جلیانوالہ باغ پر کیا گزری؟


13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے شہر میں 10,000 سے زاید مرد، عورتیں اور بچے جلیانوالہ باغ کو جانے والی ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے۔ ان میں چند ایک سیاسی جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے مگر بہت سے سالانہ میلے کے لیے شہر آئے تھے یا محض تجسس میں ہجوم کے پیچھے چلے آئے۔ شہر کے باہر سے آنے والے بہت تھوڑے لوگوں کو یہ بات معلوم تھی کہ جلسہ غیر قانونی ہے۔

پچھلے تین دنوں کے دوران، امرتسر نے برطانوی لوگوں اور املاک کے خلاف پر تشدد مظاہروں کا مشاہدہ کیا تھا۔ ٹاؤن ہال، ٹیلیگراف آفس، ایک چرچ، ایک مشن سکول اور ایک ریلوے گودام کو آگ لگا دی گئی تھی۔  پانچ برطانوی اہلکار مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے، اور ایک خاتون مشنری پر حملہ کیا گیا تھا۔ مقامی فوجی کمانڈر، بریگیڈئر جنرل ڈائر کو امن امان بحال کرنے کے لیے بلایا جا چکا تھا۔ 12 اپریل کو اس نے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی۔

جب بریگیڈئر جنرل ڈائر نے اپنے احکامات کی خلاف ورزی کے بارے میں سنا تو وہ دو آرمرڈ کاروں اور پچاس رائفل برداروں کے ہمراہ فوراً جلیانوالہ باغ پہنچا۔ گاڑیاں احاطے کی طرف جانے والے تنگ راستے کے باہر چھوڑ دی گئیں اور سپاہیوں نے داخلے سے بالکل باہر چڑہائی والی زمین پر گھٹنوں کے بل پوزیشنیں سنبھال لیں اور رائفلوں کے سیفٹی کیچ ہٹا دئیے۔

ڈائر نے کسی وارننگ کے بغیر فائر کھولنے کا حکم دے دیا۔ شروع میں ہجوم نے یہ سمجھا کہ فوجی خالی کارتوس چلا رہے ہیں؛ مگر جب انھوں نے لاشیں گرتی دیکھیں تو واویلہ شروع ہو گیا۔ مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، کچھ نے دیواروں پر چڑھ کر بھاگنا چاہا، کچھ نے پناہ کے لیے رینگ کر اپنے ساتھیوں کی لاشون کے نیچے چھپنا چاہااور باقی احاطے کے دور دراز حصوں میں بھاگنے کے لیے زخمیوں کو روندتے چلے گئے۔ چند ایک نے ایک کنویں میں چھلانگ لگا دی اور بعد میں اپنے اوپر گرنے والوں کی وجہ سے ڈوب گئے۔ صرف دس منٹ میں سپاہیوں نے اسلحہ کے 1,650 راؤنڈ فائر کیے جن میں سے بہت کم ضائع گئے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 379 لوگ مارے گئے اور 1,208 زخمی ہوئے۔

پتیاں روتی ہیں، سر پیٹتی ہیں

قتل گل عام ہوا ہے اب کے

ابھی فضا میں زخمیوں کی چیخ و پکار کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں کہ بریگیڈیر ڈائر نے اپنے فوجیوں کو اٹھنے اور احاطہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ اس قتل و غارت کے بعد لگنے والے دو ماہ کے مارشل لاءکے دوران بھی ڈائر دلجمعی کے ساتھ اسی کام میں لگا رہا جو اس کی دانست میں اس کا فرض بنتا تھا۔ امرتسرکو پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی اور چھ افراد کو جنھوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی تھی سر عام کوڑے مارے گئے۔ اس جگہ سے جہاں مشنری خاتون پر حملہ کیا گیا تھا، گزرنے والے ہر ہندوستانی کو 140 میٹر تک زمین پر گھسٹ کر چلنے کے لیے مجبور کیا جاتا اور برطانوی سپاہی انھیں اپنے کیلیں جڑے بھاری بوٹوں سے ٹھڈے مارتے رہے۔

انکوائری کے بعد ڈائر کو ریٹائر ہونا پڑا۔ ھند کے لیے سیکر ٹری آف سٹیٹ نے اس کے اقدامات کی مذمت کی۔ دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے دفاع کے لیے سیکر ٹری آف سٹیٹ، ونسٹن چرچل نے اس قتل و غارت کو بیان کرتے ہوئے کہا، ”یہ تمام نظاروں میں سب سے زیادہ خوفناک منظرتھا جس میں تہذیب کسی رحم کے بغیر اپنی طاقت کے عروج پرتھی۔ ہمیں کسی نہ کسی طور یہ وضاحت کرنا ہو گی کہ یہ کام کرنے کا برطانوی طریقہ نہیں ہے“۔

مگر دارامراء نے اور برطانوی پریس کے ایک بڑے حصے نے جلیانوالہ باغ میں ڈائر کے اقدامات کی تائید کی۔ ہندوستان میں خصوصی برطانوی کلبوں میں اس کے لیے چندہ جمع کیا گیا۔ ڈائر کی مذمت نہ کرکے انگریزوں نے ہندوستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکا، اور اس قتل و غارت کو بذات خود ایک جابر فرمانروا کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کی ایک مثال کا علامتی مفہوم عطا کیا۔

\”میں نے فائر کیا اور جب تک ہجوم منتشر نہ ہو گیا فائر کرتا رہا، اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے اپنے اقدامات کا جواز پیش کرنے کے لیے کہا جائے تو ضروری اخلاقی اور ہمہ گیر اثرات پیدا کرنے کے لیے، جو میرا فرض تھا، یہ فائرنگ کی کم از کم مقدار تھی\”۔  بریگیڈئر جنرل ڈائر


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “جلیانوالہ باغ پر کیا گزری؟

  • 14-04-2016 at 6:51 pm
    Permalink

    یہ واقعہ انڈیا کی تاریخ‌کا ایک نہایت اہم اور دردناک واقعہ ہے۔ اس کی طرف توجہ دلانے کے لئیے شکریہ۔

  • 15-04-2016 at 2:23 am
    Permalink

    بہن جی،
    یہ جنرل ڈائر وہی تھا نا جس کے ہاتھوں قتل ہونے والے سکھوں کے بڑوں نے اس ہولناک سانحے کے چند روز بعد دربار صاحب امرتسر میں بلا کر اعزاز و اکرام سے نوازا تھا؟ اسے «««اعزازی سکھ»»» کے نادر مرتبے پر فائز کیا تھا؟
    یہ وہی افسوسناک واقعہ ہے جسے خود بھارت کے ہندو سکھ تقریبا فراموش کر چکے ہیں۔ اسی حقیقت کا رونا بھارت کے نامور صحافی اور سفارت کار کلدیپ نائر نے 15 اگست1947 کے اپنے کالم میں رویا تھا۔ آپ ملاحظہ فرما سکتی ہیں۔

Comments are closed.