ایک نئے انتشار کی طرف


imran

 ملک کو متعدد خطرات اور مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سرفہرست دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی ہیں۔ کیونکہ ان سے انسانی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں اور ملک میں عدم برداشت کا رویہ فروغ پا رہا ہے۔ ایسے وقت میں ملک کے تمام قابل ذکر عناصر کو یکسوئی کے ساتھ ان مشکلات سے نمٹنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ یکجہتی اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے انتہا پسند عناصر اور رویوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ملک کی شہرت خراب ہو رہی ہے اور اس کا اثر و رسوخ محدود ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اہم علاقائی قومی مفادات کے تحفظ کے لئے مؤثر سفارتی کارروائی کرنے سے بھی قاصر رہتے ہیں۔ لیکن ان پیچیدگیوں کے باوجود ملک کے لیڈروں نے سیاست کھیلنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا طومار باندھنے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ خاص طور سے گرمجوش اور انتھک رہنما عمران خان نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ تجربات سے سیکھنے ، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور بعض اہم معاملات پر وسیع تر سیاسی مفاہمت کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اس کا اظہار کل شام اس وقت دیکھنے میں آیا جب پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے عمران خان کے قوم سے خطاب کا مطالبہ مسترد ہونے کے بعد انہوں نے بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ کے لان سے براہ راست قوم سے مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا اور ملک کے درجنوں پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینلز نے اسے براڈ کاسٹ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اس طرح ان کی یہ خواہش تو پوری ہو گئی کہ وہ ایسے فارمیٹ میں ٹیلی ویژن پر رونما ہوں جو وزیراعظم یا صدر مملکت کے لئے مخصوص ہے لیکن بطور ایک معتبر اور قابل اعتبار لیڈر ان کی ساکھ اور شہرت متاثر ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے پاناما لیکس کو عالمی سنسنی خیزی قرار دیتے ہوئے قومی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس عزم سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کو شاذ ہی اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ کسی ایسے شخص کو اپنے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیتے جو انہیں خود ستائی کے اس گمراہ کن سحر سے نکلنے میں مدد دے سکے۔ جو سیاست دان خود کو عقل کل سمجھ کر دنیا کے ہر مسئلہ پر اپنی رائے کو حتمی سمجھتا ہو، اس کے بارے میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ جلد از جلد آگے بڑھنے کی خواہش میں اس حد تک اسیر ہو چکا ہے کہ معاملات کو سمجھنے ، سیاسی نزاکتوں کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنے اور اپنے چاہنے والوں کے لئے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے کے اہل نہیں ہے۔ چار برس قبل لاہور کے جلسہ سے اچانک قومی سیاست میں اہمیت پانے والے عمران خان ایک ایسے لیڈر کی مکمل تصویر بن چکے ہیں جو خود ہی محنت سے کھڑی کی ہوئی پارٹی کو جان لیوا نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی میں انتشار اور گروہ بندی ہے۔ کراچی کے اہم قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں ان کا امیدوار پولنگ سے صرف چھ گھنٹے پہلے نہ صرف انتخاب سے دستبردار ہو گیا بلکہ مخالف پارٹی سے جا ملا۔ کل جب عمران خان ”قوم سے خطاب“ کی تیاریوں میں مصروف تھے، تو ان کے نائب شاہ محمود قریشی لاہور کی ایک تقریب میں پارٹی میں اپنے مخالفین جہانگیر ترین اور چوہدری سرور کے خلاف برس رہے تھے اور اعلان کر رہے تھے کہ اگر انہیں کبھی ان لوگوں کی صوابدید سے پارٹی کا ٹکٹ لینا پڑا تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ لیکن عمران خان کو یہ انتشار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ چونکہ ایک جمہوری پارٹی کے لیڈر ہیں اور پاکستان میں پارٹی انتخابات کی بنیاد رکھ رہے ہیں، اس لئے اس قسم کے اختلافات اس ہلکی پھلکی مقابلے بازی کا حصہ ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ نہ جانے وہ خود کو دھوکہ دے رہے تھے یا قوم کو گمراہ کر رہے تھے کہ پاناما پیپرز کے ذریعے قوم کو اپنے بدعنوان لیڈروں کے اصل چہرے دیکھنے کا نادر موقع ملا ہے، اس لئے ان لیڈروں کے خلاف مہم چلانے کے لئے وہ انٹرا پارٹی الیکشن ملتوی کر رہے ہیں۔ پی ٹی ائی کے سربراہ یوں تو جمہوری روایت کی مثالیں برطانیہ اور امریکہ سے لاتے ہیں لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کسی ملک میں کوئی سیاسی پارٹی کسی سیاسی ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے کبھی مقررہ پارٹی انتخابات معطل یا منسوخ کرتی ہے۔ یا کسی ایسی پارٹی کا نام ہی بتا دیں جس سے اپنے ہی مقرر کردہ الیکشن کمیشن کی رائے ماننے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی اور بدعنوانی کرنے والے چہیتوں کو مسترد کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن کو ہی توڑ دیا ہو اور اس کے سربراہ کی نیت پر شبہ کا اظہار کیا ہو۔ یا کوئی ایسی پارٹی بتا دیں جو 20 برس تک ایک ہی لیڈر کی سربراہی میں کام کر رہی ہو لیکن پھر بھی خود کو جمہوری کہنے اور منوانے پر اصرار کرتی ہو۔

پاکستان کی سیاست شخصیت پرستی پر استوار ہے۔ ملک کی کسی پارٹی نے اس روایت کو بدلنے اور مضبوط پارٹی ڈھانچہ کھڑا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ عمران خان بھی ان سیاسی لیڈروں میں شامل ہیں۔ جس طرح مسلم لیگ نواز شریف کے بغیر اور پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کے بغیر کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف عمران خان ہی کا دوسرا نام ہے۔ وہ خود بھی یہ جانتے ہوں گے کہ جس روز وہ پارٹی سے علیحدگی کا خیال ذہن میں لائیں گے، ان کی پارٹی پہلے ٹکڑیوں میں بٹے گی پھر یہ ٹکڑیاں دوسری پارٹیوں میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اس کی واحد وجہ خود عمران خان کی خام سیاسی شخصیت ہو گی۔ وہ اپنی پارٹی کو خود مختار شناخت دینے میں ناکام رہے ہیں۔ پارٹی کا ایجنڈا ، پروگرام اور حکمت عملی عمران خان کا کہا ہوا حرف ہے۔ اسی لئے ایسی پارٹیاں اس قسم کے لیڈر کی علیحدگی برداشت نہیں کر سکتیں۔

جو لوگ پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہیں، وہ کسی پروگرام یا منشور کی وجہ سے اس پارٹی میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ عمران خان کی ذاتی مقبولیت اور شخصیت کے سحر کی وجہ سے اس کا حصہ بنے ہیں تا کہ انتخابات میں وہ بھی اس مقبولیت میں سے اپنا حصہ بٹور سکیں۔ کسی قومی مقصد سے سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے کا خواہشمند لیڈر پارٹی کو اپنی ذاتی مقبولیت کے بوجھ تلے دبا کر اسے بے بس نہیں کرتا، نہ اسے اپنے مقبول نعروں کی بیساکھیاں فراہم کر کے خود ”ہمیشہ سب سے پہلے اور سب سے آگے“ رہنے کی خواہش میں مبتلا ہوتا ہے۔ وہ پارٹی کا انتظامی ڈھانچہ ، اس کی آمدنی کے ذرائع اور فیصلے کرنے والے اداروں کو مستحکم کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ خود اپنی خواہشات اور ذاتی انا کو پارٹی کے ان جہموری اداروں کے تابع کرتا ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کی خود مختارانہ شناخت بنانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کا واضح سیاسی منشور ہو۔ قومی پارٹی ہونے کے ناطے اس کے پاس قومی اور علاقائی مسائل کے علاوہ خارجی ، دفاعی اور مالی معاملات پر بھی ٹھوس رائے موجود ہو اور ہر فیصلہ اس پارٹی پروگرام کی روشنی میں کیا جائے۔ یعنی پارٹی لیڈر کی شخصیت کو منفی کر کے پارٹی کے منشور اور سیاسی فلسفہ کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

یہ عمل مکمل ہونے کی صورت میں لیڈر خودبخود غیر اہم ہو جائے گا۔ اس کی حیثیت محض علامتی ہو گی۔ پھر لوگ پارٹی کو اس کے نام ، رائے ، منشور ، ایجنڈے اور طریقہ کار سے پہچانیں گے۔ پاکستان کا کوئی لیڈر یہ قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ ہر لیڈر کو عمران خان کی طرح یہ گمان بلکہ یقین ہوتا ہے کہ صرف وہی تمام مسائل حل کر سکتا ہے۔ صرف اسی کے پاس مسائل کا حل ہے۔ صرف اس کی شخصیت کسی بھی بحران پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی کیفیت کی وجہ سے پاکستان کی کوئی پارٹی سیاسی پروگرام ، نظریہ اور فلسفہ پر محنت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسی لئے مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف ہو یا متحدہ قومی موومنٹ …….. ان کا سیاسی منشور الفاظ کے معمولی ردوبدل کے علاوہ یکسانیت کا شکار ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے سیاسی لیڈر اور پارٹیاں کسی بحران سے نمٹنے یا مخلوط حکومت بنانے کے لئے ہر قسم کے اتحاد و اشتراک میں شامل ہونے کے لئے تیار رہتی ہیں۔

عمران خان کی پارٹی کے پاس بھی کوئی واضح سیاسی تصور نہیں ہے، اس لئے کبھی وہ جماعت اسلامی کی معیت میں طالبان کی حمایت کو قومی مفاد قرار دیتی ہے، کبھی طاہر القادری کا ہاتھ پکڑ کے انقلاب لانا چاہتی ہے اور اب پیپلز پارٹی کی طرف دیکھ رہی ہے کہ اس بار وہ شاید نواز شریف کی بے اعتنائی سے ناراضگی کی وجہ سے عمران خان کا ساتھ دے اور مجوزہ سیاسی مہم میں ان کو کامیاب کروائے۔ عمران خان تو یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے بارے میں بھی وہ کل تک وہی زبان استعمال کرتے تھے اور الزامات عائد کرتے تھے جو آج مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے خلاف ان کا شیوہ ہے۔ اگر سیاسی سفر کی مجبوریوں میں عمران خان بھی ہر دستیاب سیاسی قوت کا ہاتھ پکڑنے کو بیتاب ہیں تو کیسے مان لیا جائے کہ وہ باقی لیڈروں سے مختلف ہیں اور تبدیلی لا سکتے ہیں۔

عمران خان نے گزشتہ چند روز میں جو رویہ اختیار کیا ہے وہ ان کی سیاسی ناپختگی کا مظہر ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ سے وہ بدستور اپنے ان وفادار حامیوں کی ہمدردیوں سے محروم ہو رہے ہیں جو دو تین برس پہلے تک انہیں قومی مسائل کا واحد حل سمجھتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر اپنی بے پناہ سیاسی خواہشات کے ہاتھوں مجبور محض بن چکے ہیں۔ وہ جتنی جلدی مسند اقتدار تک پہنچنا چاہتے ہیں، راستہ اتنا ہی طویل اور مسدود ہوتا جا رہا ہے۔ اس جھنجلاہٹ میں وہ قومی مسائل پر لائحہ عمل بنانے ، قومی اسمبلی میں آئینی رول ادا کرنے اور پارٹی کی سیاسی بنیادی استوار کرنے کی بجائے اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں جلسہ کرنے یا نہ کرنے کے مسئلہ پر حکومت سے ٹکرانے پر تیار ہیں اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ کسی معصوم بچے کی طرح ”قوم سے خطاب“ کا ڈرامہ رچا کر خوش اور مسرور ہو رہے ہیں۔ جو لیڈر ایسی چھوٹی باتوں میں کامیابی کا راستہ تراش رہا ہو، وہ کس طرح مسائل میں گھری قوم کی رہنمائی کر سکے گا۔

عمران خان کو شہرت اور اقتدار چاہئے، ملک کے میڈیا کو ریٹنگ اور سنسنی خیزی درکار ہے۔ کل بنی گالہ میں ان دونوں کے مفادات کے ملاپ کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ایسے کئی مظاہرے دیکھنے کو ملیں گے۔ عمران خان حکومت کو تماشہ بنانا چاہیں گے۔ میڈیا ان کا تماشہ بنا کر ناظرین کو محظوظ کرے گا۔ اس دوران نہ دہشت گردی ختم ہو گی، نہ بھوک اور احتیاج سے جان چھوٹے گی اور نہ بدعنوانی اپنے انجام کو پہنچے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

5 thoughts on “ایک نئے انتشار کی طرف

  • 11-04-2016 at 10:52 pm
    Permalink

    excellent analaysis

    • 13-04-2016 at 7:55 pm
      Permalink

      اتنے مسائل کے ہوتے ہوۓ آپکی نظرِ التفاف جہاں مرکوز ہے ؛ خیر آپکیے قلم کی اپنی وفاداریاں ہونا انوکھی بات تھوڑی ہے۔

  • 12-04-2016 at 12:10 am
    Permalink

    wese ap v apny ap ko aql e qul smjhty hn…or majal hai k ap ny kha ho k baqi kae mumalik k sador or prime ministers ny resign kia hai….to is ilazm mai nawaz shareef ko v resign krna chay….ap yh frma rhy hn k imran khan aek nafseati maree hai…bhai apna ilaj krvay….ap ny jo ainak dali hui hai ap ko aisa he nazar aey ga….or ap jisy achi siasat mjh rhy hn usy munafqat or makkari kha jata hai…hosh krain

  • 12-04-2016 at 1:39 pm
    Permalink

    Thanks Waqar Sahib

    For kind information of Tafzeel sahib I will refer to my earlier comments on Panama papers where referring to democratic tradition I suggested that Nawaz Sharif has no moral grounds to be in this position because democracy is to take responsibility. I have no political affiliation nor have any grudge against any leader. Democratic Principle is rather clear: Nawaz must go and answer allegations. PMLN can continue rule with other leader of House.

  • 12-04-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    بہت جاندار کالم ہے-چند چبھتے سوالات جیسے” پی ٹی ائی کے سربراہ یوں تو جمہوری روایت کی مثالیں برطانیہ اور امریکہ سے لاتے ہیں لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کسی ملک میں کوئی سیاسی پارٹی کسی سیاسی ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے کبھی مقررہ پارٹی انتخابات معطل یا منسوخ کرتی ہے۔ یا کسی ایسی پارٹی کا نام ہی بتا دیں جس سے اپنے ہی مقرر کردہ الیکشن کمیشن کی رائے ماننے سے انکار کرتے ہوئے دھاندلی اور بدعنوانی کرنے والے چہیتوں کو مسترد کرنے کی بجائے الیکشن کمیشن کو ہی توڑ دیا ہو اور اس کے سربراہ کی نیت پر شبہ کا اظہار کیا ہو۔ یا کوئی ایسی پارٹی بتا دیں جو 20 برس تک ایک ہی لیڈر کی سربراہی میں کام کر رہی ہو لیکن پھر بھی خود کو جمہوری کہنے اور منوانے پر اصرار کرتی ہو۔” سے صرف نظر کرنا، کسی انصاف پسند صاحب عقل کے لئے ممکن نہیں ہے-

Comments are closed.