زندگی کی پہیلی سے ایک اور پردہ اٹھتا ہے


aasimمیسا چوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فزکس کے چونتیس سالہ  اسسٹنٹ پروفیسر جیرمی انگلینڈ لفظوں کی کائنات کے اسیر ہیں اور ان کی تہہ میں  غواصی سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ ’شعور‘، ’علم‘، ’انفارمیشن‘ وغیرہ جیسے الفاظ کے استعمال سے ذرا پرہیز ہی کرتے ہیں  کیوں کہ ان کی رائے میں یہ الفاظ  اپنے اندر معنی کی لاانتہا تہیں رکھتے ہیں۔ ان کی یہ احتیاط بجا  معلوم ہوتی ہے کیوں کہ وہ  ’منتشر مطابقت پذیری ‘ نامی  ایک ایسی نئی سائنسی تھیوری کے خالق ہیں  جو  بے جان مادے  اور سادہ   ترین اجزاء سے پیچیدہ حیات کی تخلیق کی وضاحت کرتی ہے۔ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی اس تھیوری کے باعث انہیں  سائنسی حلقوں  میں اگلا چارلس ڈارون  بھی کہا جا رہا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ  انگلینڈ کی تھیوری  حیاتیاتی نظریہ بندی کے ساتھ ساتھ لسانیاتی مباحث سے بھی اتنی ہی متعلق ہے۔

آج دنیا میں کم و بیش اڑسٹھ ہزار مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہر لفظ کا  ترجمہ بعینہٖ اصل معنی ادا  کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور کچھ الفاظ کے معنی تو دراڑوں سے نیچے گرتے محسوس ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر  یہی دیکھ لیجئے کہ انگریزی لفظ ’تھیوری‘ کا اردو  متبادل ’نظریہ‘ وہ معنی ادا کرنے سے قاصر ہے جو سائنسی ثقافت میں  لفظ ’تھیوری ‘ کے ہیں۔ جاپانی لفظ  ’وابی سابی‘ جس کے معنی  ناتمامی اور ادھورے پن میں حسن و جمال کی تلاش  کے ہیں، انگریزی جیسی مغربی زبانوں میں ترجمے کے قابل ہی نہیں۔ اسی طرح سائنسی علوم  کی مختلف شاخیں بھی اپنے تئیں زبانیں ہی ہیں  اور  سائنسی وضاحت کا عمل ترجمے کی طرح ہے۔ مثال کے طور پر سائنسی تناظر میں ’سرخ‘ رنگ بصری طیف  کے اندر  ایک مخصوص پیمائش کی طول ِموج  کے طور پر  سمجھا جاتا ہے اور ’حرارت‘ کی توضیح   ایٹمی ذرات  کے اوسط بہاؤ کے ذریعے  کی جاتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ ترجمے یا توضیح کا یہ عمل  جتنا پیچیدہ ہو گا اتنی  ہی وسعتِ معنی کا حامل ہو گا۔ اسی لئے  ’کشش ثقل‘ کے معنی ’زمان ومکان کی جیومیٹری‘ کے ہیں۔

jerempjW2لہٰذا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے کیا معنی ہیں؟ حیات کیا ہے؟  ظاہر ہےہمارا خیال یہی ہوتا ہے کہ ہم زندگی کو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔ڈارون کی تھیوری  یہاں تک  تو وضاحت کرتی ہے کہ  مختلف مظاہرِ حیات ارتقاء کے نتیجے میں کسی طرح  دوسرے مظاہر میں ڈھلتے ہیں  لیکن   یہ واضح نہیں ہوتا  کہ ایک چڑیا اور چٹان  میں کیا فرق ہے جب کہ دونوں ہی طبیعاتی قوانین  کی حدود میں رہتے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں’’  حیات‘‘ کے طبیعاتی معنی کیا ہیں؟ ایک رائے یہ بھی ہے کہ  یہ لفظ ناقابلِ وضاحت  ہے لیکن  یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اب تک اسے کوئی ایسا مترجم ہی نہ مل سکا ہو جس کا فن اس کی پیچیدگی کے شایانِ شان ہو۔

جب دوسرے بارہ سال بچے کہانیوں رسالوں میں مشغول تھے اس وقت  جیرمی انگلینڈ   بچوں کے لئے لکھی گئی’جینیاتی کارٹون گائیڈ‘ جیسی کتابوں کے مطالعے میں غرق رہتے تھے۔ ان کی اولین دلچپسی کا سوال یہی تھا کہ کیمیائی سالمے  کس طرح مل جل کر  کچھ بامعنی اشکال  میں سامنے آتے ہیں اور افعال انجام دیتے ہیں؟ مثال کے طور پر ڈی این اے جیسے لحمیاتی مادوں  پر تجزیاتی نگاہ ڈالی جائے تو وہ  اپنی کیمیائی بنیادوں میں  قلمی شکر اور فاسفورک ایسڈ  کے اجزاء کا مرکب ہیں۔ انگلینڈ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی کہانی ایک خاص طریقے سے سنائی جائے تو بالکل معقول طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ سب کسی طے شدہ مقصد کی جستجو میں  ایک دوسرے  کے ساتھ مل کر ایک مرکب تخلیق کر رہے ہیں لیکن اگر انہیں علیحدہ کر دیا جائے تو ہر ذرہ   محض بے جان مادہ  ہے جو یا تو کپکپا سکتا ہے یا گھوم سکتا ہے۔ ہارورڈ میں پہنچ کر انگلینڈ کے سامنے موجود اس پہیلی نما خاکے کو  کچھ نئے رنگوں سے  مزید تقویت ملی  جہاں انہوں نے  ایک نوجوان طالبعلم کی حیثیت سے  پروٹین کی لحمیاتی تہوں پر   تحقیقی مطالعے کا آغاز کیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہاں ہر پروٹین اپنی اپنی جگہ  کم و بیش ایک جیسے بیس لحمیاتی مادوں کا مرکب ہے   لیکن ایک مخصوص شکل  میں ُبنت  کے ساتھ ہی  ایک بامعنی حیاتیاتی نظام کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔  انگلینڈ کا کہنا ہے کہ لحمیاتی مادے آپ کو نظمیں لکھ کر تو نہیں دے سکتے لیکن  ان میں سے چند سو کو ایک زنجیر میں پروتے ہی  یہ ایک ایسی مشین محسوس ہوتی ہے جو کسی خاص مقصد کے لئے بنی ہو۔

glZWWqmvیہ سب کچھ اسی طرح ہے کہ بالکل نابینا چرخیوں کے گھومنے سے یک دم ایک بامقصد شے کا ظہور ہو جائے۔  یہ تمام اجزاء  جو اپنی انفرادی حیثیت میں  تو  بنیادی طبیعاتی قوانین  کے تحت تھے،  اکھٹے ہوتے ہی فعال ہو جاتے ہیں۔ طبیعات کی دنیا  میں  یہ فعلیت معدوم محسوس ہوتی ہے۔ زمان و مکان کسی واضح مقصد کے لئے  تو موجود نہیں  بلکہ محض موجود ہیں۔ لیکن حیاتیاتی تناظر میں  ایک مرکب  نظام  کسی فعل کی خاطر  وجود میں آتا ہے۔  یعنی وہ حرکت کرتا ہے،  نشو نما سے گزرتا ہے اور تخلیقی عمل میں مصروف رہتا ہے۔ یہ لفظ ’فعلیت‘ ہی  جاندار وجود اور بے جان وجود کے درمیان  امتیازی سرحد کا کردار ادار کرتا ہے۔ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا یہ لفظ محض ان چیزوں کے لئے مخصوص ہے جن پر زندہ ہونے کا گمان ہوتا ہے یا  اس کی مزید تہیں بھی موجود ہیں؟   اپنی  پی ایچ  ڈی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے انگلینڈ  یہ  نظریہ بندی کر چکے تھے  کہ علمِ طبیعات تو یہ امتیازی سرحد قائم نہیں کرتا لیکن  علم ِ حیاتیات کرتا ہے۔

 پی ایچ ڈی کے بعد  جیرمی انگلینڈ  کبھی کبھار  اپنے بچپن کے ایک لنگوٹیے یار سے ملنے نیویارک جاتے تھے  جو  فلسفی تھے۔ وہاں  کچھ طویل  گپ شپ کے دوران وہ آہستہ آہستہ آسٹریائی  برطانوی فلسفی لڈ وگ وٹگنسٹائن سے متعارف ہوئے۔وٹگنسٹائن کا مشہور مقولہ ہے کہ کسی زبان کو متصور کرنا حیات کے کسی نئے مظہر کو متصور کرنے کے برابر ہے۔ ان کا ’لسانی کھیلوں‘ کا  تصور ابلاغ  کی   مشترکہ بنیادوں  jeremسے بحث کرتا ہے۔ جہاں لسانی فلسفے کے کچھ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ  کسی لفظ کا معنی  کائنات میں کسی شے کی جانب اشارہ کرتا ہے وہاں  وٹگنسٹائن کا استدلال یہ ہے کہ  الفاظ اپنے معانی کے لئے ثقافتی سیاق و سباق کے محتاج  ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی زبان کے بولنے والے ایک مخصوص لسانی کھیل کے کھلاڑی ہوتے ہیں جہاں زبان ایک ایسے کوڈ کی طرح ہوتی ہے جس کو فریقین اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ چونکہ وہ اس کوڈ کے استعمال یعنی کھیل کے داؤ پیچ سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں لہٰذا کم سے کم  اور سادہ سے سادہ  الفاظ میں بھی ترسیلِ معنی پر قادر ہوتے ہیں۔ کسی بھی ثقافت میں  انسانوں کے مختلف گروہ جیسے موسیقار، سیاست دان، سائنسدان وغیرہ  اپنی  ابلاغی   ضروریات کے مطابق لسانی کھیل وضع کرتے رہتے ہیں۔ یوں  نت نئے کھیلوں کے وضع ہونے کا عمل جاری رہتا ہے۔ معنی کی شکل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ لفظ معنی  کے مطابق ڈھل جاتے ہیں۔

انگلینڈ کو ایسا  معلوم ہوا کہ  وٹگنسٹائن اسی قسم کے ایک تصور کی بات کر رہے   ہیں جو انہیں  بشمول عبرانی بائبل  دوسری کئی جگہوں پر بھی نظر  آیا ہے۔ بائبل کی اُس آیت میں جہاںابتداء میں زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر ہے، ’تخلیق‘، آسمانوں‘ اور ’زمین‘  کے لئے کچھ مخصوص عبرانی الفاظ کا استعمال ہوا ہے لیکن  انگلینڈ کے بقول  ان الفاظ کے حقیقی معانی  ایک خاص سیاق و سباق ہی میں واضح ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر یہ واضح ہوتا ہے تخلیق کا عمل  اشیاء کو نام دینے کا عمل ہے اور یوں کائنات کی تخلیق اصل میں  ایک قسم کا لسانی کھیل وضع کرنے کے مترادف ہے۔ خدا نے  تخلیقِ نور کے لئے کلمہ کُن  کہا  تو روشنی کا نام لیتے ہی  سارے میں روشنی پھیل گئی۔ انگلینڈ کہتے ہیں کہ ’’ہم  یہ عبارت اتنی بار سن چکے ہیں کہ اس میں پنہاں سادہ سا نکتہ ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے۔ ہم جس روشنی کی مدد سے دنیا کو دیکھتے ہیں اس کا ہونا ہمارے مخصوص زاویۂ کلام  پر ہی منحصر ہے۔ ‘‘ اس طرح انگلینڈ یہ سوچنے پر مجبور ہوئے   کہ حیاتیاتی وضاحت کے  لئے طبیعاتی زبان کا استعمال اپنے اندر مسائل کا کون سا جہان  رکھتا ہے۔

jerekw0F3میسا چوسیٹس  انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایک نوجوان پروفیسر  کے طور پر  وہ نہ تو حیاتیاتی  تحقیق کو خیر باد کہنا چاہتے تھے اور نہ ہی نظری فزکس کو۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ زندگی میں  جب بھی وہ موڑ آئے جب آپ دو متضاد راہوں پر  ایک ساتھ سفر کرتے ہوئے  کلام کرنے پر مجبور ہوں تو آپ خود بخود ترجمے کی جانب  دھکیل دئیے جاتے ہیں۔‘‘

یہودی روایت کے مطابق ’معجزات‘ لازمی طور پر فطری قوانین   کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔اس کے برعکس  معجزہ ایک ایسا مظہر ہوتا ہے جو  آج   سے قبل ناقابلِ تصور ہو۔ معجزات کا مشاہدہ کرنے  والے لوگ اپنے مفروضوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور تناقضات کو دور کرتے ہیں۔ قصہ مختصر وہ کائنات کو ایک نئے زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

س تناظر میں کسی ایسے ماہرِ طبیعات کے لئے  حیات ایک معجزہ ہے جو دن رات  شماریاتی  میکانیات میں ڈوبا رہتا ہو۔ حرحرکیات کے دوسرے قانون کے مطابق کسی بھی مقفل نظام، جیسے کسی بند ڈبے میں گیس یا مکمل کائنات میں بے ترتیبی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہے۔ برف پگھل کر کیچڑ  بن جاتی ہے لیکن کیچڑ خود بخود  برف کا گالا نہیں بن سکتا۔ اگر کبھی ایسا منظر دیکھنے کو ملے تو آپ یہی فرض کریں گے کہ آپ ایک فلمی ریل کو الٹا چلتے دیکھ رہے ہیں جیسے وقت کا پہیہ پیچھے کو گھوم رہا ہو۔ حرحرکیات کا قانونِ دوم  ذرات  کے عظیم گروہوں پر لگائی جانے والی یہ پابندی ہے کہ وہ پیچھے نہیں مڑ سکتے اور یہی پابندی ہمارے لئے ’ماضی‘، ’حال‘ اور ’مستقبل‘ جیسے الفاظ کا کھیل ممکن بناتی ہے۔ وقت کا بہاؤبے ترتیبی کی سمت میں ہے۔ تاہم حیات کا بہاؤ اس کے مخالف رخ پر ہے۔ ایک سادہ، بے جان سا بیج  ایک پیچیدہ ساخت رکھنے والے پھول میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بے جان زمین درختوں اور جنگلوں سے بھر جاتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ  وہ ایٹم جنہیں ہم ’حیات‘ سے منسوب کرتے ہیں  کائنات کے باقی تمام ایٹموں سے اس حد تک مختلف ہوں؟

jerefig1944 میں مشہور ماہرِ طبیعات ایرون شروڈنگر  نے ایک کتاب ’زندگی کیا ہے؟‘ میں اس سوال پر بحث کی۔ اس  کا کہنا تھا کہ زندہ  نامیاتی اجسام ڈبے میں بند کسی گیس کے برعکس غیر مقفل نظام ہوتے ہیں۔ یعنی وہ  اپنے اور  اپنے سے باہر موجود  ماحول  کے درمیان  توانائی  کی باہم ترسیل جاری رکھتے ہیں۔ زندگی اپنی داخلی ترتیب  برقرار رکھے تو بھی قانونِ دوم کے مطابق  ماحول کی جانب حرارت کی ترسیل  کائنات میں مجموعی طور پر ناکارگی یابے ترتیبی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی شروڈنگر نے ایک دوسری پہیلی کی جانب اشارہ بھی کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ میکانی عمل جو  وقت کی سمت کو متعین کرتا ہے زندگی کی سمت کو متعین کرنے والے میکانی عمل سے مختلف ہے۔ وقت کی سمت اعداد کی کثرت کے شماریاتی قانون  کے باعث متعین ہوتی ہے یعنی  جب ایٹموں کی تعداد بہت زیادہ ہو تو  بے ترتیبی کے مظاہر زیادہ ہونے کے باعث واپس ترتیب کی جانب سفر کا احتمالی دائرہ  صفر تک محدود ہے۔ لیکن حیاتیاتی تناظر میں  ترتیب اور واپسی کا سفر ایک خوردبینی درجے پر ہے جہاں ایٹموں کی تعداد کہیں کم ہے۔ اس درجے پر  ایٹموں کی تعداد اس حد تک نہیں پہنچتی کہ  شماریاتی طور پر قانونِ دوم لاگو ہو سکے۔ مثال کے طور پر   ایک مرکزی خلیہ  جو  آر این اے اور ڈی این اے کا ایک بنیادی جزو ہے صرف تیس ایٹموں سے مل کر بنتا ہے۔ پھر بھی شروڈنگر  کے مشاہدے کی رو سے  جینیاتی کوڈ  ایک ناممکن حد تک  ترتیبی مظہر رکھتا ہے جو کئی دفعہ لاکھوں نسلوں تک حد سے زیادہ بے ترتیبی کا شکار نہیں ہوتا۔ شروڈنگر کے الفاظ تھے کہ  ’’ اس قسم کا ثبات معجزانہ حدو ں کو چھوتا ہے۔‘‘ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ایک  جین کسی طرح موت سے برسرِ پیکار ہوتی ہے؟ وہ اپنے ہی لاغر پن  کے وزن تلے دب کیوں نہیں جاتی؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ شماریات سے کچھ گہرا ہے، کچھ تو ایسا ہے  کہ ایٹموں کے ننھے ننھے گروہ خود کو اپنے تسموں سے پکڑ کر کھینچتے ہیں اور ایک ’زندہ‘ مظہر بن جاتے ہیں۔

پچاس سال کے بعدپردہ مزید اٹھا  جب ایک برطانوی کیمیا دان گیون کروکس  نے ریاضیاتی تناظر میں  پہلی بار خوردبینی  غیر رجعیت کی وضاحت کی۔ ۱۹۹۹ میں شائع ہونے والی ایک ہی ریاضیاتی مساوات کے ذریعے اس نے یہ دکھایا کہ ایک خارجی توانائی سے چلنے والا ایک غیر مقفل نظام  واپسی کے امکانات کے بغیر اس وقت تک تبدیلی سے گزرتا رہتا ہے جب تک وہ اس دوران  توانائی کو  منتشر کرتا رہے۔

ایک لمحےکو تصور کیجئے کہ  آپ کسی باڑ  کے سامنے کھڑے ہیں۔ دوسری طرف پہنچنا چاہتے ہیں لیکن باڑ اتنی اونچی ہے کہ چھلانگ لگانا ناممکن ہے۔ پھر ایک دوست آپ کو  ایک ایسی چھڑی تھماتا ہے جس کے بل پر اچک کر  آپ باڑ کے دوسری جانب پہنچ سکتے ہیں۔ایک دفعہ دوسری جانب پہنچنے کے بعد آپ اسی چھڑی کے استعمال سے واپس بھی  آ سکتے ہیں۔  توانائی کا یہ خارجی  منبع  (یعنی چھڑی) آپ کو ایک ایسی تبدیلی کی اجازت دیتی ہے جہاں واپسی ممکن ہے۔

jeremIQz

اب تصور  کیجئے کہ چھڑی کی بجائے  آپ کا دوست آپ کو ایک چھوٹی سی پھلجھڑی تھماتا ہے  جو چھوٹتے ہی آپ کو بھی ساتھ  لے جاتی ہے۔ جوں ہی آپ باڑ کو عبور کرتے ہیں بارود  فضا میں منتشر ہونے لگتا ہے اور زمین پر پہنچنے کے بعد اب واپسی کے راستے معدوم ہیں۔ یہاں تبدیلی کا عمل یک طرفہ ہے۔

کروکس  نے  یہ ثابت کیا  کہ ایٹموں کا ایک مجموعہ اسی طرح توانائی کے ایک  انشقاقی عمل سے ایک نئی ترتیب میں ڈھل جاتا ہے جیسے باڑ کے دوسری جانب آ گیا ہو۔ اگر تبدیلی کے دوران توانائی  منتشر ہو جائے  تو واپسی کا عمل ناممکن ہوتا ہے۔ ہاں وہ مزید توانائی کے استعمال  سے واپس پہلی صورت میں ڈھل سکتے ہیں اور ایسا کئی بار ہوتا بھی ہے۔ لیکن اکثر نہیں بھی ہوتا۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ توانائی کے ایک اور انشقاق سے  کسی  نئی حالت میں ڈھل جاتے ہیں اور دوبارہ توانائی منتشر کر دیتے ہیں۔یوں حالت تبدیلی سے گزرتی رہتی ہے۔ لہٰذا   توانائی کے منتشر ہونے کا یہ عمل تو  واپسی کو حتمی طور پر ناممکن نہیں بناتا، لیکن واپسی کے ناممکن ہونے کے لئے توانائی کا منتشر ہونا ضروری ہے۔

کروکس کے نتائج عمومی تھے جن   کا اطلاق  حیات سمیت کسی بھی غیرمتوازن نظام  کی قلب ماہیت پر ممکن تھا۔ انگلینڈ کے بقول  یہاں ’’ ایک بہت جسیم کئی اجسام پر مشتمل نظام کے بارے میں سوالیہ نشان قائم تھے جہاں توانائی کا بہت زیادہ انتشار ہو۔ یوں معلوم ہوتا تھا  کہ نتائج درست ہیں لیکن  شاید ریاضیاتی تناظر میں ان کی عملی تشکیل   مشکل تھی۔‘‘ ۲۰۱۳ میں انگلینڈ ایک لیکچر کے سلسلے میں   کیلیفورنیاگیا تو وہاں اپنے ہوٹل کے کمرے میں کروکس کی مساوات کے متغیرات سے چھیڑ خانی کرتا رہا۔ کروکس کی مساوات  سے یہ واضح تھا کہ حیات  جیسے کسی پیچیدہ نظام  کی غیر رجعیت  خاص طور پر  حرارت (توانائی) کے ایک مستحکم  انجذابی اور انتشاری عمل سے مشروط ہے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ خاکہ ابھی مکمل نہیں۔

Jeremy_England_spanانگلینڈ کا کہنا ہے  کہ یہ ’’ کسی بنیادی نکتے کے ارد گرد  آوارہ گردی کرنے جیسا احساس تھا۔ آخر آپ تھک ہار کر سو جاتے ہیں اور ایک ساتھ مختلف چیزوں کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں۔ پھر واپس اسی جانب آتے ہیں تو کبھی کبھار دیوار میں ایک روزن نمودار ہو چکی ہوتی ہے۔ وقت گزرنے سے آپ کے کشف میں تبدیلی آتی ہے۔‘‘

بالآخر کل پرزے اپنی جگہ پر بیٹھنے لگے۔توانائی کے ایک مخصوص منبع کی موجودگی میں  ایٹموں کے کچھ مجموعے  دوسروں کی نسبت انجذاب اور انتشار میں  بہتر ہوں گے۔ یہ  ترتیبی  اشکال  اپنے اندر زیادہ امکان رکھتی ہوں گی کہ   ایسی قلبِ ماہیت سے گزر سکیں جہاں واپسی کا احتمال نہ ہو۔ اگر ایک نظام  وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  دوسروں کی نسبت یہ بہتر کر سکے  تو کیا ہوگا؟  غیر رجعی   تبدیلیوں کا یہ سلسلہ  ایک ایسے مجموعی اثر  میں ڈھل جائے گا  جہاں وہ خود کو تسموں سے پکڑ کر کھینچنے پر قادر ہو گا۔ آخرکار انگلینڈ نے  حرحرکیات کے قانونِ دوم کی  ایک ایسی عمومی شکل متوارف کروائی جو کسی نظام کی  انتشاری تاریخ  کو نظر انداز نہ کرتی ہو۔ اس کا دعوی ہے کہ یہ عمومی قانون زندگی کی فعلیت اور ساخت  کے نمودار ہونے پر مزید روشنی ڈالتا ہے۔ ہم پچھلے سال شائع ہونے والے انگلینڈ کے مقالے سے یہ اقتباس انگریزی ہی میں نقل کرتے ہیں:

While any given change in shape for the system is mostly random, the most durable and irreversible of these shifts in configuration occur when the system happens to be momentarily better at absorbing and dissipating work. With the passage of time, the “memory” of these less erasable changes accumulates preferentially, and the system increasingly adopts shapes that resemble those in its history where dissipation occurred. Looking backward at the likely history of a product of this non-equilibrium process, the structure will appear to us like it has self-organized into a state that is “well adapted” to the environmental conditions. This is the phenomenon of dissipative adaptation.

ظاہر ہے کہ  ایک ایٹموں کا کوئی بھی نظام  کسی مقصد کے تحت  تو کچھ نہیں کر رہا، وہ تو بس اندھا دھند، اِدھر اُدھر،  بے ترتیبانہ  ٹکریں مارنے میں مشغول ہے۔ لیکن  پھر بھی  ایک شکل سے دوسری شکل کی جانب سفر کے دوران  وہ کئی کیمیائی کہانیاں تخلیق کرتا ہے  اور  آہستہ آہستہ ایک ایسی شکل میں ڈھل جاتا ہے جو ہمیں  مطابقت پذیری محسوس ہوتی ہے۔ وٹگنسٹائن کا کہنا تھا کہ ’’زبان راستوں کی ایک بھول بھلیاں ہے‘‘۔ انگلینڈ کو بھی یہ ترجمے کے مسئلے کی طرح ہی محسوس ہوا۔  پوچھا جائے کہ آپ ’حیات‘ کو طبیعاتی زبان میں کیا کہیں گے تو ان کا جواب ہو گا: ’’منتشر مطابقت پذیری‘‘۔

jerem2یوں معلوم ہوتا ہے  یہ تھیوری ہمیں  محض سورج کی حرارت  کم کرنے کے لئے ایک   شے تک محدود کئے دے رہی ہے لیکن اس کے گہرائی کہیں زیادہ ہے۔ ڈاروینی  بقائے اصلح  کے نظرئیے  کو منتشر مطابقت پذیری  کے ایک عمومی مظہر کے طور پراز سرِ نو وضع کیا جا سکتا ہے یعنی ایک مزید بنیادی زبان کا ایک لہجہ۔ اس کے علاوہ یہ تھیوری  ہمیں ان سوالات پر  ازسرِ نو غور کرنے پر اکساتی ہے جو حیات کو  ایک امتیازی مظہر  بناتے ہیں۔ انگلینڈ کہتے ہیں کہ  اب ہمارے پاس ’’فعلیت کو ڈھونڈنے کی جگہوں میں مزید لچک پیدا ہو چکی ہے۔ لاغر ننھے ذرات  کے مجموعوں سے کسی مضبوط باہمی   اشتراک کے بغیر  پیچیدہ فعلیت کا ظہور  ایک ایسا  نظام ہے جسے اب چھوٹی چھوٹی غیری رجعی تبدیلیوں میں توڑ کر تجزئیے کے عمل سے گزارا جا سکتا ہے، ایسی تبدیلیاں جو  خارج سے کسی  توانائی کی محتاج ہوں۔ لحمیاتی مادوں کے  ظہور کا مسئلہ شاید اب ہماری سوچ سے زیادہ سہل ثابت ہو۔  یہ شاید اب زمانوں پر محیط لحمیاتی مادوں  کا  اپنے آپ کو دہرانے  کا مسئلہ نہ ہو بلکہ شاید  زمانی درجے ہمارے تصور کی نسبت تیز ثابت ہوں۔

یہ ترجمے کے عمل  کی ایک حیران کن  طاقت ہے۔ اگر  اس تناظر سے مزید  کامیابی  کے شواہد ملے تو یہ  منتشر مطابقت پذیری  کے حق ہی میں ایک دلیل ہو گی۔ ہمیشہ کی طرح کچھ سائنسدان جیرمی انگلینڈ کے ساتھ ہیں اور کچھ متذبذب۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں حیاتیاتی نظام کے  ایک ماہر اہلِ علم  کا کہنا ہے کہ ’’جیرمی امید کر رہے ہیں کہ وہ کیمیائی تناظر کو ترک کرتے ہوئے  زندگی  کے  مجرد بنیادی مظاہر کو ایک طبعی ناگزیریت کے طور پر دیکھیں۔ میں قائل تو نہیں ہو سکا  لیکن مجھے خوشی ہے کہ وہ اس  مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور نتائج  دلچسپ ہوں گے۔‘‘

جو کہ ایک معقول بات ہے۔ امبرٹو ایکو  کے بقول ’’ترجمہ ناکامی کا فن ہے۔‘‘ ابھی  ترجمے کی اس نئی کاوش کی ناکامیاں اور سمجھوتے  دریافت ہونا باقی ہیں۔شاید زندگی کی پیچیدگیاں  ظاہر کرنے کے لئے ایک زبان پر انحصار کرنا ضروری ہی نہیں۔ لیکن انگلینڈ کی خواہش ہے کہ ہم اس نئی زبان کو استعمال کر کے تو دیکھیں۔ پچھلے سال ایک مجلے میں انہوں  نے یہی  بات اس طرح لکھی : ’’کائنات کی وضاحت کے لئے ایک سے زیادہ زبانیں موجود ہیں اور خدا یہی چاہتا ہے کہ انسان ان تمام زبانوں میں بات کرے۔‘‘

نوٹ: یہ  تحریر انٹرنیٹ پر موجود ایک حالیہ  مضمون  کی تلخیص و ترجمہ ہے جس کی  تحریک کے لئے میں برادرِ کبیر  عثمان قاضی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اصل مضمون یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے: http://nautil.us/issue/34/adaptation/how-do-you-say-life-in-physics 


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 48 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

9 thoughts on “زندگی کی پہیلی سے ایک اور پردہ اٹھتا ہے

  • 13-04-2016 at 6:49 pm
    Permalink

    So when Allah told Adam the name of all things on Earth, all those things begin to take shape. Is that when all that information is imprinted on our DNA and we have been in the process of discovering it. Is that what it mean by Knowledge is the lost heritage of the Muslim.

  • 14-04-2016 at 2:48 am
    Permalink

    Interesting and mind boggling

    نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
    رہا یہ وہم کہ ہم ہیں، سو وہ بھی کیا معلوم
    فانی

  • 14-04-2016 at 12:57 pm
    Permalink

    ایک تصحیح کرنا چاھوں گا کہ یہ حضرت پروفیسر نہیں بلکے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ، مزید یہ کے dissipative-driven adaptation کا ترجمہ مزاحیہ سا لگا ہے, بہرحال عمدہ کاوش ہے.

    • 15-04-2016 at 5:44 am
      Permalink

      محترم ڈاکٹر ابوالحسن صاحب، تصحیح ضرور فرمائیں لیکن کس بات کی؟ عاصم بخشی نے پہلی سطر ہی میں 34 سالہ اسٹنٹ پروفیسر کہا ہے اور پروفیسر نہیں لکھا۔ اگر کسی پروفیسر صاحب کو اپنی کاغذی عظمت میں کوئی کمی محسوس ہوئی ہے تو اس میں ڈاکٹرعاصم بخشی صاحب کا کوئی قصور نہیں، محض کسی کم سواد کا احساس عدم تحفظ کارفرما ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انگلینڈ جیرمی پروفیسر ہیں یا اسٹنٹ پروفیسر۔ علمی مقام انتظامی منصب کے تابع نہیں ہوتا۔ بنیادی نکتہ تو محترم انگلینڈ کی علمی رائے ہے جس پر سوال اٹھانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایک علمی اصطلاح کے ترجمے میں مزاحیہ پہلو دریافت کرنے کے لئے بلا کی خود رائی درکار ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل اردو ترجمے ہی کو پرکھتے رہیں گے یا کبھی معنی کی جستجو بھی کریں گے۔ سو برس پہلے محی الدین آزاد اور عبدالماجد (بی اے) بھی لفظوں کے ترجمے میں اختلاف پر تلخ کام ہوا کرتے تھے۔ کیا ہم نے سو برس میں کوئی ترقی کی ہے؟

      • 15-04-2016 at 3:02 pm
        Permalink

        محترم وجاہت صاحب آپ نے اتنی جناتی زبان میں ہماری گوشمالی کی ہے کہ بس لطف آگیا .یہ ہیمچدان آپ سے دست بستہ معافی کا خواستگار ہے امید ہے درگزر فرمائیں گے. آپ نے صحیح فرمایا کے انہوں نے ابتدا میں اسسٹنٹ پروفیسر ہی لکھا تھا بس آگے تھوڑا قلم چوک گیا سو ہم نہ چوکے (پاکستانی جو ٹھہرے ) . اور جناب کسی علمی کام میں مزاح کا پہلو دریافت کرنا خود رائی نہیں بلکہ بس تھوڑی مزاج کی شگفتگی ہے. بقول ابن صفی “آدمی سنجیدہ ہو کر کیا کرے جبکہ اس کو معلوم ہے کہ اس نے اپنی سنجیدگی سمیت قبر میں اتر جانا ہے “.جناب اگر کہیں آپ کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ فدوی پروفیسر ہے یا پروفیسری کی کسی دوڑ میں شامل ہے تو جناب ابھی تو میں postdoctoral کر رہا ہوں ہنوز دلی دور است.

  • 14-04-2016 at 3:27 pm
    Permalink

    its a great effort
    me hamesha sy sura asar ki ayat ko 2nd law of thermodynamics smjhta hun k”qasm hai zamany ki k insaan khasary me hai” khuda ny khuid waqt k lihaaz sy entropy k barhny ka ishara dia hai. magr hayat ki direction matter ki direction k opposite hai toe phr insaan ka khasar ousi surat me smjh ata hai agr wo hyatiati miraj py hai jahan sy mazeed order namumkin ho.

  • 15-04-2016 at 9:08 am
    Permalink

    محترم ڈاکٹر ابوالحسن صاحب، تبصرے کا بہت شکریہ۔ اگر آپ نے پورا مضمون ملاحظہ کیا ہو تو آخر میں امبرٹو ایکو کا ایک جملہ نقل ہے کہ ترجمہ فنِ ناکامی ہے یعنی بعینہِ دوسری زبان میں مفہوم ادا کرنا ویسے تو ایک کارِ عبث ہے لیکن کسی نہ کسی حد تک سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ ترجمے میں کسی حد تک سند بھی کام آتی ہے لیکن نئی اصطلاحات کے لئے بہرحال کچھ نہ کچھ وضع کرنا پڑتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کا تخصص biological physics ہے یا نہیں لیکن کم از کم میرا تحقیقی کام physiological signal processing اور electrophysiology سے تعلق رکھتا ہے اور systems biology پر میری معلومات بس واجبی سی ہیں۔ آپ کی اصطلاح dissipative-driven adaptation یقیناً مستعمل ہے لیکن ترجمے کے تناظر میں میرے پیشِ نظر جیرمی انگلیںڈ صاحب کا Nature Nanotechnology میں ۴ نومبر ۲۰۱۵ کو شائع ہونے والا مقالہ تھا جس کا عنوان Dissipative adaptation in driven self-assembly ہے۔ ہر مترجم کی طرح میرے سامنے بھی انتخاب کا مسئلہ تھا کہ میں ’مطابقت‘، ’موافقت‘، ’توافق‘ یا پھر سادہ طور پر ’تبدیلی‘ میں سے کون سا لفظ استعمال کروں۔ یہاں مسئلہ مفہوم کے قریب ترین پہنچنے کا ہے، جہاں ذہن میں ایک ایسے قاری کو فرض کرنا ہے جو انگریزی کی نسبت اردو زیادہ آسانی سے پڑھتا اور سمجھتا ہے۔ اسی لئے میں نے ’انتشارانہ‘ کی بجائے ’منتشر‘ کو ترجیح دی کیوں کہ اول الذکر اردو میں ایک خاص معنی میں استعمال ہوتا ہے ورنہ ’منتشر‘ اصل میں dissipated کا ترجمہ ہے نہ کہ dissipative کا۔ میں اسے ’منتشر کنندہ‘ نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کہ ترکیب غیر ضروری طور پر طویل ہوتی تھی۔ شاید آپ کو یہ اسی طرح مزاحیہ معلوم ہوا جیسے میرے بارہ سالہ بیٹے کو inkpot کی جگہ ’دوات‘ کا لفظ مزاحیہ معلوم ہوتا ہے۔ بس کیا کیا جائے۔ یہ ترجمے کا عمل بس ہنسی مذاق ہی ہے۔

  • 15-04-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    ایک بہترین کاوش. میرے خیال میں ایک مشکل theory کو اس سے بہتر زبان میں ادا کرنا بہت مشکل ہے. عاصم صاحب کا زیادہ سے زیادہ شکریہ ادا کرناواجب یہے کہ وہ ہماری نئی نسل کو سوچنے پر مجبور کرنے والی تحقیقات سے روشناس کرنے کی اچھی کوشش کر رہے ہیں۔

  • 19-04-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    بہترین۔۔۔
    دماغ کو ورزش کرانی ہو تو عاصم بھائی کی تحریر پڑھ لینی چاہیے۔۔۔
    اور ہم ہردسویں دن یہ ورزش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ جب عاصم بخشی بھائی انگریزی لنک لگانے کے بجائے اردو میں کچھ لکھتے ہیں۔۔۔
    جزاک اللہ خیرا

Comments are closed.