صحرا میں اذاں  دے رہا ہوں میں


masood munawarاس عہد میں کچھ لکھنا، تنقید کرنا ، وضاحت دینا یا صورتِ حال کی تشریح و توجیہہ کرنا نقار خانے میں طوطی کے آواز کے سوا کیا ہے ؟ ہم جو لکھ رہے ہوتے ہیں خود بھی نہیں پڑھتے ۔ پڑھنا سمھجنا ہے اور سمجھنا عمل کرنا ہے لیکن ہمارا یہ حال ہے :

جے ویکھاں میں عملاں ولوں ، کجھ نہیں میرے پلّے

ہم پچھلے پندرہ سو برس سے خُدا کا کلام پڑھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور جنّت کمانے کی خواہش میں اپنے بچوں کو قرآن حفظ کرواتے رہے ہیں ۔ اس لیے نہیں کہ وہ قرآن پڑھ کر اُس پر عمل کریں ، بلکہ اس لیے کہ وہ حفظ اور تلاوت کے شارٹ کٹ کے ذریعے چھلانگ لگا کر جنت میں اپنا سونے کا محل الاٹ کروا لیں ۔

صحافی ، دانشور ، میڈیا نویس اور اینکر حضرات اس لیے دن رات لسان و قلم پر سوار ہیں کہ یہ اُن کا پیشہ ہے، ان کی روزی روٹی ہے ، اُن کی اولین ترجیح کا مسئلہ سرکولیشن اور ریٹنگ کا ہوتا ہے، حق گوئی یا حق نویسی کا نہیں ۔ البتہ استثنیٰ سے انکار ممکن نہیں ۔

یہی حال مساجد کا ہے ۔ مساجد دنیائے اسلام کو صادق و امین بنانے کے ادارے نہیں ، تبلیغی سرکولیشن اور فرقہ وارانہ ریٹنگ کا مسئلہ وہاں بھی موجود ہے ۔

مجھے اکثر احساس ہوا کہ لکھنا اب کارِ زیاں ہے مگر اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے ، کیونکہ حق کوئی اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ ء حق کہنا بھی انا کا ایک اظہار بن کر رہ گیا ہے ۔

کالم نویسوں کی الگ قوم وجود میں آ گئی ہے ۔ جو وہ لکھ رہے ہوتے ہیں ، اُسے پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ پاکستان کی بات نہیں کر رہے۔ پاکستان کے سمندر کے کسی ایک چھینٹے کی نمائندگی کر رہے ہیں اور وہ بھی ایک ایسی زبان میں ، جس کو کنوئیں کے مینڈک تو سمجھتے ہیں مگر دریا کی مچھلیاں اور درختوں پر بیٹھے پرندے نہیں ۔ زبان الگ خراب ہو رہی ہے ۔ محاورے بگڑ رہے ہیں ، کیونکہ شام اودھ اور صبحِ بنارس ہماری ارضی حقیقت نہیں رہی بلکہ را کا معاملہ بن گئی ہے ۔

کالم نویسوں کو اپنے کالموں کا پیٹ بھرنے کے لیے گوگل سمیت بیشتر ویب زائینز کا وسیلہ ہاتھ آ گیا ہے وہ ادھر ادھر سے مواد جمع کر کے اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں ۔ ایسی دیدہ دلیری جوسرِ راہے موبائل فون چھیننے والے کرتے ہیں وہی رویہ بعض کالم نگاروں کا بھی ہے کہ وہ کسی دوسرے کا کالم چھین کر اپنے قلم کی نوک پر آویزاں کرنے کوہر گز بے حیائی نہیں سمجھتے ۔ وہ کالم کو اس طرح اُلٹاتے ہیں جیسے کاریگر درزی کوٹ کو اُلٹا کر دوبارہ سی دیتے ہیں ۔

مجھے ناروے میں ایک بار ایک افسانہ نگار نے راز کی بات بتائی تھی کہ وہ اگر کسی کہانی کو پڑھ کر اس کو اپنی کہانی بنا لیں تو وہ پتہ ہی نہیں چلنے دیتے ۔ اب یہ سلسلہ بہت عام ہے ۔ شاعروں میں متشاعروں کا گروہ بہت طاقت ور ہے اور توارد کے نام پر چوری مباح ہے اور اس پر طرہ یہ کہ ٹی ایس ایلیٹ صاحب ان توارد بازوں کی مدد کو آتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ اپنے اپنے سٹائل میں صاف چرا لو ۔

لوگ ان دنوں پاکستان سے ہجرت کر کے پانامہ منتقل ہو گئے ہیں ۔ وہاں اخبار نکالتے ہیں ، وہیں سے حکومت چلتی ہے اور وہاں ایک باقاعدہ پاکستان وجود میں آگیا ہے جسے وزیرِ اعظم پاکستان کے شرفا ء و خلفائے جاتی عمرہ حسن اور حسین چلا رہے ہیں ۔ اور پاکستان میرا آپ کا پاکستان پانامہ میں کنگرو کی سی اچھل کود میں چل رہا ہے ۔

ہمارے بھی ہیں حکمراں کیسے کیسے

اب سیاست کی اس گلوبل دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں رہا ۔ آپ لندن میں بیٹھ کر پاکستان کی کوئی سیاسی پارٹی چلائیں ، یا سب سے پہلے پاکستان سے بھاگ کر دوبئی میں سگار پیئیں یا علاج کے لیے لندن جائیں یا وزارتِ اطلاعات کی کرسی پر بیٹھ کر کنفیوژن کی مکھیاں ماریں ، یا رانا ثنا اللہ کی مونچھوں سے بڑکوں کے ڈینگی مچھر اُڑائیں ، سب کچھ ممکن ہے ۔ ان سیاست دانوں نے زبان و قلم کو ایک نیا جارگن ، ایک نیا طرزِ اظہار مہیا کر دیا ہے جس سے لفظوں میں معانی کی ایک نئی دنیا آباد ہو گئی ہے :

ٹوٹی دریا کی کلائی ، زلف الجھی بام میں

بھینس کے انڈے میں مُرغا ، آدمی بادام میں

میں شکر گزار ہوں سیاست دانوں کا ، علماء کا اور ٹی وی ٹاک شوز کے لڑاکا مرغوں کا جنہوں نے پولیس کے گالیاں دینے کے شرعی حق کی توثیق کر دی ہے ۔ ممتاز قادری کے چہلم شو میں علما ء کی زبان سے جو جو پھول جھڑے اُس پر مجھے آسمان کی ہنسی صاف سنائی دی تھی ۔ قرآن کے حکم کی جو توہین اُس وقت علماء کی گالیوں سے ہوئی اُس پر کسی مفتی نے اعتراض نہیں کیا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ لگتا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے کان ہیں ہی نہیں ۔ وزارتِ مذہبی امور شاید ان دنوں عمرے پر گئی ہوئی تھی اور وفاقی شریعت کورٹ شاید یورپ یا امریکہ کے دورے پر تھی اور کسی کو یہ یاد ہی نہیں رہا کہ بد کلامی ، دشنام طرازی ، سب و شتم اور یاوہ گوئی سے قرآن نے منع کیا ہے :

قولو للناسِ حسنا ” ۔ قرآن

لیکن جب علماء اجتماعی طور پر بلاس فیمی کرتے ہیں تو اس کے لیے شرعی جواز پہلے سے وضع کر کے یا ڈھونڈ کر رکھتے ہیں ۔ یہی کام ہدف بنا کر قتل کرنے والوں اور خود کُش بمباروں کے مفتی بھی کرتے ہیں کہ اُن کے لیے سکول میں بچوں کو مارنا بھی ایک شرعی اقدام ہے ۔ یہ ہے وہ فکری اور اخلاقی بحران جس میں یہ اُمت اس وقت مبتلا ہے ۔ اور اس پر اقبال کا یہ قول کتنا برجستہ لگتا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا :

” قرآنِ کریم دنیا کی وہ مظلوم کتاب ہے کہ جو اُٹھتا ہے اس کی تفیسر لکھ دیتا ہے ” ۔ لیکن اس کا حاصل کیا ہے؟ یہی کہ :

وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

میرے کچھ دوست مجھ سے اس لیے خفا ہیں کہ میں اسلام سے کیوں چپکا ہوا ہوں ؟ بہت اسلام اسلام کرتا ہوں ۔ واقعی بہت بر محل سوال ہے کہ کرپشن ۔ منی لانڈرنگ ، فرقہ پرستی ، مکر و ریا اور پانامہ پیپرز کی قرات کے زمانے میں اسلام کا جواز ہی کیا ہے ۔

آئی ایم سوری !


Comments

FB Login Required - comments

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 11 posts and counting.See all posts by masood-munawar

2 thoughts on “صحرا میں اذاں  دے رہا ہوں میں

  • 14-04-2016 at 3:44 pm
    Permalink

    A nice column, providing a dismal picture of Islamic values, commercialization of fatwas or religious edicts, corrupted journalism and political elite, plagiarism in literature and poetry, daily rape of Urdu language by TV-presenters, irresponsible governance at all levels. This is the kind of stuff what the Islamic republic is made of today – not the dream of a home land for the Muslims of post-colonial India. Lamentable development. A propos “ Sirqa” or plagiarism, I would like to exemplify a recent blunder by Sindh government, who not only published and funded a book based on stolen material of Danish historians of literature, translated into Urdu(not in even in Sindhi !) but the Cultural Advisor, Ms Sharmila Faruqqi, came herself with her delegation with a dummy copy of the book to inaugurate and celebrate it in Copenhagen on the eve of 9th Muharram last year – the day before Hussain was slain in Kerbela for standing with the Truth! The author or the “Charbasaz” claimed on her Facebook that she had researched and wrote the book on “500 years history of Danish literature – from Runi to post-modernism”. All stolen from Google links, Wikipedia and published work of Danish researchers. Only two years ago she asked me, “What are all these “isims” about, what does isim means?” – lest to say if she ever learned or studied the concept of post-modernism in Arts, Literature, Architects and Social Sciences. She can’t even pronounce the names of those Danish authors whose copy-right stuff she stole despite having been school teacher for some years for bi-lingual pupils (Urdu speaking) in Danish school until she went on early-age pension on apparently false pretext of her ill mental health. This 500 pages of plagiarism is called in Urdu “Zubane Yaar, Man Danam” (Farsi ?), published by Dept. of Culture, Sindh. The so-called researcher and author, Ms Sadaf Mirza, Denmark. The “Taseer” of a corrupt Pakistani culture of “Adbiyaat” has penetrated also the Pakistani diaspora living abroad. Lamentable development.

  • 14-04-2016 at 7:35 pm
    Permalink

    ایک اچھا و عمدہ کالم جو اسلامی اقدار کا ایک مایوس کن عکس دکھاتا ہے ۔ فتووں اور امذہبی امر و نہی، صحافت و سیاسی اشرافیہ اور ادب و شاعری میں چربہ کاری، ٹی وی اینکروں کا اردو زبان کے ساتھ یومیہ ریپ اور ہر سطح پر ایک غیر ذمہ دارانہ طرز حکمرانی، یہ ہے وہ سبھی کچھ جس سےموجودہ اسلامی ریاست کا وجود ہے۔ یہ اس خواب کی تعبیر نہیں جو مسلمانان ہند نے پس از نوآبادیات و استعمار دیکھا تھا ۔ ادبی سرقہ یا چربہ کے حوالے سے اس غلط و افسوسناک پیشرفت کی میں ایک مثال پیش کرتا ہوں جو سندھ صوبائی حکومت کی وزارت ثقافت سے تعلق رکھتی ہے ۔ جس نے نا صرف ڈینش ادب کی تاریخ کے موضوع پر ایک ایسی کتاب کی اشاعت کا سرکاری بندوبست کیا اور اس کے لیے باقاعدہ سرکاری فنڈز مہیا کیے جو کتاب ڈینش تاریخ ادب سے متعلقہ ’’ چوری شدہ مواد ‘‘ پر مشتمل ہے اور جسے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے ( سندھی زبان میں بھی نہیں ) ۔ اس کتاب کی نام نہاد ’’ رونمائی ‘‘ کے لیے سندھ حکومت کی مشیر ثقافتی امور محترمہ شرمیلا فاروقی اپنے محکمہ کے ایک اعلیٰ ڈائریکٹر اور کچھ دیگر عہدیداروں کے ایک وفد کے ساتھ سرکاری خرچے پر یہاں کوپن ہیگن آئیں اور تقریب رونمائی میں کتاب کی دو ڈمی کاپیاں پیش کرتے ہوئے، بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ (صرف دو ڈمی کاپیاں لوگوں کو دکھائی گئی تھی اور اصل کتاب اب تک کوپن ہیگن نہیں پہنچی) ۔ یہ تقریب پچھلے سال نو محرم الحرام کے روز منعقد ہوئی ۔ یعنی جھوٹ و فریب کی یہ تقریب عین اسی دن منعقد کی گئی جب سیدنا حسین علیہ السلام نےکفر و باطل کے ساتھ حق کی لڑائی میں جام شہادت نوش کیا تھا اور ’’ سچ‘‘ کو تا ابد قائم کر دیا تھا۔ اس کتاب کی مصنفہ بلکہ ’’ چربہ ساز‘‘ نے اپنی چربہ سازی کو چھپاتے ہوئے اپنی فیس بک پر دعویٰ کیا کہ اُس نے ڈینش ادب کے ماضی پر تحقیق کرکے پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب بعنوان ، ’’ ڈینش ادب کی پانچ سو سالہ تاریخ، علامتی عبارات (یعنی گاتھی) سے پوسٹ جدیدیت تک‘‘ لکھی ہے ۔ حالانکہ اس میں شامل سارا مواد، گوگل، ویکی پیڈیا اور ڈینش ادبی تاریخ کے ماہرین کی شایع شدہ کتابوں سے چوری کیا گیا ہوا ہے ۔ صرف دو سال پہلے موصوفہ مصنفہ نے مجھ سے استفسار کیا تھا کہ یہ ’’ ازم ‘‘ کیا ہوتے ہیں؟ اور ان کے معنی کیا ہوتے ہیں اور ان ’’ ازمز‘‘ سے کیا مطلب لیا جاتا ہے؟ یہ کہنا بے سود نہیں ہو گا کہ اُس نے ، آرٹ ، ادب، معماری علوم اور سوشل سائنس میں ’’ پوسٹ جدیدیت‘‘ کے تصور و مفہوم کے بارے میں نہ کچھ پڑھا اور نہ ہی کبھی کچھ سیکھا ہے۔ اور یہاں تک کہ وہ اُن ڈینش مصنفین اور ڈینش ادبی تاریخ کے محققین و ماہرین کے ناموں کا درست تلفظ تک ادا نہیں کر سکتی جن کا مواد اس نے چوری کیا ہے ۔ اور کچھ عرصہ پہلے تک ایک پرائمری سکول میں اردو کی معلمہ ہونے کے باوجود،جن کے مواد کو اس نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے ’’کاپی رائٹس محفوظ ہیں‘‘، چوری اور استعمال کیا ہے ۔ اس اسکول سے اسے قبل از وقت پنشن پر بھیج دیا گیا تھا اوربظاہر اس کا سبب اُسکی ذہنی صحت کی خرابی اور نفسیاتی امراض بتائی گئی تھیں ۔ یہ کتاب جس کی صرف دو ڈمی کاپیاں حکومت سندھ کی مشیر ثقافت یہاں اپنے ساتھ لے کر آئی تھیں اردو میں جس کا عنوان ’’ زبان یاد من دانش‘‘ رکھا گیا ہے اور اس کے ٹائٹل پیج پر مصنفہ و محقق کے طور پر ’’ صدف مرزا ۔ ڈنمارک ‘‘ درج ہے ۔ یہ ہے تاثیر پاکستان کے کرپٹ و فاسد ادب و ثقافت کی جس میں اب بیرون ملک رہنے والے پاکستانی بھی شامل ہو چکے ہیں ۔

Comments are closed.