عمران خان: سیاست کا ناپختہ کھلاڑی


rana imtiazعمران خان کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ میدان سیاسدت میں وہ ابھی طفل مکتب ہیں تو بیجا نہ ہو گا۔ جس میدان کے وہ کھلاڑی ہیں وہاں ایک سے ایک بڑھ کر ماہر استاد موجود ہے اور شریف برادران تو اس فن میں طاق اور یکتا ہیں، عمران خان نے کل جو پریس کانفرنس کی ہے جسے میڈیا کے چند ایک چیننلز نے قوم سے خطاب قرار دے دیا ایسی خواہش کرنا کوئی جرم تو نہیں یقیناً عمران خان اس خواہش کو عملی جامہ پہنا سکتے ہیں لیکن منتخب ہونے سے پہلے ہی جناب کی قوم سے خطاب کرنے کی سعی کو احمقانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔

آپ کا وزیراعظم کے استفعی کا مطالبہ بہت اثر انگیز ہوتا اگر آپ اپوزیشن کو ساتھ لے کر  چلتے۔ آپ تو اکیلے ہی قوم سے خطاب کرنے کے شوقین ہیں اور وہ قوم جس نے شریف برادران کو منتخب کیا تھا آپ کو نہیں، اب ذرا استفعی کے مطالبے کا جائزہ لے لیں۔ آپ نے جو حماقتیں جوڈیشل کمیشن کے مطالبے کے وقت کی تھیں وہ ہی آج دہرائی جارہی ہیں آپ کا یہ مطالبہ کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ایک با اختیار کمیشن قائم کیا جائے ایک درست اور قابل ستائش مطالبہ ہے لیکن ایسے کسی کمیشن کی تشکیل سے پہلے ہی آپ وزیراعظم کا استفعی کیسے مانگ سکتے ہیں آپ کا یہ مطالبہ بلا جواز اور سراسر غیر قانونی ہے کوئی بھی اپوزیشن پارٹی اس مطالبے کی حمایت نہیں کرے گی لیکن وزیراعظم خود اگر چاہیں تو اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کے لیے استفعی دے سکتے ہیں، اگر اخلاقیات کی بات کریں تو معذرت کے ساتھ اس جنس گراں سے ہمارے سیاست دانوں کا دامن ابھی خالی ہے اس میں بلا امتیاز آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، تحریک انصاف سمیت سبھی اس حمام میں ننگے ہیں لہٰذا کسی کو بھی پارسائی کا دعویٰ زیب نہیں دیتا۔

شریف برادران سے یہ امید رکھنا کہ وہ اخلاقی روایات کی سربلندی کے لیے مستعفی ہوجائیں گے، ناممکن ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ قومی اسمبلی میں دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر حکومت پر دباؤ ڈالیں اور ایک بااختیار کمیشن کی تشکیل کو ممکن بنائیں اور ایک صاف و شفاف انکوائری ہو اگروزیراعظم یا ان کے بچوں نے یا پھر خاندان کے افراد نے اگر قومی دولت کو لوٹا ہے تو نہ صرف استفعی دینا پڑے گا بلکہ لوٹا ہوا دھن بھی واپس لانا پرے گا، پانامہ لیکس نے بظاھر پردہ تو اٹھا دیا ہے لیکن میڈیا ٹرائل کی بجائے اس مسئلے کو قانون کی حدود میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کی سیاست بظاھر ملک میں بہتری لانے اور ایک نیا پاکستان بنانے کے لیے ایک بھرپور جدوجہد دکھائی دیتی ہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہے۔ خان صاحب کی دھرنا پولیٹکس نے حقیقی معنوں میں جمہوریت کو کمزور کیا ہے آپ کی سیاست نے نواز شریف کو نہیں، وزیراعظم کے منصب کو بے توقیر کیا ہے۔ شدّت پسندی اور دہشت گردی کا شکار یہ ملک جس کے انگ انگ سے لہو ٹپک رہا ہے آپ کی طفلانہ سیاست نے اس کو مزید زخمی کردیا ہے۔ آپ نے پہلے بھی اپنی غیر تعمیری سیاست سے مالی طور پر پاکستان کو بے حد نقصان پہنچایا قومی اداروں کو مفلوج کردیا اور آپ کتنی ڈھٹائی سے امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرتے رہے، اب آپ ایک ایسا مہرہ ہیں جس کو جب چاہے غیر جمہوری قوتیں منتخب حکومتوں کے خلاف استعمال کرلیں، پاکستان کو قومی یکجہتی کی ضرورت جتنی اب ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ آپ کو آئندہ اس ملک کی قیادت سنبھالنی ہے۔ خدارا اسی شاخ کو نہ کاٹیں جس پر آپ براجمان ہیں، آپ کی سیاست نے اس ملک کے نوجوانوں کو گمراہ کردیا ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں رواداری حسن اخلاق سے مزیّن اعلیٰ اقدار اور برداشت اب آپ کے طفیل عنقا ہوچکے ہیں۔ آج کا نوجوان پہلے گالی دیتا ہے اور پھر گریبان پکڑتا ہے اور یہ آپ کا تحفہ ہے آج تو آپ نواز شریف کو گالی دے کر خوش ہو رہے ہیں کل کو یہ گریبان آپ کا بھی ہو سکتا ہے، آپ کو اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کرنے کی ضرورت ہے اپنی پارٹی میں انصاف لے کر  آئیں۔ اپنے لوگوں سے ناانصافی کر کے آپ کہیں بھی انصاف نہیں کر سکتے۔ آپ کے پاس قومی اسمبلی کا فلور موجود ہے آپ کی وہاں موجودگی حکومت کا ناک میں دم کردے گی وہ کمیشن بنانے پر مجبور ہو جایئں گے دھرنوں کو چھوڑ کر مثبت اور تعمیری سیاست کو اپنائیں اسی میں پاکستان کی بقا ہے ۔


Comments

FB Login Required - comments

رانا امتیاز احمد خان

رانا امتیاز احمد خاں جاپان کے ایک کاروباری ادارے کے متحدہ عرب امارات میں سربراہ ہیں۔ 1985 سے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے جاپان اور کیلے فورنیا میں مقیم رہے ہیں۔ تاہم بحر پیمائی۔ صحرا نوردی اور کوچہ گردی کی ہنگامہ خیز مصروفیات کے باوجود انہوں نے اردو ادب، شاعری اور موسیقی کے ساتھ تعلق برقرار رکھا ہے۔ انہیں معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور تازہ ترین حالات پر قلم اٹھانا مرغوب ہے

rana-imtiaz-khan has 21 posts and counting.See all posts by rana-imtiaz-khan