نواز شریف کا پراسرار دورہ برطانیہ  


mujahid aliعین اس وقت جب ملک کی اپوزیشن پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات اور ان کے حوالے سے عائد ہونے والے الزامات کو بنیاد بنا کر سیاسی مہم چلانے کی کوشش کررہی ہیں، وزیر اعظم نے اچانک طبی معائنہ کے لئے برطانیہ جانے کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں سازشوں پر یقین رکھنے والے ملک میں افواہیں گرم ہونا لازم ہے۔

یہ قیاس کرلینا دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہوگا کہ وزیر اعظم ملک سے بھاگ رہے ہیں اور پاناما لیکس میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ، وہ ان کی مالی بدعنوانی ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا یہی خیال ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے بدعنوانی اور قومی دولت لوٹنے کاجو الزام عائد کرتے رہے ہیں، اب وہ ثابت ہو چکا ہے۔ اس کا اعلان انہوں نے اتوار کو بزعم خویش ’قوم کے نام خطاب‘ میں بھی کیا اور اس کے بعد پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں بھی وہ یہی مؤقف دہراتے رہے ہیں۔ اسی لئے وہ پاناما پیپرز سامنے آنے کو پاکستان کے لئے اللہ کاتحفہ یا سو موٹو بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ نے دنیا کے معاملات خود انسان کے سپرد کرکے اسے اپنے اعمال کا ذمہ دار بنایا ہے تو وہ کیوں صرف میاں نواز شریف کو خوار کرنے کے لئے ’سو موٹو‘ جاری کرے گا۔

ان سب دعوؤں اور امیدوں کے برعکس، وزیر اعظم نواز شریف کا مستقبل محفوظ ہے اور موجودہ حالات میں کوئی مہم نہ تو کامیاب ہونے کا امکان دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی اس سوال پر ساری اپوزیشن اکٹھی ہوگی۔ جون 2013 میں برسراقتدار آنے کے بعد فوج کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کچھ غلطیاں کرنے کے بعد ، نواز شریف نے مفاہمت اور موقع شناسی سے کام لینا سیکھ لیا ہے۔ اس لئے فوج کی طرف سے بھی فی الوقت انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس حوالے سے وہ 2014 کے دھرنے کے دوران بدترین بحران کا سامنا کر چکے ہیں۔ اب یہ امکان نہیں ہے کہ اس قسم کا کوئی دوسرا بحران ان کی سیاست کو چیلنج کرے۔ اس لئے احتجاج اور دھرنوں کے حوالے سے وہ مطمئن ہوں گے ۔ تاآنکہ ان کے عالی دماغ وزیر داخلہ اپنی انا کی تسکین کے لئے کوئی ایسی غلطی کر بیٹھیں کہ ملک کے عوام مشتعل ہوکر ایک بار پھر عمران خان کی غلطیوں کو نظر انداز کرکے ان کے پیچھے رائے ونڈ کے گھیراؤ میں شامل ہو جائیں۔

اس پس منظر کے باوجود یہ بات اپنی جگہ حیران کن اور غیر جمہوری رویہ کی عکاس ہے کہ ملک کے وزیر اعظم ایک ایسے وقت میں ملک چھوڑ رہے ہیں جب کہ ساری اپوزیشن پارٹیاں شریف خاندان کے مالی معاملات کے بارے میں شبہات کا اظہار کرہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران قومی اسمبلی میں دو روز تک اس سوال پر تند و تیز باتیں ہوئیں اور کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی اسی سوال پر ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ حیرت کی بات ہے کہ وزیر اعظم پارلیمانی جمہوری نظام کا نمائندہ ہونے کے باوجود اپنی ذات کے حوالے سے سوالوں کا جواب دینے کے لئے ایوان میں نہیں آئے اور اپنے وفادار وزیروں کو اپوزیشن پر گولہ باری کرنے کا اشارہ دیا۔ اب اس بحران کے دوران الزامات کا سامنا کرنے اور ان کا جواب دینے کی بجائے وہ علاج اور طبی معائنے کا بہانہ کرکے برطانیہ روانہ ہو رہے ہیں۔

کوئی بھی ذمہ دار لیڈر کسی بحران میں قوم اور اپنے حامیوں کو تنہا چھوڑ کر ملک سے باہر نہیں جاتا۔ نواز شریف 2000 میں یہ غلطی کر چکے ہیں۔ تاہم یہ قوم چونکہ سیاسی لیڈروں کی غلطیوں کو بھلا دیتی ہے اس لئے وہ پھر سے سیاست میں اپنے جھنڈے گاڑنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ لیکن محض اس وجہ سے کوئی غلطی درست اقدام قرار نہیں پاسکتی۔ اس وقت ملک چھوڑ کر نواز شریف یہ تاثر دیں گے کہ نہ تو وہ پارلیمانی جمہوری روایت کے پابند ہیں اور نہ ہی انہیں اپوزیشن کی تنقید اور لوگوں کی پریشانی کی پرواہ ہے۔وہ جیسے اور جب چاہیں ملک سے باہر روانہ ہو سکتے ہیں۔ یہ رویہ اس جمہوریت کے لئے خوش آئند نہیں ہے، جس کی ترویج کا دعویٰ نواز شریف اور ان کے ساتھی کرتے رہتے ہیں۔

پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات ہونے اور اپوزیشن کے الزامات کا جواب دینے تک وزیر اعظم کو ملک میں ہی رہنا چاہئے اور حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ابھی تو وہ خود اپنے اعلان کردہ عدالتی کمیشن کو بھی قائم نہیں کر سکے۔ اسی سے انہیں حالات کی سنگینی اور ملک میں موجود رہنے کی ضرورت کا احساس ہوجانا چاہئے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali