ہم نہیں کہہ سکتے


laiba zainab میرے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو میں کہنا چاہتی ہوں وہ نہیں کہہ پاتی۔ ایسا نہیں ہے کہ میں وہ سب بول نہیں سکتی مگر بہت سی مجبوریاں حائل ہو جاتی ہیں۔ کبھی سوچتی ہوں کہ اگر بول دوں تو شاید “کاش” نا رہے زندگی میں مگر پھر رک جاتی ہوں۔ شاید آپ کے ساتھ بھی بہت دفعہ ایسے ہوا ہو کہ لوگ کیا کہیں گے کی وجہ سے آپ کچھ نہیں کہتے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ آخر لوگ کیا کہیں گے اتنا ضروری کیوں ہو جاتا ہے جب کہ لوگ تو وہی کہتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔

زیادہ تر بچے یہاں وہی پڑھتے ہیں جو ان کے بڑے کہتے ہیں،وہ خود کیا کرنا چاہتے ہیں،کیا بننا چاہتے ہیں شاید کوئی جاننا ہی نہیں چاہتا۔آس پاس کے لوگ،خاندان والے،معاشرہ اور یہاں کے رسم و رواج فیصلہ کرتے ہیں کہ اس دنیا میں آنے والا بچہ کیا بنے گا اور زندگی میں کس شعبے کو اپنائے گا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ کسی کا ہم پر کوئی حق نہیں ہے پر یہ تو مانیں کہ جو انسان پیدا ہوا ہے اس کا خود پر تھوڑا سا تو حق ہے نا

فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی کہ بچوں کو زیادہ تر انہی رشتہ داروں کے بچوں سے پیار ہو جاتا ہے جن سے ماں باپ کی نہیں بنتی۔ والدین کا احترام اپنی جگہ لیکن کیا واقعی انسان یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ اسے کس سے پیار کرنا ہے؟ شادی کے فیصلوں میں بڑوں کی رائے قابلِ احترام ہے لیکن کیا ان کے فیصلے کبھی غلط نہیں ہو سکتے؟ بچوں نے زندگی کا ساتھی چنا تو ساری زندگی یہ مشکل کہ لڑائی ہوئی تو کسے کو بتا نہیں سکتے کیونکہ یہی سننے کو ملے گا کہ تم نے ہی ڈھونڈا تھا اور اگر گھر والوں کی مرضی سے شادی میں مسائل آئیں تو بیٹا صبر کرو، اپنی مٹی نہیں چھوڑنی تم نے، پھر بے شک لڑکی جوتیاں کھائے اور لڑکا ساری زندگی پچھتاوے کی چکی میں پستا رہے کیونکہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا فیصلہ غلط تھا میرے بزرگو!

ووٹ ڈالنے کو حق کے ساتھ ساتھ فرض بھی کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا عمل جس کے ذریعے آپ اُس شخص کا انتخاب کرتے ہیں جو آپ کی ترجمانی کر سکے۔ ہر انسان کی سوچ مختلف ہوتی ہے اور وہ اپنی پسند کے بندے کو ووٹ دے سکتا ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ ایسے بے شمار خاندانی ووٹرز موجود ہیں جو اپنے گھر میں موجود افراد کو یہ حق نہیں دیتے ہیں کہ وہ اپنا ووٹ اپنی مرضی سے ڈال سکیں۔ چاہے ذاتی طور پر آپ اُس امیدوار کے حق میں نا ہوں پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں ووٹ اپنی مرضی سے ڈالوں گا۔

انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مطابق ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے (یہاں لفظ انسان استعمال کیا گیا ہے ابھی حقوقِ نسواں کی بات نہیں کر رہی) مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں کو یہ حق دینا ہی نہیں چاہتے۔کوئی اپنے دل کی بات کہے تو ہم سے برداشت نہیں ہوتی اور بہت سے تو کبھی وہ کہہ ہی نہیں پاتے جو وہ چاہتے ہیں۔میری صرف اتنی گزارش ہے کہ تھوڑا حوصلہ پیدا کریں اور کہنے دیں سب کو جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔ نکلنے دیں اس گھٹن سے جس میں وہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اتنی ہمت پیدا کریں خود میں کہ اپنے خیالات کو الفاظ کے ذریعے سب تک پہنچائیں۔

اور جب تک ایسا نہیں کر سکتے تب تک بس یہی کہتے رہیں

کہ

ہم نہیں کہہ سکتے


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ہم نہیں کہہ سکتے

  • 12-04-2016 at 3:01 pm
    Permalink

    wسچ ہے،،،، کئی بار کچھ بولتے انسان چپ ہو جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گۓ؟
    پر تم نسی آج کھ دیا لائبہ اچھا کیا 🙂

Comments are closed.