پاناما لیکس سے غداری کے الزامات تک


editیہ کہنا تو مشکل ہے کہ پاناما لیکس کے تھیلے سے بلی کبھی باہر نکلے گی یا نہیں لیکن ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سیاسی دنگل کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس میں حکومت اور اپوزیشن کے رہنما اپنی اپنی حیثیت کے مطابق تن و توش دکھانے اور الزامات اور دعوﺅں سے دلیل کا کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بلاشبہ اس محاذ آرائی میں عمران خان کو سبقت حاصل ہے کیونکہ وہ الفاظ کے چناﺅ میں بھی احتیاط برتنے کے قائل نہیں ہیں۔ لیکن اب چوہدری نثار علی خان، خورشید شاہ، اعتزاز احسن اور رانا ثناءاللہ بھی حسب مقدور اس ڈرامے کو رنگین اور مقبول کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ اس سے قبل کراچی میں پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال نے گزشتہ ماہ میدان سیاست میں دوبارہ قدم رکھتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف سنگین الزامات کا پنڈورا باکس کھولا تھا۔ ان میں دیگر ذاتی حملوں کے علاوہ بھارتی ایجنسی ”را“ سے ایم کیو ایم کے تعلقات کا الزام سب سے زیادہ چونکا دینے والا تھا۔

یوں تو یہ کوئی نیا الزام نہیں تھا لیکن جب تیس برس تک ایک پارٹی سے وابستہ رہنے والا شخص اس کا اعلان و اعادہ کر رہا ہو تو توجہ ضرور مرکوز ہوتی ہے۔ البتہ پاکستانی سیاست کا یہ کمال ہے کہ آپ کسی پر بھی کسی بھی قسم کا الزام عائد کر سکتے ہیں لیکن آپ پر ثبوت فراہم کرنے یا دستاویزات دینے کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ بلکہ تردید یا شواہد مانگنے کی صورت میں آسان سا جواب ہوتا ہے کہ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو عدالت میں چلے جائیے۔ گویا عدالتوں کے جج صرف اس انتظار میں کرسی انصاف پر براجمان ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا سیاستدان خود پر لگنے والا الزام غلط ثابت کرنے کے لئے آئے اور وہ اسے مسترد کر دیں۔ ملک میں الزام تراشی کی بنیاد پر جو سیاست کی جاتی ہے، اسے دیکھتے ہوئے اگر یہ سارے معاملات عدالتوں میں فیصلہ کے لئے پہنچا دئیے جائیں تو منصف سوائے ان مقدمات سے نمٹنے کے کوئی دوسرا کام نہیں کر پائیں گے۔ کیونکہ حالات و واقعات نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ الزام تراشی سیاسی کلچر میں ایک ہتھکنڈے کی حیثیت اختیار چکی ہے۔ اس کا مقصد صرف مخالفین کو نیچا دکھانا، دفاعی پوزیشن پر لانا اور توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اسی لئے غداری سے قتل اور چوری سے جعل سازی تک کے الزامات بے دریغ تھوپ دئیے جاتے ہیں۔ خبر کی تلاش میں بے چین صحافی اس قسم کے بیانات کو غنیمت سمجھ کر اپنے کالموں اور پروگراموں کا پیٹ بھرنے کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ اب تو صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ وطن عزیز کے بعض ”سینئر اور جید“ صحافیوں نے بھی الزام تراشی کے فن میں مہارت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ شرط بس یہ ہے کہ اس الزام میں اتنا مسالہ اور بارود موجود ہو جو پڑھنے اور سننے والے کے لئے چٹخارے کا سبب بن سکے اور سیاسی و صحافتی ماحول میں لمحہ دو لمحہ کے لئے ہی سہی دھماکہ کر سکے۔

ان رویوں کو اپناتے ہوئے ہمارے رہنما اور بزعم خویش سماج سیوک یا معاشرتی اصلاح کے رضا کار یعنی صحافی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کی بڑی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں شعبوں سے متعلق لوگوں سے دست بستہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ سیاستدانوں کا کام تعمیر ہوتا ہے تخریب نہیں جو وہ اپنے تند و تیز بے بنیاد الزامات کے ذریعے سرانجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح صحافیوں، رپورٹروں، کالم نگاروں یا اینکرز کا کام خبر دینا، اس کا پس منظر بتانا اور اس پر تبصرہ و تجزیہ سامنے لانا ہے۔ میڈیا سے متعلق لوگوں کو اگر یہ زعم ہو جائے کہ لوگوں تک پہنچنے کی صلاحیت کی بنا پر وہ عقل کل بن چکے ہیں یا معاشرے کی اصلاح کی ساری ذمہ داری ان کے نازک کاندھوں پر رکھ دی گئی ہے، تو اس سے بڑا المیہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ بدنصیبی کی بات یہ ہے کہ صحافت کی آڑ میں سماجی بے راہروی اور سیاسی مزاج کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے متعدد لوگوں کا اپنا دامن بھی صاف نہیں ہوتا۔ ان حالات میں عیب جوئی اور اصلاح کا نعرہ لگانے کی بجائے اگر سب لوگ اپنے پیشے کے تقاضوں کے مطابق فرائض انجام دینے کی کوشش کریں تو شاید بہتری کی کوئی صورت پیدا ہو۔ یعنی سیاستدان پالیسی بنائے، پارلیمنٹرین قانون سازی کرے، وزیر و مشیر انتظامی امور طے کریں اور صحافی خبر اور اس کے پس منظر پر کام کریں تو مجموعی تصویر میں کافی حد تک بہتری کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ البتہ یہ باتیں کہنا آسان ہے، ان پر عمل کرنا یا اس تبدیلی کی امید کرنا ممکن نہیں ہے۔

دریں حالات ملک کے اشتعال انگیز سیاسی ماحول اور بحرانی حالات کی روشنی میں یہ کہنا بے حد ضروری ہے کہ افراد پر الزامات کے بعد اب پارٹیوں کے مجرمانہ اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعوﺅں کا جو چلن عام ہوا ہے، اس سے سیاست اور سیاستدانوں پر عام رائے دہندگان کا بھروسہ کمزور ہو رہا ہے۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہو گا کہ عام آدمی بھی سیاستدانوں کی سامنے آنے والی شبیہہ کی مانند خود بھی اپنے مفاد اور ضرورتوں کا ایک دائرہ بنا لے گا اور اس کے مطابق طرز عمل اختیار کرے گا۔ یہ رویہ اس وقت بھی کسی حد تک موجود ہے کہ انتخابات میں ووٹر یہ نہیں دیکھتے کہ کون امیدوار کس پارٹی کی طرف سے کون سا منشور لے کر سامنے آیا ہے بلکہ وہ یہ غور کرتے ہیں کہ جیتنے کے بعد کون ان کے علاقے، برادری یا خاندان کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ اس طرح قومی اہمیت کے کلیدی معاملات پر رائے زنی تو ہوتی ہے لیکن ووٹ کے ذریعے ان مسائل کے حل کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ اگر ایک دوسرے کو معتوب کرنے کا موجودہ رجحان جاری رہا اور میڈیا بھی اس مزاج کو راسخ کرنے میں اپنا کردار تبدیل نہ کر سکا تو آہستہ آہستہ ووٹ ڈالنے کا سارا عمل صرف ایک شخص یا مختصر گروہ اور خاندان کے مفادات تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ یہ جمہوری عمل اور اس کے ثمرات پر اعتماد کے لئے بہت بڑا نقصان ہو گا۔ اسی طرز عمل کا دوسرا پہلو فوری ردعمل کے طور پر ہم اکثر مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ عام لوگ سیاستدانوں سے بدظن ہونے لگتے ہیں اور ملک میں تبدیلی و بہتری کا سارا کریڈٹ فوج کو دیا جاتا ہے اور معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں کا بوجھ سیاستدانوں کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دانستہ یا نادانستہ ملک کے صحافتی ادارے بھی اس منفی طرز عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان حالات میں ملک میں جمہوریت محض نعرے کی حد تک باقی رہ جائے گی اور جب کوئی فوجی جنرل یہ فیصلہ کرے گا کہ اب اس نعرے یا تکلف کی ضرورت نہیں ہے تو اسے کسی مزاحمت یا دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

اس ضمن میں بنیادی بات یہ ہے کہ ملک کی مسلمہ سیاسی پارٹیوں پر غداری اور دشمن ملک کی ایجنسی کا آلہ کار ہونے کے الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ ایم کیو ایم پہلی مرتبہ اس قسم کے الزامات کی زد میں نہیں ہے۔ اس سے قبل متعدد پارٹیاں ایسے الزامات اور ان کے نتیجے میں قائم ہونے والے مقدمات کا سامنا کر چکی ہیں۔ حالات و واقعات کا یہ تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اس طرح ملک کی فلاح کا کوئی پہلو نکلنے کی بجائے عام طور سے بدگمانی، افتراق اور انتشار کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یوں جس سیاسی اور جمہوری عمل کو لوگوں کو ملانے، اختلاف کو باقاعدہ فورمز پر زیر بحث لانے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا ذریعہ بننا چاہئے، وہاں ذاتی عناد کا راستہ ہموار ہونے لگتا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ اس وقت ان الزامات کا سامنا کر رہی ہے۔ مختلف عناصر مختلف ہتھکنڈوں سے یہ رائے راسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پارٹی بھارتی خفیہ ایجنسی کی ایجنٹ ہے اور اس سے وسائل وصول کرتی رہی ہے۔ اس حوالے سے ماضی کی طرح مختلف کرداروں کو سامنے لا کر ان سے ”اقبالی بیان“ دلوائے جا رہے ہیں اور جو مقدمہ قانونی عدالت میں دلیل اور ثبوت کی بنیاد پر لڑا جانا چاہئے اسے عوام کی عدالت میں نعروں اور الزامات کے ذریعے جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ غیر سیاسی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی طریقہ ہے۔ اس سے ملک و قوم کو نہ ماضی میں کوئی فائدہ ہوا ہے اور نہ مستقبل میں اس کی امید کی جا سکتی ہے۔

اس تصویر کا دوسرا مگر ذرا کم سنگین پہلو مختلف سیاسی لیڈروں کی طرف سے الزام تراشی کا وہ طوفان ہے جو پاناما پیپرز کے انکشافات کے بعد ملک میں اٹھا ہوا ہے۔ اپوزیشن کا ملک کے وزیراعظم کی خفیہ دولت اور بیرون ملک وسائل کی خبروں پر حیران ہونا اور ان کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا تو قابل فہم ہے۔ لیکن ایک قانونی معاملہ کو الزام تراشی کی اس مہم میں سیاسی دنگل بنا دیا گیا ہے جس میں ہر سیاسی پہلوان دوسرے کے کپڑے اتارنے کی کوشش میں لگا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے ذمہ دار وزیر بھی اس مہم جوئی میں پیش پیش ہیں۔ خاص طور سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنس کر کے اپوزیشن لیڈروں پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ان کا تازہ نشانہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور سینیٹ میں اکثریتی لیڈر اعتزاز احسن ہیں۔ وزیر داخلہ کا دعویٰ ہے کہ اگر اپوزیشن لیڈروں نے چوں چرا کی تو وہ بھی ان کے خلاف نیب اور دوسرے اداروں کی فائلوں کو کھولیں گے اور ان کی بدعنوانی کا پردہ فاش کر دیں گے۔ اس حوالے سے خورشید شاہ کا یہ موقف جائز اور درست ہے کہ کیا حکومت سیاسی مفاد کے لئے قومی مفاد پر سمجھوتہ کرتے ہوئے کسی اپوزیشن لیڈر کے غیر قانونی کاموں کو قبول کرے گی؟ کون سا قانون یا سیاسی اخلاقیات انہیں اس کی اجازت دیتی ہے۔ خورشید شاہ نے مالی بدعنوانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسپیکر سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے بارے میں نیب کی فائلیں ان کے پاس موجود ہیں اور اگر وہ خاموش نہ ہوئے تو یہ فائلیں کھولی جا سکتی ہیں۔ یہ گفتگو صریحاً بلیک میلنگ کے زمرے میں آتی ہے اور وزیراعظم اور عدالتی نظام کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی واضح ہو کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے جو حکومت کے اثر سے آزاد بدعنوان لوگوں کے معاملات کی تحقیق کرتا ہے اور انہیں سزا دلوانے کے لئے اقدام کرتا ہے۔ اس ادارے کی خفیہ فائلیں وزیر داخلہ تک کیسے پہنچتی ہیں۔ درحقیقت چوہدری نثار علی خان کا یہ بیان ملک میں موجود احتساب کے نظام پر کاری وار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار کے اس دعوے کے بعد نیب کی خود مختاری اور دیانتداری پر کیسے بھروسہ کیا جا سکے گا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے یہ بیان دیا ہو۔ تاہم انہیں اپنی غیر ذمہ داری کا احساس کرنا چاہئے اور سیاستدانوں کو عام طور سے یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ مائیکرو فون کے سامنے قد اونچا کرنے کی نیت سے دئیے گئے بیان کس حد تک مہلک اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali