ضابطہ حیات کی بحث۔۔۔ کچھ آصف محمود کی تائید میں


wajahatبرادرم آصف محمود نے ’’کیا اسلام ایک ضابطہ حیات ہے؟“ کے عنوان سے اپنے خیالات رقم فرمائے۔ شیخ سعدی کے لفظوں میں ” از دل خیزد و بر دل ریزد “ کا مضمون رہا۔ ممکن ہے کچھ پڑھنے والے چاہیں کہ نثر فارسی کے اس جیتے جیتے ٹکڑے کا ترجمہ ہو جائے۔ تو بھائی ایک مصرعہ تو اقبال سے لیتے ہیں، ’اٹھی تو دل اقبال سے ہے، کیا جانیے، کس کی ہے یہ صدا ‘ اور اقبال سے پہلے کسی نے کہہ رکھا تھا ’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘۔ سادہ بات یہ کہ خاکسار کو بھائی آصف محمود سے مکمل اتفاق تھا۔ البتہ خط تنصیف کی دوسری طرف بہت سی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ کڑکے ہیں بہت اہل حکم برسر دربار۔ علم کا دعوی ٰ رکھنے والے، بصیرت کے کلید بردار اور پارسائی کے ساونت پرے باندھے کھڑے ہیں۔ ایک ایک سوار دوڑ تا ہوا آتا ہے اور آصف محمود کے حرف محرمانہ کی میخ پر نیزہ بازی کی مشق کرتا ہے۔ اختلاف رائے اچھی بات ہے۔ معاشرہ اختلاف رائے ہی سے آگے بڑھتا ہے۔ تاہم اسے بدقسمتی کہنا چاہیے کہ ہماری معاشرے میں اختلاف رائے میں بھی قطبیعت کا رجحان بہت راسخ ہے۔ عام طور سے آصف محمود کے ان خیالات کے حامی سمجھے جانے والے خاموش ہیں کہ آصف محمود کسی دف کا پہلوان نہیں۔ اپنے ضمیر کا پابجولاں قیدی ہے۔ دوسری طرف وہ مہربان ہیں کہ جو اپنے ردعمل کا آغاز ہی اس جملے سے کرتے ہیں کہ ’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘۔ اور پھر وہی پامال ردیف کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا۔ یہ خیالات ہمارے ملک میں اس قدر عام ہیں کہ انہیں قریب قریب متفق علیہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ان نکات پر کچھ گزارشات پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کرنا مناسب ہو گا ۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قیام پاکستان کے بعد اپنی تحریروں میں یہ خیال پیش کرنا شروع کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ¿ حیات ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مولانا مذہب اور سیاست کی یکجائی کے قائل تھے۔ ان دونوں نکات کو ملا کر پڑھنے سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ مولانا اسلام کے نام پر ایک ہمہ گیر آمریت (Totalitarianism) کے موید تھے جس میں حکومت شہریوں کی اجتماعی اور انفرادی زندگی کے ہر پہلو کو منضبط کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔خیال رہے کہ مولانا سے قبل چودہ سو برس میں کسی مسلم مفکر نے اسلام کو ضابطہ¿ حیات قرار نہیں دیا۔ خود مولانا نے بھی یہ رائے قیام پاکستان کے بعد قائم کی۔ وجہ بہت سادہ ہے ۔ مذہب انسانوں کو اقداری رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی بنیادی اقدار انسانی مساوات، انصاف، تفکر اور انسان دوستی ہیں۔ مذہب معاشرتی اور سیاسی زندگی کے کسی ایسے متعین نمونے کو ترجیح نہیں دیتا جو کسی خاص زمانے اور علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تفکر ، جستجو اور پیداواری سرگرمیوں کے نتیجے میں معاشرہ مسلسل ارتقا سے گزرتا رہتا ہے۔ مذہب کی رہنما اقدار کو معاشرتی ارتقا کی ہر منزل پر منطبق کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر حکومت شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کو منضبط کرنا چاہے تو نہ صرف یہ کہ معاشرہ ارتقا کی بجائے جمود کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ ایسا معاشرہ بالآخر مسابقت کی دوڑ میں پسماندہ اور غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ اجتہاد اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور اجتہاد ایک جمہوری قدر ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے چھٹے خطبے میں منتخب پارلیمان کو اجتہاد ہی کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ ہمارے ملک میں اگر اس نقطہ نظر سے اختلاف کیا جائے کہ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے تو اسے گویا مذہب سے انکار سمجھا جاتا ہے۔ یہ رائے درست نہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا کے استوائی خطوں میں بھی مسلمان رہتے ہیں ۔ وسطی ایشیاکے سرد پہاڑی منطقوں کے علاوہ جنوبی مشرقی ایشیا کے گرم مرطوب میدانوں اور افریقہ کے صحراﺅں میں بھی مسلمان آباد ہیں۔ مسلمان ایسے ملکوں میں بھی آباد ہیں جہاں وہ اکثریت میں ہیں اور ایسے ممالک میں بھی رہتے ہیں جہاں وہ اقلیت میں ہیں۔ یہ تمام مسلمان اسلام کی رہنما اقدار کااتباع کر سکتے ہیں۔ لیکن مولانا کی موعودہ ہمہ گیر آمریت کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں۔

یہ نقطہ نظر ایک سیاسی بیان ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ مسلم اقلیت کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ تمام انسانی گروہوں کی طرح مسلمانوں میں بھی مختلف سیاسی اور معاشرتی مکاتب فکر موجود ہیں۔مسلمان مذہبی رہنماﺅں کی اکثریت مطالبہ پاکستان کی مخالف تھی۔ مسلم لیگ ایک جدید سیاسی جماعت تھی جو دستوری طریقہ کار میں یقین رکھتی تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ حق خود ارادیت کے جدید سیاسی اصول کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔قیام پاکستان کے بعد مذہبی رہنماﺅں نے اس جدوجہد کو اپنے معنی پہنانا شروع کر دیے اور یہ خیال پیش کیا کہ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ یہاں ایسی مذہبی حکومت قائم کی جائے گی جس کی باگ ڈور ملاﺅں کے ہاتھ میں ہو گی۔ قائداعظم نے فروری 1948ءمیں ریڈیو پر امریکی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں بیان کیا تھاکہ پاکستان میں تھیوکریسی نہیں چلے گی۔ خود لیاقت علی خان نے بھی قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد دستور ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے تھیوکریسی کے امکان کو رد کیا تھا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947ءکی تقریر کا سیاسی بیانیہ اور تھا جب کہ قرارداد مقاصد ایک مختلف سیاسی بیانیے کی ترجمان تھی۔ گزشتہ سات دہائیوں میں اس ابہام نے اس قدر جڑ پکڑ لی ہے کہ سیاسی اور تمدنی قوتوں کے لیے اس خیال کی مخالفت کرنا آسان نہیں رہا۔ یہاں بھی طریقہ کار وہی ہے کہ جب اس خیال کو رد کیا جائے کہ پاکستان مذہبی پیشواﺅں کی حکومت کے لیے نہیں بلکہ یہاں کے باشندوں کے جمہوری حقوق کے لیے بنایا گیا تھا تو اسے گویا مذہب کی مخالفت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ مذہب ایک سیاسی فریق نہیں ہوتا۔ مذہب کا منصب اپنے پیروکاروں کا اخلاقی ارتفاع ہے۔ سیاست کا مقصد شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ہر شہری اپنے سیاسی عمل میں اپنے مذہب سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے تاہم کسی کو دوسرے شہریوں پر اپنے عقائد مسلط کرنے کا حق نہیں۔

اسی طرح کا ابہام سیاسی نظریہ کے بارے میں بھی پایا جاتا ہے۔ سیاست میں آئیڈیالوجی کی اصطلاح انیسویں صدی کے علمی حلقوں میں سامنے آئی۔ اسے بیسویں صدی میں انقلاب روس کے بعد مقبولیت ملی۔ روس ، چین ، مشرقی یورپ ، مشرق بعید اور لاطینی امریکا میں کمیونسٹ پارٹیوں کی یک جماعتی آمریت پر آئیڈیالوجی کا پردہ ڈالا گیا۔ ہر سیاسی جماعت اپنا منفرد نظریہ اپنانے کا استحقاق رکھتی ہے۔ لیکن اگر ریاست نظریاتی ہونے کا دعویٰ پال لے تو گویا کسی ایک سیاسی مکتب فکر کو دیگر سیاسی نقطہ ہائے نظر پر مستقل بالادستی حاصل ہو جاتی ہے۔ سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں یہ مشق ناکام ہوئی اور اسے ناکام ہی ہونا تھا۔ نظریاتی ریاست کا مطلب ایک سیاسی نقطہ نظر کو ایسی غیر منصفانہ ترجیح دینا ہے جس میں ریاست ترجیحی سیاسی نقطہ نظر کے ساتھ فریق بن جاتی ہے۔ اس سے معاشرے میں فکر ، سوچ اور پالیسی کا تنوع ختم ہو جاتا ہے۔ انسانی اجتماع میں یہ ممکن نہیں کہ سیاسی اور تمدنی نقطہ نظر کی مکمل یک رنگی پیدا کی جا سکے۔ ایسی یک رنگی مصنوعی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں سیاسی اور معاشی استحصال کی بدصورتیاں جنم لیتی ہیں۔ شہری بظاہر اپنے مفادات کے لیے ریاست کے نظریاتی بیانیے کی حمایت کرتے ہیں لیکن ایسا نظریاتی بیانیہ بذات خود کمزور ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد شہریوں کی رضاکارانہ وابستگی پر نہیں ہوتی۔ دوسری طرف جمہوریت ایک مشمولہ (Inclusive) طریقہ کار ہے جس میں مختلف سیاسی مکاتب فکر کے مابین پرامن مکالمہ ممکن ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں ریاست اور ایک مخصوص سیاسی بیانیے کے اتحاد کی صورت جنرل ضیاالحق کے دور میں سامنے آئی۔ اگر چہ پاکستان میں دائیں بازو کے بہت سے دیانت دار مفکر اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ضیا آمریت کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاسی مقاصد حاصل کرنا غلط تھا۔ تاہم گزشتہ تین دہائیوں میں یہ صورتحال اب طالبان کے ظہور تک جا پہنچی ہے۔ طالبان کا مظہر پاکستان کی ریاست کے نظریاتی چولا پہننے کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ اگر طالبان جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کے نقطہ نظر سے یہ رویہ قابل فہم ہے۔ وہ ایک ایسا نظریاتی گر وہ ہیں جو مخالف نقطہ ہائے نظر کے ساتھ بقائے باہمی میں یقین نہیں رکھتا۔ دہشت گرد جانتے ہیں کہ نظریاتی ریاست جمہوری نہیں ہوتی چنانچہ انہوں نے جمہوریت کے مقابلے میں نظریاتی آمریت کا انتخاب کیا ہے۔ پاکستان میں دستوری طریقہ کار اور جمہوری نظام پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک میں نظریاتی ہمہ گیریت کے دعوے اب اس نہج پر جا پہنچے ہیں جہاں انہیں جمہوری پاکستان اور ملائیت کے استبداد میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

15 thoughts on “ضابطہ حیات کی بحث۔۔۔ کچھ آصف محمود کی تائید میں

  • 13-04-2016 at 3:47 pm
    Permalink

    بہت عمدہ، مدلل اور متوازن تحریر۔۔۔

  • 13-04-2016 at 4:11 pm
    Permalink

    It all started in the 19th century . in response to Immanuel Kant’s criticism on limitations of knowledge Hegel embarked upon formulating a grand narrative that objective every question can be answered in accordance with principles of natural science and then he discovered principles of social sciences. Marx adopted Hegelian thought and thus started the era of isms. Shah wali ullah was later reinterpreted as a great synthesizer a Muslim response to Marx. The war of complete code of life entered 20th century with different isms satisfying all aspects of an inquiring mind. we can discover complete code of life discourse as a response to this battle of ‘isms’.

  • 13-04-2016 at 4:35 pm
    Permalink

    بہت خوب وجاھت صحب – توازن کا دامن پکڑے رھنے اور تجزیہ میں بعض نا گفتنی تاریخی حقائق کی طرف لطیف اشارہ کردینے کا بھی بہت شکریہ

  • 13-04-2016 at 7:55 pm
    Permalink

    قرآن پاک اور کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ ‘اسلام ایک ضابطہ حیات ہے’۔۔۔۔ یہ حالیہ دور کا گھڑا ہوا کلیشے ہے۔۔ جسے بلا سمجھے سوچے ہر کوئی دہرا رہا ہوتا ہے۔۔۔

  • 13-04-2016 at 8:05 pm
    Permalink

    “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” ( غالب)

  • 13-04-2016 at 8:29 pm
    Permalink

    وجاہت مسعود صاحب کی ہر تحریر سے کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ شکریہ وجاہت مسعود صاحب

  • 13-04-2016 at 10:29 pm
    Permalink

    وجاهت مسعود. وقت كا دجال أبوجهل هي بكواسات كرتا رهتا هي

  • 14-04-2016 at 12:46 am
    Permalink

    “أدخلوا فى السلم كافة ” اس آیت قرآنی کا کویئ مطلب کیا هي؟

  • 14-04-2016 at 12:47 am
    Permalink

    “أدخلوا فى السلم كافة ” اس آیت قرآنی کا مطلب کیا هي؟

  • 14-04-2016 at 1:17 am
    Permalink

    جناب اخترسعيد صاحب، آپ جس آیت کا حوالہ دے رہے ہیں وہ زیر بحث موضوع سے متعلق نہیں ہے ، اگر آپ کی رائے میں متعلق ہے تو برائے مہربانی ہم سب کو بھی آگاہی بخشیں کہ کیسے ہے ؟

  • 14-04-2016 at 3:27 am
    Permalink

    عمدہ مضمون،سیکھنے،سمجھنے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہوا۔ اسلام نے کسی خاص سیاسی نظام کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اسلام خود ایک سیاسی نظام ہے،یہ ایک ایسے سیاسی نظام پر زور دیتا ہے جس کی بنیاد عدل،مساوات اور برابری پر ہو۔ یہ جمہوریت بھی ہوسکتی ہے اور جمہوریت کے علاوہ حالات کے مطابق کوئی دوسرا نظام بھی ہوسکتا ہے

  • 14-04-2016 at 11:33 am
    Permalink

    ’’پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا‘‘ کا بلاسوچے سمجھے وِرد کرنے والے غالباً یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اسلام بھی پاکستان کے نام پر بنا تھا۔ بھلا اگر اسلام کی آمد کا مقصد کوئی مطلق العنان ریاست قائم کرنا ہی تھا تو یہ کہاں لکھا ہے (سید مودودی کی کتابوں کو چھوڑ کر) کہ اسے اس خطہ ارض ہی میں قائم ہونا ہے جو ایسے (بقول سید مودودی بےعلم و عمل، محض نام کے مسلمانوں سے آباد ہے جو ابھی تین چار (یا چلیے سات آٹھ) نسل پہلے تک مسلمان ہی نہ تھے۔ چونکہ اسلام کے مقدس جغرافیے یعنی خاکِ حجاز پر نجدی وہابیوں کا قبضہ ہے جنھوں نے اپنے ملک کو اسلام یا اس سے وابستہ متبرک ہستیوں سے نہیں بلکہ خاندانی بادشاہت کے بانی ابن سعود کے نام سے منسوب کر رکھا ہے، اس لیے کیوں نہ اسے صومالیہ میں قائم ہونے دیا جائے اور ہم پاکستانی کسی نارمل ملک کے باشندوں کی طرح نارمل زندگی بسر کر سکیں؟

  • 14-04-2016 at 1:04 pm
    Permalink

    وجاھت مسعود صاحب ایک صاحبِ فکر انسان ہیں ان سے یہ توقع تو بظاہر نہیں کی جاسکتی کہ وہ بالقصد ایک آسان اور عام فہم بات کو گنجلک بناکر پیش کررہے ہیں تاکہ معاشرہ میں بڑھتی ہوئی اسلامی فکر کا رخ موڑا جائے یا اسلام سگ متعلق شکوک و شبہات پیدا کرکے نئی نسل کو غلط ٹریک پر لگایا جائے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ انتہائی عام فہم اور آسان بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور غلط قیاس کا سہارا لے کر بات کا رخ دوسری جانب موڑ دیتے ہیں تو پھر یہ کہنا پڑتا ہے کہ وجاھت مسعود صاحب قصدا بات کو غلط انداز سے پیش کرکے مغالطہ انگیزی کے ذریعہ گلی ڈنڈا کا کھیل کھیل رہے ہیں …
    بات یہ ہے محترم کہ !
    اسلام ایک ضابطہ حیات ہے، یہ بات دو جمع دو کی طرح آسان ہے،بشرطیکہ پہلے سے اپنے ذہن میں موجود اینٹی اسلام فکر کو نہ پالا ہو،
    دوسری بات یہ ہے پاپائیت کی مخالفت سب سے پہلے قرآن نے کی، اسلام نے کی، رہبانیت کا انکار اسی وجہ سے کیا گیا تاکہ بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ کی غلامی میں لوگوں کو لایا جائے، قائد اعظم نے بھی پاپائیت کی تردید کی تھی، لیکن اتنی سادہ سی بات وجاھت صاحب کیوں سمجھ نہیں پاتے یا سمجھنے کے باوجود بالقصد مغالطہ دیتے ہیں؟کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس کا پاپائیت سے دور کا بھہ تعلق نہیں، بلکہ بنظرِ غائر دیکھا جائے تو اس سے پاپائیت کی نفی ہوتی ہے، اسلامی نظام، اسلام کا نظمِ اجتماعی، خلافت وغیرہ تمام اصطلاحات کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ اسلام ایک نظام ہے جو انفرادی و اجتماعی زندگی سے متعلق راہنمائی کرتا ہے، وہ راہنمائی اسلام کی ہے وحی کی ہے اللہ اور رسول کی ہے، کسی مولوی مولانا کی نہیں ہے، بس اتنی سی بات ہے کہ اسلام کی بات کوئی ملا یا مولانا ہی کرتا ہے اس لئیے آپ اس سے خوف محسوس کرتے ہیں، جو بات مولوی کہتا ہے کہ اسلام کا نظام نہ کہ افراد کا نظآم (آمریت) تو یہی بات آپ بھی کرکے دیکھیں نا ! یقین جانئیے اگر مولوی نے آپ کی بیان کردہ اس بات سے انکار کیا تو مولوی کا خاتمہ کرنے کے لئیے آپ کو کسی جتن کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ معاشرہ خود مولوی کو مسترد کردے گا… آج اگر معاشرہ مولوی کو مسترد نہیں کر رہا بلکہ اب بھی اپنے معاملات میں اس سے راہنمائی لیتا ہے نہ کہ کسی لبرل دانشور سے تو اس کا مطلب یہی ہے نا کہ معاشرہ اسلام کی بات کرنا چاہتا جو اسے مولوی سمجھا رہا ہے، اگر مولوی کی زبان سے اسلام کا لفظ ختم ہوجائے اور آپ کی زبان سے جاری ہوجائے تو یقین جانئیے یہی معاشرہ مولوی کا لفظ گالی بناکر آپ کو سر آنکھوں پر بٹھائے گا … آپ اسلامی نظام ، اللہ کے نظام، وحی الہی کا نظام پر بات تو کرکے دیکھئیے !
    لیکن یہ کیا کہ ملائیت کا نام لیکر آپ اسلام کے نظام کی نفی کریں، وحی کی نفی کریں ، اور حوالہ وائد اعظم کی تقریر کا کریں، جنہوں نے مولوی سے پاکستان کا جھنڈا لہرایا، جنازہ کی وصیت مولوی کے بارے میں کی، مولوی سے راہنمائی لیتے تھے اور انتہائی عاجزی سے پیش آتے تھے … کیا آپ کے افکار و اعمال قائد کے افکار و اعمال سے ذرا بھی میل کھاتے ہیں ؟ ہرگز نہیں … اگر جواب اثبات میں ہے تو اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ قائد کی وہ تقریر جو 11 اگست 1947 کے بعد کی ہے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے کی تھی وہ آپ کی نظر سے بالکل نہیں گزری ؟ اگر گزری ہے تو اس کا تبادلہ ذرا گیارہ اگست والی تقریر سے کریں اور پھر اپنی تحریروں پر نظرِ ثانی کریں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا … بشرطیکہ غلطی تسلیم کرنے کی ہمت رکھتے ہوں

  • 14-04-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    اگر لفظ یا اصطلاح “دین” کے مفہوم کا تعین کیا جائے نیز یہ کہ طرز حکومت اسلام کے تابع ہے اور کس قدر تو اس بحث کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے کہ آیا سیاست اور طرز حکمرانی دین کے ذیل میں آتی ہیں یا نہیں. . کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے “ومن یبتغی غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ”
    اگر طرز حکمرانی دین کا حصہ ہے پھر تو دینی طبقے کی بات صحیح ہے اور اگر دین کا حصہ نہیں تو پھر موجودہ “لبرل” جمہوری نظام سے بہتر کوئی طرز حکومت نہیں

  • 14-04-2016 at 5:47 pm
    Permalink

    احقر، محترم افتخار محمد سے سو فیصد متفق ھے کہ سب سے پہلے قرآنی اصطلاح “الدین” اور” دین “کے مفہوم کا تعین کیا جاۓ تبھی اس مکالمے اور مباحثے سے کما حقہ استفادہ تحصیل کیا جا سکے گا۔ احقر کی راۓ یہ ھے کہ دین صرف پند و نصائح تک محدود نہیں ھے اس سے کہیں بڑھ کر ھے، تاہم اسلام کو ضابطۂ حیات قرار دینے کیلۓ ناقابلِ تردید دلائل و براہینِ قاطعہ کی ضرورت ھے، جو ابھی تک کی بحث میں نظر سے نہیں گزرے۔۔ انتظار جاری ھے۔
    تکملہ: اگر صلٰوۃ نظامِ عبادت ھی کا اہم رکن ھے تو الگ تفہیم ھوگی اور اگر صلٰوۃ نظام سیاست کا بھی ایک رکن ھے تو اسلام کے سیاسی اندازپر روشنی حاصل ھو سکتی ھے (نبی کریم ﷺ نے شدیدعلالت کے باعث حضرت ابوبکر کو نماز کی امامت کیلۓ منتخب فرمایا)۔۔۔۔ دین میں صلٰوۃ اور زکٰوۃ / امر بالمعروف و نھی عن المنکر نظامِ حکومت کے وہ اجزاۓ لا ینفک ہیں جنہیں “قائم” (establish) کیا جانا مقصود ھوتا ھے۔۔۔ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (41) سورہ الحج

Comments are closed.