پانامہ لیکس- میں دنیا نوں کہہ دواں پرے پرے


 \"hashirناظرین ۔ آج ہمارے اسٹوڈیوز میں حکومتی ترجمان جناب عزیز اللہ  پرویز ہمارے ساتھ ہیں ۔ آپ میں سے کچھ انہیں پرویز اللہ عزیز کے نام سے بھی جانتے ہیں  ۔ خیر گلاب کو جس نام سے بھی پکاریں اس کی خوشبو میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ موصوف ظاہر ہیں کسی ثنا کے محتاج نہیں ہیں ۔ آج کی معروف اصطلاح میں ان کو تھری ان ون کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ ہم چاہتے تو تھے کہ آج کی اس نشست میں باقی پارٹیوں کا موقف بھی سامنے آئیے لیکن ہمارے سیٹ پر صرف تین کرسیوں کی گنجائیش ہے اور ظاہر ہے کہ تھری ان ون کے ہوتے ان پر کسی اور کا براجمان ہونا ممکن نہیں تو چلیں انٹرویو کا آغاز کرتے ہیں ۔

اینکر: کیسے ہیں عزیز اللہ پرویز صاحب

ترجمان :جی ٹھیک ہوں ۔ میاں صاحب کا شکر ہے ۔

اینکر: آپ کا مطلب ہے اللہ کا شکر ہے ۔۔۔

ترجمان: جی وہی تو۔ اللہ میاں کا شکر ہے ۔ آپ نے غور سے سنا نہیں۔

اینکر: یہ سر پانامہ لیکس کا ۔۔۔۔

ترجمان:  پاجامہ لیکس ۔۔۔۔ ہا ہا ہا ۔۔۔

اینکر: سر یہ غیر مناسب ترکیب ہے ۔ اگر آپ اس سے احتراز برتیں تو۔۔۔۔

ترجمان: کیا برتوں ؟

اینکر: جی آپ یہ لفظ استعمال نہ کریں ۔

ترجمان: کون سا لفظ

اینکر: پاجامہ

ترجمان: لیکن پاجامے میں کیا برائی ہے

اینکر: دیکھئیے جب آپ اسے پانامہ کی جگہ استعمال کرتے ہیں تو۔۔۔۔

ترجمان: لیکن میں تو پاجامے کو پاجامے کی جگہ استعمال کرتا ہوں ۔ زیادہ زیادہ آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ میں اسے شلوار کی جگہ استعمال کرتا ہوں ۔ ویسے یہ شلوار اور پاجامے میں گھیر کے علاوہ کیا فرق ہوتا ہے ۔

اینکر: جی ایک فرق تو یہ ہے ۔۔۔۔۔لاحول ولا ۔۔۔۔ یہ آپ کدھر چل نکلے ہیں ۔ میں کچھ اور بات کر رہا تھا ۔ آپ پتہ نہیں اس کو گھما کر کدھر لے آئیے ہیں ۔

ترجمان: میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا ۔ آپ بلاوجہ اس کو ایشو بنا رہے ہیں

اینکر: میں ایشو بنا رہا ہوں؟

ترجمان: تو اور کیا میں ایشو بنا رہا ہوں ۔ آپ میری بات سنیں

اینکر: جی میں آپ ہی کی بات سن رہا ہوں ۔

ترجمان: میں سب جانتا ہوں آپ کا ایجنڈا کیا ہے

اینکر: اب اس میں ایجنڈا کہاں سے آ گیا ؟

ترجمان: ہمیں سب پتہ ہے آپ کی ڈوریاں کہاں سے ہلتی ہیں

اینکر: میری ڈوریاں ؟ ۔۔( دانت کچکچا کے ) ۔۔۔ خیر اس بحث کو چھوڑیں مجھے آپ یہ بتائیں کہ پانامہ لیکس ۔۔۔۔

ترجمان: ویسے میں آپ کو بتاؤں یہ ہمارے اینکرز کی انگریزی بھی اتنی خراب ہے کہ بس ۔ یہ اصل میں پانامہ Lake ہے ۔ سارے اسے Leak کہتے ہیں ۔ میں نے خود اپنےبیٹے سے پوچھا ۔  اس کی جغرافیہ کی کتاب میں بھی ایسے ہی لکھا ہے ۔۔۔۔

اینکر: جی بالکل ۔۔۔۔۔۔درست فرمایا  ۔۔۔ تو ان لیکس Leaks بلکہ لیکس Lakes  میں جو میاں نواز شریف کی فیملی کا نام آیا ہے اس بارے میں آپ کا کیا موقف ہے ۔

ترجمان: آپ کو بے نظیر کا سرے محل بھول گیا ۔ ہیں جی ۔۔۔۔ مشرف کے اسپین کے ولا آپ کو نظر نہیں آتے ۔ اور یہ عمران خان ۔۔۔ اس کو میں نے بھی گیارہ روپے چندہ دیا تھا اس نے وہ بھی آف شور کمپنی میں ڈبو دیا ۔  دیکھیں مریضوں کے علاج کا پیسہ جوئے میں لگا دیا ۔۔۔ ہے کوئی جواب

اینکر: سر ۔ میں نے یہ سوال تو نہیں کیا تھا ۔ آپ میرے سوال کا جواب دیں

ترجمان: اور قوم کو خان صاحب کب جواب دیں گے ۔ ہر تیسرے میچ سے پہلے ان کا پٹھہ چڑھ جاتا تھا۔ اس کی تحقیق کرائیں ۔ مجھے پتہ ہے مظہرمجید کے دادا سے ان کی پرانی یاری ہے ۔ یہ جوئے باز آدمی ہے ۔۔

اینکر: سر ایک منٹ ۔۔۔یہ آپ کس پٹڑی پر چڑھے ہوئیے ہیں ۔ ہم عمران خان پر پروگرام نہیں کر رہے ہیں ۔ چلیں میں آپ کی مشکل آسان کیے دیتا ہوں ۔ سیدھا سیدھا سوال پوچھتا ہوں ۔ آپ بس اس کا سیدھا سیدھا جواب دے دیں مجھے ۔  پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ حکومتی ترجمان ہیں یا شریف خاندان کے ۔۔۔۔

ترجمان :  آپ کو پتہ نہیں ہے ؟

اینکر: جی مجھے تو پتہ ہے ۔۔۔۔۔

ترجمان : پتہ ہے تو پھر مجھ سے  پوچھنے کی کیا ضرورت ہے

اینکر: جی میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کہ آپ کو بھی پتہ ہے یا نہیں

ترجمان: تو آپ یہ کہ رہے ہیں کہ آپ کو میرے بارے میں میرے سے زیادہ پتہ ہے

اینکر: میری بات کا یہ مطلب نہیں ہے

ترجمان: تو پھر کیا مطلب ہے ۔ جب آپ کو پتہ ہے ۔ جب مجھے پتہ ہے تو پھر پوچھنے کا مقصد؟

اینکر: جی ۔ مقصد یہ ہے کہ ۔۔۔ خیر چھوڑیں گولی ماریں ۔

ترجمان: کس کو؟ یہ آپ مجھے دیکھ کر کیوں کہ رہے ہیں

اینکر:نہیں جی  میں اپنے بارے میں بات کر رہا تھا۔  آپ غلط نہ سمجھیں۔۔۔۔۔ چلیں میں آپ سے ایک اور سوال کئے لیتا ہوں۔  یہ تو اب ہمیں پتہ ہے کہ یہ آف شور کمپنیاں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے نام ہیں۔ اس کے ذریعے لندن میں جائیداد بھی خریدی گئی ۔ حسین صاحب فرماتے ہیں جائیداد 2006 میں خریدی گئی لیکن لندن کے لینڈ ریکارڈ میں یہ جائیداد 1995 یا اس سے بھی پہلے سے ان کے نام ہیں ۔ اس تضاد پر آپ کیا کہیں گے ۔

ترجمان: آپ سہیل وڑائچ تو نہ بنیں

اینکر: اب یہ سہیل وڑائچ بیچ میں کہاں سے آ گئیے ۔

ترجمان: ہا ہا ہا ۔۔۔۔ وہ یاد ہے نہ آپ کو وہ کہتے تھے ( نقل اتارتے ہوئیے ) ۔۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ ۔۔۔۔ آپ کے چینل نے بڑی پیروڈیاں بنائیں ہیں ان کی۔  ویسے یہ پیروڈی بنانا کوئی اچھی بات نہیں ہے

اینکر: سر ۔ میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا ہے؟

ترجمان: جی میں بتا رہا ہوں نا لیکن آپ بھی مجھے بتائیں نا کہ یہ جو دن رات آپ ہماری پیروڈیاں چلا کر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں یہ کونسی اخلاقیات ہیں ۔

اینکر: ایک تو سر یہ بار بار آپ \”پیروڈیاں\” نہ بولیں ۔ اس پر آپ کی ایک اور پیروڈی بن سکتی ہے دوسرا یہ کہ چینلز کے ضابطہ اخلاق پر ہم ایک الگ پروگرام کر لیں گے لیکن ابھی تو آپ میرے سوال کا جواب دے دیں ۔

ترجمان: یار یہ بڑا کمال ہے آپ کا ۔ جہاں آپ کے اوپر بات آتی ہے آپ فوراً بات بدل دیتے ہیں

اینکر : میں بات بدل دیتا ہوں ؟ (اپنی مٹھی دانتوں سے کاٹتے ہوئیے )

اچھا چلیں آپ ایک اور بات بتائیں مجھے ۔ یہ جو  سعودیہ میں اسٹیل مل لگائی گئی جو آپ کے بقول دوستوں اور بنکوں سے لئے گئے قرضے پر کھڑی ہوئی اس میں ظاہر ہےاپنا سرمایہ یعنی  ایکوٹی بھی ہو گی تو یہ ایکوٹی کتنی تھی اور یہ رقم کس چینل سے سعودیہ پہنچی تھی؟ پھر وہ دوست کون تھے جنہوں نے اربوں کا قرضہ دیا۔ ظاہر ہے انہوں نے بھی کہیں وہ رقم ڈکلینر کی ہو گی۔ اور کتنے بنکوں سے کتنا قرضہ لیا گیا ۔ ان کی بھی کوئی فہرست ہو گی ۔ اب یہ تمام رقم جس سے پرانی اسکریپ فیکٹری خریدی گئی  وہ تھی کتنی ، یہ بتانے میں کیا ہرج ہے ؟

ترجمان: دیکھیں حسین نواز حافظ قرآن ہیں ۔ ہر وقت باوضو رہتے ہیں ۔ اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کا وزن تقریبا ایک سو دو کلو ہے۔ پچھلے سال یہ بڑھ کر ایک سو تین کلو پر پہنچ گیا تھا لیکن انہوں نے بڑی تندہی اور جان فشانی سے ڈائیٹنگ کر کے اسے کم کیا ۔ اب آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ زیادہ مستعد اور چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ اسی  محنت کے جذبے کے تحت دن رات کرکے انہوں نے فیکٹری کھڑی کی ۔ کروڑوں لوگوں کو روزگار مہیا کیا ۔ کتنے چولہے ان کی وجہ سے جلتے رہے۔ ۔۔۔۔

اینکر: کروڑوں لوگ کہاں سے آ گئیے سعودیہ میں؟ اور میں نے تو یہ پوچھا تھا کہ۔۔۔۔

ترجمان: میں نے آپ کو روکا تھا جب آپ سوال کر رہے تھے ۔ اب سوال کیا ہے تو جواب سننے کا حوصلہ بھی پیدا کریں اپنے میں ۔ ذرا صبر کریں ۔۔۔۔۔

اینکر: جی صبر کی بات نہیں ہے ۔ میں  تو۔ ۔۔۔

ترجمان: یار پھر آپ بول لیں ۔ میں چپ کر جاتا ہوں ۔۔۔

اینکر: نہیں نہیں بولیں آپ ۔۔۔بس مجھے آپ سرمائے کی تفصیل بتا دیں ۔

ترجمان: اب آپ کو بڑی سرمایے کی تفصیل یاد آ رہی ہے۔ کبھی پوچھا ہے آپ نے کہ بنی گالہ کے تین لاکھ ایکڑ کے محل کے لئے  سرمایہ کہاں سے آیا ۔

اینکر: (سرگوشی میں ) تین سو کنال

ترجمان: سرے محل کیسے خریدا گیا ۔ یہ چک شہزاد کے فارم ہاوس کیا آسمان سے اترے تھے۔ شوکت خانم کا سرمایہ بھی کھا گئیے ۔ بحریہ ٹاؤن میں پارک کہاں سے بن رہے ہیں ۔ ہیں جی۔  یہ سڈنی کا اوپیرا ہاوس کہاں سے بن گیا۔ میسی کا گھر دیکھا ہے آپ نے۔ لالو پرشاد پوری ریلوے کا بجٹ کھا گیا۔ اہرام مصر پر پتہ ہے کتنا پیسہ لگایا تھا فرعونوں نے۔ قارون کے خزانوں پر ویلتھ ٹیکس کس نے وصول کرنا تھا۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام کھا گیا ہے اس دنیا کو۔ میاں صاحب کے دل میں غریبوں کا درد ہے۔ ہماری جنگ اس نظام سے ہے ۔ جب تک اس ملک سے غریب ؛ میرا مطلب ہے غربت فنا نہیں ہو جاتی ۔ ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ۔۔۔۔

اینکر: جی مجھے ایک بریک لینی ہے

ترجمان: یار ایک تو آپ مجھے بات پوری نہیں کرنے دیتے ۔ بیچ میں کاٹ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ۔ چلیں لے لیں بریک

اینکر: تو ناظرین ملتے ہیں ایک بریک کے بعد ۔۔۔۔۔۔

اینکر: بریک کے بعد آپ کو دوبارہ پروگرام میں خوش آمدید ۔ ہمارے ساتھ ہیں حکومتی ترجمان عزیز اللہ پرویز ۔ جی عزیز صاحب۔ اگر اجازت ہو تو اگلا سوال پوچھوں ۔

ترجمان : میں اجازت نہ دوں تو آپ نے کونسا رک جانا ہیں ۔۔۔۔قیں قیں قیں ۔۔۔ پوچھیں جی

اینکر:  ذرا لمبا سوال ہے ۔ غور سے سنئیے گا ۔ یہ جو اسٹیل مل ہے ہل میٹلزکے نام سے یہ قائم ہوئی 2005 میں ۔اور یہ ابھی بھی ان کی اپنی ویب سائیٹ پر لکھا ہے۔ اور بقول آپ کے قرضے لے کر۔۔۔ تو ایک ہی سال میں اس فیکٹری میں کتنی پیداوار ہوئی کہ سارے قرضے بھی اتر گئیے ۔ سود بھی چکا دیا گیا اور ایسی منافع بخش فیکٹری بعض حلقوں کے بقول بیچ بھی دی گئی ۔اگر بیچی گئی تو ۔۔۔ چلیں فرض کر لیں کہ بک گئی اور اب اس سے شریف خاندان کا کوئی تعلق نہیں تو جناب بیچ کر جو خالص منافع حاصل ہوا یا پیداوار سے جو خالص منافع ملا  اس سے ظاہر ہے اگر 2006 میں اسے بیچ کر لندن میں کئی ملین پاؤنڈ کی جائیداد خریدی گئی تو کمایا اس سے زیادہ ہی ہو گا۔ کمپنی کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق کمپنی کے ملازمین ہیں 385 اور سالانہ پیداوار کوئی 7 سے 8 لاکھ ٹن۔ اگر تو جائیداد 2006 میں خریدی گئی  اور اس کی مالیت وہی ہے جو بتائی جا رہی ہے تو اس کا مطلب ہے اسے خریدنے کے لیے فی ٹن منافع کوئی 1400 سے 1500 ڈالر رہا۔۔اور  اگر ہم اس کو کھینچ تک 2011 تک بھی لے آئیں جو کہ شریف خاندان کے بیان سے مطابقت نہیں رکھتا  تو بھی 200 سے 250 ڈالر فی ٹن منافع بنتا ہے۔ اس دوران دنیا میں اسٹیل کی پیداوار پر منافع 5 سے 10 ڈالر فی ٹن رہا ماسوائیے ایک روسی کمپنی کے جس نے کوئی 45 ڈالر تک کما ڈالے لیکن اس کی پیداوار سالانہ ڈیڑھ کروڑ ٹن سے زائد تھی۔ تو یہ سینکڑوں نہیں بلکہ مارکیٹ سے  ہزاروں فیصد زیادہ آمدن ایک چھوٹی سی مل سے  کیسے ممکن ہوئی؟

ترجمان: اور یار میں کوئی اکاؤنٹنٹ لگا آں ایتھے۔ مینوں کی پتہ ۔۔۔۔

اینکر: اکاؤنٹنٹ تو میں بھی نہیں ہوں ۔ پر یہ تو سادہ سا سوال ہے ۔ اتنا منافع کیسے ہو گیا ۔

ترجمان: آپ مسلمان ہیں

اینکر: جی الحمدللہ

ترجمان: اللہ پر یقین ہے

اینکر : اس بات کا یہاں کیا لینا دینا ہے ۔

ترجمان: مکہ اور مدینہ کی برکات سے آشنا ہیں ۔

اینکر: جی پر جدہ کی فیکٹری کا مکہ مدینہ سے کیا تعلق

ترجمان: دیکھیں جی 99 میں مشرف کا تو بہانہ تھا ۔ یہ تو اللہ نے میاں صاحب کو اپنی بارگاہ میں بلانا تھا۔ ادھر وہ پہنچے ہیں وہاں ادھر برکتوں کا نزول شروع ہو گیا۔ اللہ کے گھر میں اللہ کے مقرب بندے جس کاروبار میں ہاتھ ڈالیں گے وہ سونا ہو جائیے گا ۔ یہ دو ڈھائی سو ڈالر کی کیا بات ہے۔

اینکر: پر جناب کوئی ٹیکس ریٹرن؛ کوئی سالانہ گوشوارے ۔ کوئی آمدن کا ثبوت

ترجمان: تاجدار حرم ہو نگاہ کرم ۔۔۔۔۔ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائین گے۔ ۔۔۔

اینکر: آمدن ۔۔۔گوشوارے۔۔۔

ترجمان: عاطف اسلم نے بھی اچھی گائی ہے پر وہ صابری برادران والی بات کہاں ۔

اینکر: سر ٹیکس ریٹرن؟

ترجمان: ویسے ذاتی طور پر مجھے بدر میاں داد بہت پسند ہے ۔ میاں داد سے یاد آیا ۔ آپ نے عمران خان صاحب کی ورلڈ کپ کی آمدنی کا حساب کیوں نہیں مانگا اب تک۔

اینکر: اچھا آپ یہ نہیں بتانا چاہتے تو بس یہ بتا دیں کہ اگر وزیر اعظم کا اپنا بیٹا خود اپنے اعتراف کے مطابق ٹیکس بچانے کے لئے  آف شور کمپنیاں بنائیے گا تو ہم اپنے لوگوں سے ٹیکس کس منہ سے مانگیں گے اور اگر وزیر اعظم کے اپنے خاندان کا سرمایہ لندن اور پانامہ میں رکھا ہو گا تو ہم غیر ملکی سرمایہ ملک میں کیونکر لائیں گے؟

ترجمان: اور جو عمران کے بچے لندن میں یہودیوں کے پیسے سے پڑھ رہے ہیں  وہ صحیح ہے۔ پتہ نہیں انہیں کلمہ بھی آتا ہے یا نہیں۔ میں تو دن رات یہی سوچتا رہتا ہوں۔ اس ملک سے ذرا بھی محبت ہوتی اسے تو ان کو رکھتا نا یہاں۔ کوئی ان میں سے بھی حفظ کرتا۔ رمضان میں تراویح ہی پڑھا دیتا۔ لیکن نہیں۔۔۔ انہیں تو عیشِ عشرت کی زندگی سے فرصت ہی نہیں اور یہاں خان صاحب کے دھرنوں کی وجہ سے ابھی تک ہم اورنج پینٹ امپورٹ نہیں کرسکے۔ کتنا برا لگے گا اگر اورنج ٹرین چل پڑی اور ڈبے اس کے بھورے ہی رہے۔ سوچیں ذرا۔۔۔۔۔

اینکر: آپ کسی بات کا سیدھا جواب کیوں نہیں دے رہے

ترجمان: یہ آپ کس لہجے میں بات کر رہے ہیں ۔ کسی نے تمیز نہیں سکھائی آپ کو ۔ آپ میرا جواب پورا سنتے تو ہیں نہیں ۔۔۔۔۔

اینکر: بھائی مگر

ترجمان: دیکھا ۔ پھر بات کاٹ دی آپ نے

اینکر: لیکن۔۔۔۔

ترجمان: یار آپ اکیلے ہی کر لیں پروگرام پھر ۔ اگر سوال بھی آپ ہی نے کرنا ہے اور جواب بھی آپ ہی نے دینا ہے ۔

اینکر: پر میں تو ۔۔۔۔

ترجمان: میں واک آوٹ کرتا ہوں آپ کے اس رویے کے خلاف ۔ اور میری جماعت بھی انشاءاللہ آپ کے چینل کا بائیکاٹ کرے گی ۔

اینکر: جناب۔۔۔۔

ترجمان: بکے ہوئیے ہیں  آپ سب لوگ ۔۔۔۔ عمران خان نے وزیر اعظم نہیں بن جانا اس طرح ۔۔ میاں صاحب پر یہ جو آپ کیچڑ اچھال رہے ہیں یہ آپ کے ہی کپڑے گندے کرے گا ۔

ٹونکل ٹونکل لٹل اسٹار ۔ حسین نواز از دا راک اسٹار ۔

 میاں تو جہاں جہاں چلے گا ۔ میرا سایہ ساتھ ہو گا ۔

تو جے میرے ہمیشہ کول رہوے تے میں دنیا نوں کہہ دواں پرے پرے ۔۔

اینکر: ناظرین ۔ ہمارا وقت ختم ہوا۔ اجازت دیجیے

ترجمان: دل دے کے دنیا توں کون ڈرے  ۔۔۔

اینکر: خدا حافظ

ترجمان : ہائیے ۔ دل دے کے دنیا توں کون ڈرے۔۔۔۔۔۔ پرے پرے

( فیڈ آوٹ)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 73 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “پانامہ لیکس- میں دنیا نوں کہہ دواں پرے پرے

  • 12-04-2016 at 8:49 am
    Permalink

    You portrayed a real picture of Matwalas

Comments are closed.