ہم میں سے بڑا کون ہے؟


fighting-11683استاد محترم ڈاکٹر اقبال احمد کی موجودگی میں کسی نے پاکستان کو چھوٹا ملک کہہ دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے دردمندی سے کہا کہ “بھائی چھوٹا پن تو ایک کیفیت کا نام ہے، اس کا تعلق حجم اور کمیت سے نہیں ہوتا”۔ یہ پرانا قصہ ہے، اب تو ڈاکٹر صاحب کو دنیا سے رخصت ہوئے پندرہ برس ہونے کو آئے۔ چھوٹے اور بڑے کی یہ بحث اس وقت اس لئے یاد آئی کہ ذرائع ابلاغ کے پھیلاؤ کے نتیجے میں اجتماعی مکالمے میں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے. اور اس میں کچھ ایسا تعجب نہیں ہونا چاہئے کیونکہ کبھی پورے ملک میں اخبارات کی تعداد دوہرے ہندسے کو نہیں پہنچتی تھی۔ایک سرکاری ریڈیو تھا اور ایک سرکاری ٹیلی وژن۔ اب درجنوں ٹیلی وژن چینل ہیں، کوڑیوں کے حساب سے ریڈیو چینل موجود ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شہروں سے ان گنت اخبار شائع ہوتے ہیں۔ ہر بڑے کاروباری ادارے نے ایک ٹیلی وژن چینل بھی کھول رکھا ہے اور پھر انٹرنیٹ نے سوشل میڈیا کی دنیا آشکار کر دی ہے۔ اس میں کسی نے فیس بک پر دھوم مچا رکھی ہے تو کوئی ٹویٹر پر ایک سو چالیس حرفوں کی مدد سے تہلکہ مچا دیتا ہے۔ ابلاغ کا ہر ذریعہ انسانوں کے سیاسی، سماجی اور فکری رسوخ کے نئے دروازے کھولتا ہے۔ ہم اس زمین پر پہلی نسل نہیں ہیں۔ ہم سے پہلے بھی اس دھرتی پر بہت سے لوگ گزرے ہیں جو راج ہنس کی صورت قدم اٹھاتے تھے۔ اور خیال کرتے تھے کہ جہاں پاؤں رکھیں گے وہاں گھاس نہیں اگ سکے گی۔ ہم اس کرہ ارض پہ آخری نسل بھی نہیں ہیں۔ ہمارے بعد بھی انگنت نسلیں آئیں گی جن کے لئے ہم ماضی میں پیچھے پیچھے ہٹتے ہٹتے پہلے محض ایک نام اور پھر ایک اشارہ اور آخری تجزیے میں تاریخ کے دھارے کا ایک گمنام حصہ بن جائیں گے۔ سو یہ تھوڑا وقت جو ملا ہے اسے غنیمت جاننا چاہئے اور اپنا کام کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہئے کہ تناسب کا احساس نظروں سے اوجھل نہ ہو۔

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، شاعر اسے مانا جاتا تھا جو مثنوی اور قصیدہ لکھتا تھا۔ پھر طویل رزمیہ اور مثنوی کی ہمت نہ رہی اور غزل نے زور باندھا۔ کہا جاتا ہے کہ میر نے اپنے زمانے میں اڑھائی شاعر تسلیم کئے تھے۔ اور ان میں سے بھی ایک ان کی اپنی ذات مبارکہ تھی۔ ایک صدی بعد داغ کو جدید نظم اور حالی فیم نیچرل شاعری کے کچھ نمونے دکھائے گئے تو انہوں نے کہا  کہ یہ میرے بس کا روگ نہیں ہے۔ دلی کا قلعہ دیکھ رکھا تھا، صاف کہنے میں حیا مانع تھی مگر لہجہ چغلی کھاتا ہے کہ داغ اس شاعری کو گویا بنظر کم دیکھ رہے تھے جس کے بطن میں اقبال جیسا شاعر پل رہا تھا۔ چوتھائی صدی گزری تھی کہ 36 کی تحریک والے افسانہ نگار نمودار ہوئے اور انہوں نے اردو ادب کی ساری روایت کو قلم کی ایک جنبش سے رجعت پسند قرار دے ڈالا۔ کیسا وفور تھا کرشن چندر، منٹو، اور عصمت کے افسانوں میں اور ادیب میں کیا طنطنہ تھا کہ ہم قلم اٹھائیں گے اور دنیا بدل ڈالیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل گئی اور نئی نسل والے انتظار حسین اور ناصر کاظمی نمودار ہوگئے جنہوں نے 36 کی تحریک کو گویا تحقیر، اکہرے پن اور سادہ لوحی کا استعارہ بنا ڈالا۔ خود نئی نسل میں عالم یہ تھا کہ روزنامہ مشرق نے انتظار حسین کو اپنے نام سے کالم لکھنے کی دعوت دی تو ناصر کاظمی نے پھبتی کسی کہ گویا تم احسان بی اے بن کے رہ جائو گے۔ مدعا یہ تھا کہ ادب اعلیٰ ہوتا ہے اور صحافت محض قلم گھسیٹ پیشہ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ادبی رسالے کی جگہ ڈائجسٹ نے لے لی اور ٹیلی وژن والوں نے ریڈیو کو قدامت کا نشان قرار دے دیا۔ ممتاز مفتی اشفاق احمد کے بارے مین کہا کرتے تھے کہ “اچھا خاصا افسانہ نگار تھا، ٹیلی ویژن میں جا کر برباد ہوگیا”۔ خود پسندی اور نرگسیت کی کیا کیا صورتیں ہوتی ہیں۔

ضیاالحق نے خبر پر پابندی لگا دی، اخبار کا آدھا صفحہ بیوہ کے دوپٹے کی طرح سفید شائع ہوتا تھا۔ اخبار سیٹھ لوگ چلاتا ہے۔ ایک سیٹھ کے اس جملے نے بہت شہرت پائی تھی کہ “جناب صدر صحافت کی آزادی جو مانگتا ہے، اسے دے دیں۔ مجھے تو صرف اشتہار چاہیے”۔ اخبار پڑھنے والے  اشتہار کے لئے ساٹھ پیسے خرچ کرنے پر تیار نہیں تھے۔ چنانچہ اخبار میں کالم کی منڈی لگ گئی۔ احمد بشیر اور ریاض بٹالوی کے بعد فیچر نو مشق صحافیوں کے سپرد کر دیا گیا. جو بنیادی سوال اٹھائے بغیر قابل قبول تعصبات کی مدد سے سیدھی اردو میں صفحہ کالا کر سکتا تھا، وہ اخبار کا فیچر رائٹر ہو گیا۔ اور جس صحافی کے پاس خبر تھی اور وہ اسے سنسر سے بچ کر ہزار لفظوں میں ڈھال سکتا تھا، وہ کالم نویس۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ سنسر کی پابندیاں اٹھ گئیں، پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس ختم ہوگیا۔ خبر لکھنے کی آزادی بڑی حد تک بحال ہوگئی۔ مگر چُھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا۔ چوبیس گھنٹے نشریات دینے والے ٹیلی وژن چینل نے اخبار سے خبر چھین لی۔ اخبار میں خبروں کا صفحہ کون دیکھے۔ ٹیلی وژن تو لحظہ بہ لحظہ خبر دیتا ہے۔ کالم کی دکان پھیلتے پھیلتے بازار ہونے لگی، اسکول میں جواب مضمون لکھنے کی مشق اخبار کے صفحے پر پہنچ گئی۔ ایڈیٹر کے نام خط کوئی کیوں لکھے؟ غالب نے مراسلے کو مکالمہ بنایا تھا، ہم نے چنڈوخانے کی گپ کو کالم بنا ڈالا۔ تقریبات کا حال لکھئے، کتاب کا پیش لفظ لکھئے، ڈرامے کا ڈائیلاگ لکھئے، قصیدہ لکھئے، کردار کشی کیجئے، رومانی خط و کتابت کو چلتا ہوا عنوان دیجئے، آبپارہ سے پوچھ کر لکھئے، حرم کا سفر نامہ لکھئے، منصب کی آرزو کو لفظ دیجئے، بھڑاس نکالئے، سودا کے غنچے کو شرمائیے، غنچہ دہنی کی داد دیجئے اور اپنے وزٹنگ کارڈ پر اعلان کیجئے کہ آپ ایک کالمسٹ ہیں۔

پھر کالم کا سبزہ اس قدر پھیلا کہ بلاگ کی کائی بن گیا۔ کالم میں کہیں امکان تھا کہ کسی نکتے کی تردید ہو, کسی بیان کا حوالہ مانگا جائے، کسی نکتے پر بحث کا حاشیہ لگایا جائے۔ بلاگ میں یہ قید بھی جاتی رہی۔ اور پھر نجی رائے کو پوسٹ کا نام دیا گیا۔ بے تکلف دوستوں میں جو ضلع جگت کی مشق ہوتی تھی، جو لام کاف کہی جاتی تھی، اب اسے پوسٹ کا نام دیجئے اور فیس بک پر ڈال دیجئے۔ معلوم ہوا کہ کل تک ادب صحافت کو تحقیر کی نظر سے جانتا تھا، اب اخبار نویس سوشل میڈیا کو بنظر حقارت دیکھتا ہے۔ برآمد یہ ہوا کہ اپنی ذات کے بلبلے ہیں، خود آرائی کے انداز ہیں، اپنی برتری جتلانا مقصود ہے۔ جیسے غزل والے نظم کو اور نظم والے نثری نظم کو اصطلاحات کی آڑ میں خفیف کرنا چاہتے تھے۔ اب اخبار والا سوشل میڈیا کے بارے میں ویسی ہی برتری کا اظہار کرتا ہے۔

تخلیق تو جوانی کی چھب گات ہے، لکھنے والا اچھا لکھے گا تو اخبار کے صفحے پر اور کمپیوٹر کی سکرین پر ایک جیسی جوت دے گا۔ اخبار کے کوڑیوں کالم نویس ایسے ہیں جو اپنا لکھا خود نہیں پڑھتے اور سوشل میڈیا پر ایسا بھی لکھا جاتا ہے جو میڈیم کی شناخت سے قطع نظر بہر صورت اجتماعی حافظے کا حصہ بن جائے گا۔ یوں کسی کی انا ایسی ہی ہاتھ کا چھالا ہو رہی ہے تو ہم ٹھوڑی میں ہاتھ دے کر کہتے ہیں، صاحب آپ فردوسی و نظامی ہیں۔ علم وہی ہے جو آپ کے قلم سے ظہور پاتا ہے۔ ادب وہی ہے جس سے آپ کے تعصبات کی تائید ہو، وضع داری یہی ہے کہ جو آپ نے فرمایا، وہ شائستگی کا معیار ہے اور جس نے آپ سے اختلاف کی جسارت کی وہ گردن زدنی۔ اگر یہ بیان کچھ سخت ہو گیا تو آئیے آپ کو دو اچھے بزرگوں کا قصہ سناتے ہیں۔ جسٹس شبیر احمد خان صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل تھے اور جسٹس رستم  کیانی لیگل ری میم برینسر (Legal Remembrancer)۔ ایک دفعہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ ان دونوں عہدوں میں سے بڑا یعنی سینئر کون ہے۔ آگے کیا ہوا؟ جسٹس رستم کیانی کی زبانی سنتے ہیں۔

“ایک دفعہ ایک چھوٹی سی بات پر ہماری لڑائی ہوگئی۔ وہ کہتے تھے کہ ایڈووکیٹ جنرل بڑا ہوتا ہے۔ میں کہتا تھا کہ لیگل ری میم برنیسر Legal Remembrancer بڑا ہوتا ہے۔ معاملہ وزیراعلیٰ تک پہنچا۔ انہوں نے دونوں کو بلایا۔ غالباَ یہ بتانے کے لئے کہ تم دونوں سے بڑا میں ہوں۔ مگر شبیر نے ان کو یہ موقع نصیب نہیں ہونے دیا۔ پیشی سے دس منٹ پہلے اس نے مجھے دونوں کندھوں سے پکڑ لیا اور کہا کہ میں یہ جھگڑا یہیں ختم کر دوں گا۔ میں چیف منسٹر کے کمرے کی طرف حسرت سے دیکھنے لگا۔ شبیر نے کہا “نہیں۔ وہ کمرہ ابھی دور ہے۔ میں یہیں جھگڑا ختم کئے دیتا ہوں۔ میں نے سوچ لیا ہے اور فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ بڑے ہیں۔” میں نے یہ سنا تو خوشی سے میری باچھیں کھلی ہوں یا نہ کندھے ضرور کھُل گئے۔ میں نے خوشی اور فیاضی سے کہا “نہیں۔ آپ بڑے ہیں”۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “ہم میں سے بڑا کون ہے؟

  • 12-04-2016 at 2:47 pm
    Permalink

    “پھر کالم کا سبزہ اس قدر پھیلا کہ بلاگ کی کائی بن گیا۔ کالم میں کہیں امکان تھا کہ کسی نکتے کی تردید ہو, کسی بیان کا حوالہ مانگا جائے، کسی نکتے پر بحث کا حاشیہ لگایا جائے۔ بلاگ میں یہ قید بھی جاتی رہی۔ اور پھر نجی رائے کو پوسٹ کا نام دیا گیا۔ بے تکلف دوستوں میں جو ضلع جگت کی مشق ہوتی تھی، جو لام کاف کہی جاتی تھی، اب اسے پوسٹ کا نام دیجئے اور فیس بک پر ڈال دیجئے۔ معلوم ہوا کہ کل تک ادب صحافت کو تحقیر کی نظر سے جانتا تھا، اب اخبار نویس سوشل میڈیا کو بنظر حقارت دیکھتا ہے۔ برآمد یہ ہوا کہ اپنی ذات کے بلبلے ہیں، خود آرائی کے انداز ہیں، اپنی برتری جتلانا مقصود ہے۔ جیسے غزل والے نظم کو اور نظم والے نثری نظام کو اصطلاحات کی آڑ میں خفیف کرنا چاہتے تھے۔ اب اخبار والا سوشل میڈیا کے بارے میں ویسی ہی برتری کا اظہار کرتا ہے۔”

    اور مزے کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے والے اور اس پر اپنی برتری کا احساس یا زعم رکھنے والے تقریباً سب کے سب خود سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں، نہ صرف موجود ہیں بلکہ اس کا بھرپور استعمال بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ 🙂

  • 12-04-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    بہت خوب،،، پڑھنے ہوتو مزہ آیا،،،
    کیا کرے صاحب لکھتے لکھتے ہی تو لکھنا اتا ہے

  • 12-04-2016 at 7:33 pm
    Permalink

    Bohat ala

  • 13-04-2016 at 4:31 am
    Permalink

    واہ کیا کہنے! یعنی ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں.

Comments are closed.