ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے: سائنس دان


\"science\" سائنسدانوں کے مطابق اب ممکن ہے کہ زندگی کی بنیادی اینٹ یعنی ڈی این اے میں ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
تجرباتی طور پر ڈی این اے کے مالیکیولز میں ڈجیٹیل ڈیٹا شامل کرنے اور انہیں واپس حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس عمل کو مزید بہتر اور بڑے پیمانے پر ممکن بنا کر ڈی این اے کو ڈیٹا ہارڈ ڈسک میں بدلا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 1ڈی این اے اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ایک شکر کے دانے کے برابر سالمات پر ایک بڑے سپر اسٹور کا سارا ڈیٹا شامل کیا جاسکتا ہے۔
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرین نے مائیکروسوفٹ کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل تصاویر کو ڈی این اے کے ٹکڑوں میں اینکوڈ کیا ہے۔ اس طرح 0 اور 1 کی فائلوں کو ڈی این اے کے چار اہم عناصر ایڈینائن، گوانین، سائٹوسین اور تھایامین میں بدلا ہے لیکن اصل چیلنج اس عمل کو پلٹا کر معلومات واپس حاصل کرنا ہے۔
کوڈنگ کے لیے ماہرین نے ہفمین طریقہ کار اختیار کیا ہے جسے کمپریشن الگورتھم کہا جاسکتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح ڈاک براہِ راست بھیجنے کے لیے پوسٹ کوڈ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے مصنوعی ڈی این اے بنائے گئے ہیں تاکہ معلومات کو واپس باآسانی حاصل کیا جاسکے اور یوں یہ تجربہ کامیاب رہا۔ اب ماہرین کا خیال ہے مستقبل میں ڈی این اے کو معلومات جمع کرنے اور نکالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے بار بار معلومات نکالنا ممکن نہ ہوگا۔
ڈی این اے کے حیرت انگیز سالمات ہرطرح کی معلومات سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ بہت چھوٹے، کارآمد اور دیرپا ہوتے ہیں۔ اس طرح ہزاروں برس تک ان میں معلومات رکھی جاسکتی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔