ٹھرک کی شدت اور اقسام


 

nasreen ghori

ٹھرک کی سطح معاشرہ میں صنفی اختلاط پر پابندیوں کے ساتھ براہ راست متناسب ہے۔

جہاں مرد و خواتین کے درمیان مصافحہ کرنے کی روایت ہے وہاں کوئی راہ چلتے کسی خاتون کو کاندھا نہیں مارتا، جہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں مرد و خواتین کی سیٹوں کی تخصیص نہیں ہوتی وہاں کسی مرد کی انگلیوں میں خارش نہیں ہوتی، جہاں سر عام گلے ملنے اور اس کے بعد کے مراحل طے کرنے کی آزادی ہے وہاں برہنہ اور نیم برہنہ خواتین پر آنکھیں سینکنے والےعموماً ایشیائی ہوتے ہیں۔

ٹھرک کی کوئی باقاعدہ تعریف ممکن نہیں۔۔ یہ بس محسوس کی جاسکتی ہے، مشاہدہ کی جاسکتی ہے، تجربہ کی جاسکتی ہے۔ ٹھرک کے لغوی معنوں کا اسکے مستعمل معنوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں، پھر بھی آپ لغوی معنی جاننے پر مصر ہیں تو لغت ملاحضہ کر لیں۔ منٹو صاحب کے بقول “عشق ایک بھڑ بھڑ جلتا ہوا لکڑی کا خشک ٹکڑہ ہے جب کہ ٹھرک ایک ایسی گیلی لکڑی ہے جو اندر ہی اندر سلگتی رہتی ہے لیکن کبھی پوری طرح شعلہ نہیں پکڑتی۔” تاہم مجھے منٹو صاحب سے اتفاق نہیں ہے۔ یہ دوسری والی کیفیت ناکام عاشق کی یا یک طرفہ عاشق کی ہے جس کا کوئی مخصوص محبوب ہو. جبکہ ٹھرک کسی ایک مقصود و مطلوب تک محدود نہیں ہوتی۔

مزید پڑھئیے: ٹُکر ٹُکر دیکھ ٹَھکا ٹَک

ٹھرک کا سلسلہ دوسری نظر سے لے کے زنا بالجبر یا بالرضا تک دراز ہے۔ سب سے پہلی قسم ہے سڑک چھاپ ٹھرکیوں کی. ان میں کچھ بس نظروں سے ہی کام چلا لیتے ہیں، سامنے سے گزرتی ہوئی لڑکی یا خاتون کو صرف گھور لیا یا تاڑ لیا یعنی زیادہ دیر اور دور تک گھورا، زیادہ ہوا تو آنکھ مار دی۔ یہ بزدل ترین ٹھرکی ہوتے ہیں۔ جو ان سے ذرا حوصلہ کریں وہ فقرے بازی پر رہ جاتے ہیں۔۔ ان کے بعد باری آتی ہے ان کی جو راہ چلتے کندھا مار دیں یا ہاتھ سے ہاتھ ٹکرا دیتے ہیں، پیچھے سے ہاتھ مار دیتے ہیں۔ وہ جو بائیک پر پیچھا کریں یا کار میں بٹھانے کی آفر کریں وہ مزید دیدہ دلیر کہلائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ایک پتھر ہاتھ میں اٹھا لو تو یہ فوراً رفو چکر ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے ٹھرکیوں کو خواتین پسند نہیں کرتیں اور اکثر گالیوں، جوابی گھوریوں یا بعض اوقات ایک دو تھپڑوں یا جوتوں سے بھی حسب توفیق تواضع کر دیتی ہیں۔ یہ اس پر بھی خوش ہوجاتے ہیں کہ گالی بھی ہمیں ہی دی ہے نا۔۔۔ یا پھر اوئے اس نے واپس مجھے گھورا یا مارا تو کیا ہوا کم سے کم ہاتھ تو لگایا ناں ۔

ایک قسم پبلک ٹرانسپورٹ میں پائی جاتی ہے، یہ بے چارے بہت ہی “محروم تمنا” قسم کے ٹھرکی ہوتے ہیں۔ اگر پچھلی سیٹ پر اندر کی طرف بیٹھے ہوں تو سیٹ کے نیچے سے، باہر کی طرف بیٹھے ہوں تو سائیڈ سے یا پھر اگلی سیٹ کی طرف ٹانگ مزید بڑھا کر کسی نہ کسی طرح خاتون کو چھونے کرنے کی کوشش ضرور کریں گے، لیڈیز دروازے سے بس میں چڑھیں گے اور اتریں گے ۔ان کی شکل نورانی سے لے کر خارش زدہ کتے جیسی ہوسکتی ہے۔ بس میں سفر کرنے والی خواتین کی اکثریت کسی نہ کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہے اور کراچی جیسے شہر میں بس میں خواتین کا سفر کرنا جس قدر دشوار ہے سیٹ تو کیا جگہ ملنی بھی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے، لہٰذا یہ مجبور خواتین ان ٹھرکیوں کی ان ذلیل حرکات کو خاموشی سے برداشت کرتی ہیں کیونکہ بولنے کی صورت قصور خاتون کے ذمے ہی لگا دیا جاتا ہے کہ اتنی شریف زادی ہو تو گھر میں بیٹھا کرو۔

ٹھرکیوں کی ایک قسم دفاتر میں پائی جاتی ہے، انہیں آپ دفتری ٹھرکی کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی مختلف ذیلی اقسام سے تعلق رکھتے ہیں جیسے کوئی صرف خاتون کولیگز کے لباس کی تعریف کر کے دل پشوری کرلے گا، کوئی روزانہ زبردستی اپنی سیٹ سے آپ کی سیٹ تک کا سفر کر کے آپ کو سلام کرنے ضرور حاضر ہوگا، کوئی اپنی ماتحت خاتون کو کمرے میں بلا کر چائے پلا کر ہی ٹھرک پوری کرلے گا، تو کوئی اپنی افسر کے کمرے میں۔ اس قسم کے ٹھرکیوں سے عقل مند و تجربہ کار خواتین کافی کام نکلوا لیتی ہیں دفتر کے بھی اور ذاتی بھی۔

رشتہ دار ٹھرکی: ہر ایک کے بھائی بنے ہوتے ہیں۔ ہر تقریب میں کسی نہ کسی خاتون کو موٹر سائیکل پر بٹھائے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کام سے لے جارہے ہوتے ہیں یا لا رہے ہوتے ہیں۔ ہر بار خاتون الگ الگ ہوں گی۔ اور اگر کوئی شادی کی تقریب ہو تو کسی کا دوپٹہ رنگوانے جا رہے ہیں تو کسی کے گجرے لا رہے ہیں۔ اس قسم کے ٹھرکیوں کو ان کی “بہنیں” بہت مس یوز کرتی ہیں اور یہ خوشی خوشی کام  آ جاتے ہیں۔

ویسے سب سے خطرناک ٹھرکی وہ ہوتے ہیں جو چھوٹتے ہی آپ کو کہتے ہیں کہ آپ تو میری بہن جیسی ہو۔ ان سے ہوشیار رہیں۔ انکا سیدھا سیدھا مطلب ہوتا ہے ایسے نہ سہی ویسے سہی، رابطے میں تو رہو، بات تو کرو ہم سے۔ یاد رہے یہ آپ کو کبھی باجی یا آپا نہیں کہتے پر گفتگو کے درمیان یہ ضرور کہتے ہیں کہ آپ تو میری بہن جیسی ہو۔

سوشل میڈیا نے کئی قسم کے نئے ٹھرکی متعارف کروائے ہیں۔ ویسے تو سوشل میڈیا پر ٹھرکی حضرات کا تناسب کچھ زیادہ ہی ہے. ٹھرکی حضرات کا حال یہ ہے کہ آپ کہیں کسی کی پوسٹ پر کوئی کمنٹ یا لائک کردیں یہ وہاں سے آپ کے پیچھے لگیں گے اور بغیر کسی جان پہچان یا تعارف کے آپ کو فرینڈ ریکویسٹ ایک عدد ان باکس میسج کے ساتھ بھیج دیں گے کہ میں آپ کو ایڈ کرنا چاہتا ہوں یا میں آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں. کچھ آپ کے کندھے پرہی بندوق رکھ دیں گے کہ کیا آپ مجھ سے دوستی کروگی. آپ ریکویسٹیں ڈیلیٹ کرتے کرتے تنگ آ جاو، ان کی تعداد کم نہیں ہوتی۔

دوسری قسم وہ ہیں جو لڑکیوں کے نام سے پروفائل بنا کر لڑکیوں سے دوستی لگاتے ہیں اور پھر بھید کھل جانے پر فیک پروفائل ڈیلیٹ کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ اور کسی نئی لڑکی کی آئی ڈی نئے نام سے بنا کر کسی اور لڑکی کو بے وقوف بنانے چل دیتے ہیں۔

ایک سب سے مشہور قسم “آپی بھائی” والے ٹھرکیوں کی ہے، یہ عموماً فیس بک کے مختلف گروپس میں پائے جاتے ہیں۔ ایکچوئیلی یہ دو طرفہ ٹھرک ہوتی ہے۔ “آپی” کے کوئی پوسٹ کرنے کی دیر ہوتی ہے، “بھائی” حضرات دھڑا دھڑ لائیکس اور کمنٹ کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ آپی بھی خوشی خوشی “اپنی پوسٹ” کی پذیرائی پر پھولے نہیں سماتیں اور درجہ بدرجہ ایک ایک کمنٹ کرنے والے بھائی کا شکریہ بنا کسی تھکاوٹ کے ادا کرتی چلی جاتی ہیں۔ یاد رہے آپی بھی بھائی کی پوسٹ پر سب سے پہلے لائک اور کمنٹ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔

ٹھرک کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے رابطے میں رہنا. یہ رابطہ آواز کا ہوسکتا ہے، یہ رابطہ الفاظ کا ہوسکتا ہے، یہ رابطہ نظر کا ہوسکتا ہے، مس کالز کا ہوسکتا ہے، فضول ایس ایم ایس کا ہوسکتا ہے، اس کی انتہا جسمانی رابطہ ہے، چاہے وہ چھو کر ہو یا انتہائی درجے کا۔ آنکھیں سینک لیں گے، آواز سینک لیں گے، گال سنکوا لیں گے، ہاتھ سینک لیں گے، کان سینک لیں گے، آواز سن کرٹھنڈ پڑ جائے گی خواہ گالیاں ہی کیوں نہ ہوں، یا جسم سینک یا پھر سنکوا لیں گے، اور اسکے بعد زخموں کی ٹکور کرواتے رہیں گے مہینہ بھر ۔

ٹھرک کے پس منظر میں بنیادی نکتہ وہی ہے جو تھامس مالتھس نے اپنے مشہور عالم مقالے “آبادی کے اصولوں پر ایک مضمون” میں پیش کیا تھا کہ اصناف کے درمیان کشش  مستقل   ہے، اور قدرتی طور پر موجود ہے۔ اس کو آپ جنسی کشش کا نام دے لیں، اسے آپ مخالف صنفوں کی کشش کا قانون کا نام دے لیں۔ کچھ بھی کہہ لیں یہ ہے اور رہے گا۔

ایک صنف بلکہ دوسری صنف پہلی صنف کا حصہ تھی، اسی کے وجود سے اس کی تخلیق ہوئی ہے، پھر دونوں جب ایک ہی ہیں تو کیوں نہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں۔ لیکن یہ مذہب ہے، معاشرہ ہے، کلچر ہے جو ہمیں بتاتے ہیں کہ اس کشش کو معتدل کرنے کے قابل قبول طریقے کیا ہیں۔ یہ قابل قبول طریقے ہر جگہ مختلف ہیں۔ ہر معاشرے کے اپنے معیارات ہیں۔ مزا تب آتا ہے جب مختلف کلچرز سے تعلق رکھنے والے ایک جگہ اکھٹا ہوں، وہاں کسی گوری میم کا کسی ایشیائی یا عرب سے ہاتھ ملانے کا منظر دیدنی ہوتا ہے، جو مصافحہ میم کے لیے نارمل ایکٹویٹی عام سا عمل ہوتا ہے وہی ایشیائی یا عرب مرد کے لیے مافوق الفطرت عمل بن جاتا ہے۔ یعنی وہ ہاتھ ملا کر چاند پر پہنچا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

24 thoughts on “ٹھرک کی شدت اور اقسام

  • 12-04-2016 at 8:11 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔ فیس بک کی پوسٹس اور لائکس کو اب کسی اور نگاہ سے دیکھا کروں گا

  • 12-04-2016 at 8:26 pm
    Permalink

    لو جی موضوعات دیکھیں ٹھرک حیض اور بے حیائی کی بھرمار
    معلومات میں اور مزید طریقے بتا کر نوجوانوں کی رہنمائی کا شکریہ
    اب اگلے موضوع کا انتظار رہے گا

  • 12-04-2016 at 11:33 pm
    Permalink

    آپ تو واقعی بھائی ہیں ۔۔۔۔۔ مزہ تو آیا مگر لگتا ہے کچھ جگہ آپ نے ’’غصہ‘‘زیادہ ہی کرلیا ۔۔۔

  • 12-04-2016 at 11:51 pm
    Permalink

    معاشرے کی نفسیات کو عمدگی کے ساتھ آپ نے بیان کیا ہے۔

  • 13-04-2016 at 2:29 am
    Permalink

    Kalam ka pait bharny ko koi kuchh bhe likh day ga or wah wah bhe mil jaay gi.aanti g intihai berabt kaalam hy

  • 13-04-2016 at 3:51 am
    Permalink

    بڑی گہری نظر ھے ، ایک قسم خواتین کی بھی ھوتی ھے جو سامنے نظر آنے والی ٹھرک کو بھی اصرار فیس ویلیو پر لے کر محض ٹھرک (بغیر کسی مالی یا کوئی اور فائیدہ) کے انجوائے کرتی ھیں جب تک ممکن ھو اور اگر کوئی نشاندھی کرے کہ وہ بندہ تو صحیح نہیں لگ رھا اس کی آنکھوں سے ھی م ۔ ۔ ٹپک رھی ھے تو ایسا کہنے والے سے لڑ پڑیں گی کہ گویا کہنے والے نے اس مرد کے نہیں اِن کے کردار پر انگلی اٹھا دی ھو ( defensive)
    بہرحال، مسئلہ بہت اھم ھے جس پر آپ نے لکھا اور تحریر بھی اچھی بس اب اس کمنٹ کو ٹھرک نا سمجھ لیجیے گا ، ویسے سمجھ بھی لیں تو میرا کیا جاتا ھے 😛

  • 13-04-2016 at 7:03 am
    Permalink

    آہ !!!! ہمارا معاشرہ ! ظاہر ہے لوگ معلوم نہیں یہ کب جانے گے کہ جہاں پردہ کی کثرت ہوگی وہاں ٹھرکی لوگوں میں بدتریج اضافہ ہوگا معلوم نہیں مذہب / معاشرہ اور مرد عورت کو کب انسان سمجھ کر اسکے ساتھ رہنا پسند کرے گا ؟ معاشرے میں جتنی گھٹن ہوگی ٹھرک پن میں سرچڑھ کر بولے گا یہی نہیں خواتین بھی اسی گھٹن کا شکار ہوتی ہیں وہ بھی اسکو نکالنا چاہتی ہیں مگر مرد معاشرہ کا حکمران بنا پھرتا ہے اور عورت کو کمزور سمجھتا ہے ۔ بھئی اگر عورت کمزور ہے تو ایک بچہ پیدا کرکے تو دیکھاؤ

    • 16-04-2016 at 7:06 pm
      Permalink

      عورت اکیلی بچے پیدا نھیں کرسکتی اسکو بچے پیدا کرنے کیلیے بھی ایک مرد کی ضرورت حوتی ھے

  • 13-04-2016 at 9:49 am
    Permalink

    واہ کیا ہی عمدہ لکھا ہے ۔ سنجیدہ باتیں مگر آپ کے کہنے کے انداز نے چہرے سے مسکراہٹ بھی جانے نہ دی ۔ بس کی حرکتیں اور عورتوں کی بے چینی کے ساتھ مجبوری کی خاموشی اور کچھ کہنے پر الٹا الزام آنے کا ڈر اور تھرکیوں کی اقسام سب ہی سجائی سے پر ہے۔ اس بے باگ تحریر پر داد حاضر ہے

  • 13-04-2016 at 11:22 am
    Permalink

    جی چاہتا ہے کہ آپ کی تحریر پہ کچھ کمنٹ کروں لیکن “ٹھرکی” قرار دئیے جانے سے ڈر لگتا ہے 🙂

  • 13-04-2016 at 1:43 pm
    Permalink

    so proud of you, lots of love

    • 13-04-2016 at 3:59 pm
      Permalink

      پورا مضمون بغور پڑھا، ہمارے معاشرے کا بہت ہی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے آپ نے۔ مجھے فورنسک میڈیسن کا وہ لیکچر یاد آگیا جس میں ٹھرک کو بھی موضوع بنایا گیا تھا۔ اور یہ وہ کیفیات بیان کی گئیں جو جنسی ہیجان کی طرف لے جاتی ہیں اور آخر کا اغواء، قتل، زنا بلجبر تک بات جاتی ہے۔

      اسی موضوع میں اسٹالنگ کو بھی بیان کیا گیا۔
      آپ کا ایک بار پھر شکریہ

  • 13-04-2016 at 3:58 pm
    Permalink

    نسرین صاحبہ، آپ کی دلاوری اور دردمندی کی داد لازم ہے۔ میں اپنے معاشرے کی خواتین کا یہ دکھ سمجھ سکتا ہوں۔ ان معاملات میں واقعی کسی باقاعدہ لائحۂِ عمل کی ضرورت ہے جو معاشرے میں بیجا قسم کے جنسی اشتعال اور اس کے کریہہ نتائج سے ہمیں نجات دلا سکے۔ وہ لائحۂِ عمل کیا ہو گا، یہ سب کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے اور بہت زیادہ ضرورت ہے۔
    بایں ہمہ، مجھے آپ سے دو جگہوں پر اختلاف ہے۔
    ایک تو یہ کہ مضمون یہ تاثر دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ان جرائم کے ذمہ دار ٹھرکی خود ہیں۔ میرے خیال میں یہ بات بدیہی ہے کہ ٹھرکی بنیادی طور پر اس معاشرتی قباحت کی علامت ہیں، سبب نہیں۔ جیسا آپ نے خود نشاندہی کی ہے کہ اگر معاشرہ مناسب طور پر آزادی اور جذبات کی تنقیح کو یقینی بنائے تو کوئی وجہ نہیں کہ افراد اس قسم کے رویے اپنائیں۔
    دوسری بات یہ ہے کہ جنسی کشش ایک فطری تقاضا ہے جس کا انکار آپ نے بھی نہیں کیا۔ مگر مضمون میں ٹھرکیوں کی اقسام اور رویے جس طرح گنوائے گئے ہیں اگر بالفرض ان کا مکمل قلع قمع کر دیا جائے تو خواتین کہاں جائیں گی؟
    آپ کے لباس کی کوئی تعریف نہ کرے، آپ کو جھوٹے منہ بھی چائے نہ پوچھے، آپ کے ناز نخرے کوئی نہ اٹھائے، آپ کی طرف دیکھ کر مسکرانا بھی کوئی گوارا نہ کرے، آپ کی آواز سننے کے لیے نہ ترسے، آپ کے پیغام کا گھنٹوں بے قراری سے انتظار نہ کرے وغیرہ وغیرہ تو (ہم جنس پرست خواتین کے استثنا کے ساتھ) عورتوں کی زندگی ایک بھیانک خواب میں تبدیل نہیں ہو جائے گی؟ کیا یہ سب سماجی اور ارتقائی ڈھانچے کے لیے موجودہ صورتِ حال سے ہزار گنا زیادہ خطرناک نہیں ہو گا؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے؟
    بات شاید فقط اس قدر ہے کہ مرد اور عورت کا رومانوی تعلق فطری ہے۔ مگر اس میں دوطرفہ رضامندی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہ اخلاقیات مغرب میں ہم سے کسی قدر زیادہ ہے۔ لیکن آپ کے اس مضمون میں بہرحال ایک مشرقی عورت بول رہی ہے۔ جو جنس کے معاملات میں مرد کی چیرہ دستیوں پر ظاہراً اس قدر سیخ پا ہو جاتی ہے گویا وہ اکیلی ہی زندگی گزارنے پر قادر ہے۔ ایسا میری رائے میں ممکن نہیں۔ خواتین کو مردوں اور ان کی فریفتگیوں کی ضرورت ہے۔ ان سے برات کا اظہار جس طرح آپ نے کیا ہے وہ آپ کے جذبات کی غیرمنطقی شدت کا آئینہ دار ہے۔ میں ان جذبات کی قدر کرتا ہوں لیکن آپ شاید دوسری انتہا پر جا پہنچی ہیں۔

    • 13-04-2016 at 7:35 pm
      Permalink

      ہم دور تذبذب میں جی رہے ہیں ۔ عجیب وقت آگیا ہے پتا ہی نہیں چلتا کہ :
      کہاں سے تعریف ختم اور خوشامد شروع ہورہی ہے
      کہاں تک بندہ نائس ہورہا ہے اور کہاں سے ٹھرکی ہونا شروع ہوگا
      کہاں تک بس مسکرایا جائے اور کہاں سے چپیڑ مارنے کا مقام آگیا ہے
      کہاں تک مذاق کیا جارہا ہے اور کہاں سے مذاق اڑانا شروع کردیا اگلے نے
      کہاں سے تحفہ باہمی محبت سے نکل کر بددیانتی اور امانت میں خیانت کی حد میں داخل ہوگیا ہے مطلب رشوت اور کرپشن کی حد میں
      کہاں تک جاننے کا حق ہے اور کہاں سے ملکی و قومی معاملات پر حد ادب کا اطلاق کیا جائے۔

  • 13-04-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    Hahahahahahah wah in ya or IC trha k or bohat say mozuat Pakistani muashry Ko smjhny man bohat mavnat krty hyn thanks writer

  • 13-04-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    اردو بلاگنگ کی تاریخ میں آپ کی یہ تحریر ایک اعلی قسم کی تحریر ہے ۔۔۔۔ بہت عمدہ

  • 13-04-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    بہت اچھا لکھا ہے اپ نے…لیکن مجھے نہیں لگتا کہ فیس بک پر کسی کے کمنٹس کو like کرنا صرف اور صرف ٹھرک ہے..

  • 13-04-2016 at 7:36 pm
    Permalink

    ٹھرک کی شدت اور اقسام ۔۔۔ عنوان سے تو لگتا ہے کوئی بہت ہی تحقیقی مضمون ہے لیکن نہ تو ٹھرک کی شدت کے حوالے سے کوئی ٹھو س حوالہ یا دلیل ہے نہ اس کی توضیح یا تو جیح دی گئی ہے۔
    جو عمومی بات کی گئی ہے وہ ہر معاشرے میں موجود ہے۔ ہر دو صنف میں کشش اور رابطے کی خواہش فطری ہے ۔ ہاں یہ خواہش سے بڑھ کر اگرعادت یا مزاج کا حصہ بن جائے تو ٹھرک کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے۔اور یہ واقعتا ایک نفسیاتی بیماری کہی جا سکتی ہے ۔
    ہر دو صنف کا ایک دوسرے کی راغب ہو نا ، پسند کرنا، دیکھنے ، ملنے کی خواہش رکھنا کسی طور بھی ٹھرک نہیں
    اگر ٹھرک کی اصطلاح کا اطلاق نسرین غوری صاحبہ کی تحریر کے مطابق کیا جائے تو اس تحریر پر تبصرہ کرنے والے ساری ٹھرکی ہیں ۔ میرے سمیت ۔۔۔ لو کر لو گل۔۔۔

  • 13-04-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    معاشرتی بے ادبیوں پر ایک عمدہ ادبی تحریر۔ یقیناً قابلِ تحسین۔ آئینہ نما۔ شکریہ

  • 14-04-2016 at 6:59 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھا مضمون لکھا۔ لوگ اس بات کو جانتے تک نہیں‌کہ کسی کو گھورنا جنسی طور پر ہراساں‌کرنے کے دائرے میں‌ آتا ہے۔

  • 16-04-2016 at 1:04 am
    Permalink

    lagta hy adab main adab k mozuaat hi khtam ho gaay hain.agr yay adab hy tou hum bayadab hi bhalay. yahan tou yay lagta hy k apnay aap ko liberal kehlwanay k liay koi kutch b likh sakta hy aur tarfeeain b boht hon gi baqi liberals ki taraf sy

  • 17-04-2016 at 4:04 pm
    Permalink

    بحیثیت ایک ثقہ، آزمودہ اور کہنہ مشق ٹھرکی کے میں یہ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ اگر مخالف اصناف کو صحتمندانہ رابطے کی عیاشی فراہم کردی جائے تو ٹھرک کی شدت اور ٹھر کیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ممکن ہے۔ ٹھرک بالخصوص ان معاشروں کی خاصیت ہے جہاں بین الاصناف اختلاط کو بغیر کوئی تفصیل جانے گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ جن معاشروں کی آپ نے مثال دی ہے وہاں اگر تعفن زدہ ایشیائی ذہنیت اور پردہ متعارف کروا دیا جائے تو وہاں کے مرد بھی اسی خصلت کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیں گے اور کچھ خواتین ان کے ٹھرکی رویوں سے حظ بھی کشید کریں گی۔

  • 19-04-2016 at 7:15 pm
    Permalink

    محترمہ آپ کا یہ فرمانا جن معاشروں میں ہاتھ ملایا جات اہے وہاں کندھا مارنے کی ٹھہرک موجود نہیں ہے،
    میں عرصہ بیس سالہ سے یورپ میں مقیم ہوں،جنس مخؒاف سے چھیٹر چھاڑ اور تنگ کرنا ہر معاشرہ مٰں پایا جاتا ہے،
    ہیاں یہ عمل تھوڑآ مخلتف ہے، ہیاں بھی جب کوئی لڑکی حد سے زیادہ برہنہ ہو کر بن سنور کر نکلتی ہے تو لرکے سیٹیا بجاتے ہیں اور فقرے چسپاں کرتے ہیں، البتہ ہیاں لڑکیاں بھی آزادف اور بے باک ہیں وہ اس ک جواب بھی ترکی باترکی دیتی ہیں،

Comments are closed.