مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور تیسری جنگ عظیم


قمر اقبال

qamar-iqbal

آٹھ سو سال قبل کی ایک پیشن گوئی کی بابت یہودی ربی یکسوئل یہودہ ہالبر سفیر جو کہ کلانسن برگ ربی کے نام سے جانا جاتا ہے کہتا ہے ’’ یہ اب ہو سکتا ہے کہ نہ سمجھیں لیکن جب وقت آئے گا تب یہ جان لیں گے اور وہی وقت یہودیوں کی طاقت کا وقت ہوگا‘‘۔ یالکٹ شیمونی کی پیش گوئی کے مطابق یہودیوں کی طاقت کا وقت وہ ہوگا جب ایران ( فارس) کا بادشاہ عرب کے بادشاہ پر چڑھائی کرے گا۔ اور یہی وہ سال ہوگا جو مسیح کے ظہور کا سال ہوگا۔ فرق اِس بات سے نہیں پڑتا کہ آٹھ سو سال پہلے کیا کہا گیا۔ فرق اِس بات سے پڑتا ہے کہ آج کے حالات و واقعات کس طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج کے واقعات کو سمجھنے کے لئے اور اِن حالات کی سمت کا یقین کرنے کے لئے پہلی جنگ عظیم کے محرکات کا جائزہ لینا ہوگا۔ اِن محرکات کے بارے میں قارئین بہت کچھ جانتے ہیں۔ ہم اُن حقائق کو آج کے حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کریں گے۔
28جون1914کو آسٹریا / ہینگری کے جانشین آرچ ڈیوک فرانز فرڈنینڈ کا قتل ہوتا ہے۔ جس کی ذمہ داری سربین قوم پرست تنظیم بلیک ہیڈ کے سر جاتی ہے ہنگامے اور احتجاجات شروع ہوتے ہیں اور پھر  28 جولائی کو ہنگری / آسٹریا جرمنی کی شہ پر سربیا پر جنگ مسلط کر دیتا ہے۔ روس سربیا سے سلامتی معاہدے اور جرمنی ہنگری آسٹریا سے سلامتی معاہدہ کی رو سے جنگ میں کود پڑتے ہیں۔ روس اور فرانس کے سلامتی معاہدے کی رو سے فرانس بھی جنگ کا حصہ بننا پڑا ہے۔ بیلجیئم کو بچانے کے لئے برطانیہ کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ کے حصہ لیتے ہی اُس کی کالونیاں اُس کی جنگ اور عسکری مدد کو پہنچ جاتی ہیں یوں یہ جنگ پانچ براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ جرمنی کی طرف سے کھلے پانیوں میں امریکی تجارتی جہازوں کو درپیش خطرہ امریکہ کو جنگ کا حصہ بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ 23 اگست 1914 کو جاپان جرمنی کے خلاف جنگ کا اعلان کرتا ہے اور بالا آخر ہنگری / آسٹریا بھی جاپان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہے اور یوں ایک قتل سے شروع ہونے والی کہانی کا اختتام پہلی جنگ عظیم کی شکل میں نکلتا ہے۔ اگر ہم اُس وقت کے تمام حقائق اور محرکات کو مدِ نظر رکھیں تو پانچ بنیادی وجوہات بنتی ہیں۔ سیاسی قتل، فوجی معاہدات، سامراجی رجحان، فوجی قوت میں اضافہ، قوم پرستی۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ حقائق آج کے حقائق سے کیسے ربط رکھتے ہیں۔ آج بھی ماحول میں گرمی ایک سیاسی قتل سے اٹھتی ہے۔ شیخ نمرالمز کا سر قلم کیا جاتا ہے اور وجہ قوم پرستی بنتی ہے۔ شیخ نمر کی موت کے فوراً بعد ترکی، لبنان، بحرین، پاکستان، شمالی انڈیا، مشی گن اور نیو یارک سٹی ہیں احتجاج شروع ہوتے ہیں حتیٰ کہ امریکہ میں اہل تشیع کی جانب سے شیخ نمر کو مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا خطاب دیا گیا۔ تہران میں سفارت خانے اور مشہد میں کونسل خانے کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے اور شیخ نمر کی پھانسی کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیا جانے لگتا ہے اور یوں فزانز فریڈنینڈ اور شیخ نمر کے قتل میں مماثلت پیدا ہوتی ہے اگرچہ ہنگرین ولی عہد کا قتل ایک قوم پرست جماعت کی کارگزاری جبکہ شیخ نمر کی سزائے موت ایک ریاستی فیصلہ ہے۔ مگر ان کے اثرات ایک جیسے دیکھائی دیتے ہیں۔
31 دسمبر2015 کو سعودی عرب 34 ممالک کے فوجی اتحاد کا اعلان کرتا ہے جسے سنی ممالک کا اتحاد کہا جا رہا ہے۔ بظاہر اِس کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنا بتایا جاتا ہے مگر اِس اتحاد کو سنی اتحاد کا نام دے کر شیعہ اسلامی ممالک کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ 34 ممالک اپنے اتحاد اور فوجی معاہدات کی بناء پر ایک دوسرے کے ساتھ عسکری تعاون کرنے کے پابند ہیں۔ یہ فوجی اتحاد آج سے  سو سال پہلے کیے گئے فوجی معاہدات کا عکس نظر آتا ہے۔ یہ اتحاد عراق، شام، لیبیا، حراء اور افغانستان میں باری باری دہشت گردی سے نمنٹنے کے لئے کام کرے گا۔ مطلب اپنی عسکری طاقت کا اظہار کرے گا۔ یمن میں پچھے 9 ماہ سے سعودی عرب اپنے اتحادی ممالک کی مدد سے ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل سے جنگ کر رہا ہے۔ شیخ نمبر کی پھانسی کے بعد امارات، کویت، ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لیتے ہیں جبکہ مصر آتشزدگی کے معاملات کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی شیخ نمر کی سزائے موت کی مخالفت کو سعودی عرب کے ملکی معاملات میں بے جا مداخلت قرار دیتا ہے۔ اردن، ایران کی مذمت جبکہ اومان ایران کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے. یورپی یونین بھی شیخ نمر کی سزائے موت کو اظہار خیال کی آزادی کے منافی قرار دیتی ہے۔ عرب بہار نے تمام خطے میں قوم پرستی کو بڑھایا ہے۔
اب حالات یوں ہیں کہ سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے خلاف متحرک نظر آتے ہیں۔ اومان یمن، مصر، شام اور عراق خانہ جنگی سے نبرد آزما ہیں۔ سعودی عرب کو ترکی، افغانستان، ابو ظہبی،امارات جیسے ممالک کی حمایت اور عسکری مدد حاصل ہے اور ایران، شام، عراق، یمن کے باغیوں کی حمایت میں مصروف ہے۔ ترکی اور روس کے فوجی تنازعات کی وجہ سے روس ایران کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے جبکہ غیر جانبدار کویت کو عرب ممالک سمیت امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اِس کے علاوہ بحرین جو ایران کے ساتھ ہے اور امریکی نیوی کے ففتھ فلیٹ کا میزبان ہے، امریکہ کی حمایت حاصل کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسرائیل کے سعودی عرب سے تعلقات نہیں ہیں۔ مگر ایران سے مشترکہ دشمنی اُنہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر سکتی ہے۔ جس طرح شام میں روس اور امریکہ کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں روس اور امریکہ بھی اپنے حمایتی ممالک کے لیے جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں. مگر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آیا یہ تیسری جنگ عظیم ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں کس طرح اختتام پذیر ہوگی۔ کیا یہودی ربی کا کہنا صحیح ثابت ہوگا۔ کیا یہ قیامت صفریٰ، حقیقی قیامت (دُنیا کے آخر) کا پیش خیمہ ہوگی یا پھر اقوام متحدہ اور دوسرے بڑے ممالک اِس قیامت کے برپا ہونے سے پہلے اِس کا کوئی پُر امن حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے. ورنہ شاید جنگ کی صورت میں یہ دنیا کا اہم ترین حصہ اپنی تباہی دیکھنے کے لیے باقی نہ بچے۔ بظاہر یوں نظر آرہا ہے کہ سعودی عرب، ایران اور ان کے اتحادی ممالک بہت بڑی پراکسی وار کا نشانہ بننے والے ہیں جو کہ مستقبل قریب میں ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان اب تک خود کو اِس جنگ کا حصہ بننے سے روکے ہوئے ہے اور مکمل غیر جانبداری سے اِس کے پر امن حل کے لئے کوشاں نظر آتا ہے. مزید یہ کہ پاکستان اس وقت اپنی سیاسی اور فوجی قوت کا درست استعمال کرکے آنے والے خطرے کو ختم یا کم از کم آہستہ ضرور کر سکتا ہے اور کروڑوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت و تباہی کو روکنے کے لئے کوئی پر اُمن حل سامنے لا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور تیسری جنگ عظیم

  • 28-04-2016 at 9:46 am
    Permalink

    well written sahab,,

Comments are closed.