ضرب عضب آپریشن نہیں، نظریہ ہے


Raheel-Sharif پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی آپریشن سے زیادہ ایک نظریہ ہے۔ یعنی فوج اس وقت ملک سے مذہبی انتہا پسندی کی بیماری کا علاج کرنے کے لئے عملی جنگ کے ساتھ فکری محاذ پر بھی سرگرم عمل ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ یہ بیان کسی سیاست دان کی بجائے پاک فوج کے سربراہ نے دیا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کل شام گوادر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسے قومی لیڈر کے طور پر باتیں کیں جو اندرونی انتشار کے علاوہ، اقتصادی، خارجی اور دفاعی امور پر دسترس بھی رکھتا ہے اور ان سب پہلوؤں کے حوالے سے ایک واضح ایجنڈے پر گامزن بھی ہے۔ ایک لحاظ سے یہ باتیں خوش آئند ہیں کہ ملک کا کوئی لیڈر خواہ وہ فوج کا سربراہ ہی کیوں نہ ہو، ان معاملات کا ادراک رکھتا ہے جو اس وقت ملک کی معاشی ترقی، عالمی سطح پر احترام اور خارجی معاملات کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال اٹھنا لازم ہے کہ فوج کے باوردی سربراہ کو یہ باتیں کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے۔ اسے کیوں بلوچستان میں کھڑے ہو کر دنیا کو بتانا پڑا ہے کہ بھارت کی ایجنسی ’را‘ سمیت پاکستان دشمن ایجنسیاں پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کے عوام اور پاک فوج ان عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔

گزشتہ ماہ کے شروع میں بھارت کے حاضر سروس نیول آفیسر کی گرفتاری کے بعد کسی قومی لیڈر کا یہ پہلا واضح اور دو ٹوک بیان تھا۔ کلبھوشن یادیو کو پکڑ کر کسی عام جاسوس کی گرفت نہیں کی گئی ۔ بلکہ وہ بھارتی نیوی میں کمانڈر کے عہدے پر فائز ہے اور کئی برس سے ’را‘ کے لئے کام کررہا ہے۔ اس کا مقصدصرف پاکستان کے دفاعی راز چرانا نہیں تھا بلکہ اس لحاظ سے اس کی سرگرمیاں نہایت تشویشناک تھیں کہ اس نے بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کرنے اور بدامنی پھیلانے کے لئے ایک نیٹ ورک بنایا ہؤا تھا۔ وہ ایران میں بیٹھ کر اس نیٹ ورک کو کنٹرول کرتا تھا اور ساحلی راستے سے گوادر میں داخل ہو کر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے تخریب کاری کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔ اسے پاکستان کی کمزور سفارت کاری ہی کہنا چاہئے کہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور اس کے سرغنہ کو پکڑنے کے باوجود عالمی میڈیا نے اس واقعہ کو دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان چپقلش سے زیادہ اہمیت نہیں دی ۔ ملک کے سیاسی لیڈر اس حوالے سے عالمی رہنماؤں کی توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔ وزیر اعظم نے کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد دو بار قوم سے خطاب کیا ہے لیکن انہوں نے اس اہم مسئلہ پر گفتگو کرنے اور قوم کو اپنی حکومت کے اقدامات سے آگاہ کرنے سے گریز کیا۔

پاک فوج کے سربراہ اس سے پہلے بھی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر قرار دیتے رہے ہیں ۔ انہوں نے فوج کا ایک خصوصی ڈویژن بھی چینی ماہرین اور کارکنوں کی حفاظت کے لئے قائم کیا ہے۔ انہیں اندازہ ہے کہ ملک میں انتہا پسندی ختم کئے بغیر کسی اقتصادی منصوبے کی کامیابی کا امکان نہیں ہے۔ اسی لئے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے علاوہ ، انتہاپسندی کے خاتمہ اور بدعنوانی کے خلاف مہم جوئی کی جارہی ہے۔ سیاسی لیڈروں نے ان اقدامات کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے اور ابھی تک ایسے سیاسی فیصلے کرنے میں ناکام ہیں جو فوج کے اقدامات کو مستقل انتظام میں تبدیل کرسکیں۔ سیاسی رہنما یہ اعلان ضرور کرتے ہیں کہ فوج ملک کی سیاسی قیادت کی رہنمائی میں آپریشن کررہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بوجوہ ملک کے سیاست دانوں کو فوج کی ان پر عزم کارروائیوں کی اونر شپ OWNERSHIP لینے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ سندھ کے بعد پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے حوالے سے سیاسی لیڈروں کی پریشانی اور بے چینی سے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔

کل شام پاک فوج کے سربراہ نے قومی مسائل پر صاف اور کھرے لہجے میں بات کی ہے اور دوست و دشمنوں کو یکساں طور سے واضح پیغام دیا ہے کہ قومی مفادات اور ملک کے مستقبل سے جڑے منصوبوں پر سودے بازی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی ان کے خلاف تخریب کاری کو برداشت کیا جائے گا۔ ایک ڈیموکریٹ کے طور پر یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ جنرل راحیل شریف نے اپنے عہدے کے مینڈیٹ سے بڑھ کر بات کی ہے۔ لیکن دہشت گردی، ملاؤں کی انتہا پسندی ، دشمن کی ریشہ دوانیوں اور غربت و افلاس سے عاجز آیا ہؤا عام آدمی ان نزاکتوں کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اسے تو یہ سننا اچھا لگتا ہے کہ کوئی لیڈر قومی ذمہ داری محسوس کرتا ہے اور لوگوں کی تکلیف دور کرنا چاہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو ان مقاصد کے لئے منتخب کیا جاتا ہے وہ کب اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں گے اور کس طرح اس قوم کو یقین دلائیں گے کہ وہ ان کے مسائل کو سمجھتے بھی ہیں اور انہیں حل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا فوج تن تنہا ان مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ ماضی میں ایسی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے۔ آخر وہ کون سا انقلاب ہے جو سیاست دانوں کو ہوش کے نا خن لینے پر آمادہ کرسکے تاکہ وہ ذاتی مفاد، ہوس اقتدار اور پارٹی پالیٹکس سے بالا ہوکر یہ اہم مسائل حل کرنے کے لئے حکمت عملی پر عمل کرسکیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali