بچوں‌ کا استحصال کیا ہے؟


lubna mirza کل فیس بک پر اقبال لطیف صاحب نے ایک وڈیو شیئر کی ہوئی تھی جس میں‌ ایک آدمی ایک بوڑھی خاتون اور صاحب کو مار رہا تھا اور یہ واقعہ ریکارڈ ہو گیا۔ معلوم نہیں‌وہ کون لوگ تھے اور سارا قصہ کیا تھا لیکن وہ نہایت افسوس ناک منظر تھا جس کو دیکھ کر میں‌ اپنا فزیکل ری ایکشن محسوس کرسکتی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور سانس تیز تیز چلنے لگا۔ یعنی “فائٹ یا فلائٹ” قسم کا اڈرینالین رسپانس پیدا ہوا۔ میری بیٹی کچھ پوچھ رہی تھی تو مجھے سنائی ہی نہیں‌دیا۔ اس نے پھر سے مجھ سے بات کی تو میں‌نے اس کو کہا کہ پلیز مجھ سے اس وقت بات مت کرو میں ‌بہت اپ سیٹنگ وڈیو دیکھ رہی ہوں۔

ان سبھی لوگوں‌ کا کافی ملتا جلتا رد عمل تھا جنہوں ‌نے اس پر تبصرے لکھے ہوئے تھے۔ کچھ نے گالی گلوچ لکھی تھی اور کچھ نے اس بندے کو پولیس کے حوالے کرنے کو کہا جہاں‌اس کو اس حرکت کی قرار واقعی سزا دی جائے۔ اب آپ سوچ کر بتائیں‌کہ سزا کیا دی جائے گی؟ مزید مار کٹائی؟ یعنی مارپیٹ کی سزا بھی مارپیٹ؟ آخر لوگ ایک دوسرے کو کس چیز کی سزا دے رہے ہیں؟ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ 100 فیصد بچے مار پیٹ کھا کر بڑے ہوتے ہیں۔ کئی جرنلوں ‌میں‌ چھپنے والی ریسرچ کے مطابق 80 سے 90 فیصد گھروں ‌میں ‌تشدد بتایا گیا ہے۔

آخر پرابلم کہاں ‌سے شروع ہوئی؟ بچے جس ماحول میں‌ پلتے بڑھتے ہیں‌ وہ ہی ان کا ڈی فالٹ بن جاتا ہے یعنی کہ جب سب ٹھیک ٹھیک چل رہا ہو تو ٹھیک ہی رہتا ہے لیکن اگر کسی بھی قسم کی پریشانی کھڑی ہو تو وہ ویسے ہی رد عمل دکھاتے ہیں‌ جیسے ان کے ماں‌ باپ کرتے تھے۔ استحصال یا بدسلوکی کا سلسلہ نسل در نسل سے چلتا آ رہا ہے۔ ہر طاقت ور اپنے سے کم طاقت رکھنے والے کو دباتا نظر آتا ہے۔ اس چکر کا پہیہ کیسے رکے گا اور اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟

جنوبی ایشیا دنیا کے غریب علاقوں ‌میں ‌سے ہے، گرمی بھی شدید پڑتی ہے، لوگوں‌کی بنیادی ضروریات پوری نہیں‌ ہوتیں پھر بیماریاں ‌اور طبعی عمر کا کم ہونا بھی ان عوامل میں‌ شامل ہیں ‌جن سے خاندانوں‌ پر اسٹریس کا لیول بڑھ جاتا ہے۔ آپ کتنے لوگوں‌ کو اپنے ارد گرد جانتے ہوں‌ گے جو اس دنیا سے اس وقت چل بسے جب کہ ان کے بچے ابھی چھوٹے تھے جن کو اپنے والدین کے جذباتی اور معاشی سہارے کی ضرورت تھی۔ یہ تمام عوامل حقیقی ہیں‌ اور زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ زندگی 10 فیصد وہ ہے جو ہمارے ساتھ ہو اور 90 فیصد ویسی جیسے ہم نے رد عمل کیا۔ کلاس میں‌ بیٹھا ہوا ہر بچہ اپنے گھر میں‌ کن حالات سے گذر رہا ہے، ہمارے پڑوسی، دوست اور رشتہ دار اپنی اپنی زندگی میں‌ کیا فیس کر رہے ہیں کیا آپ یہ بات جانتے ہیں؟

ہمارے کرائے دار ایک بینک مینیجر تھے جن کے گھر میں‌ ایک چھوٹا بچہ ملازم تھا جس کو وہ اپنے گاؤں سے لے آئے تھے۔ وہ ان کے دونوں‌ بچوں‌ کا خیال رکھتا تھا۔ ایک بار ہم ان کے گھر مہمان تھے تو یہ انکل ایک طرف ہمارے ساتھ اچھی طرح‌ بات کر رہے ہیں‌ اور پھر وہ مڑے اور اس بچے کو موٹی سی گالی دی۔ ہم لوگ دم بخود ہو گئے لیکن ان کو اس بات کا کچھ احساس نہیں ‌تھا کہ ایک بچے کو گھر میں‌ نوکر رکھنا، اس کو اسکول نہ بھیجنا اور اس کو گالیاں‌ دینا سب نہایت غلط حرکتیں ‌ہیں۔

دنیا میں ‌دو طرح کے معاشرے ہیں۔ ایک کھلے معاشرے اور ایک بند معاشرے۔ بیماریاں اور مسائل ہر جگہ ہیں۔ ایک کھلے معاشرے میں‌ لوگ ان مسائل پر گفتگو کرتے ہیں‌اور ان کے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی لیول پر اس بات کو کافی سپورٹ کیا جاتا ہے کہ اسٹوڈنٹس مسائل کی نشاندہی کریں ‌اور ان کو بہتر بنانے پر اپنی تھیسس لکھیں‌اور ان میدانوں‌ میں‌ کام بھی کریں ‌اور شعور بھی بڑھائیں۔ اسی طرح ایک نسل کے بعد اگلی نسل آگے بڑھتی ہے۔ ایک بند معاشرے میں‌ لوگ اپنی خامیاں‌ اور کمزوریاں‌ چھپاتے ہیں‌اور اپنے آپ کو باہر سے پرفیکٹ دکھانے میں‌ جتے رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اور اپنے مسائل نہیں سمجھتے۔ پھر کچھ ہو جائے تو ان کو اس کا حل صرف چولہا پھاڑنے میں‌ یا پچھواڑے میں‌ قبر بنانے میں‌ ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ باتیں‌ بھی نسل در نسل چل رہی ہیں۔ پھر کوئی اگر کسی مسئلے کی نشاندہی کرے تو لٹھ لے کر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں‌ کہ ہمیں بدنام کیا۔ “ڈونٹ آسک ڈونٹ ٹیل” نہ پوچھو اور نہ بتاؤ کا رواج ہے۔

یہ ان دنوں ‌کی بات ہے جب ہم لوگ سکھر میں‌ رہتے تھے۔ میں‌ اور میرا بھائی پبلک اسکول میں ‌پڑھتے تھے۔ ہم لوگ کے جی اور پہلی میں‌ تھے۔ اسکول گھر سے دور تھا اور بس میں‌جانا ہوتا تھا۔ ایک دن ہم لیٹ ہوگئے اور بس نکل گئی۔ امی نے معلوم نہیں ‌کس کے ہاتھ ہمیں‌ اسکول بھیجا۔ وہاں پر پرنسپل صاحب نے ایک لائن بنائی ہوئی تھی دیر سے آنے والے بچوں‌کی اور باری باری ان کو ہاتھ میں‌ ایک ڈنڈے سے مار رہے تھے۔ میرے پیچھے لائن میں‌ ایک بڑا لڑکا کھڑا تھا، اس نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ پہلے اس کو ایک ڈنڈا لگا اس کے بعد میری باری آئی، پرنسپل صاحب تو مجھے ذاتی طور پر جانتے بھی تھے، وہ اور میرے ابو آپس میں‌ اچھے دوست تھے۔ لیکن انہوں‌نے رعایت نہیں‌ کی، میں‌نے ہاتھ پھیلایا اور انہوں‌نے اتنی ہی طاقت سے اس میں ‌ڈنڈا مارا۔ میرا چھوٹا سا ہاتھ سردی میں ‌بیچ میں سے نیلا پڑ گیا اور میں کافی دیر تک اس کو ہلا نہیں سکتی تھی۔ معلوم نہیں‌ اس وقت میں روئی ہوں ‌گی یا نہیں ‌لیکن یہ بات یاد کرکے مجھے آج بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے ان سب بچوں‌کے لئیے جو آج بھی اس تشدد سے گذر رہے ہیں۔

جب میں‌ میڈیکل کالج میں‌ تھی, ایک دفعہ میں ‌بینک گئی ایک اکاؤنٹ بند کرانے تو ہمیں‌ تو مینیجر صاحب نے تمیز سے بٹھایا ہوا تھا، چائے بھی پلائی لیکن اپنے نیچے کام کرنے والوں‌کو ہمارے سامنے لعن طعن کررہے تھے۔ یعنی کہ بینک ایک تعلیم یافتہ ادارہ ہوتا ہے یہ بھی نہیں ‌کہ چورن کی دکان ہو۔ اور وہاں پر یہ بدتمیزی چل رہی تھی۔ بہت سے سکولوں میں‌ بچوں‌ کی آج بھی پٹائی ہورہی ہے۔ اگر یہ بلاگ پوسٹ پڑھنے والوں‌ میں ‌کوئی ٹیچر ہے تو میں‌ آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں‌ کہ اگر آپ کے اسٹوڈنٹ کو آٹزم ہے یا ڈپریشن ہے یا ان کو دماغی غیر حاضری کی بیماری ہے تو کیا آپ کے مار لگانے سے ان کی بیماری سدھر جائے گی؟ کیا اگر آپ کے شاگرد کو ڈس لیکسیا ہے تو کیا وہ انگلیوں‌میں‌ فٹے مارنے سے ٹھیک ہوجائے گا؟ اب آپ کی اپنی پٹائی لگنی چاہئیے تو نہیں‌کہہ سکتی ہوں‌ لیکن آپ کے ٹیچر بننے کے لئیے مزید تعلیم کی ضرورت کی نشاندہی ضرور کر سکتی ہوں۔ امید ہے کہ آپ اپنی کلاس کے بچوں‌کو مرغا بنانے، ان کو ہاتھ سر سے اوپر کھڑے کر کے ہاتھوں ‌میں ‌آکسیجن کم کرکے ان کو جسمانی تکلیف پہنچانے سے پہلے ان الفاظ پر غور کریں ‌گے۔

یہ سخت الفاظ سن کر آپ کو تکلیف ہوئی؟ اگر ہاں‌ تو اس سے یہ ثابت ہوتا کہ کسی اور انسان کو برا محسوس کرانے کے لئے صرف ایک نظر یا جملہ ہی کافی ہے۔ تشدد پر اترنے کی کیا ضرورت ہے؟

سکھر میں ایک جیل ہوتی تھی۔ اس کے ارد گرد رہنے والے لوگ تنگ تھے کیونکہ وہاں‌سے انتہائی خوفناک چیخ پکار اور آوازیں‌ آتی تھیں۔ پولیس والے قیدیوں‌کے اوپر شدید تشدد کرتے تھے جس کی وجہ سے وہاں ‌رہنے والے لوگ سو نہیں‌‌ سکتے تھے۔ اب معلوم نہیں‌ ان غریبوں‌ کو کس جرم میں‌ پکڑا گیا ہو گا؟ جن لوگوں‌ کو دھرنا چاہئیے وہ تو سارے باہر گھوم رہے ہیں۔

چائلڈ ابیوز یا بچوں ‌کا استحصال کیا ہے؟ چائلڈ ابیوز اس کو کہا جاتا ہے کہ جب والدین یا بچوں‌کا دھیان رکھنے کے ذمہ دار افراد ان کو جسمانی تکلیف، موت، شدید اعصابی یا جسمانی نقصان پہنچائیں۔ چائلڈ ابیوز کی کئی اقسام ہیں‌ جن میں‌ لاپرواہی، جسمانی اور جنسی استحصال شامل ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں‌ کہ معاشرے میں‌سے تشدد ختم ہوجائے تو اس کو بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ ختم کر دینے سے ہی حاصل کیا جاسکے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “بچوں‌ کا استحصال کیا ہے؟

  • 13-04-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    بہترین….بہت خوب. پلیز بچوں کے جنسی استحصال پر بھی لکھیے ..میری لغت اور لکھت اتنی اچھی نہیں ہے…کہ خود ایک اچھا آرٹیکل لکھ سکوں ..بہت بہت شکریہ!

  • 13-04-2016 at 10:45 pm
    Permalink

    An eye-opener for me at least

  • 14-04-2016 at 12:53 am
    Permalink

    Nice

  • 14-04-2016 at 9:57 pm
    Permalink

    Dr. Lubna sahiba ki andochronology k ilm.se istfada k lye contac ka zreea darkar hy agr ijazt ml jae to mery aik dost ka dereena msla hy jis main rahnumai drkar hy

    • 16-04-2016 at 7:27 am
      Permalink

      آپ میرے بلاگ پر سوال چھوڑ سکتے ہیں۔ فیس بک پیج بھی ہے۔ وہاں‌ پر سوال لکھ دیں۔
      http://www.diabetesinurdu.com
      Diabetes with Dr. Mirza Facebook page

  • 15-04-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    بہت اعلٰی تجزیہ??

  • 16-04-2016 at 1:01 am
    Permalink

    عمدہ اور فکر انگیز اس پر مگر اسی انداز میں بہت اور تواتر سے لکھنے کی ضرورت ہے اور کچھ جگہ مثلا ٹی وی پر ،اسکولز میں یا دیگر دوسری طرح کے پبلک مقامات پر کچھ کر دکھانے کی بھی ضرورت ہے. میرا مطلب جن باتوں پر عام طور پر بچوں کے بارے برداشت کی حد تمام ہوجاتی ہے انھیں مسکرا کے برداشت کرنا دکھایا جائے. بہرحال ایک تلخ اور پسی قوم کی نفسیات بدلنے میں اس سے زیادە وقت لگے گا جتنا ایک انسان بدلنے میں لگتا ہے

Comments are closed.