مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ


\"salimایک گناہگار دنیادار،پہلی بار دینی حلقوں سے متاثر ہوتا ہے تو اسے علمائے کرام عظمت کے مینار دکھائی پڑتے ہیں-مگرعلما سے کبھی،فطرتِ بشری کے تحت، کوئی ایسا کام ہو جائے جو اس کی عقیدت سے لگا نہ کھاتاہو تو وہ ششدر رہ جاتا ہے-یہی حال میرا ہوا ہے-

جناب وجاہت مسعود صاحب کی غائبانہ بیعت کرتے ہوئے ہم سیکولر دنیا میں داخل ہوئے اور ان کے حلقہ احباب کوکشادہ دلی، عدل و مساوات و معتوب طبقات کا حامی سمجھ کردل دے بیٹھے -پس ’دنیا پاکستان‘ سے ہوتے ہوئے’ہم سب‘ بن گئے- سیکولرازم کا اصول کہ’ زیادتی کسی سے نہیں ہونا چاہئے‘ ، بہت پسندآیا اور مولویوں کی حمایت میں قلم اٹھالیا-اس لئے کہ ہم سمجھتے ہیں، پرانے، نئے، سب میڈیا نے، مولویوں کے طبقے سے کمال زیادتی کی ہے-قصور ہم سے یہ ہوا کہ افغان جہاد کے ضمن میں علما کی وکالت میں ایک کالم لکھ دیا (اس لئے کہ ہر طبقے کو اپنی صفائی دینے کا موقع ملنا چاہئے )-مگرصاحب، حیرت اس وقت ہوئی جب عدل و انصاف کے داعی، ہمارے ایک بہت پسندیدہ لکھاری، ہماری اس تحریر پر اس قدر سیخ پا ہوئے کہ فوری جوابی کالم لکھ مارا-ہمارے لئے کیا، کسی بھی لکھاری کے لئے یہ بڑی خوش آیند بات ہوتی ہے جب اسکی کسی تحریر کا نوٹس لیا جائے( بالخصوص کسی علمی شخصیت کی طرف سے)-جوابی کالم سے اتنا تو معلوم ہوگیا کہ ہمارے ممدوح کو کہیں گہری چوٹ لگی ہے، مگر کس بات پر؟ اس پہ یہ ناچیز، ابھی تک غلطاں و پیچاں اور انگشت بدنداں ہے-
مولوی بیچارہ،روزاول، سے دشمنام کے لئے، آسان ہدف رہا ہے کیونکہ وہ اسی انداز میں جواب دے نہیں سکتا ورنہ ’ اخلاق حسنہ‘ کی دہائی شروع ہوجاتی ہے-آجکل پاکستانی ٹی وی چینلز پر، سرِ شام آپ پکو رنگین ریشمی ٹائیاں لگائے کئی دانشور غرّاتے نظر آئیں گے جو مولوی کو اس خطے کے سب آلام کا سبب قرار دیں گے-ہم نے خود،مغربی ’حسن پہ نثار‘ ایک دانشور کواس بنا پر مولویوں پہ برستے دیکھا کہ جب مغرب، فزکس پڑھ رہا تھاتو ہم تاج محل بنا رہے تھے-بندہ پوچھے کیا تاج محل مولوی نے ڈیزائن کیا تھا؟
خیر، واپس اپنے ممدوح کی طرف آتے ہیں۔ ان کے مزاج گرامی پر گراں گذرنے والی اصل بات کا کھوج لگانے کے لئے ہم نے اپنے بیانیہ کا ازسر نو جائزہ لیا اور جملہ بہ جملہ تقطیع کی۔ ہماری پہلی گذارش یہ تھی کہ مولویوں کو بحیثیت ادارہ، قابل فروخت سمجھنا،ایک غلطی ہے۔ لازم تھا کہ جوابی بیانیے میں دلائل سے یہ ثابت کیا جاتا کہ ہر مولوی نامی جنس کا اپنا ذاتی ضمیر یا موقف ہوہی نہیں سکتااور وہ صرف ڈالر دیکھ کر چلتا ہے۔ نہ توایسا جواب آیا اور نہ ہی میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے صاحبِ علم ناقد،ایسا عامیانہ موقف اپنائیں گے۔
چلیں، اگلی بات کی طرف چلتے ہیں۔ جہاد کی شرعی تفصیل کی بابت جو کچھ میں نے عرض کیا، وہ رائے، میں نے مستند علما سے اخذکی ۔ ظاہر ہے کہ ہمارے ناقد بھی،ہماری ہی طرح، اس پر فقہی رائے زنی کی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ مفتی صاحبان کا فیلڈ ہے اوریوں بھی یہ علمی و دینی بات تھی جو کسی خاص طبقے کی خلاف نہیں تھی-
پھراور کیا بات ان کو بری لگی ہوگی؟ ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ جہادِ افغانستان، امریکہ یا ایجنسیوں نے نہیں شروع کیا تھا،البتہ بعد میں، بوجوہ، وہ کود پڑے تھے-عرض کیا تھا ڈالر کے بدلے امریکی ایجنڈا پر چلنے والوں میں، کم از کم، دیوبندی علما کی صف اول میں سے کوئی نہیں تھا-ظاہرہے کہ ایسی باتوں کی فائلیں دستیاب نہیں ہوا کرتیں کہ ایسے ریکارڈ رکھنے والوں نے اپنی ذاتی جاگیروں کی پردہ پوشی کرنا ہوتی ہے- تاہم، خاکسار نے منطق اور دلیل کے ہر زاویے سے اپنا دعوی ثابت کیا اور چیلنج کیا دلیل کو دلیل کی بنیاد پہ رد کیا جائے- بس لگتا ہے یہی بات،یعنی مولویوں کی حمایت، ہمارے ممدوح کے سیکولرازم کی دیوارِ شیشہ پر پتھر ثابت ہوئی-جلتی پہ تیل یہ ہوا کہ میں نے صرف علمائے دیوبند کا نام لے لیا (ہائے، اس نام نے، کتنوں کو بے آرام کیا….)۔
دیکھئے حضور،پاکستان کی کچھ نادیدہ طاقتیں،صرف علما اور سیاستدانوں کو ہی نہیں، ادارہ صحافت کو بھی بے وقار کرنے پہ تلی ہیں-عوام میں یہ خیال جڑ پکڑنے لگا ہے کہ ہر صحافی لفافہ کیش اور اس کا قلم برائے فروخت ہے۔ ایسے میں روزنامہ’ہم سب‘ کی طرف سے خاکسار اگر یہ مقدمہ پیش کرے کہ کم ازکم ہمارے اخبار کے لکھاری صرف اپنے ضمیر کی آواز پہ لکھتے ہیں-(ممکن ہے انکی رائے ، کچھ مخصوص اداروں کی طرف بھی کبھی جھک جاتی ہو مگر اسکا مطلب لفافہ نہیں ہوتا اور اسکا بیّن ثبوت،ان لکھاریوں کا طرز زندگی ہے)- فرمائیے، کیا ’ ہم سب‘ کو اپنا موقف واضح کرنے کی اجازت نہیں؟ کیا کسی سیکولر کو ،’ ہم سب‘ کی اس وکالت پر، سیخ پا ہونے کی ضرورت ہے؟ بعینہ اسی طرح،ناچیز نے علمائے دیوبند کا مقدمہ لڑا مگر ہمارے ممدوح، جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں(کرتا رہوں گا)،نہ جانے کیوں تاو¿ کھا بیٹھے؟
پھر سوچتا ہوں، ضروری نہیں، موصوف کو اسی بات ہی کا غصہ ہو کیونکہ کالم کا محور انہوں نے’ ایک شعری تصرف‘ پہ باندھا ہے-قصہ یوں ہے کہ اصل شعر کا مصرعہ تھا’ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے‘-ہم نے مٹی کی جگہ، واوین\” لگا کر، لفظ\” امت\” ڈال دیا-شعری ذوق رکھنے والے ہر شخص کو معلوم ہے کہ واوین ڈالنے کا مطلب ہی یہی ہوتا کہ یہ لفظ درآمد کیا گیا ہے-مگر موصوف مصر ہیں کہ میں نے مٹی کی جگہ امت ڈال کر شعر کی مٹی پلید کی ہے-چلئے جناب، اگر قضیہ ایک شعر کی توہین کا ہے تو ہم اپنے صاحبِ علم ناقد کے سامنے، اپنی\” ناکردہ خطا\” مان لیتے ہیں-
سچی بات یہ ہے کہ اس سب کچھ لکھنے کے باوجود، ہمیں پھر بھی واضح نہیں ہوا کہ ہمارے کالم میں وہ اصل بات کیا تھی جس پر ہمارے ممدوح ، یوں آپے سے باہر ہوئے؟-اسکی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے جو بحث چھیڑی ہے، اسکا ہمارے بیانئے سے تو کوئی خاص تعلق نہیں بنتا-
وہ بات، سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے-
ممکن ہے کہ ہماری ناقص عقل،ان کی فلسفیانہ گفتگو کو سمجھنے سے قاصر رہی ہو-یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کو لفظ \” امت\” بھی بہت برا لگا-ہمیں تو یوں لگا جیسے وہ کہنا چاہتے ہوں کہ \”امت، امت\” کا جذباتی لولی پاپ، مولویوں نے اپنی دکان چلانے کے لئے سجا رکھا ہے- اب ہم کیا کہیں؟ ہم سیکولرازم کو مذہب انسانیت کہتے ہیں اور بالعموم انسانیت ہی کا پرچار کرتے رہتے ہیں-اس پر کوئی دل جلا یوں بھی تو کہہ سکتا ہے کہ’انسانیت‘ کا جذباتی لوی پاپ، سیکولر لوگوں نے اپنی دکان چلانے کے لئے سجا رکھا ہے-
خیر، ان کے کالم کو دل پہ لئے بغیر، ان کا ایک شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے خاکسار کو بلااستحقاق، ’ایک محترم مولوی صاحب‘ کی مسند پہ فائز کردیا-یہ خاکسار شرمسار ہے کہ عصری فنون کی مصروفیت میں، مدارس قرآنیہ سے دور رہا- تاہم، ہمارے ممدوح نے، ناچیز کی تصویر میں داڑھی دیکھ کر، ہمیں یہ رتبہ عطا کردیا-چونکہ گہراو¿ اور گیراو¿ اور بھراو¿ میں خود ممدوح کی ریش مبارک، ہم سے زیادہ بھاری بھرکم ہے تو ہم اس خطاب کو گویا اپنے مرشد کی عنایت گردانتے ہیں-
اب اس ذاتی مکالمے سے ذرا ہٹ کر، ایک عمومی بات کرنا چاہتا ہوں-ناچیز کا دعوی ہے کہ سیکولرزم،جمہوریت اور سوشلزم، بنیادی انسانی صفات ہیں اور ان کا درجہ کمال ہی دین اسلام ہے۔ سیکولرازم اور تصوف، کشادہ دلی اور خندہ پیشانی کا نام ہے-الّا ماشا اللہ،انسان بنیادی طور پر ناشکرا، جلد باز اور تنگ دل ہے۔ لہٰذاان صفات کوپیدا کرنے کے لئے کبھی برسوں پر محیط خانقاہی مجاہدے کرائے جاتے تھی-بس جان کی امان پاتے ہوئے، ایک اور شعر میں تصرف کی جرات کر کے، اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ:
’فلاسفہ‘ سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے، محنت زیادہ


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ

  • 17-01-2016 at 11:58 pm
    Permalink

    آداب سلیم جاوید صاحب،

    قبلہ آپ کا جواب مضمون دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ اب دائروں میں کیا گھومنا صاحب۔ بس پڑھ کر آپ کو سلام و دعا دینے کو دل چاہا سو تبصرہ کیا۔ سلامت رہئے۔ بس اتنی جسارت کروں گا کہ اس بار شعری تصرف کے باعث شعر ذرا وزن سے باہر ہو رہا ہے۔ ایک الف زائد ہے سو بحر متقارب مثمن سالم کا رکنِ اول ذرا طویل ہو رہا ہے۔

    خاکسار
    عاصم بخشی

  • 23-01-2016 at 12:09 am
    Permalink

    Very well written sir.

Comments are closed.