مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ: جواب الجواب


shakeel chaudhryمولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں سید عابد علی بخاری صاحب کے 23 مارچ والے مضمون پر میں نے ‘عابد بخاری صاحب کا مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ’ کے عنوان سے 25 مارچ کو تنقید کی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ میری تنقید نےبخاری صاحب کو بہت آزردہ کیا جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ میرا مقصد ان کی دل آزاری نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے میری گزارشات پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنے کی بجائے عجلت میں میرے مضمون کا جواب  لکھا ہے اور میری ایک بھی دلیل کا جواب ڈھنگ سے نہیں دے پائے۔

میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا مقصد بخاری صاحب کی توہین یا تحقیر نہیں۔ وہ ایک اچھے  نوجوان معلوم ہوتے ہیں لیکن غالباً انہیں اپنی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت  کو بہتر بنانا چاہیئے۔ میرا مقصد صرف صحت مند بحث مباحثہ کی روایت کو آگے بڑھانا ہے۔ اس سلسلے میں میری کوشش ہوتی ہے کہ ان حقائق کی نشان دہی کی جائے جو اکثر و بیشتر عوام کی نظروں سے اوجھل رکھے جاتے ہیں۔

بخاری صاحب نےاپنے پہلے مضمون میں لکھا  تھا کہ ‘حقیقت یہ ہے کہ پاکستان معرضِ وجود میں نہ آیا ہوتا تو بھارت کی آبادی میں اٹھارہ کروڑ مسلم غلاموں کا اضافہ ہو چکا ہوتا جن کی حیثیت شودروں سے بھی کمتر ہوتی۔ ‘ جواباً  میں نے عرض کیا تھا  کہ ‘بخاری صاحب نے بنگلہ دیش کے پندرہ کروڑ مسلمانوں کو کیوں نظر انداز کردیا ہے؟ کیا وہ پاکستان سے علیحدہ ہوکر مسلمان نہیں رہے؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستانیوں کے دعوے کے برعکس ہندوستانی مسلمان خود کو غلام نہیں سمجھتے؟ کیا جمعیت علماء ہند‘ جماعت اسلامی ہند‘ انڈین یونین مسلم لیگ‘ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے رہنما اپنے آپ کو غلام سمجھتے ہیں؟ کیا مسلم دورحکومت میں ہندو غلام تھے؟ اگر بادشاہت میں ہندو غلام نہیں تھے تو جمہوری دور میں مسلمان غلام کیسے بن گئے؟ کیا مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمان بھی غلام ہیں؟‘

اس کی تردید میں بخاری صاحب لکھتے ہیں ‘ بھارت کی جمہوریت جس کی مثالیں آپ نے دی ہیں اس کی ایک جھلک کشمیر میں بھی ملاحظہ فرما لیں تو غلامی کا تصور واضح ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ ‘ اسے کہتے ہیں ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔۔ بخاری صاحب کا دعویٰ تو یہ تھا کہ مولانا آزاد نے بھارت کے مسلمانوں کو غلامی کا درس دینے میں اپنی زندگی کی قیمتی ساعتیں صرف کیں۔ کیا اس وقت کشمیر بھارت کا حصہ تھا؟ اگر کشمیر سے غلامی کا تصور واضح ہوتا ہے تو پھر مشرقی پاکستان سے کس چیز کا تصور واضح ہوتا ہے؟ وہاں انتخابات جینتے والوں کو اقتدار دینے کے بجائے گولیوں سے کیوں بھون دیا گیا تھا؟ ڈاکٹر اے کیو خان نے روزنامہ جنگ میں کیوں لکھ دیا ہے کہ وہاں ہم نے اپنے مسلمان بھائیوں کا قتل عام کیا تھا؟

افسوس کہ ہم نے تاریخ سے کچھ سیکھنے کی بجائے اسے ایک مناظرانہ حربہ بنا چھوڑا ہے۔ کاش بخاری صاحب کشمیر کی بات کرنے سے پہلے اس بارے میں ذرا سی تحقیق کر لیتے۔ اس سلسلے میں چند حقائق کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) سکندر خان بلوچ نے 26جولائی 2013 کے نوائے وقت میں لکھا کہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی سب سے بڑی وجہ اکتوبر 1948 میں کیا جانے والا کشمیر پر قبائلیوں کا حملہ تھا۔ ان قبائلیوں نے وہاں بلا تفریق مذہب و ملت لوٹ مار کا بازار گرم کیا تھا۔ اس کی تفصیل’ فریڈم اَیٹ مِڈنائٹ ‘ نامی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد بھی ہندوستان کے نائب وزیر اعظم سردار پٹیل نے پاکستان کو پیش کش کی کہ وہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ میں مداخلت نہ کرے تو انہیں کشمیر کے پاکستان سے الحاق پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ سردار شوکت حیات اپنی سوانح عمری ‘گم گشتہ قوم‘ میں لکھتے ہیں کہ اس پیش کش کے جواب میں لیاقت علی خان نے کہا تھا: ‘کیا سمجھتے ہو کہ میں پاگل ہوگیا ہوں جو یہ تجویز مان لوں کہ حیدرآباد جو صوبہ پنجاب سے بڑاہے کو کشمیر کی چند پہاڑیوں کے عوض چھوڑ دوں؟‘

سردار ابرہیم خان کی کتاب ‘کشمیر ساگا‘کے مطابق اس پیش کش کی قبولیت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ وزیر خزانہ غلام محمد تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’ میں نے انہیں قائل کرنے کی مقدور بھر کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بعد ازاں میرے علم میں یہ بات آئی کہ سڈنی کاٹن نامی ایک پائلٹ حیدرآباد سے طلائی اینٹیں کراچی لا رہا تھا اور ان میں غلام محمد صاحب کا بھی حصہ تھا۔ اس الم ناک واقعہ نے کشمیر کے پر امن حل کے تمام امکانات ختم کردئے۔ ‘ آج کے حالات کے حوالے سے میں بخاری صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی ہند کشمیریوں کی غلامی کے خاتمہ کے لئے چلائی جانے والی تحریک کی مخالفت کرتی ہے؟ سید سردار پیرزادہ کو نوائے وقت اسلام آباد (11 فروری 2015) میں کو کیوں یہ لکھنا پڑا کہ کشمیر کے بارے میں جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری اور نریندر مودی کے خیالات ایک جیسے ہیں؟

بخاری صاحب نے بڑے پرجوش انداز میں انکشاف کیا ہے کہ وہ ‘مہا بھارت‘ کے چالیس سے زیادہ مقامات پر گھوم کر اور وہاں سینکڑوں مسلمانوں سے مل چکے ہیں۔ ان سب وارداتوں کے باوجود بخاری صاحب کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ’مہابھارت‘ کسی ملک کا نام نہیں ۔ اس کے معنی بڑی لڑائی کے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ جن ہندی مسلمانوں سے ملے ’وہ تو اپنی بیٹیوں کی عزت کے تحفظ کے لیے بھی پریشان نظر آئے۔ ان کی بے چارگی اور بے بسی کی کہانیوں کے اظہار کے لیے شاید یہ مختصر مضمون نا کافی ہو۔ وہ خود کو سیکولر اور لبرل کہلاتے اتنا نہیں شرماتے جتنا خود کو مسلمان کہتے ان کے چہروں پر خوف نظر آتا ہے۔ ‘جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے پاکستانیوں کو ہندوستان کے تین شہروں کا ویزا ملتا ہے ۔ بخاری صاحب نے ہندوستا ن کے چالیس سے زائد مقامات کی سیر کر کے واقعی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ کیا بخاری صاحب نے کسی مسلمان صحافی ‘پروفیسر‘سیاستدان یا مصنف سے ملاقات کی؟ انہوں نے کن کن شہروں میں قدم رنجہ فرمایا؟ کیا وہ جامعہ ملیہ جیسی کسی جگہ بھی تشریف لے گئے؟

بخاری صاحب ‘ دیانت داری سے بتائیں کہ تقسیم ہند سے ان مسلمانوں کے لئے مسائل پیدا ہوئے یا آسانیاں؟ کیا ان میں سے کسی نے تقسیم ہند اور دو قومی نظریہ کے بارے میں تنقیدی خیالات کا اظہار کیا؟ ان میں سے کتنے پاکستان منتقل ہونا چاہتے ہیں ؟ بخاری صاحب نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے انہیں نائیک صاحب کا یوٹیوب پر موجود وہ وڈیو ضرور دیکھنا چاہیئے جس میں انہوں نے تقسیم ہند کو مسلمانوں کے لئے مضر قراردیا ہے۔ میں نے بخاری صاحب کی توجہ پاکستان مسلم لیگ کے پہلے صدر چودھری خلیق الزمان کی سوانح عمری ‘شاہراہ پاکستان‘ کے مندرجات کی طرف مبذول کرائی تھی جواب دینا تو درکنار انہوں نے اس کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ تقسیم ہند سے ایک ہفتہ پہلے دہلی مسلم لیگ کے ایک عہدے دار نے جناح صاحب کو لاجواب کردیا تھا۔ چودھری صاحب کے خیال میں یہ اس گفتگو کا نتیجہ تھا کہ جناح صاحب نے اپنی گیارہ اگست کی مشہور تاریخ میں دو قومی نظریہ کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ چودھری صاحب نے حسین شہید سہروردی کا تائیدی انداز میں حوالہ دیا ہے کہ دو قومی نظریہ مسلمانان ہند کے لئے نقصان دہ ثابت ہوا۔ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ‘کیا یہ حقیقت نہیں تقسیم ہند کےبعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلم لیگی منہ چھپاتے پھرتے تھے؟  انہیں مرنے مارنے کے جذباتی نعرے بھول چکے تھے اور ان کے رہنما انہیں بے یار و مدد گار چھوڑ کر کراچی تشریف لے جا چکے تھے۔ وہ مسلم آئی سی ایس افسروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے۔ اس وقت ہندی مسلمانوں کو مولانا آزاد کے علاوہ کس نے سہارا دیا تھا؟ بخاری صاحب کے مطابق مولانا آزاد ہندی مسلمانوں کی بدحالی، غربت، فاقوں،مفلسی اور جہالت کے ذمہ دار تھے۔ ان سب مسائل کی ذمہ داری آل انڈیا مسلم لیگ پر کیوں عائد نہیں ہوتی؟ کیا ان مسلمانوں کی بہت بھاری اکثریت نے مسلم لیگ کو ووٹ نہیں دئے تھے؟  دو قومی نظریہ کی روشنی میں مسلم لیگ نے ان سب کو پاکستان کیوں نہ بلوایا؟ بخاری صاحب نے ان نکات کو درخور اعتنا نہیں جانا؟

میں نے لکھا تھا کہ ‘بخاری صاحب’ نے اکیس مارچ کو فیس بک پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت عدم برداشت اور تشدد کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ صورت حال کب پیدا ہوئی؟ کیا اس سے پہلے بھی پاکستانیوں کی ہندوستان کے بارے میں بھی یہی رائے نہیں تھی؟ کیا پاکستانیوں نے کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کو سیکولر تسلیم کیا؟ کیا یہ تنقید پاکستان پر لاگو نہیں ہوتی؟ کیا ہمارا جذبہ حب الوطنی ہمیں یہ سچ بولنے کی اجازت دے گا؟ کیا ہندوستان کے کچھ سیکولر حلقے یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کا ملک بھی پاکستان کے راستے پر چل پڑا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے انتہا پسند اب تک اپنے ملک کو ہندو ریپبلک نہیں بنا سکے ہیں۔ ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں۔ ‘

اس کے جواب میں بخاری صاحب نے فرمایا ہے کہ’میں اس کو دعویٰ نہیں حقیقت سمجھتا ہوں۔ میڈیا میں مثالیں بھری پڑی ہیں۔ ارون دھتی رائے‘منور رانا‘ معروف کشمیری ادیب پروفیسر مرغوب بنہالی‘ اودے پرکاش‘ جواہر لال نہرو کی بھانجی نین تارا سہگل اور افسانہ نویس جی ایس بھلرن کی مانند دیگر کئی نامور ادیب، مصنف، آرمی آفیسر عدم برداشت اور تشدد کے باعث ہی اپنے اعزازات پر شرمندہ ہیں۔ ‘ بخاری صاحب‘ آپ نے یہ کیا مذاق کیا ہے؟ آپ کے یہ ارشادات میری کس بات کا جواب ہیں؟ ان سب لوگوں نے آج سے دس‘ بیس یا تیس برس پہلے یہ سب کچھ کیوں نہ کیا؟ کیا اس وقت پاکستانیوں کی ہندوستان کے بارے میں رائے مثبت تھی؟ کیا پاکستان میں بھی اس طرح کے باضمیر لوگ پائے جاتے ہیں؟  پاکستان میں جب غیر مسلموں کو آئینی طور پر دوسرے درجے کا شہری قرار دیا گیا تو کتنے لوگوں نے اپنے اعزازات واپس کئے؟ جب احمدیوں کی زندگی اجیرن کی گئی تو کتنوں نے احتجاج کیا؟ جب مشرقی پاکستان میں قتل عام جاری تھا تو کتنے اعزاز یافتگان نے اپنے اعزازات کو شرمندگی کا باعث قراردیا؟

بخاری صاحب نے فرمایا ہے کہ ہندوستان کے فلم سٹار عامر خان راہ فرار تلاش کر رہے ہیں۔ کیا وہ پاکستان منتقل ہو رہے ہیں؟ عامر خان کا یہ بیان شاید اب تک بخاری صاحب تک نہیں پہنچا کہ وہ ہندوستان چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور انہیں اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ یہ عدنان سمیع کا کیا قصہ ہے؟ وہ ایک آزاد ملک کی شہریت چھوڑ کر تنگ نظر اور متعصب ہندوؤں کی غلامی میں کیوں چلے گئے ہیں؟ انہوں نے ایک ایسے ملک کو جو دنیا بھر میں اپنی رواداری ‘عدم تشدد اور وسیع المشربی کی عدیم النظیر شہرت رکھتا ہےکو چھوڑ کر ‘عدم برداشت اور تشدد کی علامت’ کے طور پر پہچانے جانے والے ملک کا انتخاب کیوں کیا؟ انہوں نے پاکستان میں اپنا اعلیٰ طرز زندگی چھوڑ کر شودروں سے کم تر حیثیت میں خوف کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ بخاری صاحب یہ بھی فرما دیں کہ ساٹھ کے عشرے میں اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمان اور اسّی کے عشرے میں بہاول پور کی اسلامی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر سلمان اظہر کو ہمارے ملک سے جان بچا کر کیوں بھاگنا پڑا تھا؟

میں نے لکھا تھا کہ ‘ایک طرف تو بخاری صاحب کہتے ہیں کہ ‘ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔’ اس کے بعد انہوں نے نہ صرف خود مولانا آزاد کے بارے میں ناشائستہ زبان استعمال کی بلکہ ان کے بارے ناشائستہ ترین پھبتی کو جواز بھی بخش دیا ہے۔ میں حیران ہوں کہ انہیں اپنا یہ تضاد کیوں نظر نہ آیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا ہے کہ جناح صاحب نے مولانا آزاد پر جو تنقید کی تھی اسے وہ پھبتی نہیں حقیقت سمجھتے ہیں۔ اگر یہ پھبتی نہیں تو پھر ہمیں پھبتی کی تعریف تو بتا دیں۔ اگر اس طرح کی ناشائستہ پھبتی انہیں قابل اعتراض نہیں لگتی تو پھر انہوں نے یہ کیوں لکھا کہ ‘ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔ ‘

میرے بہت سے سوالات کے جواب میں بخاری صاحب نے کچھ یوں فرمایا ہے’سوالات جو ابھی پوچھے ہی نہیں گئے ان کے بارے میں قبل از وقت اندازے تخمینے لگانا بے معنی ہے۔ ‘اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا! میرے سوالات کچھ یوں تھے۔ پاکستان میں دو قسم کے قانون کیوں ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ پاکستانیوں نے ایک شخص کے قتل کے الزام میں بھٹو کو تو پھانسی دے دی اور سینکڑوں افراد کے قتل کے ملزم مشرف پر مقدمہ بھی نہ چلا سکے؟ دنیا کا توہین مذہب کا سخت ترین قانون پاکستان میں ہے ۔ توہین مذہب کے سب سے زیادہ واقعات پاکستان میں کیوں رپورٹ ہوتے ہیں؟ کیا یہ درست ہے کہ اس قانون کے تحت ملزم کو سزا دینے کے لئے اس کی نیت کا کوئی کردار نہیں؟ اس قانون کے بارے میں جاوید غامدی صاحب کیوں یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن و حدیث کی تعلیمات اور فقہائے احناف کی آراء کے خلاف ہے؟ اس مسئلہ پر مولانا وحیدالدین خان کی کتاب پر پاکستان میں پابندی کیوں ہے؟ اگراحمدی واقعی غیر مسلم ہیں تو پھر ایک احمدی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کیسے بن گئے؟ تقسیم سے پہلے مسلم لیگ نے ضلع گورداس پور میں مسلمانوں کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے  احمدیوں کو مسلمان شمار کرنے پر کیوں اصرار کیا تھا؟ ایک طرف پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے حقوق کی برابری کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف غیر مسلموں کو ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں کے لئے نااہل قراردیتا ہے۔ اس تضاد کی وجہ کیا ہے؟  آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے بنایا گیا تھا تو پھر مولانا شبیر احمد عثمانی کے بجائے جوگندر ناتھ منڈل نامی ایک ہندو کو پہلا وزیر قانون کیوں بنایا گیا؟ منڈل صاحب 1950 میں پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کیوں چلے گئے تھے؟ انہوں نے اپنے استعفیٰ کے خط میں یہ کیوں لکھا تھا کہ پاکستان میں غیر مسلموں اور خاص طور پر ہندوؤں کے لئے کوئی جگہ نہیں؟ اگر بخاری صاحب کے پاس ان کے جوابات ہیں تو مرحمت فرمائیں۔ آپ کی عین نوازش ہوگی۔

میں نے لکھا تھا کہ’بخاری صاحب نے بڑے ذوق و شوق سے ابو الاعلی مودودی کی اس بات کا حوالہ دیا ہے کہ ‘مولانا آزاد نے نماز کے لیے اذان کہی مگر اس کے بعد گہری نیند سو گئے۔ ‘بخاری صاحب نے ذوق و شوق کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے خود ساختہ الہام قرار دیا ہے۔ میں اپنے یہ الفاظ واپس لیتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ انہوں نے انتہائی بد دلی سے ایسا کیا تھا۔ کیا اب میں مودودی صاحب کے اس ارشاد کے بارے میں ان کی رائے جان سکتا ہوں کہ ‘لیگ کے قائدا عظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرز فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو‘؟

بخاری صاحب کی نظر میں ان کا یہ ناقد لبرل فاشسٹ ہے۔ ایک لبرل شخص فاشسٹ کیسے ہو سکتا ہے؟  یہ اصطلاح’دیانت دار چور‘ کی طرح اجتماع ضدین ہے۔ میں بخاری صاحب کا انتہائی ممنوں ہوں گا اگر وہ مجھے اور دیگر قارئین کو اس مضحکہ خیز اصطلاح کے معنی سمجھا دیں۔ بخاری صاحب سے ایک اور استدعا ہے ۔ کیا پاکستان میں کوئی حقیقی لبرل لوگ بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو ہمیں ان کے اسمائے گرامی سے آگاہ فرما دیں۔ اور کیا پاکستان میں کوئی مذہبی اور نظریاتی فاشسٹ بھی موجود ہیں؟ اگر ہیں تو چند ایک کی نشان دہی فرما دیں۔

بخاری صاحب نے اپنے مضمون کے آخر میں فرمایا ہے کہ ‘نقد و جرح اور مواخذہ کرتے وقت مناظرانہ گفتگو‘ آگے بڑھنے سے انکار اور پاکستان سے نفرت قوم کو ترقی کی جانب نہیں لے کر جا سکتی الٹا زوال کا شکار ہی کر سکتی ہے۔ تنقید نگار طلبہ اور ملکی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن بہتری کے لیے کوئی حل تلاش نہیں کرتے۔ ‘ کس نے مناظرانہ گفتگو کی اور کس نے آگے بڑھنے سے انکار کیا؟ کیا پاکستان پر تنقید پاکستان سے نفرت کے مترادف ہے؟  بخاری صاحب dissent  کے تصور سے ناآشنا معلوم ہوتے ہیں۔ کیا ارون دھتی رائےہندوستان ‘ نوم چومسکی امریکہ اور شلومو زینڈ اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں؟ تنقید نگار پر یہ الزام بھی بلا جواز ہے کہ اس نے ملکی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے کوئی حل پیش نہیں کیا۔ میں نے ایک حل پیش کیا تھا وہ یہ ہے کہ طلبہ کو برین واشنگ سے بچا کر ان کی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔ ویسے بخاری صاحب نے پاکستان کو ترقی کی اوج ثریا پر پہنچانے کے لئے کونسا نسخہ کیمیا تجویز کیا ہے؟ کیا یہ مقصد مولانا آزاد پر ایک ناشائستہ حملے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا تھا؟


Comments

FB Login Required - comments

شکیل چودھری

(شکیل چودھری نے بین الاقوامی تعلقات اور میڈیا کی تعلیم بالترتیب اسلام آباد اورلندن میں حاصل کی۔ وہ انگریزی سکھانے والی ایک ذولسانی کتاب ’ہینڈ بک آف فنکشنل انگلش‘ کے مصنف ہیں۔ ان کاای میل پتہ یہ ہے shakil.chaudhary@gmail.com )

shakil-chaudhari has 5 posts and counting.See all posts by shakil-chaudhari

22 thoughts on “مولانا آزاد پر ناشائستہ حملہ: جواب الجواب

  • 13-04-2016 at 3:25 am
    Permalink

    بہت مدلل اور با حوالہ جوب لکھا ھے آپ نے شکیل صاحب۔
    ایک بات کو اور اضافہ کر لیجیے جہاں آپ نے لکھا کہ،
    ’ کیا اس سے پہلے بھی پاکستانیوں کی ہندوستان کے بارے میں بھی یہی رائے نہیں تھی؟ ‘
    سب نہیں لیکن پاکستان بنانے والی لیڈرشپ کی طرف سے پہلے دن سے ھندوستان کو تسلیم نہ کیے جانے اور ھندوستان خصوصا دہلی پر پاکستانی پرچم لہرانے کا نصب العین کا کھلے عام اظہار ھوتا رھا ھے
    شبیر احمد عثمانی صاحب ۱۹۴۸ کا بیان نہایت مستند راویوں روایت کردہ ک ملاحظہ فرمائیں ’ ھم ھندوستان میں فاتحانہ واپس داخل ھوں گے ‘ ۔ جس پر ان کو صاحب مکالمہ نے جواب دیا کہ ’ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے ‘

    • 13-04-2016 at 4:58 am
      Permalink

      سلمان یونس صاحب‘ مضمون کی پسندیدگی کے لئے میں آپ کا ممنوں ہوں۔ آپ نے شبیراحمدعثمانی صاحب کے جوالفاظ نقل کئے ہیں اس کا موازنہ نہروکی اس تقریر سے کیجئے جوانہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سالانہ جلسۂ تقسیم اسنادسے خطاب کرتے ہوئے ۲۴ جنوری ۱۹۴۸کو کی تھی:’اگرہما راارادہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کاہوتا توہم تقسیم کے فیصلے سے اتفاق ہی کیوں کرتے ؟‘ انہوں نے فکروخوف سے آزاد اور خوش حا ل پاکستان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تاریخ کے پہیے کو الٹا نہیں گھمایا جاسکتا اوریہ کہ ان کا پاکستان کا گلا گھونٹنے کاکوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ اگرانہیں ہندوستان اورپاکستان کو پھرسے ایک ملک بنا نے کی پیش کش کی گئی تو وہ اسے مسترد کردیں گے۔ ’میں پاکستان کے پہاڑ جیسے مسائل کا بوجھ نہیں اٹھاناچا ہتا۔ میرے پاس اپنے مسائل ہی کافی ہیں۔‘
      افسوس کہ اس طرح کی باتیں عوام کی نظروں سے اوجھل رکھی جاتی ہیں تاکہ نفرت کا کاروبار جاری و ساری رہے۔ اسی طرح جسٹس جاوید اقبال نے جو کچھ ’زندہ رود ‘میں لکھا ہے اسے بھی عوام سے چھپانے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے۔ جاوید اقبال لکھتے ہیں کہ اقبال کو ہندوﺅں سے کوئی تعصب‘ دشمنی یا عناد نہ تھا بلکہ ان کی ترقی اور کامیابی پر خوش ہوتے تھے۔ سر فرانسس ینگ ہسبنڈ کے نام ایک خط میں تحریر کرتے ہیں: ’براہ کرم یہ نہ سمجھیں کہ مجھے ہندوﺅں سے کوئی تعصب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ایثاروجرِات کی جو سپرٹ انہوں نے دکھائی ہے اس کی میں بڑی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے زندگی کے میدان میں ممتاز افراد پیداکئے ہیں اورمعاشی اور معاشرتی راستوں پر تیزی سے گامزن ہیں۔‘
      فرزند اقبال مزید لکھتے ہیں کہ ’ہندوﺅں اور سکھوں کے مذہبی اوتاروں اور بانیوں سے انہیں دلی عقیدت تھی۔ رام چندر جی کی مدح میں نظم لکھی اورانہیں امام ہند‘ چراغ ہدایت اورملک سرشت کہا۔ اسی طرح بابا گرونانک کو پیغمبر توحیدوحق ‘ توحید پرست اور نور ابراہیم کہہ کر خطاب کیا۔ گوتم بدھ کو بھی پیغمبر کا مرتبہ دیا۔ رام چندر جی کی مدح میں نظم تو بالآخر کفر کے فتوے پر منتج ہوئی۔ رامائن اور گیتا کا منظوم ترجمہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ ہندو مذہب کے دشمن کبھی بھی نہ تھے۔مہاراجہ کشن پرشاد سے تمام عمران کے گہرے روابط رہے۔ سوامی رام تیرتھ کے ساتھ ان کے زندگی بھرمخلصانہ تعلقات قائم رہے۔ سر تیج بہادر سپرو کے وہ مداح تھے۔ اور نہرو خاندان بالخصوص پنڈت جواہر لعل نہرو سے توواقعی محبت کرتے تھے۔ راقم نے اپنی آنکھوں سے انہیں پنڈت جواہر لعل نہرو سے شفقت کا اظہار کرتے دیکھا تھا۔ گھر کے نجی ماحول میں اقبال نے راقم کی ابتدائی تعلیم کے لئے اسے ایک ہندو استاد جناب ماسٹر تارا چند کے سپرد کررکھا تھا جس پر انہیں بہت اعتماد تھا۔ زندگی کے آخری چارپانچ سالوں میں اقبال کے معالج ایک ہندو ڈاکٹر جمعیت سنگھ تھے۔ اور اقبال کی وفات کے بعد جب تک وہ زندہ رہے بغیر کسی معاوضے کے خاندان اقبال کی خدمت کرتے رہے۔‘
      ان حالات میں دونوں ملکوں کے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں خود تنقیدی کی روش اپناتے ہوئے اپنے ہاں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف اورامن وآشتی کے حق میں آوازاٹھائیں۔ یہی ایک طریقہ ہے جس سے دونوں ملکوں کے عوام کوغربت اور پسماندگی کے اندھیروں سے نکال کراچھی زندگی دی جاسکتی ہے۔ دونوں ریاستوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ عملی طورپر یہ تسلیم کریں کہ عوام کو بھی اچھی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور تمام آسائشیں خواص کی میراث نہیں۔

    • 22-04-2016 at 1:03 am
      Permalink

      اس مضمون کے حوالہ سے ایک اصلاح ضروری ہے۔ کشمیر پر قبائلی حملہ اکتوبر۱۹۴۷ میں ہواتھا ۱۹۴۸ میں نہیں۔

  • 13-04-2016 at 3:40 am
    Permalink

    اعلیٰ

  • 13-04-2016 at 6:35 am
    Permalink

    شکیل صاحب، مفصل جوابی کمنٹ کا بہت شکریہ۔ تفصیل اور موضوع کی اھمیت کے اعتبار سے آپ کا جوابی تبصرہ ایک پورا الگ کالم بن سکتا ھے۔ امید ھے اس تجویز پر آپ غور فرمائیں گے

    اس ایشو کی اہمیت کو راقم اس طرح دیکھتا ھے کہ کسی بھی قوم کو اپنے مستقبل کے صحیح راستہ اور نصب العین کے تعین کے لیےاپنے ماضی اور تاریخ خصوصاًُ ماضی کے فیصلہ کن موڑ کے بارے میں مکمل اور بے لاگ آگاھی حاصل کرنا ازحد ضروری ھوتا ھے، ھماری بدقسمتی کہ عوام اور طالبعلم تو ایک طرف ھمارے بہت سے سکالرز، دانشور بھی قیام پاکستان کے بارے میں ادھورے،حقائق، یکطرفہ دلائل اور متعصبانہ تشریح سے ھی واقف ھوتے ھیں اور اب تو اس پر نسل در نسل ایسی پختگی اور دوام حاصل کر چکے ھیں کہ سادہ اور سامنے کے مسلمہ اور ثابت شدہ حقائق کو جھٹلا دیں گے، مثلا ڈاکٹر صفدر صاحب کا اس حقیقت کو جھٹلانا کہ قاہد اعظم ۱۹۴۶ تک پاکسران سے مطالبہ سے دستبردار ھونے کو راضی تھے جو کہ ان کے کیبنٹ مشن پلان کو قبول کر لینے سے ثابت ھے۔

    نوٹ: موقع ملے تو اپنی ای میل چیک کر لیجیے گا۔ شکریہ

  • 13-04-2016 at 6:41 pm
    Permalink

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    بہت ہی اعلیٰ، مدلل اور شائستہ زبان و انداز میں بات کہی گئی ہے۔ ماشاء اللہ۔ یہاں کینیڈا میں جنگ کے نامئندہ نامہ نگار بدر منیر چودھری سے آپ کی شکل بڑی ملتی ہے۔ کیا آپ دونوں بھائی ہیں؟

    • 14-04-2016 at 9:36 pm
      Permalink

      انصررضا صاحب‘
      وعلیکم السلام ‘ مضمون کی پسندیدگی کے لئے شکریہ۔ بدرمنیرچودھری میرے روحانی بھائی ہیں۔

  • 14-04-2016 at 12:28 am
    Permalink

    V true sir. Molana ki us book ka b btain ibko jis ka aik aik lafz aaj cheeh cheeh k hmain kah rha ha k aql k nahun lo abi b waqt ha

  • 14-04-2016 at 6:14 am
    Permalink

    پہلی بات یہ ہے کہ شکیل چوہدری صاحب کا مجھے پہلا جواب نہیں مل سکا۔ میں مانتا ہوں کہ بخاری صاحب کی بہت سی باتوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کرتا ہوں لیکن جو انداز شکیل چوہدری صاحب نے جواب کےلیے اپنایا وہ انتاہی بیہودہ ہے، چھوڑیں عابد صاحب کو، لیکن کیا محمد علی جناع ایک بیوقوف انسان تھے اور ساری عقل مولانا آزاد کے پاس تھی، بحث لمبی نہیں کرنا چاہا رہا، شکیل صاحب کو چاہیے تھا سیدھا سیدھا جواب لکھ دیتے کہ میں پاکستان کی نفی کرتا ہوں، پاکستان کا بننا غلط تھا، بات ختم ہوجاتی۔ شاید وہ کبھی بھارت نہیں گئے ہیں وہاں چلے جایں انکے بہت سارے ہمخیال مل جاینگے۔ لگتا ہے وجاہت مسعود صاحب کو بھی پاکستان کا وجود ناگوار لگتا ہے جو اسطرح کے مضامین وہ شایع کرہے ہیں۔

    • 15-04-2016 at 11:19 pm
      Permalink

      سیدانورمحمود صاحب‘
      آپ کے سرسری ارشادات کا جواب تیارکرنے مجھے کافی محنت کرنا پڑی۔ اس لئے کہ میں اس موضوع کو سرسری نہیں‘ بہت سنجیدہ سمجھتا ہوں۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ اس کا جواب لکھیں۔ لیکن پہلے کی طرح جذباتی انداز میں نہیں۔ سوچ سمجھ کرشائستگی‘ دلیل اورحوالے کے ساتھ ۔ آخرکوآپ ۲۹ برس تک ایک یونیورسٹی سے منسلک رہے ہیں۔ اس لئے آپ سے توقع ہے کہ علمی انداز میں جواب دیں گے جس طرح بین الوقومی کانفرنسوں میں ہوتا ہے۔ اگرآپ اس مضمون کامدلل جواب دینے سے قاصررہے تو پھربراہ مہربانی آئندہ اس طرح کے تبصروں سے گریز کیجئے گا۔ یہ ہے آپ کے ارشادات کا جواب
      http://humsub.com.pk/12234/shakeel-chaudhary-2/

      آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ کواس موضوع پرمیرا پہلا جواب نہیں مل سکاتھا۔ اگرآپ اسے گوگل کرلیتے تو یہ آپ کو مل جاتا۔ جی ہاں‘ اردومضامین بھی گوگل کئے جاسکتے ہیں۔ بہرحال یہ ہے اس مضمون کا لنک۔ اسے کھلے ذہن سے پڑھنے کی کوشش کیجئے گا۔
      http://humsub.com.pk/9563/shakeel-chaudhary/

  • 14-04-2016 at 7:29 am
    Permalink

    سید انور محمود صاحب،
    آپ تو جمھوریت کے اور حق آزادئ اظہار کے چمپئن نکلے
    وجاہت صاحب کو پچھلے دنوں ملنے والے صحافتی ایوارڈ کے اصل مستحق تو سید انور محمود صاحب ہیں سب مل کر بولو ۔ جمہوریت زندہ باد
    جو ہمیں نا پسند ہو وہ تنقید ۔ مردہ باد
    جمہوریت کا چمپئن کون ۔ مودودی مودودی
    قائد کا ناقد کون ۔۔ مودودی مودودی
    پاکستان سرخ ہے ۔ نہ پاکستان سبز ہے
    مودودی کے افکار سے ۔ پاکستان کو قبض ہے

    • 14-04-2016 at 7:52 am
      Permalink

      بھائی سلم صاحب اپنی جاہلت کا اظہار کسی اور وقت کرلینا۔
      ہوسکتا ہے کہ مودودی آپکا رہبر ہو جیسے ابو کلام آزاد، میں نے وجاہت صاحب سے شکوہ کیا ہے تکلیف آپکو ہوئی ہے۔ تماری بکواس سے معلوم ہوگیا کہ تم پکے بھانڈ ہو۔۔۔۔۔۔ جسکو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔

  • 14-04-2016 at 7:32 am
    Permalink

    سید انور محمود صاحب سے مکمل اتفاق،،

    بولتے جو چند ہیں
    سب یہ شر پسند ہیں
    ان کھینچ لے زباں
    ان کا گھونٹ دے گلا

  • 14-04-2016 at 9:37 am
    Permalink

    مقام حیرت ہے کہ اکابرین کے دو گروہوں کے مابین فکری اور سیاسی اختلاف کو نہ صرف دو اشخاص کے بیچ عقل مندی اور بے وقوفی کے مقابلے کے طور پر سمجھا گیا. بلکہ خاصے لچر انداز میں غداری کا فتوی بھی، لکھنے والے اور چھاپنے والے پر جڑ دیا گیا. کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہمارے کچھ بہت معمر اور ذمہ وار عہدوں پر فائز رہ چکے دوست بھی عالمی اور علاقائی سیاست کو یوں دیکھتے ہیں کہ گویا ٹیلی وژن پر آنے والے کشتی کے جعلی امریکی مقابلے.. ہمیں تاریخ اور حالات حاضرہ کو سمجھنے کے لئے تیسرے درجے کی فلموں کے ہیرو اور ولن والے فریم ورک سے اٹھ کر دیکھنا ہوگا. سچ کو سامنے آنا چاہئے، چاہے وہ کسی کی طبع نازک پر کتنا ہی ناگوار گزرے، کہ اسی کی روشنی میں ہی قوموں کو کو آگے بڑھنے کا راستہ ملتا ہے. حدیث مبارکہ ہے، جسے ہر جمعے کے خطبے میں دہرایا جاتا ہے، “.. علیکم بالصدق، فان الصدق ینجی والکذب یھلک “.. (سچ کو اختیار کرو کہ سچ زندگی بخشتا ہے اور جھوٹ ہلاکت لاتا ہے. )..

  • 14-04-2016 at 1:13 pm
    Permalink

    یہ سید انورمحمود جیسے لوگ جنہوں نے اپنے کندھوں پر حب الوطنی کا ٹھیکہ اٹھایا ہوا ہے۔ پہلے سرکار کی نوکریاں کرکے مال بنایا۔ عوام پر حکم چلائے، قوم کو جھوٹی تاریخ مسخ شدہ حقائق پڑھائے، کوئی سچائی کا آئینہ دکھائے، تو چہرہ لال سرخ ہوجائے۔ منہ سے بدتمیزی کی آگ نکلنے لگے۔۔ ان لوگوں کے پاس یہ نہیں کہ تمیز نام کی چیز نہیں۔ بلکہ ان کے پاس کوئی سچائی نام کی بھی چیز نہیں۔ یہ پاکستان پر دھوکے اور فراڈ کا برقعہ پہنا کرچلائے رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ سول اور ملڑی بیوروکریسی اس ملک پاور اور پیسے کو اپنے استعمال میں رکھ سکے۔ جب کہ 18 کروڑ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہلوتیں میسر نہ ہوں۔ ریاستی اشرافیہ ایک طرف مولوی کو پالا ہوا ہے، کہ وہ کفر کے فتوے لگاتے جائیں۔ اور سید انور جیسے مودودیئے غداری کے۔۔۔

    • 14-04-2016 at 1:32 pm
      Permalink

      ارشد محمود میں وہ سید انور محمود نہیں ہوں جو سابق سیکریٹری اطلاعات تھے، اس لیے ایک کام کروگوگل میں جاکر میرا نام لکھو اور سرچ کرو اور جب میرئے بارئے میں مکمل معلومات ہوجایں تو پھر کمنٹس کرنا میں ضرور جواب دونگا، اس وقت آپکو اور قاضی صاحب کو اتنا بتائے دیتا ہوں کہ میرا فرقہ مودودی اور پاکستان مخالفوں سے کوئی واسطہ نہیں اگلی مرتبہ میرے بارئے میں تبصرہ کرو تو تمیز کے دائرئے میں رہنا، ورنہ سلم سے زیادہ برا جواب ملے گا، میرا اختلاف مضمون نگار سے اور شکوہ وجاہت معسود صاحب سے ہے، آپسے نہیں۔

      • 14-04-2016 at 9:14 pm
        Permalink

        Syed Anwar Mehmood Sahib,

        It is not really easy to tell you apart from your namesake who is a former information secretary. In order to Google you, one needs your exact spelling, and some basic information about you. Would you please tell us as to your area of specialization?

        Do you write for any newspaper? If so, please share with us links to some of your articles. Can you do us another favor? Please let us know the titles of your favorite books on the Pakistan movement.

      • 15-04-2016 at 12:10 am
        Permalink

        محترم سلمان صاحب، مجھے نہیں معلوم کہ آپ میرئے بارئے کیا معلوم کرنا چاہتے ہیں، برحال معلومات حاضر ہیں۔۔۔۔
        اردو میں میرا نام ‘‘سید انور محمود’’ اور انگلش میں “Syed Anwer Mahmood” لکھتا ہوں۔
        میرا تعارف کچھ اسطرح سے ہے:
        اکنامکس ریسرچ سینٹر، کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی، جدہ، سعودی عرب میں29 سال ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر گذارئے ہیں۔ اب پاکستان میں آزاد حیثیت سے مختلف تعلیمی اور سیاسی ریسرچ پر کام کرتا ہوں۔ سیاست اور سماجی حالات پرمضامین تحریر کرتا ہوں۔
        میرا ایک مضمون آپکی اس ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس کا لنک:
        http://humsub.com.pk/5445/syed-anwar-mehmood/
        میرئے زیادہ تر مضامین ہماری ویب پر شایع ہوئے ہیں لنک ہے:
        http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=8831
        میرئے کچھ مضامین مختلف اخبارات نے از خود شایع کیے ہیں۔
        تحریک پاکستان پر بہت ساری کتابیں پڑھیں ہیں کسی ایک کو پسندیدہ قرار دینا مشکل ہوگا۔

      • 15-04-2016 at 8:21 am
        Permalink

        سلمان احمد صاحب
        میں نے کل رات آپ کےلیے تمام معلومات یہاں دئے دی تھی لیکن وہ ہٹالی گیں، اپنے ایڈمن یا موڈیٹر پوچھیے میری پوسٹ کہاں ہے۔

  • 14-04-2016 at 1:18 pm
    Permalink

    سید انور محمود کے نام:
    قائد اعظم کی ایک سو بے وقوفیاں گنوائی جاسکتی ہیں۔ اب انہیں داڑھی والی مقدس ہستی گناہ اور خطا سے پاک کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ صرف منٹو کا وہ مضمون ہیں پڑھ لیں۔ جو قائد اعظم کے اوپر لکھا ہوا ہے۔۔ قائد اعظم ایک ایسے شخص کو اپنا ڈرائور بھرتی کرلیتے ہیں۔۔جو ڈرائونگ ہی نہیں جانتا۔۔۔۔ اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے؟

    • 16-04-2016 at 3:45 pm
      Permalink

      بابا جی انور محمود صاحب کو علم و تحقیق کے کے اسہال لگ گئے ہیں۔ جو وقت بے وقت ہر جگہ بے ارادہ جاری رہتے ہیں۔ تعفن گفتگو تک سے آرہی ہے۔ سارا کمال سعودی عرب میں بطور ریسرچ اسٹنٹ 29 سال گزارنے کا معلوم پڑتا ہے
      نمونہ حاضر ہپے
      “بھائی سلم صاحب اپنی جاہلت کا اظہار کسی اور وقت کرلینا۔
      ہوسکتا ہے کہ مودودی آپکا رہبر ہو جیسے ابو کلام آزاد، میں نے وجاہت صاحب سے شکوہ کیا ہے تکلیف آپکو ہوئی ہے۔ تماری بکواس سے معلوم ہوگیا کہ تم پکے بھانڈ ہو۔۔۔۔۔۔ جسکو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔”

      ماشاءاللہ کیا تمیز پائی ہے۔ اللہ کرئے زورِ بیاں اور زیادہ۔

      • 17-04-2016 at 10:47 pm
        Permalink

        عدنان ملک
        اس تبصرئے کے بارئے میں کچھ فرمایں گے
        سید انور محمود کے نام: منجانب: ارشد محمود
        قائد اعظم کی ایک سو بے وقوفیاں گنوائی جاسکتی ہیں۔ اب انہیں داڑھی والی مقدس ہستی گناہ اور خطا سے پاک کرکے پیش کیا جارہا ہے۔ صرف منٹو کا وہ مضمون ہیں پڑھ لیں۔ جو قائد اعظم کے اوپر لکھا ہوا ہے۔۔ قائد اعظم ایک ایسے شخص کو اپنا ڈرائور بھرتی کرلیتے ہیں۔۔جو ڈرائونگ ہی نہیں جانتا۔۔۔۔ اس سے بڑی بے وقوفی اور کیا ہوسکتی ہے؟

Comments are closed.