کیا ہم واقعی ایسے ہیں؟


 editگلاسگو میں ایک پرجوش مسلمان کے ہاتھوں ایک احمدی کے قتل کے بعد برطانیہ اور دنیا بھر میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس بے چینی میں قاتل تنویر احمد کے بیان نے اضافہ کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے اسد شاہ کوعقیدہ کے اختلاف کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ ابھی اس سانحہ کی گرد بھی نہ بیٹھی تھی کہ جنوبی لندن کی ایک مسجد سے احمدیوں کے خلاف پمفلٹ ملنے کی خبر دنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ جو احمدی تین روز کے اندر رجوع کرتے ہوئے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوتا، اسے سزائے موت دی جائے۔ اگرچہ اس پمفلٹ میں ” قتل“ کرنے پر تو نہیں اکسایا گیا لیکن مذہب کے حوالے سے جس قسم کی جذباتیت اور گمراہی اس وقت پائی جاتی ہے، اس کی روشنی میں یہ قیاس کرنا دشوار نہیں ہے کہ ایک عقیدہ کے خلاف نفرت اور بغض و عناد سے بھرے ہوئے خیالات کے اظہار کے بعد جب اس کے ماننے والوں کو واجب القتل قرار دیا جائے گا تو بعض جذباتی لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو عواقب کی پرواہ کئے بغیر تنویر احمد کی طرح قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے۔

صورت حال اس لئے زیادہ سنگین اور مشکل ہو چکی ہے کہ یہ معاملات پاکستان سے نکل کر برطانیہ میں رونما ہو رہے ہیں، جہاں پاکستانی مسلمانوں اور احمدیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ ایک ایسے ملک میں رہتے ہوئے جہاں قوانین سب عقائد کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر تعصب اور امتیازی سلوک کے خلاف شدید رائے پائی جاتی ہے …. وہاں جب کوئی مسلمان انفرادی حیثیت میں یا ان کا کوئی گروہ کسی دوسرے عقیدہ کے لوگوں کو مارنے کا اقدام کرے گا یا اس کی ترغیب دے گا تو لامحالہ اس کا اثر دنیا بھر کے مسلمانوں پر مرتب ہو گا۔ دنیا کے لوگ اس صورت حال میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اگر آپ دوسرے عقائد کے ماننے والوں کو جینے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں ہیں تو آپ کی امن پسندی پر کس طرح یقین کیا جائے۔ احمدیوں کے حوالے سے نفرت اور تشدد کا پرچار کرنے والے یہ بھول رہے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گردی اور مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ وقت کی ضرورت تو یہ ہے کہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے مسلمان اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کریں کہ وہ عقیدہ ، رائے یا نقطہ نظر کے حوالے سے دلیل پر یقین رکھتے ہیں۔ مار دھاڑ یا زور زبردستی سے ان کے عقیدے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کسی حد تک بعض ذمہ دار مسلمان یہ کوشش کر بھی رہے ہیں۔ لیکن ایک انسان کے قتل کا واقعہ یا کسی تنظیم کی طرف سے عقیدہ کے نام پر مارنے کی ترغیب کا انکشاف، ان کوششوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد مسلمان مغربی ممالک کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے لاکھ یہ کہیں کہ ان کا رب تو انہیں یہ حکم دیتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ یا یہ کہ مسلمانوں کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو رحمت العالمین تھے اور انہوں نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا تھا جس کی بنیاد قانون کی حکمرانی پر تھی ….لیکن ایسا کہنے والوں کو اس امام کی تصویر دکھائی جائے گی جو یورپ کے کسی شہر میں ممتاز قادری کی پھانسی پر احتجاج کر رہا ہے یا تنویر احمد کا بیان پڑھوایا جائے گا جس میں وہ عقیدہ کی بنیاد پر اسد شاہ کو قتل کر کے راحت اور افتخار محسوس کر رہا ہے۔

یہ مان لینا چاہئے کہ قصور وار تنویر احمد یا ممتاز قادری نہیں ہوتے۔ اصل ذمہ دار انہیں اس مقام تک لانے والے مبلغ اور مذہبی رہنما ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو بطور گروہ یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر وہ اپنی صفوں میں ایسے عناصر کو جگہ دیتے رہیں گے تو دنیا میں ان کی شہرت بھی خراب ہوتی رہے گی اور ان کی تکلیفوں اور مسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔ دائیں بازو کے نسل پرست جو کل تک مٹھی بھر نوجوانوں پر مشتمل ہوتے تھے، مسلمانوں کی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے سیاسی قوت حاصل کر رہے ہیں۔ سویڈن ، ڈنمارک، ہالینڈ ، سوئزر لینڈ ، آسٹریا وغیرہ کی پارلیمان میں ان کی نمائندگی دس سے بیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کسی جمہوری نظام میں یہ بہت بڑی شرح ہے جو فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی قوت رکھتی ہے۔ اس کے نتائج ہم متعدد صورتوں میں دیکھتے بھی ہیں۔ ایک فرد کی غلط روش ایسے دور رس اثرات مرتب کرتی ہے کہ ان کی تباہ کاری کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی لئے امریکہ میں مسلمانوں سے نفرت کے سیاسی نعرے لگانے والا ایک شخص اب وہائٹ ہاﺅس کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

یہ صورت حال نہ تو یورپ اور امریکہ میں آباد کروڑوں مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی حقوق کے حوالے سے مستحسن ہے اور نہ ہی پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے مفادات کے لئے کوئی اچھی خبر ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نفرت کا پیغام کاشت کر کے مسلمان خود اپنی نوجوان نسل کو گمراہ کرنے اور تباہی و بربادی کا راستہ چننے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ دنیا تجربات کی روشنی میں جان چکی ہے کہ نفرت کا پرچار صرف نفرت ، تعصب اور امتیازی رویوں کو جنم دیتا ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی اور انتشار پر منتج ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان حالات سے بچنے کے لئے فکری اور عقلی سطح پر کام کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو بھی اس عمل کا حصہ بننے اور نفرت کی بنیاد پر دین کی تبلیغ کرنے والوں کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو ایک امت کے طور پر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا خواب دیکھنے والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ تاریخ کے پرفریب اسباق کو دہرانے کی بجائے مثبت مزاج اور رویہ کی ترویج کے لئے کام کا آغاز کرسکیں تو شاید مسلمانوں کا کچھ بھلا کرسکیں۔ کیوں کہ احترام اور بقائے باہمی ہی کسی فرد ، جماعت ، قوم یا گروہ کو ترقی کا راستہ دکھا سکتی ہے۔ ان لوگوں کو جان لینا ہو گا کہ یہ منزل بہرصورت نفرت اور تعصب کے ساتھ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔

برطانیہ میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز پمفلٹ جنوبی لندن کی سٹاک ویل گرین مسجد سے ملے ہیں۔ یہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے اور مسجد میں ایک نمایاں جگہ پر انہیں رکھا گیا تھا کہ ہر آنے والا انہیں حاصل کر سکے۔ لیکن مسجد کے ترجمان طحٰہ قریشی کہتے ہیں کہ انہوں نے تو کبھی یہ پمفلٹ نہیں دیکھے اور نہ ہی اس مسجد کا ”ختم نبوت“ نامی تنظیم سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کسی نے بدنیتی کی بنا پر یہ پمفلٹ مسجد میں ڈھیر کر دئیے ہوں گے۔ اس دوران صحافیوں نے یہ دریافت کر لیا ہے کہ ”ختم نبوت“ نامی تنظیم برطانیہ کے چیریٹی کمیشن میں رجسٹر ہے اور اسی میں اسی مسجد کو اپنا دفتر ظاہر کیا گیا ہے۔ یہی نہیں اس تنظیم کے 4 ٹرسٹی سٹاک ویل گرین مسجد STOCK WELL GREEN MOSQUE کے منتظمین بھی ہیں۔ گویا اس مسجد کی انتظامیہ یہ جانتی ہے کہ وہ نفرت انگیز پمفلٹ تقسیم کر کے غیر قانونی کام کر رہی ہے لیکن اس کا پردہ فاش ہونے پر اب جھوٹ کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ جھوٹ اس مسجد کی انتظامیہ ہی کے نہیں دنیا بھر کے مسلمانوں کے منہ پر کالک پوتنے کے مترادف ہے۔ مسجد کا ٹرسٹی یا ترجمان ہونے کے ناطے طحٰہ قریشی پر لازم تھا کہ وہ ایک اچھے مسلمان کے طور پر اس غلطی کا اعتراف کرتے جو ان سے سرزد ہوئی ہے اور آئندہ کے لئے اس سے تائب ہونے کا اعلان کرتے۔ لیکن یہ لوگ ایک ایسے رویہ کی علامت بن چکے ہیں جو دوہرے کردار کا نمائندہ ہے۔ حالانکہ نہ دین کی یہ تعلیم ہے اور نہ کسی ملک کا قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی ایسا شخص مہذب اور شریف کہلانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔

برطانیہ کے بعض مسلمان گروہ ”ختم نبوت“ نامی تنظیم سے متاثر ہیں، اور وہ احمدیوں کے خلاف نفرت عام کرنے کا کام منظم طریقے سے کر رہے ہیں۔ جو پمفلٹ ایک مسجد سے برآمد ہوئے ہیں، وہ یونیورسٹیوں، دکانوں اور ریستورانوں میں مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ اس کام کو منظم کرنے والے اپنے طور پر بڑی دینی خدمت سرانجام دے رہے ہوں گے لیکن درحقیقت وہ مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہے ہیں اور دنیا میں اس تفہیم کے لئے جواز فراہم کر رہے ہیں کہ اسلام تشدد ، دہشت اور نفرت کا مذہب ہے۔ واضح ہونا چاہئے کہ کوئی تاثر پیدا کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے زائل کرنے کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ مسلمان تو ابھی تک اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے کی بجائے یہ ماننے پر تلے رہتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پیدا ہونے والے رویے کسی خوفناک عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ اب انہیں اس سازش کو اپنے قول و فعل میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

گلاسگو میں احمدی باشندے اسد شاہ کے قتل کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیم مسلم کونسل آف برٹن MCB نے ایک بیان میں سب عقائد کا احترام کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس بیان میں کہا گیا تھا کہ مسلمانوں کو احمدیوں کو مسلمان ماننے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اس بیان کے بعد سٹاک ویل مسجد سے نفرت انگیز پمفلٹ برآمد ہوئے ہیں۔ پوری تصویر کے تناظر میں مسلمان تنظیم کا بیان نامکمل اور یک طرفہ کہا جا سکتا ہے۔ کوئی مسلمانوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ کیسے اپنے عقیدے پر عمل کرتے ہیں اور اس کی کیا بنیاد ہے۔ لیکن ان سے یہ تقاضہ اور امید ضرور کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کے عقیدے کے بارے میں رائے دینے یا نفرت پھیلانے سے گریز کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں انہیں اپنے کام سے کام رکھنے اور تشدد اور قتل و غارتگری کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں نے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خاص طور سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ڈائیلاگ کی بجائے تصادم ، امن کی بجائے تشدد ، افہام و تفہیم اور بقائے باہمی کی بجائے انتشار و فساد اور بھائی چارے کی بجائے دہشت گردی پر یقین رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے عہد جدید میں اس کا آغاز ایران کے مذہبی پیشوا آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فرمان جاری کر کے کیا تھا۔ اس حکم کو جو درحقیقت امریکہ اور مغرب سے انتقام لینے کا ایک سیاسی ہتھکنڈہ تھا …. فتویٰ کا نام دیا گیا۔ دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے متعدد علما نے یہ واضح کیا تھا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنے کے لئے اس قسم کا اعلان نہ تو فتویٰ کہلاتا ہے اور نہ ہی دین اس کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے باوجود مواصلت کے اس دور میں خمینی کے اس فتویٰ کا یہ اثر ہوا کہ آج عام مسلمان، مسلک سے قطع نظر سلمان رشدی کو واجب القتل سمجھتا ہے اور اس کے لئے خمینی کے فتویٰ کا حوالہ دیتا ہے۔ حالانکہ سنی مسلمانوں کی اکثریت عام طور سے شیعہ مسلک کی بیشتر باتوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں خلاف اسلام قرار دیتی ہے۔ اس سے یہ اندازہ کرنا چنداں دشوار نہیں ہے کہ جذبات اور تعصب کی بنیاد پر پھیلائی گئی کسی غلط بات کو بھی جب مذہبی لبادہ پہنا دیا جائے، تو اس کے مہلک اور تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دنیا کے متعدد دہشت گرد گروہ اسلام کی ایک خاص توجیہہ کو بنیاد بنا کر قتل و غارت گری کو جائز قرار دیتے ہیں لیکن ان کے مقاصد سیاسی ہیں۔ البتہ احمدیوں جیسی اقلیت کے خلاف نفرت عام کر کے جو صورت حال پیدا کی جا رہی ہے، اس کے سماجی رویوں پر وسیع تر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس لئے ممتاز قادری اور تنویر احمد جیسے عام سادہ لوح مسلمان گمراہ ہو کر قتل جیسا گھناﺅنا فعل انجام دیتے ہیں۔ ان حالات میں دوسرے عقائد یا گروہوں کے خلاف نفرت پھیلانا بھی دہشت گردی جیسا بھیانک جرم بن جاتا ہے بلکہ اس کے اثرات زیادہ گہرے اور خطرناک ہوتے ہیں۔

اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے کفر اور قتل کے فتوے جاری کرنے والے عناصر کی سرکوبی بے حد ضروری ہے۔ احمدی عقیدہ کے بانی کا انتقال ہوئے ایک صدی بیت چکی ہے۔ اب اس عقیدہ کے ماننے والوں کو مرتد قرار دینا بجائے خود گمراہی شمار ہو گی۔ مسلمان دانشوروں کو ارتداد، توہین مذہب اور اس قسم کے دیگر حساس موضوعات پر غور و فکر کرنے اور واضح لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان معاملات پر عام لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے اور قتل جیسے جرم پر اکسانے کا رویہ اب ترک کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر مسلمان رہنما اس اہم ضرورت کو سمجھنے سے انکار کر کے مسلمانوں کی بدنامی اور تباہی کا سبب بنیں گے۔ مسلمانوں نے تحقیق ور اجتہاد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے متشدد رویوں کو ترک کرنے کے کام کا آغاز نہ کیا تو پھر وہ یہ کہنے کے قابل نہیں ہوں گے کہ ” ہم ایسے تو نہیں ہیں “۔ بلکہ دنیا برملا یہ کہے گی کہ ” یہ لوگ تو ایسے ہی ہیں۔”


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “کیا ہم واقعی ایسے ہیں؟

  • 13-04-2016 at 10:58 pm
    Permalink

    Agreed

  • 14-04-2016 at 3:36 pm
    Permalink

    تنویر احمد تو مولویوں کے ہتھے چڑھ لیکن کچھ لوگوں کا قلم احمدیوں کے ہتھے بھی چڑھا ہوا ہے

Comments are closed.