پاکستان میں اسلامی نظام کے پولیٹیکل اسلامسٹ داعی


adnan-khan-kakar-mukalima-3

آج کل پاکستان میں اسلامی نظام کے داعی پولیٹیکل اسلامسٹ ہیں۔ ان کی ایک ’عملی‘ شاخ ٹی ٹی پی کی شکل میں ہتھیار اٹھا کر اپنی تفہیم کے مطابق شریعت نافذ کر رہی ہے اور جہاد کی دعویدار ہے۔ جبکہ ان کی دوسری شاخ ہتھیار اٹھانے کو فی الحال غلط سمجھتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اقبال اور قائد اعظم کے فرمان کے مطابق ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ لیکن جب اس شریعت کی تفہیم کی بات آتی ہے جس کو نافذ کرنے کے لیے اقبال اور جناح نے کہا تھا، تو یہ داعین، نفاذ شریعت کے لیے قائد اور اقبال کی تفہیم شریعت کی بجائے صوبہ سرحد کے ریفرینڈم تک تحریک پاکستان کی جی جان سے مخالفت کرنے والے سید مودودی کی تفہیم شریعت کی بات کرتے ہیں۔ جو پولیٹیکل اسلامسٹ، تحریک پاکستان کی مخالفت کے دعوے کا انکار کرتے ہیں، ان کو مشورہ ہے کہ جماعت کی اپنی شائع کردہ ’روئداد جماعت اسلامی‘ نیزسید مودودی کی اپنی تصنیف ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ کا مطالعہ فرما لیں ۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی اب آخرالذکر کتاب کا تحریف شدہ متن ’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘ کے نئے عنوان سے شائع کرتی ہے۔

jinnah-1

حضرت کیا یہ وہی سید مودودی نہیں ہیں جنہوں نے خاص طور پر قائد کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ اتاترک کی مانند مرد فاجر ہیں، اور پاکستان کے بارے میں جنت الحمقا کے الفاظ تواتر سے استعمال کیے تھے۔ یعنی قائد اور ان کے ساتھی، سید مودودی اور ان کے رفقا کی نظر میں احمق تھے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی لکھتے رہے ہیں کہ اگر یہ جنت الحمقا بن بھی گئی تو اس کے حکمران (سید مودودی کی تفہیم کے مطابق) دین کے حق میں اس سے کہیں زیادہ برے ثابت ہوں گے جتنے کہ غیر مسلم حکمران ہیں۔ اس پر یہ تماشا کیسا کہ اب وہ ’قائد کے فرمان کے مطابق شریعت کے نفاذ‘ کی بات کرتے ہیں؟ حضرت یہ سید مودودی کے مطابق شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں، اقبال و قائد کے فرمان کے مطابق جدید پارلیمان کے تحت اسلامی اصولوں کی روشنی میں جدید نظام مملکت کے قیام کی بات نہیں کرتے ہیں۔

ہمارے محدود علم کے مطابق اقبال اور قائد نے کبھی یہ نہیں کہا ہے کہ پاکستان میں شریعت کا نفاذ ہو گا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں ریاستی نظام کی بات کی ہے جس میں اقلیتیں محفوظ ہوں گی اور وہ ملائیت پر مبنی نظام نہیں ہو گا۔ بلکہ اقبال تو ملائیت پر مبنی نظام کے اس حد تک خلاف تھے کہ اپنے چھٹے خطبے میں انتہائی واضح الفاظ میں یہ کہہ چکے ہیں:۔

’جدید مسلم اسمبلی کی قانونی کارکردگی کے بارے میں ایک اور سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے۔ کم از کم موجودہ صورت حال میں اسمبلی کے زیادہ تر ممبران مسلم فقہ (قانون) کی باریکیوں کے بارے میں مناسب علم نہیں رکھتے۔ ایسی اسمبلی قانون کی تعبیرات میں کوئی بہت بڑی غلطی کر سکتی ہے۔ قانون کی تشریح و تعبیر میں ہونے والی غلطیوں کے امکانات کو ہم کس طرح ختم یا کم سے کم کر Iqbal-1سکتے ہیں؟

ایران کے 1906 کے آئین میں علما کی ایک الگ کمیٹی کے لیے گنجائش رکھی گئی تھی جنہیں امور دنیا کے بارے میں بھی مناسب علم ہو اور جنہیں آئین سازی کی قانونی سرگرمیوں کی نگرانی کا حق حاصل تھا۔ میری رائے میں یہ خطرناک انتظامات غالباً ایران کے نظریہ قانون کے حوالے سے ناگزیر تھے۔ اس نظریے کے مطابق بادشاہ مملکت کا محض رکھوالا ہے جس کا وارث درحقیت امام غائب ہے۔ علما امام غائب کے نمائندوں کی حیثیت سے اپنے آپ کو معاشرے کے تمام پہلوؤں کی نگرانی کے ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اگرچہ میں یہ جاننے میں ناکام ہوں کہ امامت کے سلسلے کی عدم موجودگی میں علما امام کی نیابت کے دعوے دار کیوں کر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ایرانیوں کا نظریہ قانون کچھ بھی ہو، یہ انتظام بڑا خطرناک ہے۔ تاہم اگر سنی ممالک بھی یہ طریق اپنانے کی کوشش کریں تو یہ انتظام عارضی ہونا چاہیے۔ علما مجلس قانون ساز کے طاقتور حصے کی حیثیت سے قانون سے متعلقہ سوالات پر آزادانہ بحث میں مددگار اور رہنما ہو سکتے ہیں۔ غلطیوں سے پاک تعبیرات کے امکانات کی واحد صورت یہ ہے کہ مسلمان ممالک موجودہ تعلیم قانون کے نظام کو بہتر بنائیں، اور میں وسعت پیدا کریں اور اس کو جدید فلسفہ قانون کے گہرے مطالعے کے ساتھ وابستہ رکھا جائے‘۔ اقبال کا چھٹا خطبہ۔

غور کریں کہ وہ ہمارے اسمبلی کے ممبران کو، وکلا کو، شارح دین مانتے ہیں۔ اور ان کا علم دین بڑھانے کی خاطر نظام تعلیم بہتر بنانے اور فلسفہ قانون وغیرہ کی تعلیم عام کرنے کا کہتے ہیں۔

لیکن ہمارے نئے نئے پولیٹیکل اسلامسٹ ہوئے برادران یہ کہنے پر مصر ہیں کہ

نیرنگی سیاست دوراں تو ’دکھائیے‘
منزل انہیں ’ملے‘، جو شریک سفر نہ تھے

maududi-2

تحریک پاکستان کی ریفرینڈم تک مسلسل مخالفت کرنے والے اور مسلم لیگیوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے سے منع کرنے والے، قیادت سمیت مسلم لیگیوں کو نام کے کاغذی مسلمان کہنے والے، قائد کو اتاترک کی مانند رجل فاجر قرار دینے والے، آج چاہتے ہیں کہ ملک میں ان کی مرضی کی ملائیت نافذ ہو، نہ کہ قائد اور اقبال کے فرمان کے مطابق اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایسا نظام حکومت بنایا جائے جو کہ سب شہریوں کو برابر کے حقوق دیتا ہو۔

آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں ہے تو جماعت اسلامی کے کسی صالح شخص سے ہی دریافت کر لیں کہ وہ اقبال اور جناح کی تشریح اسلام پر مبنی نظام مملکت کا حامی ہے یا پھر سید مودودی کی فہم اسلام کے مطابق قائم کردہ نظام لانا چاہتا ہے۔ جہاں تک اس ممکنہ اعتراض کی بات ہے کہ قائد اور اقبال اسلام کے مفسرین نہیں تھے، تو پھر ایسی بچگانہ بات کہنے والے کو اقبال کی شاعری کی بجائے نثر پڑھنے پر توجہ دینی چاہیے۔

کیا اسے منافقت کہا جائے یا ناسمجھی؟ پاکستان میں اسلامی نظام کے پولیٹیکل اسلامسٹ داعین سے سوال ہے کہ کیا وہ پاکستان کا بھی افغانستان، دولت اسلامیہ یا ایران جیسا حال کروا کر ہی خوش ہوں گے یا پھر پاکستان کو جدید فلاحی مملکت بننے دیں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

9 thoughts on “پاکستان میں اسلامی نظام کے پولیٹیکل اسلامسٹ داعی

  • 13-04-2016 at 3:11 pm
    Permalink

    خوشی ہوتی کہ مولانا کے ان مبینہ خیالات کے حوالے یا پھر بیان کی گئی کتابوں کے اسکین شدہ عبارات بھی پیش کردئے جاتے۔ بغیر حوالوں کے تحریر میں کوئی منطقی جان نظر آرہی ہے۔ لیکن کم از کم اس تحریر سے یہ عنصر تو جھلک رہا ہے کہ آپ اس بات پر تیار ہوگئے ہیں کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال کو زبردستی سیکولر قرار دیکر اپنے نظریات کو تاریخی اور ملی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش نہیں کررہے ہیں اور بجائے اسکے آپ کی بحث ایک نئی سمت میں داخل ہوگئی ہے کہ بحث ریاست کے مذہبی یا غیرمذہبی ہونے کا نہیں بلکہ ر مذہبی ریاست کے ڈھانچے کی تفہیم کا ہے کہ آیا وہ قائد اعظم و اقبال کے تصورات کے مطابق ہوگی یا پھر مولانا مودودی اور مولانا عثمانی کی مطابق۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔

    • 13-04-2016 at 3:32 pm
      Permalink

      جناب کیا آپ کو علم ہے کہ اقبال نے مسلمان ممالک کو کس کی تقلید کا کہا تھا؟ وہ اتاترک کی سیکولر اسمبلی اور جمہوریہ تھی جسے اقبال نے خلافت کی جدید شکل قرار دیا تھا۔

      یعنی ہمارے علاوہ اقبال بھی سیکولر نکلے اور ان کو سیکولرازم میں ہی اسلام نظر آتا تھا۔

  • 13-04-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    “سیکولر ازم میں ہی اسلام”۔۔۔۔۔۔۔ عدنان بھائی کیا نکتہ پیش کیا ھے!!!
    بحث نے ایک نیا موڑ لے لیا ھے، شاید۔
    وجاھت بھائی میں میدان میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ عامر خاکوانی بھائی کی نگارش کا انتظار ھے۔

    • 13-04-2016 at 4:31 pm
      Permalink

      جناب یہ نکتہ خاکسار نے نہیں، حکیم الامت نے پیش کیا تھا، وہ بھی پاکستان کا خواب دیکھنے کے ایک دو برس بعد ہی۔

  • 13-04-2016 at 4:12 pm
    Permalink

    تصحیح: وجاھت بھائی “بھی” میدان میں۔۔۔۔۔

  • 13-04-2016 at 4:28 pm
    Permalink

    سنا ھے ایک یہودی نے “زرہ” کے حوالے سے خلیفۂ وقت کے خلاف ایک دعوٰی عدالت میں پیش کیا اور خلیفۂ وقت جوابدہی کیلۓ عدالت میں حاضر ھوۓ۔ سنا ھے کہ (مسلمان) قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
    کیا وطنِ عزیز میں اقلیتوں کو ایسا استحقاق حاصل ھوگا کہ وہ (اس گستاخی کا تصور کرسکیں اور) خلیفۃ المسلمین/ امیر المؤمنین (صدرِ مملکت یا وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان) کو عدالت میں قاضی کے روبرو طلب کرواسکیں؟؟؟؟ اور پھر عدل و انصاف کے اسی معیار کے فیصلے حاصل کرسکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    • 14-04-2016 at 11:17 am
      Permalink

      If this rule is available for Muslim and not available for Non-Muslim… then your premise is correct. Otherwise your hypothecation is baseless and theoratically incorrect.
      Currently, our Sacred constitution provide bar against pointing finger aganst Head of State, so there is no discrimination.

  • 13-04-2016 at 11:39 pm
    Permalink

    It’s funny that our secularists, otherwise staunchly anti-fundamentalist, are hopeless fundamentalists when it comes to Iqbal and Jinnah. It’s also a favourite pastime of both secularists and non-secularists to quote one liners from Iqbal to peddle their causes. Mawdudi Sb happens to be a favourite punching bag in addition to Zia ul Haq. May I request our secular critics of Mawdudi Sb ( with whom I disagree on his interpretations Islam) to also once write something on the founder and “great leader” of a very active political party of KPK. He had some very nice ideas on partition of India and Jinnah Sb, though his political progeny tries to own Pakistan today. But I guess since they are avowed secularists and liberals, we won’t get to see anything written about them in that context. Even if we do it will most likely be an apologetic defense.

  • 18-04-2016 at 8:22 am
    Permalink

    Pakistani Islamists are in fact TTP or ISIs only more dangerous because they are li k e a wolf in sheep,s skin.

Comments are closed.