حکیم دولے شاہ قلندری کا تکیہ


adnan-khan-kakar-mukalima-3

حکیم دولے شاہ قلندری صاحب کے تکیے پر شام کی محفل جمی ہوئی تھی۔ شہر کے مرکزی قبرستان سے ملحقہ اس مطب میں دن کے اوقات میں حکیم صاحب قریبی آبادی کو مفت میں حکیمی نسخے دیا کرتے تھے، اور شام کو وہ مریدوں کو صوفیانہ ہدایت دیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ملحقہ قبرستان کے آباد ہونے میں جتنا ہاتھ ان کے صبح کے نسخوں کا تھا، اتنا ہی شام کے تعویذوں کا بھی تھا۔

اس وقت حکیم صاحب مسند پر ٹانگیں پسارے بیٹھے تھے۔ ان کے دائیں طرف لکڑی کے تخت پر ان کے خلیفہ اکبر پروفیسر تلقین قاضی صاحب نیم دراز تھے۔ قبولن ملنگ نزدیک ہی باداموں والی سردائی گھوٹ رہا تھا اور ڈھولن ملنگ حکیم صاحب کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔ دونوں ملنگوں کی کہانی بھی عجیب تھی۔

ڈھولن ملنگ اور قبولن ملنگ کو بے کلی چین نہیں لینے دیتی تھی۔ چند ماہ قبل مڈل پاس کرنے کے بعد وہ اس قدر علم و فضل حاصل چکے تھے کہ قوم کی فکری قیادت سنبھال کر اس کو راہ راست پر لا سکیں۔ یہ بات نہیں تھی کہ وہ بورڈ کا مڈل کا امتحان پاس کر کے محض ظاہری علوم کے امام بن چکے تھے، اہم چیز یہ تھی کہ وہ باطنی علوم میں بھی حکیم دولے شاہ قلندری کے تیر نگاہ کا شکار ہو کر راہ سلوک کی منزلیں طے کر چکے تھے۔ حکیم دولے شاہ سے ان کو ان کے خلیفہ اکبر پروفیسر تلقین قاضی نے متعارف کروایا تھا اور جب وہ ایک مرتبہ اس چوکھٹ سے پار ہوئے تو پھر بس اس سے ایسے جڑے جیسے وہ اس در کا کنڈا ہوں۔ دونوں ملنگ جسے ایک کٹیا کا دروازہ سمجھے تھے، وہ عقل کو متحیر کر دینے والی ایک محل سرا نکلی۔ چھوٹی اینٹ کی بنی ہوئی اس عمارت کے ایک گوشے میں طب کے نسخے لکھے جاتے تھے تو دوسری میں روحانیت کا
سیل رواں بہتا تھا۔

پروفیسر تلقین قاضی کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ وہ عرصہ بیس سال سے قومی اخبارات میں ایڈیٹر کی ڈاک میں مضامین ارسال کر رہے تھے جب ان کے اندر چھپے صوفی کو حکیم دولے شاہ کی مردم شناس نگاہوں نے پہچانا۔ خدانخواستہ اب وہ اس وجہ سے پروفیسر نہیں کہلاتے ہیں کہ کسی کالج یا یونیورسٹی میں نوجوانوں کو پڑھاتے ہیں۔ یہ لقب ان کو ان کے علم و فضل کی فراوانی دیکھتے ہوئے حکیم دولے شاہ صاحب نے دیا ہے۔ ایک دن حکیم صاحب کہنے لگے کہ قاضی جی، آپ کی حالات حاضرہ پر بھی خوب نظر ہے، اور مستقبل کا تجزیہ بھی خوب کر لیتے ہیں، تو آپ کو اپنے نام کے ساتھ علامہ لکھنا چاہیے۔ قاضی صاحب کے چہرے پر خوشی کی چمک نمودار ہوئی مگر پھر کچھ سوچ کر کہنے لگے کہ حکیم صاحب، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن ہمیں علامہ کون مانے گا۔ حکیم صاحب مسکرائے اور کہنے لگے کہ یہ بات ہمارے ذہن میں تھی کہ تم یہ اعتراض کرو گے۔ بس آج سے تم پروفیسر کا لقب اختیار کر لو۔ قاضی صاحب کہنے لگے کہ حکیم صاحب، آپ بھی کمال کرتے ہیں، ہم کہاں کے پروفیسر ہیں جو یہ کہلائیں؟ حکیم صاحب تس پہ خندہ زن ہوئے اور بولے کہ تم اپنے تجزیات سے مستقبل کا حال بتاتے ہو، اور طوطے سے فال نکلوانے والا بھی مستقبل کا حال بتاتا ہے۔ مستقبل کا حال تو تم دونوں ایک جیسا ہی بتاتے ہو تو پھر اگر وہ پروفیسر کہلاتا ہے تو تم پروفیسر کیوں نہیں کہلا سکتے ہو؟ اس دلیل پر لاجواب ہو کر پروفیسر صاحب متفق ہو گئے۔ سچ ہے، بابوں کی نظر جن عوامل کو ظاہر کی بجائے باطن کی نظر سے دیکھتی malang1ہے وہ عامیوں کو کہاں دکھائی دیتے ہیں۔

تو اس دن یہ تینوں اپنے مرشد کے گرد محفل جمائے بیٹھے تھے اور روحانیت کے اسرار و رموز پر بحث ہو رہی تھی۔ ڈھولن ملنگ نے حکیم دولے شاہ کے پیر دباتے ہوئے پوچھا ’مرشد، قوم کی راہنمائی کرنا چاہتا ہوں۔ کیا کروں‘۔

پروفیسر تلقین قاضی آگ بگولہ ہو گئے اور کہنے لگے ’مرشد کے جیتے جی تم ملنگوں کا بھی یہ حوصلہ ہوا کہ قوم کی راہنمائی خود سے کرنے لگے۔ یہ نہایت ہی بچگانہ بات کی ہے تم نے۔ میں تمہارے مستقبل میں بدنامی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیکھ رہا ہوں‘۔

اس سے پہلے کہ حکیم دولے شاہ صاحب کچھ کہتے، ڈھولن ملنگ نے مضبوطی سے ان کے پیر اپنے توانا پنجوں میں دبوچ لیے اور کہنے لگا کہ ’مرشد اگر آپ کے دل میں بھی بدگمانی ہے تو پھر جب تک آپ دعا نہیں دیں گے، میں پیر نہیں چھوڑوں گا، خواہ آپ کو اٹھنے کی کیسی ہی شدید اور فطری ضرورت کیوں نہ ہو۔ لیکن آپ تو روشن ضمیر ہیں۔ بین السطور کہی بات کو بھی کشف سے جان لیتے ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ میرے دل میں کیا تھا؟‘

حکیم دولے شاہ کسمسا کر بولے ’ڈھولن ملنگ تو درست کہتا ہے۔ تیرے دل میں کھوٹ نہیں تھی۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ تو خود ہی بتائے کہ کیا ماجرا ہے تاکہ پروفیسر صاحب کو بھی علم ہو کہ جلد بازی اچھی چیز نہیں ہے‘۔

ڈھولن ملنگ بولا ’پیر و مرشد، میں تو محض دنیا کو آپ کے اقوال و افکار سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہدایت پائے۔ جب سے آپ کی نگاہ نے قلب کو منور کیا ہے، میری دنیا ہی بدل گئی ہے۔ سوچتا ہوں کہ سمجھدار افراد کی دنیا کو اس فیض سے کیوں محروم رکھا جائے۔ اس سلسلے میں سوچ رہا ہوں کہ کیا کروں؟‘

پروفیسر تلقین قاضی جھوم اٹھے اور بولے ’ڈھولن تم ایک رسالہ نکالنا شروع کر دو۔ سر ورق پر مرشد کی ماہ کامل کی مانند روشن و تاباں تصویر ہو گی۔ اور اس کا نام رکھو ماہنامہ تیر نگاہ۔ اسے ہفتہ وار شائع کیا کرو۔ اس میں حالات حاضرہ، ادب، شاعری، سیاست اور تاریخ وغیرہ کے اہم مضامین شائع کیا کرو‘۔

ڈھولن ملنگ کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے تو حکیم دولے شاہ نے پوچھا ’کیا ہوا میرے ملنگ؟‘

ڈھولن ملنگ گویا ہوا ’مرشد اس ہفت روزہ کے لیے مضامین کہاں سے آئیں گے؟‘

پروفیسر تلقین قاضی بولے ’پوچھتے ہیں کہ مضمون کہاں سے ملیں گے؟ مرشد کی کرامت سے خود بخود تم تک آن پہنچیں گے نادان شخص۔ ابھی میں نے فیس بک کھولی ہے تو وہاں ہزار ہا مضمون پڑا ہے جو کہ تیر نگاہ پر شائع کیا جا سکتا ہے۔ اٹھا کر چھاپ دو۔ حالات حاضرہ پر سب سے اچھا لکھنے والے پانچ افراد کے مضمون ڈال دو‘۔

ڈھولن ملنگ کہنے لگا ’ایک نذیر ناجی صاحب کا ڈال دیں گے۔ باقی عارف نظامی، عطا الحق قاسمی، اوریا مقبول جان، انصار عباسی اور نصرت جاوید کے ڈال دیں گے۔ مضامین کی ترتیب ایسی ہونی چاہیے کہ سب سے زیادہ نڈر، دیانت دار، نہ بکنے والے، درست تجزیہ کرنے والے، اور اچھی املا لکھنے والے کا مضمون سب سے پہلے ہو، اور اسی ترتیب میں باقی سب کے مضامین ہوں۔ مرشد سے بہتر حالات حاضرہ پر کون لکھتا ہے اور ان سے زیادہ نڈر، دیانت دار، نہ بکنے والا، درست تجزیہ کرنے والا اور اچھی املا لکھنے والا بھلا اور کون ہے؟ پہلا مضمون ان کا ہوا‘۔

پروفیسر تلقین قاضی خوشی سے جھوم اٹھے اور کہنے لگے ’سولہ آنے سچ بات کہی۔ اب ادبی سیکشن دیکھ لیتے ہیں‘۔
ڈھولن ملنگ نے کچھ سوچا پھر کہنے لگا ’مضامین ایسے ہوں جو انسانی نفسیات کو مد نظر رکھ کر لکھے گئے ہوں۔ مصنفین اس ترتیب میں ہوں کہ وہ نڈر، بے باک، سچ بولنے والے، معاشرے کو سدھارنے کی صلاحیت رکھنے والے اور دیانت دار ہوں۔ تو ادبی سیکشن میں سب سے پہلے تو مرشد کا افسانہ لگے گا، پھر جگہ بچ گئی تو کرشن چندر، منٹو، غلام عباس، بیدی وغیرہ کے بھی لگا دیں گے‘۔

پروفیسر تلقین قاضی نے تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا ’درست ترتیب ہے۔ اب تاریخ کے بارے میں سوچتے ہیں‘۔
ڈھولن ملنگ بولا ’ڈاکٹر مبارک علی، احمد حسن دانی، عائشہ جلال، حسام الدین راشدی مناسب رہیں گے۔ مگر دیانت، راست بازی، بے خوفی، حق گوئی وغیرہ کے اوصاف کی وجہ سے سب سے پہلا مضمون مرشد حکیم دولے شاہ قلندری صاحب کا ہی لگانا ہو گا، ان کے بعد جگہ بچی تو ان لوگوں کو بھی دیکھ لیں گے‘۔

پروفیسر تلقین قاضی کو خیال آیا ’اس رسالے میں ڈرامے بھی ہونے چاہئیں۔
ڈھولن ملنگ سوچ میں پڑ گیا اور کہنے لگا کہ ’مرشد کا نام تو ظاہر ہے کہ سر فہرست ہو گا کہ اس صدی میں ان سے بڑا ڈرامے باز بھلا اور کون کہلائے گا۔ باقی کس کو شامل کریں؟ آغا حشر، منو بھائی اور وہ وارث والے اسلام امجد اسلام کے ڈرامے ڈال دیتے ہیں، malang4سنا ہے وہ سب بھی اچھے ڈرامے باز تھے‘۔

پروفیسر تلقین قاضی وجد میں ہی آ گئے اور کہنے لگے کہ ’درست فرمایا۔ مگر یہ لفظ ڈرامہ نگار ہوتا ہے، ڈرامہ باز نہیں۔ اب شاعری کا سوچتے ہیں‘۔
ڈھولن ملنگ ہنستے ہوئے بولا کہ ’یہ تو سب سے آسان ہے۔ ہم تمام دیانت دار، راست باز، نڈر، ندرت خیال، صاحب انداز شعرا کی فہرست بنا کر ایک ایک غزل ڈال دیتے ہیں۔ غالب، میر، سودا اور ذوق تو پکے ہیں۔ لیکن پہلے نمبر پر مرشد کی غزل ہو گی کہ ان سے بڑا شاعر اردو نے اور کون سا پیدا کیا ہے؟‘

پروفیسر تلقین شاہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے ’قبولن ملنگ بھنگ گھوٹ رہا ہے، اسی کی تھاپ پر مرشد کی غزل گاؤ ڈھولن ملنگ۔ اب محفل سماع کا وقت ہے، اب حال کھیلنے کا وقت ہے‘۔

ڈھولن ملنگ نے غزل چھیڑی اور تمام حاضرین محفل نے حکیم دولے شاہ صاحب کی اقتدا میں دھمال ڈالنی شروع کر دی۔ باہر تکیے سے ملحقہ قبرستان کے درختوں سے تیز ہوا کے ٹکرانے سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے وہاں دفن ہر مردہ اس درویشی دھمال میں شامل ہو چکا ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar