میرے استاد ۔۔۔۔ پروفیسر ادیب الحسن رضوی


ادیب صاحب کا نام میں نے پہلے سُن لیا تھا، ان کو دیکھا بعد میں۔ یہ ناممکن تھا کہ سول اسپتال کی راہداریوں میں آتےجاتے وہ نظر نہ آئیں۔ دور سے پتہ چل جاتا تھا۔ لباس کے اوپر سفید کوٹ پہنے ہوئے اور بال جو اس وقت بھی سفید تھے۔ بات تیکھی اور چال کڑی کمان کا تیر جس سے ہر معاملے میں ان کا مصمّم ارادہ ٹپکتا تھا۔ چہرے پر بُردبار سنجیدگی۔ آگے پیچھے دوچار طالب علم یا جونیئر ڈاکٹر احترام کے ساتھ چلتے ہوئے۔ دور سے پتہ چل جاتا کہ ادیب صاحب آرہے ہیں اور ہم ایسے طالب علم جو ابھی تھرڈ ایئر میں نہ پہنچے تھے مگر سفید کوٹ پہننے اور ڈاکٹر کہلانے کا شوق تھا، چپکے سے اِدھر اُدھر سٹک جاتے۔ ادیب صاحب کچھ کہتے بھی نہیں مگر ان کا رعب ایسا تھا۔

ادیب صاحب کا رعب دبدبہ ان کے نام کی وجہ سے تھا۔ جب میں کالج میں آیا تو ان کا نام آج کی طرح بچّے بچّے کی زبان پر نہیں تھا لیکن ان کے کارناموں کی داغ بیل پڑنا شروع ہوچکی تھی۔ ان کے کارنامے آہستہ آہستہ نمایاں ہوتے چلے گئے مگر اس وقت ان سے بہت ڈر لگتا تھا (سچ تو یہ ہے کہ آج بھی لگتا ہے!) سب کو معلوم تھا کہ وہ طالب علموں کو ذرا سی بات پر جھاڑ دیتے ہیں۔ حود مجھے بھی آگے چل کر ان سے ڈانٹ کھانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ (اس کے بغیر ڈائو میڈیکل کالج کی سند کیسے مکمّل ہوتی؟) مگر ان کے بے پناہ شخصی احترام کی وجہ سے ان کے مزاج کی تیزی نہیں تھی بلکہ سارے طالب علموں کو پتہ تھا کہ سول اسپتال میں انھوں نے اپنے چھوٹے وارڈ کو کیا بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں اسپتال کے وارڈ مریضوں اور ہر مریض کے درجن بھر تیمارداروں سے ابُلے پڑتے، ایک ہجوم کی سی کیفیت رہتی، صفائی کا انتظام کبھی ہوتا بھی تو اس کو برقرار رکھنا مشکل۔ پھر درو دیوار سے امڈتی ہوئی غربت، ناداری، دوائوں کا اور دوسری سہولتوں کا فقدان، بے بسی، لاچاری، موت سے ہمہ دم لڑتی ہوئی زندگی۔۔۔

تھرڈ ایئر میں آنے کے بعد چند دن کے لیے ادیب صاحب کے وارڈ میں پوسٹنگ ہوئی تو دیکھا کہ انھوں نے قواعد و ضوابط کا سخت گیر نظام بنا رکھا ہے۔ مریضوں کو دوائیں بھی ملتی ہیں اور وقت پر کھانا بھی۔ کام کے معاملے میں کسی طالب علم کو آنا کانی کرنے کا موقع نہ ملتا مگر سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے کہتے، اسپتال کے بعض بڑے افسران کے برخلاف یہ اپنے مریضوں کو پرائیویٹ معالجے کی طرف ڈھکیل کر پیسے اینٹھنے کا کام نہیں کرتے۔ الٹا اپنے اثر ورسوخ سے پیسے حاصل کرکے اس وارڈ پر لگا دیتے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوگیا تھا کہ مریضوں کی یلغار کے سامنے سرکاری گرانٹ کم ہونے کے باوجود اتنی کم بھی نہیں تھی مگر ادیب صاحب کے پاس نہ جانے کون سا الٰہ دین کا چراغ تھا کہ ان کے وارڈ میں رسائی کی کمی نہیں رہتی۔ پھر ہمیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس کے پیچھے کوئی اور جادو نہیں تھا، ان تھک محنت اور اپنے کام سے لگن۔ دن کے چوبیس گھنٹے میں سے وہ پچیس گھنٹے کام کرنے کے لیے تیار رہتے اور دوسروں سے بھی اسی کی توقّع رکھتے۔ تھڑدلے بے اعتبار اور قنوطیت زدہ لوگ ان کے ساتھ نہیں چل سکتے تھے۔ ان کا ساتھ دینے کے لیے ان کی رفتار پر چلنا پڑتا تھا، جو کسی طرح آسان کام نہ تھا۔ اس کے باوجود وہ طالب علموں کے لیے مثالی نمونہ یا رول موڈل بن گئے۔

ادیب صاحب سول اسپتال کے امراضِ گُردہ والے وارڈ کو اس کامیابی سے چلاتے رہتے۔۔۔ وہاں علاج کرانے والے مریضوں کی تعداد اسی وقت ہزاروں میں نہیں، لاکھوں میں پہنچ رہی تھی۔۔۔ تب بھی یہ کوئی معمولی کارنامہ نہ ہوتا۔ مگر ان کا اصل کام تو ادارے تعمیر کرنا ہے۔ اس میدان میں ان کے جوہر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کُھلے اور پھر ہم نے کیا، دُنیا نے دیکھا۔ ان کی شہرت چار دانگ پھیل گئی۔

وہ چھوٹا سا وارڈ ایک بڑی شان دار عمارت اور پھر عمارتوں کے کمپلیکس میں تبدیل ہوگیا۔ باقاعدہ اسپتال بن گیا اور اس کے ساتھ تربیت گاہ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شان دار ادارے نے فخر کے ساتھ سر اٹھایا۔ سب کچھ بدل گیا۔ نہ بدلے تو ادیب صاحب۔ وہی رعب، طنطنہ۔ وقت سے زیادہ کام کرنے کی لگن۔ تن دہی ایسی کہ کوئی مثال بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ پہلے اوروں سے سنا پھر خود بھی بارہا دیکھا۔ دن بھر اسپتال والے کپڑے پہنے گھومتے رہتے ہیں۔ نیند آئے تو وہیں سو جاتے ہیں۔ مریضوں والا کھانا ہی کھاتے ہیں۔ آج کل کے دور میں جب معمولی عہدے دار بھی فرعونِ بے سامان بنا پھرتا ہے، ادیب صاحب پروٹوکول اور وی آئی پی رویّے سے حد درجے دور رہتے۔ ان کا احترام ان کی شخصی خوبیوں کی وجہ سے تھا۔ اس لیے زیادہ دیرپا بھی رہا۔

ادیب صاحب نے خطروں کا سامنا بھی اسی طرح کیا۔ جس زمانے میں ان کو دھمکیاں مل رہی تھیں اور ان کے خیر خواہوں کو تشویش لاحق ہوگئی تھی، ادیب صاحب نے ایسی کسی بات کی پرواہ نہیں کی۔ انھوں نے اپنے ساتھ باڈی گارڈ رکھنے کا جھنجھٹ نہیں پالا۔ اپنے معمولات پر اسی طرح ڈٹے رہے۔ استقامت ہو تو ایسی! انھوں نے مُلک چھوڑنے کا اعلان کیا اور نہ کسی فورم پر واویلا۔ وہ بڑی سے بڑی بات کے لیے بھی تیار رہتے۔

ادیب صاحب کے کارنامے دیوقامت معلوم ہوتے ہیں۔ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہوا ہے جب سول اسپتال کی عمارت کے ایک حصّے میں ان کا وارڈ چل رہا تھا، اور اب یہ عمارتوں، اداروں کے ایک سلسلے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ تازہ ترین صورت حال (مارچ 2018ء) کچھ اس طرح ہے کہ نئی عمارت کے افتتاح کے بعد ایس آئی یو ٹی میں آپریشن تھیٹرز کی تعداد 26 ہوگئی ہے۔ ادیب صاحب نے ایک حالیہ تقریب میں ذکر کیا کہ ان کے ادارے میں روزانہ تقریباً ۸۵۰ ڈائی لیسز کیے جاتے ہیں اور مریضوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ جنوبی ایشیا میں سب سے بڑا ڈائی لیسز سینٹر ہے۔ اتنی تعداد میں کیسز اگر نجی شعبے میں جاتے تو اندازہ یہ ہے کہ اس میں تقریباً ۷۵ کروڑ روپے کی لاگت آتی۔ کینسر کے موذی امراض اور سرجری کی سہولیات اس کے علاوہ ہیں۔ ٹرانس پلانٹ سینٹر میں کئی اعضاء کی پیوند کاری کی جارہی ہے۔ اس پورے سفر میں ادیب صاحب کے حوصلے بلند رہے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں