ ریاستیں قائم ہوئی ہیں بشمول سوویت یونین ، وہاں کا ذریعہ پیداوار بھی صنعتی رہا ہے ، جس کے لئے موجود تمام وسائل کو بروئے کار لایا گیا ۔ سرمایہ داری اور سوشلزم میں فرق صنعتی ذریعہ پیداوار کا نہیں ، صنعت کاری کے طریقہ کار کا ہے – کیپیٹلسٹ پیداوار آزاد مارکیٹ میں طلب و رسد کی مرہون منت ہے جس میں حکومت محض مددگار کا کردار ادا کرتی ہے ، جبکہ سوشلسٹ پیداوار مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں ہوتی ہے ۔

اب یہ کہنا کہ زر، روپیہ پیسہ سرمایہ داری کی بنیادی قدر ہے اس سے مارکس بھی اتفاق نہیں کرتا – وہ سرمایہ داری کی بنیادی قدر پیداوار کو قرار دیتا ہے ، یہی بات ایڈم سمتھ نے کہی ، اور اسی بات کو ان دونوں سے پہلے ابن خلدون مقدمہ ابن خلدون میں فرما چکے ہیں کہ قوموں کی دولت کا انحصار پیداواری عمل پر ہے اور یہ کہ غربت کا خاتمہ تقدیر کے الٹ پھیر سے نہیں بلکہ پیداواری قوتوں کی افزائش اور ان کے بہتر استعمال میں ہے ۔

سرمایہ داری میں تیسری اور اہم ترین چیز پیداوار کا خرچ یا استعمال ہے ، پیداوار سے اس کی تقسیم اور آخر میں خرچ ایک باہم جڑا عمل ہے – آپ جتنا پیداواری عمل میں حصہ لو گے (یعنی contribute کرو گے ) ، تقسیم کے عمل میں اتنا آپ کا حصہ ہو گا ، اور اتنا آپ خرچ کر سکو گے – پیداوار سے تقسیم ، اور تقسیم سے خرچ کے اس عمل میں کرنسی ایک تبادلہ کا ذریعہ یا واسطہ (Medium of  Exchange ) کا کام سرانجام دیتی ہے ، اس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں – حیثیت صرف پیداواری عمل ، تقسیم پیداوار ، اور اس کے خرچ کو حاصل ہے – یہی بات ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ اصل اہمیت پیداوار کو حاصل ہے،سونے چاندی کے سکے محض تبادلہ کا ذریعہ ہیں اور یہ کہ تقسیم پیداوار میں اجرت یا نفع کا تعین محنت کی پیداواری قابلیت پر منحصر ہے۔ پیداواری عمل میں جس کی جتنی محنت شامل ہو گی، اتنی ہی اس کی اجرت ہو گی۔

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے اس مفروضہ پر غور کر لیں کہ محض کرنسی سرمایہ داری کی بنیادی قدر ہے تو ہر وہ ملک امیر ہوتا جس کے پاس کرنسی نوٹ زیادہ سے زیادہ ہوتے – ہم سب جانتے ہیں کہ کرنسی نوٹ چھاپنا ہر ریاست کی صوابدید پر منحصر ہے – ایرانی حکومت نے عالمی پابندیوں کے بعد اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کرنسی نوٹ زیادہ سے زیادہ چھاپے جس کے سبب مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ ہوا اور ملک بجائے امیر ہونے کے غریب سے غریب تر ہوا ۔

دور جانے کی ضرورت نہیں ، زرداری دور حکومت میں ہماری حکومت نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ کرنسی نوٹ چھاپے ۔ کرنسی نوٹ برائے معاشی ترقی کے مفروضہ نظریہ کی رو سے تو ملک کو مزید امیر ہونا چاہئے تھا جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گزشتہ دور حکومت میں ملک معاشی طور پر کمزور ہوا ہے ۔

اسی طرح ہم وینزویلا کی بات کرتے ہیں جو ان بچے کھچے ممالک میں شامل ہیں جہاں سوشلسٹ معیشت رائج ہے اور مارکیٹ کا نظام نہیں پایا جاتا – سوشلسٹ انقلاب کے بعد ریاستی انتظام کے سبب تقریبا تمام صنعت دم توڑ گئی اور ملک کی آمدن کا کل انحصار تیل کی فروخت پر منتقل ہو گیا – جب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر سے اوپر رہیں کسی حد تک سکون رہا – اب جب کہ تیل کی قیمتیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں ،گورنمنٹ قرضوں کی ادائیگی اور اخراجات کو پورا کرنے کے لئے دھڑادھڑ نوٹ چھاپ رہی ہے جس سے شرح مہنگائی اس وقت 179.5 فیصد ہو چکی ہے اور ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔

اگر دنیا میں معاشی ترقی کا فارمولا کرنسی نوٹ ہوتے تو آج ہر ملک نوٹ چھاپ کر امیر ہو چکا ہوتا – بلکہ دوڑ لگی ہوئی ہوتی جو جتنے زیادہ چھاپتا وہ اتنا امیر ہوتا – یوں سوویت یونین کی نیا بھی نہ ڈوبتی ، وہ بھی دیوالیہ ہونے کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنے نوٹ چھاپ کر آئی ایم ایف کی گود میں گرنے سے بچ جاتا – ہم سب کے لئے سوچنے کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر آئی ایم ایف کی کرنسی میں ایسی کیا طاقت تھی جو سوویت کرنسی میں نہ تھی جس کی خاطر سوویت یونین نے اپنے کرنسی نوٹ کے بجائے آئی ایم ایف کی مہیا کر دہ کرنسی سے دیوالیہ ہونے سے نجات پائی ؟

وہ چیز تھی تبادلہ کی طاقت (میڈیم آف ایکسچینج ) ، قوت خرید جس کے سپورٹ میں پورا سرمایہ دارانہ پیداواری عمل اور اس کی قوت موجود تھی ، اور یہی سبب ہے کہ ابن خلدون کہتا ہے کہ دولت سونے چاندی کے سکوں میں نہیں بلکہ پیداواری قابلیت و صلاحیت میں ہے -مطلب یہ کہ آپ کی کرنسی کی بھی اتنی ہی قدر ہے جتنی آپ کی پیداوار ہے ۔

آج دنیا کے امیر ممالک امریکہ برطانیہ چین جاپان جرمنی فرانس کینیڈا سنگا پور تائیوان وغیرہ کرنسی نوٹ کے چھاپہ خانوں کی بدولت امیر نہیں بلکہ ان کی پیداواری صلاحیت و قابلیت اور اس میں وقت کے ساتھ ساتھ افزائش ان کی معاشی ترقی کا بنیادی سبب ہے – بھارت اس میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہاں پیداواری عمل مسلسل پھل پھول رہا ہے – پاکستان نے بھی ترقی کرنی ہے تو اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ لانا ہو گا، پیداوار کی منصفانہ تقسیم کے نظام میں خامیاں کوتاہیاں دور کرنی ہوں گی اور لوگوں کے معیار زندگی کو اس طرح بہتر بنانا ہو گا کہ وہ اپنی مادی ضروریات و خواہشات کو پیداوار کے متوازن خرچ سے بھرپور انداز میں پورا کر سکیں ۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

3 thoughts on “ابن خلدون اور ہماری دانش کا افلاس

  • 17-01-2016 at 7:00 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر ، ذیشان صاحب – یہ بات سرمایہ داری کی مسلسل چار صدیوں کے استحکام کے بعد سب کو سمجھ آ جانی چاہئے کہ کیپیٹلزم ناگزیر ہے اور تمام متبادل وقت کے ساتھ ساتھ اس کے آگے ڈھیر ہوتے گئے ہیں …وہ ممالک جنہوں نے مارکیٹ کے تقاضوں کو سمجھا کامیاب ہوئے ہیں اور جنہوں نے بقول آپ کے اعتراضات کی انگیٹھی میں پھونکیں مارنے کو دانشوری سمجھا ہنوز رینگ رہے ہیں … – آپ پاکستان میں میری نظر میں واحد دانشور ہو جو فری مارکیٹ کو کھل کر بیان کرتے ہو اور اس کا دفاع کرتے ہو – اس کے میں آپ کا اور “ہم سب ” کی ٹیم کا شکرگزار ہوں –

  • 17-01-2016 at 7:31 pm
    Permalink

    شکریہ حسین صاحب ، آپ کا فیڈ بیک ہم سب کے لئے بہت اہم ہے – ہم یقینا وہی لکھتے رہیں گے جسے اپنی رائے میں سچ سمجھتے ہیں –

  • 18-01-2016 at 1:42 am
    Permalink

    شاندار ….
    پیپر کرنسی پے اوریا مقبول جانی بیانیہ کے بارے کیا کہتے ہیں آپ.. کبھی اس پے بھی لکھئیے گا

Comments are closed.