بابا ہوٹل سے ملتان ٹی ہاﺅس تک


razi uddin razi14جنوری کی شام میں ملتان ٹی ہاﺅس میں بیٹھا تھا لیکن درحقیقت مَیں بابا ہوٹل میں تھا۔ اور یہ 2016ءبھی نہیں تھا۔ میرے سامنے تو 1983ءکا منظر تھا۔ ٹوٹے پھوٹے میز ،عام سی کرسیاں اور قدآور شخصیات۔ چشمِ تصور نے دیکھا کہ پہلی میز پر حیدرگردیزی اوران کے ساتھ سلمان غنی بیٹھے تھے۔ارشد ملتانی بھی اسی میز پر جلوہ افروز تھے۔ہوٹل میں داخل ہوتے ہی سگریٹ کا دھواں ،چائے کی مہک اور مختلف میزوں سے ابھرنے والی آوازیں آپ کواپنی طرف متوجہ کرتی تھیں۔عموماً ڈاکٹر محمد امین بھی اپنی سرخ رنگ کی ہنڈا  50 پر یہاں تشریف لاتے تھے۔ دوپہر کے 12بجے کے بعد بابا ہوٹل میںان کی مخصوص آواز سنائی دیتی تھی۔”محمد امین سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ نوجوانو میں نے لال کتاب میں تمہارا نام لکھ لیا ہے۔میں تمہاری شکایت کروں گا۔“ایسا ہی ایک خوبصورت انداز پروفیسر انور جمال کاہوتاتھا۔حیدرگردیزی کا بلند آہنگ قہقہ سنائی دیتا تھا۔اور وہ محبت بھرے لہجے میں ڈاکٹر امین کو ڈاک دار امین کہتے تھے کہ امین صاحب شہر بھر کی خبریں اپنے ساتھ لاتے تھے اور پھر سرگوشی کے انداز میں بلند آواز کے ساتھ سب کچھ شاہ صاحب کے گوش گزار کر دیتے تھے ۔ارشدملتانی صرف مسکراتے تھے اور اس سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اس ماحول سے لطف اندوزہوتے تھے۔صحافیوں میں سعید صدیقی اس ہوٹل کے مستقل رکن تھے۔سیاسی کارکن، ریڈیو کے صداکار،سٹیج کے اداکار ،وکلاءسمیت ہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی آمدورفت یہاں دن بھر جاری رہتی تھی۔یہیں ہم قمرالزماں بٹ کوبھی دیکھتے تھے جو اب نامورماہرقانون ہیں۔ خورشید خان، ملک بشیر اعوان، صادق خان ، طفیل ابن گل، قمرر ضا شہزاد، غضنفر علی شاہی، نذرعباس بلوچ، اقبال ناظر بلوچ، ہاشم خان، کرامت گردیزی، منیر فاطمی، محسن گردیز ی ، اختر شمار ، اطہر ناسک ۔غرض کس کس کا نام لوں سب اپنے اپنے شعبے کی پہچان لیکن ان سب کامرکز بابا ہوٹل 1تھا۔ شام ڈھلتی تو کچھ لوگ گھروں کوچلے جاتے اورپھر قاتلانِ شب کی آمد کاسلسلہ شروع ہوجاتا۔ ایک چہکتی ہوئی آواز اقبال ارشد کی سنائی دیتی ۔وہ ہوٹل میں داخل ہوتے تو دور سے ہی ایک ایک کا نام لے کر مخصوص انداز میں گفتگو شروع کر دیتے۔’ ’ رضی، بھئی تم نے بہت خوبصورت مضمون لکھا۔۔او یارطفیل تیرے کالم کا تولطف آگیا۔۔ خورشید خان تمہاری طبعیت اب کیسی ہے۔ شاہ جی آپ سلمان غنی کی حمایت نہ کیاکریں،یہ بڑا غلط آدمی ہے۔“پھر ایسی رونق لگتی کہ بس لطف آجاتا۔کوئی سہرا لکھوانے آیا تو حیدرگردیزی نے بلند آ واز میں ایک مصرع کہا اورسب نے مل کر سہرا کہنا شروع کردیا۔”معطر سہرا“کی زمین میں ایک بار کسی کا سہرا لکھتے ہوئے یہ شعر بھی بابا ہوٹل میں ہی کہا گیا تھا۔
وصل کی رات یہ دلہن نے کہا دولہے سے
تُوتو زنخا ہے، نکل بھاگ….اِدھر کرسہرا
غزل کی محفل بھی یہاں خوب جمتی تھی اور ہزل بھی کہی جاتی تھی۔ایک باراقبال ارشد نے ارشد حسین ارشد کی موجودگی میں ارشدملتانی سے مخاطب ہوکر کہا
ہم تو ارشد ہی رہ گئے ارشد
لوگ ارشد حسین ارشد ہیں
2مصرعوں میں توڑ پھوڑہوتی تھی ،تخلص اور نام تبدیل کردیئے جاتے تھے۔اقبال ارشد کے سسر قتیل صاحب کوحیدر گردیزی پیار سے ”کُت۔۔یل “صاحب کہتے تھے اور ان کی شان میں ایک خوبصورت نظم بھی اس زمانے میں زبان زدعام تھی۔طاہر تونسوی کو دھاڑ دھاڑ تونسوی کہا جاتاتھا۔مشاعروں کے پروگرام یہیں بنتے تھے۔لوگوں کی غزلیں بھی مرمت کی جاتی تھیں اور مرمت کے دوران ان غزلوں میں مہمل مصرعے یا بے معنی اشعار بھی ڈال دیتے جاتے تھے اورمتشاعر بہت دھڑلے کے ساتھ انہیں مشاعروں میں پڑھ آتے تھے ۔ایسے ہی ایک شاعر کا احوال اقبال ارشد نے ہمیں سنایا جس کی غزل کا مطلع اقبال ارشد نے کچھ اس طرح کہا
تمہارے آنے کا جب مجھ کو انتظارنہ تھا
بروزجمعہ کا دن تھا وہ ایتوارنہ تھا
متشاعر نے کسی محفل میں یہ مطلع سنایا تو لوگ ہنس دیئے وہ شکایت لے کر عزیز حاصل پوری کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اقبال ارشد نے مطلع میں کیسا عجیب مصرع ڈال دیا ہے ۔عزیز حاصل پوری نے تحمل کے ساتھ مسکراتے ہوئے اس متشاعر کی شکایت سنی اور شعرکچھ یوں درست کردیا
تمہارے آنے کا جب مجھ کو انتظارنہ تھا
جمعے کے روز کا دن تھا وہ ایتوارنہ تھا
متشاعر نے مطمئن ہو کر غزل جیب میں ڈالی ،عزیز حاصل پوری کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اورشکریہ ادا کرکے اگلے مشاعرے میں چلا گیا۔
یہ ایک ماحول تھا جس میں ہم شرارتیں بھی کرتے تھے، ہنسی مذاق میں ہماری تربیت بھی ساتھ ساتھ ہوتی تھی۔علمی بحثیں بھی جاری رہتی تھیں اور ادبی سیاست کا مرکز بھی یہی ہوٹل تھا۔ اسی ہوٹل میں ہم نے دہلی مسلم ہوٹل کی ادبی بیٹھکوں کااحوال سنا تھا۔ یہیں ہمیں معلوم ہوا تھا کہ گلڈ ہوٹل کے نام سے ہمارے گھر کے قریب جو ہوٹل واقع ہے وہ دراصل رائٹرز گلڈ کی تقریبات کا مرکز ہوتا تھا اوراسی ناطے سے اسے آج گلڈ ہوٹل کہاجاتا ہے اوربابا ہوٹل سے متصل خان کیفے ٹیریا تھا جہاں ایک بار اظہر سلیم مجوکہ نے ہماری ضد میں ایک مشاعرے کا اعلان کردیا ۔ ہوٹل کا نظام جن دو بھائیوں کے پاس تھا وہ جناح کیپ اور اچکنیں زیب تن کرتے تھے اور ان کے مخصوص حلیے کی وجہ سے ہم ان دونوں بھائیوں کو ککڑ کہتے تھے۔مجوکہ نے وہاں مشاعرہ کرایا توہمارے سوا پورے شہر کومدعو کرلیا ہم سے بھلا وہ مشاعرہ کہاں ہضم ہوتا تھا۔ ہم نے ایک پی سی او سے ہوٹل فون کیا ۔ایک ککڑ نے فون اٹھایا تو ہم نے فوجی لب ولہجے میں صرف اتنا دریافت کیا ’اوے باسٹرڈ، کیا تمہارے ہوٹل میں ملک دشمنوں کا اجلاس ہورہا ہے؟‘
’نہیں سر ،نہیں سر۔  یہ توشاعرواعر جمع ہیں ‘
”شٹ اپ۔ ہم تمہارا ہوٹل بند کرنے آرہے ہیں“
3ٹیلی فون بند ہوتے ہی ککڑ صاحب کی تو سٹی گم ہو گئی ۔ انہوں نے شاعروں کے آگے رکھی پلیٹیں اٹھانا شروع کر دیں اور انہیں ہوٹل سے باہر نکال دیا۔ اظہر سلیم مجوکہ اور تمام شاعر اصرارکرتے رہے کہ ہم ملک دشمن نہیں ہم تو صرف شعر سنانے آئے ہیں لیکن فوجی بوٹوں کی دھمک سننے کے بعد ککڑ نے شاعروں کی بانگیں سننے سے انکار دیا ۔ مشاعرہ منسوخ ہوا ۔شاعر اپنے گھروں کوگئے۔ ککڑ بھی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اپنی جناح کیپ سنبھالتا ہوا فرار ہو گیا۔  بابا ہوٹل کے باہر زینتھ سنیما کے سامنے ہم حیدرگردیزی کے ساتھ بیٹھے اس منظر سے لطف اندوزہوتے رہے۔
دیکھئے ملتان ٹی ہاﺅس ہمیں کس منظر اور کس عہد میں لے گیا۔ پھریوں ہوا کہ ایک ایک کر کے سب ہوٹل بند ہوتے چلے گئے۔ بابا ہوٹل کی جگہ بابا آئس کریم نے لے لی۔ چوک کے دوسری جانب تاج ہوٹل والوں نے شاعرو ں کی سگریٹ نوشی پر پابندی لگادی۔ قاتلانِ شب کے سب ٹھکانے ختم ہو گئے۔
2004ءیا 2005ءکی بات ہے جب ہم نے روزنامہ جنگ میں ایک کالم لکھا اور اس میں تجویز پیش کی کہ اسلام آباد کی طرح مختلف شہروں میں پریس کلبوں کی طرز پر رائٹرز ہاﺅس تعمیر کیے جائیں جہاں شاعر ، ادیب، دانشور اور فنکار اپنی شامیں آباد کر سکیں۔ بورے والا میں مقیم ہمارے دوست اورپنجابی اور اردو کے بہت خوبصورت شاعر رفیع تبسم نے اس تجویز کو ایک مہم کے طورپر آگے بڑھانا شروع کیا مگر نقارخانے میں ہمارے کسی نے نہ سنی۔ یہ مطالبہ بعدازاں بھی مختلف فورمز پر کیاگیا لیکن خواب کو تعبیر نہ مل سکی۔ وہ تو بھلا ہو خالد مسعودخان کا کہ انہوں نے دوسال پہلے ملتان کے ڈی سی او زاہد سلیم گوندل کو ٹی ہاﺅس کے قیام کی تجویز دی ۔زاہد سلیم گوندل سجاد باقر رضوی کے شاگردوں میں سے ہیں۔ شعر وادب کا ذوق رکھتے ہیں ۔ خود بھی کسی زمانے میں شعرکہتے تھے لیکن بیوروکریسی کا حصہ  بنے تو شاعری پیچھے رہ گئی لیکن ان کے اندر کا شاعر اب بھی انہیں بے چین رکھتا ہے۔وہ کبھی کانفرنس کرواتے ہیں ۔کبھی مشاعرے کا 4اہتمام کرتے ہیں ۔اسلم انصاری جیسی محترم شخصیات کو دیکھ کر اپنی سیٹ چھوڑ دیتے ہیں۔ عزیز شاہد اور شاکرشجاع آبادی جیسے شعرا کی تکریم کرتے ہیں۔ خالد مسعود تو تجویز دے کر خاموش ہو گئے لیکن زاہد سلیم گوندل نے اسے عملی شکل دینے کے لیے کوششیں شروع کردیں۔ پھرایک روز انہوں نے ایک مشاعرے میں بتایا کہ میں ملتان کے ادیبوں اورشاعروں کو ایک ایسا تحفہ دے کرجاﺅں گا جوآنے والے دور میں بھی ملتان کے ادب ،تہذیب اور ثقافت کا مرکز بنے گا۔ ملتان آرٹس کونسل سے متصل پلاٹ پر دیکھتے ہی دیکھتے ملتان ٹی ہاﺅس کی وسیع وعریض عمارت تعمیر ہو گئی۔ 14 جنوری اس عمارت کی تعارفی تقریب کادن تھا۔ گراﺅنڈ فلور پر ٹی ہاﺅس جس کی دیواروں کو ملتان کی مقتدر شخصیات کی تصاویر سے سجایا گیا تھا۔ ان میں ادیب، شاعر بھی تھے، گلوکار ،مجسمہ سازاور مصوربھی۔ پورا شہر اس نئے ٹی ہاﺅس کو دیکھنے کے لیے امڈ آیا تھا۔ شہر کی 40محترم شخصیات کو تاحیات اعزازی رکنیت دی گئی جن میں ڈاکٹر اسلم انصاری، پروفیسر اصغرعلی شاہ، ڈاکٹر اے بی اشرف، اقبال ارشد، ڈاکٹر صلاح الدین حیدر، پروفیسر انور جمال، ڈاکٹر مختارظفر، اقبال سوکڑی، نوشابہ نرگس، علی تنہا، قاسم خان، ارشد حسین ارشد، صادق علی شہزاد، علی اعجاز نظامی، ڈاکٹر اسد اریب، حنیف چوہدری، ڈاکٹر انواراحمد ، ڈاکٹر طاہر تونسوی، پروفیسر خادم علی ہاشمی، حفیظ الرحمن خان ،عزیز شاہد، مظہر کلیم ایم اے، جاوید ہاشمی، عبدالطیف اختر، مسعود کاظمی، ضمیر ہاشمی،ذوالفقارعلی بھٹی،ایازصدیقی،پروفیسر حسین سحر،ڈاکٹر شمیم ترمذی،ڈاکٹر محمد امین،فیاض تحسین،شوکت مغل،شاکرشجاع آبادی،ثریا ملتانیکر،ڈاکٹرحمید رضا صدیقی، مسیح اللہ جامپوری، فاروق انصاری، ابن کلیم اورمحمد علی واسطی شامل ہیں۔ ان تمام شخصیات کے نام آنر بورڈ پردرج تھے۔ بلاشبہ یہ سب ایسی شخصیات ہیں جواپنی اپنی ذات میں ملتان ہیں۔ان تمام شخصیات کو اس پروقارتقریب میں اعزازی رکنیت پیش کی گئی اوران کی خدمات کااعتراف کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کے زیرنگرانی قائم ہونے والے ملتان ٹی ہاﺅس کی انتظامی کمیٹی کے سرپرست اعلی کمشنرملتان ہیں ۔ صدرکاعہدہ ڈی سی او ملتان کے سپرد کیا گیا ہے ۔ نائب صدرایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر ملتان ہیں، جنرل سیکرٹری خالد مسعود خان ، جوائنٹ سیکرٹری شاکرحسین شاکر اور فنانس سیکرٹری مستحسن خیال ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان تمام لوگوں نے ایک ایسا بندوبست بھی کر لیا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹی ہاﺅس کسی مالی بحران کا شکار نہ ہو اور یہاں علمی و ادبی محفلیں تواتر کے ساتھ جاری رہ سکیں۔بلاشبہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی پذیرائی ہی نہیں تقلید بھی کی جانی چاہیے۔عقیل عباس جعفری نے کیاخوب لکھا کہ اگر ایسا خوبصورت ٹی ہاﺅس کراچی والوں کو بنوادیا جائے تومیں اپنے کتب خانے سے ایک ہزار کتابیں عطیہ کرنے کو تیار ہوں۔ خالد مسعود اور شاکرحسین شاکر سمیت ٹی ہاﺅس کے لیے دن رات کام کرنے والوں کو بہت سے طعنے بھی سننے پڑے۔ انہیں تنقید کانشانہ بھی بنایا جا رہا ہے لیکن وہ ایک ایسا کام کرچکے ہیں کہ جو وسیب کے ادبی منظر کو ایک نیا موڑ دے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “بابا ہوٹل سے ملتان ٹی ہاﺅس تک

  • 18-01-2016 at 11:34 am
    Permalink

    no doubt, this is very good.

Comments are closed.