پاناما پیپرز: لا علمی بھی کیا نعمت ہے؟



mujahid mirza جب سے “پانامہ لیکس” کا واویلا شروع ہوا ہے پاکستان کے ذرایع ابلاغ بالخصوص اردو ذرایع ابلاغ میں چاہے وہ اخبارات ہوں یا الیکٹرونک ذرائع ہمیشہ کی طرح خجل ہوئے بغیر لاعلمی کو معلومات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں کوئی بھی معاملہ ہو اس کا تعلق بلا وجہ پانامہ کی قانون سے وابستہ کمپنی سے منکشف ہونے والی خفیہ مالیاتی معلومات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

پہلے مغربی میڈیا کی تقلید میں بڑھ چڑھ کر ذکر کیا جاتا رہا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا نام بھی “پانامہ لیکس” کے بدعنوان سیاستدانوں کی فہرست میں شمار ہے۔ کچھ روز کے بعد جب معلوم ہوا کہ روس کے صدر کا براہ راست نام نہیں ہے بلکہ ان کے کسی قریبی دوست کا نام ہے جس پر آف شور کمپنی کی وساطت سے دو ارب ڈالر باہر منتقل کیے جانے کا الزام ہے تو تصحیح کی گئی لیکن روسی صدر کا پیچھا نہیں چھوڑا گیا۔

ویسے تو نواز شریف کا نام بھی نہیں، ان کی اولاد کے نام ہیں۔ اولاد اور دوست برابر نہیں ہوتے ہیں ہیں لیکن کیا کیا جائے ڈاکٹر عاصم بھی تو زرداری صاحب کے دوست ہی ہیں مگر ولادیمیر پوتن نہ پاکستان سے ہیں اور نہ ہی روس میں کبھی فوج کا حکومت پر ہاتھ پڑا ہے، باقی آپ خود سیانے ہیں۔

حد تو یہ ہوئی کہ یوکرین کے وزیر اعظم آرسینی یاتسینیوک کے استعفٰی کو بھی “پانامہ لیکس” کے ساتھ جوڑ دیا گیا جبکہ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے یوکرین کے صدر پیوتر پوروشینکو کا نام سامنے آیا ہے۔ یوکرین میں نام نہاد انقلاب کے بعد سے اب تک کوئی مناسب سیاسی اتحاد نہیں بن پا رہا۔ چند ہفتے پیشتر ہی آرسینی یاتسینیوک “امپیچمنٹ” سے بال بال بچے تھے۔ یوکرین کے صدر جو بنیادی طور پر صنعت کار ہیں اور جنکا یوکرین میں بزور بازو لائی گئی سیاسی تبدیلی کے عمل میں متشددانہ سوچ رکھنے والوں کو مالی معاونت دینے سے زیادہ کچھ اور عمل دخل نہیں تھا، نے صدارت پانے کے بعد اپنی سیاسی اور عملی طاقت میں اضافہ کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ آرسینی یاتسینیوک جو اس متشددانہ عمل میں پیش پیش تھے، مغرب کے تب منظور نظر اور نسبتاََ زیادہ سیاسی سوچ رکھنے والے کی حیثیت سے صدر پیترا پوروشینکو کے ان اعمال کے مخالف ہیں۔ لا محالہ صدر کی بھی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح آرسینی کو سیاسی میدان سے کھدیڑ دیا جائے۔

آج یعنی منگل کے روز ان کے ہاں پارلیمنٹ وزیراعظم یاتسینیوک کے استعفٰی پر غور کرے گی چونکہ وہ حال ہی میں “امپیچمنٹ” سے بال بال بچے تھے چنانچہ بہت ممکن ہے کہ ان کا استعفٰی منظور ہو جائے۔ یوں ایک تو وہ سیاسی منظر نامے سے غائب نہیں ہونگے دوسرے ان کا یہ پینترا ان کے حق میں ہوگا کیونکہ ان پر وہ پینترا اثر نہیں کر سکا تھا جسے ان کے مخالفین بشمول صدر پوروشینکو نے “امپیچمنٹ” کے ذریعے انہیں عضو مختل بنانے کے لیے اختیار کیا تھا۔
ہمارے میڈیا کے لیے روس، یوکرین اور مشرقی یورپ کے ملک بشمول بحیرہ بالٹک سے منسلک ریاستیں، افریقہ کے گمنام ملکوں برونڈی اور آئیوری کوسٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے، یہی حال پاکستان سے متعلق ان ملکوں کے سیاسی تجزیہ کاروں اور عام لوگوں کا بھی جو پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر جانتے ہیں جہاں دہشت گرد دندناتے پھرتے ہیں۔
بلاشبہ یوکرین کو بھی پاکستان کی طرح مالیاتی بدعنوانیوں اور ناکام معاشی پالیسیوں کے سبب خطرہ ہے۔ وہاں کی معیشت بھی ناکام ہے اور وہاں کی ریاست بھی ناکام لیکن ان کو بھی اصل خطرہ بنیاد پرست مسلمانوں کی جانب سے دہشت گردی دکھائی دیتی ہے جیسے پاکستان میں یہ قبح اپنے برے اثرات بارہا عیاں کر چکا ہے اور کیے چلا جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک سے سرمائے کا فرار تب ہوتا ہے جب اس ملک میں سرمائے کا مصرف نہ ہو جو منافع کا حصول ہوتا ہے اور جہاں سرمایہ محفوظ تصور نہ کیا جائے۔ چاہے وہ سرمایہ نواز شریف کا ہو یا پورو شینکو کا۔ سرمایہ داروں کو دوسرے لوگوں کو سہولیات بہم کرنے میں تب تک کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جب تک ان کا سرمایہ محفوظ نہ ہو اور سرمائے سے مزید سرمایہ پیدا کرنے کے مناسب اور وافر ذرائع میسّر نہ ہوں۔

سرمائے کی منتقلی ایک قانونی عمل ہے جس پر سرمایہ کار افراد اور ادارے عمل کرتے رہتے ہیں۔ سرمائے کو غیر قانونی طور پر منتقل کیے جانے کی وجوہ میں سرمایہ کاری کرنا تو بہت بعد کی بات ہوتی ہے۔ اس سے پہلے سرمائے سے ٹیکس ادا کرنے سے بچنا یا غیر قانونی ذرائع سے کمائے گئے سرمائے کو جائز بنانا یعنی کالے دھن کو سفید کرنے کا عمل کرنا ہوتا ہے جس کے لیے عموماََ جائیداد ہی خریدی جاتی ہے، محلات و مکانوں کی شکل میں یا کارخانوں کی صورت میں۔

 کم ترقی یافتہ یا نیم جمہوری ملکوں میں بدعنوانی اور سیاست کا بہت گہرا تعلق ہے۔ اب تو پاکستان میں بھی یہ روش عام ہو گئی ہے کہ اگر اپنا سرمایہ محفوظ بنانا ہے اور اپنی ذات پر کیچڑ اچھالے جانے سے بچنا ہے تو ایک عدد ٹی وی چینل کھول لیں۔ شیخ شعیب نے بول کھولنے کی کوشش کی تھی اور ملک ریاض برملا کہتے ہیں کہ اب مجھے خود کو بچانے کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی چینل کھولنے ہونگے۔

 مالی بدعنوانیوں کا شور ذرائع ابلاغ میں ہی کیا جاتا ہے۔ اخبارات ہوں یا چینل کیا وہ عوام کے ہیں یا تنظیموں کے؟ وہ سرمایہ کاروں یعنی سرمایہ داروں کے ہی ہیں۔ کیا کسی بھی چینل کے مالک پر لگنے والے مالیاتی بدعنوانی کے الزامات کو وہی چینل کھل کر، دستاویزات لہرا لہرا کر برسر عام کر سکتا ہے، ظاہر ہے نہیں۔ اخبارات کے مالکان پر لگے ایسے الزامات کو مخالف اخباروں میں ہی عام کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ کوئی سازش ہے بلکہ صرف اتنا ہے کہ لوگوں کے دماغ خراب کر دیے جائیں تاکہ وہ کنفیوز ہو کر اس سیاسی راہ کا تعین نہ کر سکیں جو بالآخر دہشت گردی سے مالیاتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی جانب لے جانے کا آغاز ثابت ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مالیاتی بدعنوانی بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن اس سے پہلے قوانین میں سقم کا ہونا، قوانین پر عمل درآمد نہ ہونا، کم و بیش سبھی اداروں کا کسی نہ کسی حوالے سے بے راہرو ہونا، آئین توڑنے والوں کو معاف کیا جانا، عام آدمی کو علاج و تعلیم کی سہولت میسر نہ ہونا، تحفظ کا فقدان، سلامتی کو درپیش خطرات کا روز بروز بڑھتے چلے جانا اور بے تحاشا ایسے مسائل ہیں جن سے نمٹے بنا مالیاتی بدعنوانی سے نمٹنا ممکن نہیں۔

غربت اور نارسائی مسائل کی جڑ ہیں۔ سرکاری طور پر ہی ہر دس میں سے تین تو غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ غربت سے اطمینان کی لکیر کے درمیان جو دس میں سے پانچ افراد ہیں کیا انہیں بھی کسی نے گنا۔

یوکرین کے معاملات سے متعلق لوگوں کو یا تو نہ بتائیں یا درست بتائیں۔ یہ ذرائع ابلاغ کا امتحان ہوتا ہے کہ دور کے مسائل سے متعلق وہ کتنا حقیقی علم عام کرتے ہیں۔ بین الاقوامی معاملات بارے اول تو ہمارے ذرائع ابلاغ تقریباََ بے بہرہ رہتے ہیں، اگر مہربانی کرنی ہی ہو تو اسے “گو نواز گو” کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ واہ بھئی واہ!!


Comments

FB Login Required - comments