تھینکس طاہر شاہ


ahsan sabz ٹھیک ہے کہ لوگوں کو طاہر شاہ کے گھر کے کم از کم تین لحاف اُدھڑ جانے کا افسوس ہے، مانا کہ باتھ روب نما جامنی چغے میں سے منہ چڑاتے فنکار کے سینے کے بال نفیس طبیعت پانے والوں اور والیوں کو گراں گزرے، کبھی پروں کے ساتھ، کبھی پروں کے بغیر والے جمپ کٹس کا ٹی وی پروڈیوسروں کو بے چین کردینے کا پوائنٹ بھی حق بجانب، لیکن یار ایسا کیا کہہ دیا غریب نے کہ پڑ گئے سب کے سب ہاتھ دھو کر پیچھے، دو منٹ کھی کھی بند کریں اور دیکھیں تو سہی اپنے بلاگ میں کہتا کیا ہے

بقول طاہر شاہ بنی نوع انسان ایک خوبصورت فرشتے کی مانند ہے، اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کے اندرونی اور بیرونی عناصر فرشتوں جیسے ہی ہونے چاہییں جو خاموش رہ کر بھی پھولوں کی طرح خوشبوئیں بکھیرتے چلے جاتے ہیں، اور پھر یہی سب فرشتہ صفت لوگ یکجا ہوجائیں تو ہماری دنیا ہی جنت کیوں نا کہلائے گی ؟

ایک ٹی وی انٹرویو میں، میں نے خود طاہر شاہ کو یہ کہتے سنا کہ پلیز پلیز پلیز، میرے گانوں سے صرف تفریح حاصل کیجئے، مثبت سوچ رکھئے اور دوسروں کے ساتھ خوشگوار رویہ اپنائیے، جب آپ خود اچھا محسوس کریں گے تبھی تو  اپنا آپ اوروں کے آگے اچھے سے پیش کر سکیں گے۔

3-600x307

کہیے، غلط کہتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ نمونہ ہے، میرے آپ کے جیسے سوبر سمجھدار بھلا کیوں پہننے لگے ایسے رنگ برنگے چغے، دیکھا ہے کوئی اور جِسے اپنی ہی آنکھوں سے عشق ہو اور اس کا  اظہار بھی یوں گانے بنا کر برملا بلکہ ڈھٹائی سےکرتا پھرے، لاؤ تو ایسا اڑتالیس کمر والا جو گتےّ کے پر لگا کر گالف کورس میں پہلی رات کی دلہن کی طرح چہل قدمی کرے اور اپنی سوچ کی تصویر کشی کے لئے ڈرون کیمرہ تک اُڑوا دے۔۔ میں نے تو خود یہ نیا گانا اینجل دیکھتے ہی کہا کہ  یار کیا بکواس ہے یہ، پھر ایک صاحب بولے اتنا مال ہے اس لندن والے طاہر شاہ کے پاس لیکن ٹکے کی عقل نہیں، سنا ہےآئی ٹو آئی کی چھپر پھاڑ کامیابی کے بعد بہتیری ماڈلز رابطہ کرتی رہیں کہ ہمیں لے لو اگلی وڈیو میں، ون پاونڈ فش والے شاہد نزیر سے سبق پکڑو، دیکھو پروفیشنل ڈانسرز کے تھرکنے سے پھکڑ پن کس طرح آپ ہی آپ چُھپ جاتا ہے، لیکن نہیں، لے آئے اپنے ہی ڈیل ڈول والی بیوی کو ماڈل بنا  کر اور لگے ہاتھوں بچے کا بھی ڈیبیو کرا دیا ۔۔ ہا ہا ہا ۔۔ احمق کہیں کا

ts6میں چونکا! طاہر شاہ نے دِکھنے میں ہم عمر لیکن اپنے سے کم از کم ڈیڑھ درجن انچ چھوٹے بالوں والی اپنی رفیق حیات کو کسی کی بھی پروا کئے بغیر ہیروئن بنا کر پیش کر دیا، ادھڑے ہوئے لحافوں میں سے اپنے چغے سلوانے کے بعد جو کترنیں بچیں، اُن میں برخوردار کا بھی کام ہوگیا، یہ خاندان ٹافی بسکٹ بناسپتی کے اشتہاروں کی طرح بہت زیادہ ہنستا مسکراتا کھکھلاتا تو نہیں البتہ مطمئن اور پرسکون ضرور نظر آیا، فرشتوں اور جنت کی منظر کشی کےلئے خاندان کا تصور طاہر شاہ کے نزدیک موزوں ترین ٹہرا، اپنی علمی قابلیت اور ذہنی سطح کے حساب سے کاغذ سے ہوتا ہوا اسکرین پر نمودار بھی ہوگیا۔  دفع کیجئے لفظوں کو، اب میرے کہنے سے میوٹ کا بٹن دبا کر ایک مرتبہ پھر اینجل دیکھئے، آپ کو اس سکون کی کیفیت پیدا کرنے کے لئے کہیں کسی بھی قسم کی بناوٹ نظر نہیں آئے گی

اپنی زندگی میں اوروں کے لئے ایسے بہت سے کام ہیں جو میں کرتے کرتے محض اس لئے رُک گیا کہ آپ کیا کہیں گے، لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے، موٹی عقل والا کہلایا گیا تو! ریکارڈ ہی نا لگ جائے!  سوچتا رہا سوچتا رہا سوچتا رہا، ڈر گیا اور پھر نہیں کئے

لیکن اب کروں گا۔ سب کی ایسی کی تیسی، بھلے کام میں ڈر کیسا، جس کو جو کہنا ہے کہتا رہے۔۔  تھینکس طاہر شاہ


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “تھینکس طاہر شاہ

  • 13-04-2016 at 5:45 pm
    Permalink

    میں بھی یہی کہوں گی… تھینکس طاہر شاہ..اور ووہی کروں گی جو میرا دل چاہے گا…یہ شخص انمول ہے…اور آپکی لکھت بھی بہت عمدہ ہے اور ہمیں نیا سوچنے کی ترغیب کرتی ہے… 🙂 نفرت کرنے والے نفرت ہی کریں گے…انکی موت صرف انکو ignore کرنا ہے….

Comments are closed.