چھٹا درویش، کلری جھیل اور شاہی مسجد کا کھویا


bakht

کلاس کی کمیٹی سرجوڑ کر بیٹھی، فیصلہ یہ کرنا تھا کہ پکنک کے لیے کہاں جائیں۔ گرمی، ٹریفک، دھوئیں اور شور سے نکل کر ایک دن آرام، سکون اور کھلی فضا میں گذارنا ہے۔ کلاس کی کمیٹی چھ ارکان پر مشتمل تھی جو کلاس کے اجتماعی معاملات کے متعلق مشورے کرتی اور کلاس کی ضروریات، پروگراموں اور دیگر مسائل وغیرہ پر بات چیت کر کے کام آگے بڑھاتی۔ اب کی بار چھ درویش مل کر بیٹھے تو کمیٹی کے مشورے کے دوران ہم بھی وہاں موجود تھے۔ کسی کا پردہ منظور نہیں تھا مگر خاموش ہی رہے۔ کیوںکہ ہم کمیٹی کے رکن نہیں تھے۔ اس لیے بارہویں کھلاڑی کی طرح اپنے جوہر آزمانے کی حسرت دل ہی میں رہ کر بیٹھے رہ گئے۔

پہلے نے صلاح دی کہ سپر ہائی وے پر کسی فارم ہاوس ہی جایا جائے۔ اس نے فائدے بتائے وہاں سوئمنگ پول، کھیلنے کے لیے پارک، آرام کرنے کو کمرے، کچن باتھ روم وغیرہ سب انتظامات ہوتے ہیں۔ پانچوں نے اتفاق اسی پر کیا۔ چھٹے درویش نے مگر سر اٹھائے بغیر ہی کہا۔۔ کیوںکہ اس کا سر جھکا ہی نہیں تھا، وہ آغاز سے ہی گردن میں سریا دیے منہ پھلائے بیٹھا تھا۔۔۔ “اے خداوندان ایں مکتب، بروقتِ تخلیقِ خلائق و تقسیمِ وسائلِ عقل و دانش تم گھاس چرنے کہاں چلے گئے تھے کہ شعور و عقل کا اتنا سا بہرہ پایا ہے۔۔۔” انگلی سے چھٹکی بناتے ہوئے۔۔۔ “تم لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ خلق خدا کی قیادت کی صفات سے عاری ہو۔ تم جانتے نہیں یہ لوگ شہر کے بکھیڑوں سے کوسوں دور جانا چاہتے ہیں، کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ جہاں دور دور تک نظریں آوارہ پھریں اور کوئی دیوار حائل نہ ہو۔ پانی پر نظر ڈالیں تو سطح آب پر نگاہیں پھسلتی جائیں اور میلوں میل تک کوئی نظروں کو روکنے والا نہ ہو۔ فطرت کے حسن سے لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ تم لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ واٹر پارک میں تمھارا “تیشہء نظر’قیمہ اثر” حسینوں کی حرمت کے قتلے کر ڈالے۔ رات تک تم ایمان کی ردائیں تار تار کر واپس آؤ گے۔”

دوسرے درویش نے لقمہ دیا “جناب ہم بڑے واٹر پارک نہیں جائیں گے بلکہ ایک فارم ہاوس بک کریں گے جہاں ہمارے کلاس کے طلبہ کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا”۔ “اچھا اچھا” چھٹے درویش نے سر اوپر نیچے ہلایا “تم ایک دن کے لیے پانی کے مرتبان میں گھسانا چاہتے ہو، بھلا پانی کے ٹب میں ہی نہانا ہے تو میں کل مدرسے کے لان میں ایک ٹب لا کر رکھو پھر تم باری باری ڈبکی لگاتے جانا، پارک بھی ہے اور پانی بھی۔ سونا ہو تو جا کر اپنے کمرے میں لیٹ جانا۔ حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۔ تم ایک گھر نما سی جگہ میں جا کر خوش ہو، تاحد نظر پانی ہی پانی، فضا ہی فضا اور شفاف ہواؤں سے کھیلنا نہیں چاہتے۔” پاس بیٹھے پانچویں درویش نے کہنی ماری “نامراد اپنی مراد واضح کر، پہیلیاں کاہے کو بھجواتا ہے ؟” درویش نے کہا “آمدم برسر مطلب، میرا مقصود و مدعا یہ تھا کہ ٹھٹھہ جائیں، کلری جھیل میں نہائیں، شاہی مسجد کے باہر کھویا کھائیں اور مکھلی کا شہر خاموشاں دیکھیں” یہاں تک چھٹے درویش کی تقریر دلپذیر ختم ہوئی۔

سبھی کو ان کی رائے پسند آئی۔ سبھی نے ٹھٹھہ جانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے مطلوبہ رقم کا حساب لگاکر فی کس حصے کا اعلان کیا گیا۔ ٹھٹھہ روانگی کب ہوگی ؟ جمعرات کو چھٹی کے بعد شام کو روانہ ہوں تو ٹھٹھہ میں جھیل کنارے رات گذارنے کا کوئی سامان نہیں۔ جمعہ کی صبح روانہ ہوں تو پہنچتے پہنچتے دھوپ کی تمازت میں شدت آجائے گی۔ تب پانی میں نہانے کا مزہ بھی نہیں رہے گا۔ اس کے علاوہ تفریح کے لیے مخصوص دن بھی آدھا یوں ہی سفر میں گذر جائے گا۔ اس لیے فیصلہ ہوا جمعہ کی صبح کو ہی سویرے سویرے نکل پڑیں۔

جمعہ کی صبح کو فجر سے پہلے ہی ساتھیوں کو بیدار کیا گیا۔ بس جو بک کی گئی تھی وہ رات کو ہی مدرسہ آچکی تھی۔ سویرے سب جاگ اٹھے، ہم سے جو تہجد کے عادی نہ تھے انہوں نے بھی جاتے جاتے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور تہجد کی دو رکعتیں پڑھ لیں۔ گاڑی روانہ ہوئی تو کراچی کے سڑکوں پر ابھی ہو کا عالم تھا۔ اس لیے بلا کسی تعطل کے بہت جلد کراچی سے نکل گئے۔ فجر کی نماز کراچی سے باہر ادا کی اور پھر آگے کو ہو لیے۔ راستہ میں سورج مکھی کی فصلیں زیادہ نظر آئیں  جس کے پھول سورج کے نکلنے سے پہلے ہی اس کی جانب پرنام کیے کھڑے تھے۔

کلری جھیل پہنچے تو سورج کی کرنیں فضا میں ہی رقصاں تھیں۔ زمین پر دھوپ ابھی تک نہیں پڑی تھی۔ سارے ساتھی اپنا اپنا بیگ اِدھر اُدھر پھینک کے پانی کی طرف دوڑتے ہوئے گئے۔ کھانے پینے کا سامان اور برتن سنبھالنے کی ذمہ داری کمیٹی کے ارکان نے ہی سنبھالی۔ ایک جھگی کرائے پر لی، سامان اٹھا کر اس میں رکھا۔ کمیٹی کے دو ارکان ایسے تھے جو ایسے معاملات میں سبھی سے ممتاز تھے۔ ایک قصور پنجاب اور دوسرے مالاکنڈ خیبر پختونخوا کے تھے۔ قصور کے ساتھی کو باورچی خانے کا سسٹم سنبھالنے اور کھانے کا نظم وضبط ترتیب دینے کا سلیقہ بخوبی آتا تھا۔ اس کے بعد بھی ہر مرتبہ پکنک یا پارٹی میں انہوں نے باورچی خانے کا نظام ہاتھ میں لیا اور اس خلوص اور سلیقے سے نمٹایا کہ ساتھی داد دیتے رہے۔ مالاکنڈ کے ساتھی ہر پکنک اور پارٹی کے لیے کھانے پینے کا سارا سامان خود لاتے۔اچھا پکوان تلاش کرتے، چاول، گوشت، فروٹ، کولڈ ڈرنک، کیٹرنگ کا سامان، ہر ہر چیز کے لیے دوڑ دھوپ کرتے۔ ایسے میں جیب سے بھی کچھ اخراجات ہوجاتے تو پروا نہ کرتے۔ آٹھ برس کی رفاقت میں ان سے محبت بھرا دوستی کا تعلق رہا۔ عربی ادب سے خاص لگاؤ تھا۔  آٹھ سالوں میں ہر امتحان میں پوزیشن ہولڈر رہے۔ ساتھ میں ساتھیوں کی خدمت کا یہ بے لوث جذبہ، ایسے ساتھی بہت کم دیکھنے میں آتے تھے۔

اکثر ساتھی تو تیراکی جانتے تھے اس لیے چھوٹتے ہی پانی میں کھود گئے۔ ہم نے ایک ٹیوب بیس روپے دے کر دن بھر کے لیے کرائے پر لیا۔ اس پر اپنا جسد ڈال دیا اور ہاتھوں کے پتھوار بنا کر پانی کی سطح پر تیرا کی کی۔ خدمت والے انہیں دو ساتھیوں نے ناشتہ تیار کرنا شروع کیا۔ نہاتے نہاتے بھوک بہت جلد لگی۔ ناشتہ بھی بہت جلد تیار ہوگیا۔ ساتھیوں نے آواز دی اور سب نے جلدی جلدی آکر ناشتہ کیا۔ خوب شکم سیر ہو کر ناشتہ کے بعد سب پھر سے پانی میں اتر گئے، ہم نے بھی اپنا ٹیوب سنبھالا۔ یہاں کراچی کے اور مدرسے کے بھی طلبہ آئے ہوئے تھے۔ ان کی آمد سے تعداد اور بڑھی تب کھیلنے کا مزا بھی دوبالا ہوگیا۔ ہمارے علاوہ ایک فیملی بھی سیر کو آئی تھی مگر انہوں نے اپنا پڑاؤ ہم سے بہت دور ڈالا، شاید ان کا خیال  تھا مولوی پانی میں بھی دہشت گرد ہوتے ہیں۔ دوپہر کے کھانےکی تیاری کے لیے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ سے معاوضہ پر ایک افغانی باورچی ہم ساتھ لائے تھے جنہوں نے افغانی پلاؤ تیار کر کے دیا۔ پلاؤ کے ساتھ قورمے اور افغانی نان کےساتھ کولڈ ڈرنک اور فروٹ نے مزہ دوبالا کردیا۔ کھانا کے بعد کچھ ساتھی کھیلتے کھیلتے تھک چکے تھے اس لیے سستانے کو لیٹ گئے اور کچھ پھر بھی پانی میں اتر گئے۔ نماز کا وقت ہو گیا، مدرسے کے ایک استاد بھی ہمارے ساتھ اس سفر میں تھے ۔ انہوں نے خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد اکثر ساتھی کرکٹ کا سامان اٹھائے ایک کھلی جگہ میں کھیلنے لگے۔ استاد جی بھی ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے لگے۔ کچھ طلبہ فٹ بال لے کر اس کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگے اور کچھ سستانے کو لیٹے اور گپیں ہانکتے رہے۔

کچھ دیر بعد واپسی کی تیاری ہونے لگی۔ راستے میں کھیت، زمینیں، پانی کے جوہڑ اور اس میں نہاتی بھینسیں سبھی کچھ دیکھا۔ ٹھٹھہ کی شاہی مسجد پہنچے، وہاں کی زیارت کی، مغل بادشاہ شاہجہاں کی تعمیر کردہ یہ مسجد آج بھی اپنی خوبصورتی اور بہترین تعمیر کے ساتھ جوں کا توں قائم ہے۔ مسجد کے باہر مٹی کی مٹکیوں میں کھویا خرید کر کھایا اور کچھ اپنے ساتھ مدرسہ لانے کے لیے لیا۔ مسجد سے نکل کر مکلی قبرستان کا رخ کیا۔ قبرستان کی گیٹ کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد میں عصر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد مکلی قبرستان میں گھومنے نکلے۔ چھوٹی سی چھوٹی قبر سے لے کر بلند و بالا گنبدوں کے مزاروں تک یہاں ہر طرح کی قبریں موجود ہیں۔ مغلوں کی گنبدوں میں آویزاں فلاں خان فلاں خان کے کتبوں سے ان کی شان و سطوت کا اندازہ ہوتا تھا۔ دنیا کی یہ بے ثبات زندگی یہاں آکر اپنا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔ دنیا کی سب سے اٹل حقیقت موت کا اندازہ یہاں تا حد نظر پھیلی ہوئی قبروں سے ہوتا ہے۔ یہ جو کبھی ہماری طرح زندگی کی سرمستیوں سے لطف اٹھاتے زندہ انسان تھے آج مایوسی اور تنہائی کے کہر میں لپٹے ان کے مقبرے “ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں ” کا اعلان کر رہے تھے۔ ادھڑے کتبے، خستہ دیواریں، گری ہوئی سنگ مر مر کی سرخ و سفید سلیں، منقش محرابوں پر چھائی زمانے بھر کی افسردگی، اسی میں گھومتے گھامتے واپس گاڑی تک آپہنچے اور محو سفر ہوگئے۔ مغرب کی نماز کراچی سے باہر ایک خوبصورت پارک میں ادا کی اور وہاں سے کراچی کی جانب چل پڑے۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “چھٹا درویش، کلری جھیل اور شاہی مسجد کا کھویا

  • 14-04-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    محترم بخت محمّد صاحب

    السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    آپ کی تحریر پڑھنے کا بہت لطف آیا۔

    آپ کا اندازِ بیاں انتہائی دلچسپ اوردلنشین ہے۔

    مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔

    شاد رہیے۔ آباد رہیے

  • 14-04-2016 at 3:59 pm
    Permalink

    مرزا اسلم صاحب پذیرائی کا شکریہ ۔ خوش رہیں ۔

  • 14-04-2016 at 4:45 pm
    Permalink

    حالانکہ عام سی بات ہے لیکن کبھی دھیان میں نہیں آیا کہ مدرسے کے طلبا پکنک پر بھی جاتے ہیں ۔ لکھنا جاری رکھیں

  • 14-04-2016 at 7:47 pm
    Permalink

    وصی صاحب حوصلہ افزائی جاری رکھیں۔

  • 14-04-2016 at 11:46 pm
    Permalink

    محترم بخت محمد صاحب
    بہت خوشگوار حیرت ہوئی ہے اھلِ مدرسہ کا ‘فسانہ’ سن کے، آپکا اسلوب بیان بہت اچھا ہے،
    آپکی آئندہ تحریر کا انتظار رہے گا

  • 15-04-2016 at 3:26 am
    Permalink

    اس فیملی نے آپ سے دور پڑاو کیوں ڈالا؟

    کیونکہ ہر انسان کو مولویوں اور طالبان میں ‘شیرانی’، ‘جھنگوی’، ‘لدھیانوی’، ‘اشرفی’، ‘ڈیزل’ اور ‘مولوی سینڈوچ’ کی کوئی نہ کوئی جھلک نظر آہی جاتی ہے۔

  • 15-04-2016 at 9:20 am
    Permalink

    مجھے پتہ تھا آپ کو پورے مضمون میں یہ ایک طنزیہ جملہ ہی راس آئے گا۔ ہہہہہہ ۔ خان اچکزئی سلامت رہو

  • 15-04-2016 at 9:40 am
    Permalink

    محمد حامد صاحب آپ کی محبت ہے ۔

  • 15-04-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    خوبصورت اسلوب…عمدہ
    اس روداد کی خاص بات کہ روداد صرف اپنے تک محدود ہو کے بھی ” ہم سب” کے لئے یکساں باعث لطف و مسرت ہے.

  • 15-04-2016 at 3:27 pm
    Permalink

    ہمایون خان صاحب پذیرائی کا شکریہ

Comments are closed.