نیٹکو ہماری ماں ہے!


waqar ahmad malikخان اچکزئی ایسے صاحب علم دوست ہیں جو مضامین پر رائے کا اظہار کر کے صاحب مضمون کی علمی و فکری تصحیح کرتے رہتے ہیں۔ نیٹکو ، ٹمبکٹو اور خیال تارڑ ‘ پر انہوں نے میری نیت کو صاف جبکہ معلومات پر شک کا اظہار کیا۔ معلومات خام ہونے میں کلام نہیں (کہ کاروباری اعداد وشمار گنجلک ہوتے ہیں) لیکن ایک اور فرق شاید زاویہ نگاہ کا بھی ہو ۔

آپ نے فرمایا ہے کہ نیٹکو منافع میں نہیں بلکہ خسارہ میں ہے اور سبسڈی سے چل رہی ہے۔ آپ کی بات درست ہے کہ بیالیس سالہ نیٹکو حالیہ کچھ عرصہ سے خسارہ میں ہے۔
ستر کی دہائی میں بیس لاکھ روپوں سے بننے والی نیٹکو کے پاس6 جیپیں تھیں۔ آج نیٹکو کے پاس 400 گاڑیوں کا کارواں ہے جن کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کے شہریوں کو آمدورفت کے وسائل مہیا کرنا ہے۔ نیٹکو کا ایک بڑا ذریعہ آمدن گندم کی ترسیل ہے جبکہ بس سروس میں بتدریج خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ کوئی ایسا خسارہ نہیں ہے کہ ہم اس کو ’خسارے کا منحوس چکر‘ کہہ سکیں۔ نیٹکو اس صورتحال سے نکل سکتی ہے اگر حالات کچھ موافق ہو جائیں۔

’گلگت بلتستان میں آمدورفت‘ کے الفاظ بولنے میںسہل ہو سکتے ہیںزمینی حقیقت کافی تلخ ہے۔نیٹکو کو چالیس برسوں میں فقط ایک سواری کے لئے بھی بسوں کو مسلسل چلانا پڑا۔ گزشتہ چار پانچ برسوں میں جب سے کانوائے کی پابندی لگی تو ہوا یکسر نیٹکو کے مخالف ہو گئی۔ پرائیویٹ بس سروسز نے ’بسیں توڑ‘ کر کاروں میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ پرائیویٹ کاروں کو کانوائے کی پابندی نہیں تھی۔ 4000 کرایہ اگلی سیٹ کا اور3500کرایہ پچھلی سیٹ کا تھا۔ مسافر 15سے 18 گھنٹوں میں گلگت سے پنڈی پہنچ جاتا۔ کانوائے کی صورت میں یہ سفر 24 گھنٹوں سے بھی طویل ہو چکا تھا۔

نیٹکو کو گورنمنٹ کے قوانین کی پاسداری کرنی پڑتی ہے (سب کو کرنی چاہیے) قوانین کی پاسداری سے نفع پر زد لگتی ہے۔

12969256_10154213546443578_159255660_nمثال کے طور پر آپ گلگت میں ہیں اور آپ نے راولپنڈی آنا ہے۔ آپ پرائیویٹ کار یا کوسٹر کرایہ پر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم جلد پنڈی پہنچنا چاہتے ہیں اس لیے بابو سر کے راستے سے جانا ہے۔ اب بابو سر ٹاپ کی طرف چار یا پانچ بجے کے بعد آنے پر پابندی ہے۔لیکن پرائیویٹ گاڑیاں راستہ بنا لیتی ہیں۔

بابو سر کے راستے پر پابندی ہو یا نہ ہو نیٹکو کو قراقرم ہائی وے پر ہی سفر کرنا ہے۔ آپ نیٹکو کے ڈرائیور کو رشوت دے کر دیکھ لیں ، نہیں لے گا ، کہے گا نوکری عزیز ہے۔

نیٹکو کو وقت اور مقام کی پابندی کرنی ہے چاہے ایک سواری بھی نہ ہو۔ نیٹکو کو بہت سے ایسے روٹس پر چلنا پڑتا ہے جہاں روزمرہ کی بنیاد پر سواریوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اچکزئی صاحب نیٹکو کی بس سروس بھی مناسب ہے لیکن کبھی آپ کو اتفاق ہوا ان کی وین یا کوسٹر وغیرہ کو کرایہ پر لینے کا؟

اگر ہوا ہے تو گاڑی کی حالت کیسی تھی؟

آپ تصور کر سکتے ہیں کہ حکومتی ادارہ ہو اور گاڑیوں کو چلنا بھی ہمہ وقت کہساروں اور کٹی پھٹی سڑکوں پر ہو لیکن اس کے باوجود گاڑیاں اس قدر سنبھالی ہوئی ہوں جیسے موٹر وے کے علاوہ انہوں نے کوئی اور سڑک نہیں دیکھی۔ عملہ بہت ہی ملنسار اور سیاح دوست۔

12986392_10154213547443578_496091344_oپرائیویٹ سیاحتی کمپنیاں ، گلگت بلتستان کے سیاحتی کاروبار میں بہت بعد میں آئیں۔ پوری دنیا کے سیاحوں کو نیٹکو گلگت بلتستان لے کر گئی اور دنیا بھر کے سیاحوں نے نیٹکو کے لیے توصیفی مضامین لکھے۔ آج بھی گلگت بلتستان کے ماہرین سیاحت ، نیٹکو کے کردار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

اس مضمون کو لکھتے وقت ، قراقرم ہائی وے کو بند ہوئے ، گیارہ دن ہو گئے ہیں۔ گیارہ دن سے نیٹکو کی بس سروس نہیں چل رہی ۔ دس دنوں میں نقصان کا اندازہ کریں جبکہ یہ صورتحال سال میں ایک دو بار پیش آ ہی جاتی ہے ۔ پرائیویٹ کاروبار کے پاس ہزار اور ہتھکنڈے ہوتے ہیں جبکہ نیٹکو کے ہاتھ سرخ فیتے سے بندھے ہوتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت’ غریب پرو ر اور غریب دوست‘حکومت ہوتی ہے اور غربت کے خاتمہ کے لیے سرکاری نوکریوں کو سنہری نسخہ سمجھتی رہی ہے۔ نیٹکومیں سیاسی بھرتیوں کے احکامات مرکز سے موصول ہوتے رہے اور نیٹکواس وقت چار سو زائد ملازمین کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ چار سو زائد ملازمین کی بھرتیوں کی کہانیوں پر آئیں گے تو مرکز کے شرفاءکے نام آئیں گے ۔

پچھلے ایم ڈی کا قصہ ہی مثال کے طور پر لیں۔ مرکز سے جانے والے ایک گدی نشیں سیاست دان نے اس ایم ڈی کو او ایس ڈی کیا تھا اور پھر تین برس کے بعد بحال کر دیا گیا۔ صحافی دوستوں نے بتایا کہ گدی نشین صاحب کچھ مفادات اٹھانا چاہتے تھے جس کی ایم ڈی نے مخالفت کی۔

یا حالیہ ایم ڈی پر الزامات کی بات کی جائے جس کی ایف آئی اے تفتیش کر رہی ہے اور ابھی تک کچھ نہیں ملا۔

12988197_10154213545638578_615159019_nکرپشن کا حجم تو دیکھیں، ایک الزام ہے کہ چھ این سی پی گاڑیاں ادارے کے انتظامی امور کے لیے خریدی گئیں۔ این سی پی گاڑیاں ویسے تو ہر کوئی خرید سکتا ہے لیکن نیٹکو کو یہ حرکت گلے پڑ گئی۔ کچھ اسی طرح کا ایک معاملہ ٹائروں کی خریداری کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ اور یہ ابھی تک الزامات ہیں ۔ مصیبت یہ ہے وہاں کی کرپشن کی کہانیوں کا حجم بھی بچوں کی غوں غاں محسوس ہوتی ہیں۔کسی ادارے میں سیاسی اثرورسوخ کی صورت میں الزام لگانا عمومی سا رویہ ہے ۔ فقط ان بنیادوں پر کسی ادارے سے منسلک ہزاروں افراد کی چالیس سالہ محنت پر منفی رائے دینا مناسب نہیں ہے۔

سات سال پرانی بات ہے ۔ایک دستاویزی پروگرام بنانا تھا ۔ موضوع تھا کرپشن۔ میں بضد تھا کہ اس موضوع پر میں کرپشن سے بچے ہوئے اداروں کی ایک دو مثالیں بھی دوں گا۔ پوچھا گیا کوئی ایک مثال؟ میں نے موٹر وے پولیس کی مثال دی جس کی شہرت کافی حد تک مثبت ہے۔

اگر کرپشن زدہ ماحول میں کوئی ادارہ بہتر کام کر رہا ہو تو اس کی تعریف میں مبالغہ کرنا بھی جائز دکھائی دیتا ہے ۔ اس مبالغہ آرائی کا ایک فائدہ Positive Reinforcement
ہے۔ بار بار کسی کو اچھا کہنے سے ، وہ اچھی شہرت رکھنے کے حوالے سے حساس ہو جاتا ہے۔ شاید کچھ لوگوں کا موٹر وے پولیس سے تعلق کا اچھا تجربہ نہ رہا ہو ، لیکن اکثریت کا ہے تو بہتری اسی میں ہے کہ موٹر وے پولیس کا بار بار با ور کروایا جائے کہ آپ بہت اچھے ہیں۔ اس سے مثبت نتائج کے امکانات وسیع ہوسکتے ہیں۔

کچھ اسی طرح کی صورتحال نیٹکو کی ہے۔ جس کا خسارہ اس نوعیت کا نہیں ہے کہ اس کے آپریشنل معاملات کو خراب کرے۔ اس ادارے کی سروسز پر کوئی بد اعتمادی نہیں پائی جاتی۔ پرائیویٹ بس سروس ہڑتال پر جا سکتی ہے ۔ نیٹکو اپنے وقت پر بس اڈے پر ہو گی۔

گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں بس سفر کے دوران ، بس کے نام اور عملہ سے انسیت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ساتھ طویل ہو تا ہے۔

گلگت بلتستان کے کٹھن اور خطرناک راستوں سے بحفاظت منزل مقصود پر پہنچا نے والی بس ، اوراس کے عملہ کے لیے دل شکر سے معمور ہو جاتا ہے۔

نیٹکو کی چالیس سالہ زندگی میں حادثات کا تناسب بہت ہی کم ہے۔

یہی نیٹکو کا ٹرک جب گاﺅنچھے کے کسی دور افتادہ گاﺅں کے کسی گھر کی دہلیز پر گندم اور نمک پہنچاتا ہے تو مقامی بجا طور پر صحیح کہتے ہیں۔۔ نیٹکو ہماری ماں ہے۔

میر آف ہنزہ کے بیٹے کی شکل کی تشبیہ آپ نے جس مخلوق سے دی ہے ، ہم سب کے فیچرز اس سے ملتے ہیں۔

میرا نہیں خیال کہ نیٹکو کے ایم ڈی کی پوسٹ کچھ ایسی پر کشش ہے کہ وہ اس کے لیے تگ و دو کریں گے۔

اور آپ نے درست فرمایا ، اللہ وہ دن نہ ہی دکھائے ورنہ واقعی نیٹکو کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

12980576_10154213545378578_1146384756_nگلگت بلتستان کے لوگ سیاسی حوالے سے بہت باشعور ہیں اور بہتر فیصلے کرتے ہیں۔ غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ باقی پاکستان میں کہاں ہوتا ہے کہ انتخابات کے دوران تمام امیدواروںکو ایک جگہ عوام کے سامنے بٹھایا جائے اور پوچھا جائے ، ہم آپ کو ووٹ کیوں دیں؟

گزشتہ انتخابات میں تو کمال ہوتے ہوتے رہ گیا۔ میر آف ہنزہ جو گذشتہ انتخابات میں شکست کھا گئے تھے ، اس بار بھی امیدوار تھے۔ ان کے مقابلے میں کامریڈ بابا جان جو جیل میں ہے اور جس کی جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں ہے مد مقابل تھے۔ بہت ہی کم ووٹوں سے ہارے ۔گذشتہ انتخابات میں جب میر آف ہنزہ ہارے تھے تو ہر شہری ایک ہی بات کہتا تھا کہ ہمارے دلوں میں ان کی عزت ہے اور ہم ان کی تعظیم کرتے رہیں گے لیکن کیونکہ انہوں نے وعدے پورے نہیں کیے اس لیے ووٹ نہیں دے سکتے۔ اس دفعہ میر آف ہنزہ کا آخری چانس ہے اگر اس دفعہ بھی نتیجہ نہ دے سکے تو پھر کسی انتخاب میں فتح ناممکن دکھائی دیتی ہے۔

آپ جس فرقہ واریت کے آسیب کے اسباب کو ڈوگرہ راج اور انگریزوں تک لے گئے، شاید میں مطالعہ کی کمی کی وجہ سے اسے سمجھنے سے قاصر ہوں۔ زمینی سیاحتی تجربہ تو فرقہ واریت کی جڑیں جلال آباد کے گاﺅں کو بتاتاہے، جب امیر المومنین کے دور میں گلگت کے گاﺅں میں آگ لگا دی گئی تھی جہاں کافی دن جلے ہوئے انسانی ماس کی بو آتی رہی۔

اس سے پہلے عجیب کنبے تھے وہاں، باپ اسماعیلی، ماں شیعہ اور نانی سنی۔ بہرحال یہ لمبی بات ہے لیکن گلگت نے حالیہ کچھ عرصہ میں جس طرح اس پر قابو پایا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے اور اس کی داد دیں۔ پاکستان میں کوئی اور مثال ایسی نہیں ملتی کہ جہاں ہر مسجد اور امام بارگاہ میں خطبوں کی کیمرہ ریکارڈنگ ہو تی ہو ، تاکہ کوئی نفرت انگیز تقریر نہ کر سکے اور اگر کوئی کرے تو ویڈیو بطور ثبوت عدالت میں دے کر سزا دلوائی جا سکے۔ جبکہ گلگت میں اس پر عمل ہو رہا ہے ۔

(وزیر اعظم کی سربراہی میں اجلاس ہو رہا تھا جس میں تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ موجود تھے۔ حفیظ الرحمٰن صاحب نے فرقہ واریت پر قابو پانے کے حوالے سے یہ تجویز دی کہ تمام خطبوں کو ریکارڈ کیا جائے، اجلاس کے اختتام پر شہباز شریف صاحب نے حفیظ صاحب سے کہا کہ آپ نے جو تجویز دی تھی اس پر آپ تو عمل کر سکتے ہیں عبادت گاہوں کی تعداد کم ہے اگر مجھے پنجاب میں یہ کرنا پڑے تو یہاں تو صرف لاہور شہر میں اتنی عبادت گاہیں ہیں کہ انتظامیہ کو لگ پتہ جائے)

اچکزئی صاحب ، سچ بڑا خوبصورت ہوتا ہے ۔ کائنات کا حسن ہے۔ کروڑوں اربوں تغیرات پر مبنی زندگی میں حتمی سچ کی پہچان ذرا مشکل ہو جاتی ہے۔

افہام و تفہیم اور محبت سے زندگی کی نمود مقصود ہو تو کچھ باتوں کو صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔

سچ پوچھیں تو قلم ترستا ہے کچھ مثبت لکھنے کو، اب ایسا بھی کیا کہ ہر وقت روتے ہی رہیں۔

کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کی اجازت دے دیا کریں وگرنہ یکسانیت اور وہ بھی منفی۔۔دہرا دکھ ہے!


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 64 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

6 thoughts on “نیٹکو ہماری ماں ہے!

  • 13-04-2016 at 8:03 pm
    Permalink

    جان من ملک صاھب، عمدہ لکھا

  • 13-04-2016 at 11:41 pm
    Permalink

    میرے نام کالم لکھنے کا شکریہ۔ من خیلی ممنونم!

    بھارت ماتا نامنظور
    نیٹکو ماتا منظور؟

    آپ وہ دکھ کیوں اُٹھانا چاہ رہےہیں جو آپ کے ہیں ہی نہیں؟

    آپ کے مضمون سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے آپ گلگت بلتستان میں مصروف کار اس نیم سرکاری ادارے میں کرپشن برداشت کرنے کے حق میں ہے۔

    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

  • 14-04-2016 at 12:07 am
    Permalink

    ارے سر خان اچکزءی صاحب بہت شکریہ آپ کا جو بے لاگ رائے دیتے ہیں. باقی آپ درست فرما رہے بہت کچھ ہمارے سامنے ہی سامنے غلط ہونا شروع ہو گیا ہے.. یہ مضمون فقط نیٹکو کے حوالے سے چند باتیں تھیں جس کا بہانہ آپ نے مہیا کیا.

  • 14-04-2016 at 12:09 am
    Permalink

    ملک صاحب.. اعجاز اعوان صاحب بہت شکریہ…. آج تو بغیر ہتھوڑے کے ہی وارد ہوئے ہیں

  • 14-04-2016 at 10:40 am
    Permalink

    یوں تو پورا کالم ہی خوبصورت اور معلومات افزا ہے آخری چند جملوں میں تو درد مندی جھلکتی ہے۔

    ” سچ بڑا خوبصورت ہوتا ہے ۔ کائنات کا حسن ہے۔ کروڑوں اربوں تغیرات پر مبنی زندگی میں حتمی سچ کی پہچان ذرا مشکل ہو جاتی ہے۔

    افہام و تفہیم اور محبت سے زندگی کی نمود مقصود ہو تو کچھ باتوں کو صرف نظر کرنا پڑتا ہے۔

    سچ پوچھیں تو قلم ترستا ہے کچھ مثبت لکھنے کو، اب ایسا بھی کیا کہ ہر وقت روتے ہی رہیں۔

    کبھی کبھار منہ کا ذائقہ بدلنے کی اجازت دے دیا کریں وگرنہ یکسانیت اور وہ بھی منفی۔۔دہرا دکھ ہے!”

  • 14-04-2016 at 3:57 pm
    Permalink

    بطور لاہوریا میرے وابستگی گلگت بلتستان سے تیس سال سے زیادہ پرانی ہے – میں حرف حرف کی تصدیق کرتا ہوں –

Comments are closed.