ایک بادشاہ دو مسیحا


mujahid aliوزیراعظم نواز شریف اور پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف پیر کو سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملنے ریاض جائیں گے۔ واپسی پر وہ تہران رکیں گے جہاں وہ صدر حسن روحانی سمیت ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اس دورہ کا مقصد اس سال کے آغاز میں شیعہ عالم نمر النمر کی سزائے موت کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سامنے آنے والے تصادم کو ختم کروانے کی کوشش کرنا ہے۔ اگر یہ دونوں پاکستانی لیڈر سعودی اور ایرانی قیادت کو تصادم کی بجائے مصالحت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرلیتے ہیں، تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے بے حد اہم کامیابی ہو گی۔ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کو اس مشن میں امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے علاوہ ماسکو اور بیجنگ کی حمایت بھی حاصل ہو گی۔ اس وقت دنیا کی کوئی بھی طاقت مشرق وسطیٰ میں غیر ضروری بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اس دوران ویانا میں ایران اور امریکہ سمیت دنیا کی 6 بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کی شرائط پوری ہونے کے بعد اب امریکہ اور مغربی ممالک ایران پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھانے کے پابند ہیں۔ عام طور سے خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران نے جس طرح اپنی جوہری تنصیبات کو محدود اور محفوظ کرنے کے لئے عالمی شرائط کو تسلیم کیا ہے تو اس کی روشنی میں مغربی طاقتوں کو بھی معاہدے کے تحت ایران پر سے پابندیاں اٹھانا پڑیں گی۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے آج ویانا میں کہا کہ آج ہم دنیا پر ثابت کر دیں گے کہ پابندیوں ، دباﺅ اور دھمکیوں سے نہیں بلکہ باہمی احترام اور بات چیت سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ اب ہمیں یقین ہے کہ ایران پر جوہری معاملے سے وابستہ تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور ایران ایک خوشگوار ماحول میں دنیا بھر سے اقتصادی تعاون کر سکے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اگرچہ یہ باتیں جوہری معاہدہ اور اس کے لوازمات کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہیں لیکن گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سعودی عرب سے جس طرح ایران کا سفارتی تصادم سامنے آیا ہے تو آسانی سے ان باتوں کو سعودی عرب کے لئے امن اور مصالحت کا پیغام بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ نئے سال کے آغاز سے شروع ہونے والے تنازعہ کے آغاز میں اگرچہ ایرانی قیادت نے تند و تیز بیانات جاری کئے تھے اور سعودی شاہی خاندان کو برا بھلا کہا تھا لیکن گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران تہران نے دھیما رویہ اختیار کیا ہے۔ اس دوران امریکہ کی دو جنگی کشتیوں کو ایرانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر سوار دس رکنی عملہ کو پکڑ لیا گیا تھا۔ ماضی کے برعکس ایران نے اس بار اس معاملہ پر کوئی اسکینڈل کھڑا کرنے اور اس واقعہ کو پروپیگنڈا کا ذریعہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس زیر حراست امریکی فوجیوں کی مہمانداری کی فوٹیج نشر کی گئی اور بتایا گیا کہ ایران نے عزت و احترام سے ان امریکی قیدیوں کا خیال رکھا۔ اس کے ساتھ ہی کسی واضح دباﺅ یا شور شرابا کے بغیر انہیں رہا کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ آج ویانا میں شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل تہران نے چار ایرانی نژاد امریکیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جیسن رضایان بھی شامل ہیں۔ یہ فیصلہ بھی ایران کی طرف سے امریکہ اور دنیا کے لئے خیر سگالی کا پیغام ہے۔
دوسری طرف سعودی عرب نے امریکہ کو جوہری معاہدے کے تحت ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے سے باز رکھنے کے لئے مقبول سعودی شیعہ رہنما شیخ نمر الباقر النمر کی دہشت گرد کے طور پر سزائے موت پر اچانک عملدرآمد کے ذریعے ایران اور مسلمان ملکوں کی شیعہ آبادی کے ساتھ اعلان جنگ کرنے کی کوشش کی۔ تہران میں شیخ نمر کی سزا پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا اور مشتعل ہجوم نے سعودی سفارت خانے کو نذر آتش کر دیا۔ اگرچہ ایران کے صدر حسن روحانی نے اس واقعہ کو افسوسناک قرار دیا اور اس حملہ میں ملوث درجنوں ایرانی باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا لیکن سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے اور عرب و مسلمان ملکوں کو ایران کے خلاف اپنا حلیف بنانے کی سرتوڑ کوششیں شروع کر دی تھیں۔ ان کوششوں کا خاص مرکز پاکستان تھا۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر اور طاقتور نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔ ان سعودی لیڈروں نے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد میں عملی شرکت پر آمادہ کرنے کی سرتوڑ کوشش کی۔ پاکستانی لیڈروں نے جزوی طور پر سعودی موقف کی حمایت کا اعلان کیا لیکن کسی قسم کی فوجی اعانت فراہم کرنے کا وعدہ کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس دوران پاکستان نے سعودی لیڈروں کو یہ بتانے کی کوشش بھی کی کہ ایران کے ساتھ تصادم بڑھنے سے مشرق وسطیٰ اور کئی اسلامی ملکوں میں حالات دگرگوں ہو سکتے ہیں۔ تمام مسلمان ملکوں کی شیعہ آبادیاں بیک زبان شیخ نمر کے معاملہ پر ایرانی موقف کی حمایت کرتی ہیں۔ پاکستان کی حکومت کے لئے بھی اپنے ملک کی شیعہ آبادی کے جذبات کو دھیان میں رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے پاکستان کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہو سکتا جسے شیعہ سنی تفریق کی بنیاد پر کھڑا کرنے کا عزم ظاہر کیا جائے۔
شام اور عراق کے علاقوں پر قابض دولت اسلامیہ کے علاوہ خطے میں سرگرم متعدد سنی انتہا پسند گروہ شیعہ نفرت کی بنیاد پر متحرک ہیں۔ داعش نے اپنے علاقوں میں شیعہ باشندوں کو بے دریغ قتل کیا ہے۔ اس لئے پوری دنیا یہ باور کرنے لگی ہے کہ اس گروہ کو ختم کرنے کے لئے فرقہ وارانہ تفریق سے قطع نظر اس اصول پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ گروہ اپنے انتہا پسندانہ سیاسی عزائم حاصل کرنے کے لئے اسلام اور فرقہ واریت کو استعمال کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعہ سے صرف دو ملکوں کے درمیان لڑائی کا خطرہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ اندیشہ بھی بڑھ جائے گا کہ فرقہ وارانہ نفرت اور تصادم میں اضافہ کی صورت میں داعش اور اس جیسے دیگر گروہوں کو پنپنے اور قوت پکڑنے کا موقع مل جائے گا۔ علاقے کی دو بڑی طاقتیں جب مسلکی اختلاف کے ساتھ برسر پیکار ہوتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہم خیال اور ہم عقیدہ گروہوں کو وسیع پراکسی وار کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ اس کا مظاہرہ 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ اس وقت عراق اور ایران دونوں نے پاکستان اور دوسرے ملکوں میں اپنے اپنے ہم مسلک گروہوں کو امداد فراہم کر کے خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنے پر آمادہ کیا تھا۔
سعودی عرب کے لئے اگرچہ شام کی خانہ جنگی کا من پسند حل انا کا مسئلہ بنا ہوا ہے لیکن ایک طرف روس کی اس تنازعہ میں براہ راست شرکت اور دوسرے داعش کی طرف سے یورپ کے علاوہ متعدد دوسرے ملکوں میں حملوں کی ذمہ داری قبول کر کے جو چیلنج پیش کیا جا رہا ہے …. اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سب فریق مل جل کر شام کی خانہ جنگی ختم کرنے اور داعش کے خلاف حتمی جنگ کرنے پر آمادہ ہوں۔ ترکی اگرچہ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تنازعہ میں ریاض کا حامی ہے لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران استنبول اور انقرہ میں دولت اسلامیہ نے یکے بعد دیگرے دو حملے کر کے ترک رہنماﺅں کو بھی صورتحال کی سنگینی سمجھنے پر مجبور کردیا ہے۔  اسی لئے ترک فضائیہ نے گزشتہ دنوں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں کو شدت سے نشانہ بنایا ہے۔
ان حالات میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے مل کر دو اسلامی ملکوں کے درمیان تنازعہ ختم کروانے کے لئے جو اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے، وہ خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ سعودی عرب پر بھی دو ہفتوں کے دوران یہ بات واضح ہو گئی ہو گی کہ ایران کے خلاف لڑائی اسے تن تنہا لڑنا ہو گی۔ اس جنگ میں نہ امریکہ سعودی عرب کا ساتھ دے گا اور نہ پاکستان جیسا دوست ملک اس دلدل میں پاﺅں رکھنا چاہے گا۔ اس لئے نواز شریف اور جنرل راحیل شریف جب شاہ سلمان سے ملیں گے تو انہیں غور سے ان کی باتیں سننا پڑیں گی۔
یمن کی جنگ اور اسلامی فوجی اتحاد جیسے ناکام منصوبوں کے بعد ایران کے ساتھ تصادم کے ذریعے کوئی سیاسی یا سفارتی فائدہ حاصل کرنے کی خواہش اور کوشش بھی ناکام ہو چکی ہے۔ اس صورت میں نواز شریف اور جنرل راحیل شریف صرف خیر سگالی کے ایلچی ہی نہیں بلکہ سعودی قیادت کو ایک سنگین بحران سے نکالنے والے نجات دہندہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اپنی فوجی و مالی قوت ، اسلامی ملکوں میں اثر و رسوخ اور طاقتور مغربی حلیفوں کی اعانت کے باوجود اس وقت سخت مشکل میں ہے۔ اس کی معیشت خسارے میں ہے اور اس کے چاروں طرف انتہا پسند گروہ دانت تیز کر رہے ہیں۔ ایسے میں تہران کے ساتھ دشمنی کی بجائے دوستی ہی سعودی عرب سمیت سب کے فائدے میں ہے۔ پاکستانی وزیراعظم اور آرمی چیف کی صورت میں سعودی قیادت کو ایک نہیں دو مسیحا میسر آ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان کی خدمات سے استفادہ کرنے کی بصیرت رکھتے ہیں۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali