پاناما لیکس اور جمہوری روایات


zohaib hayatکافی عرصے بعد دوستوں سے بحث ہو رہی ہے اور گفتگو کا محور پانامہ لیکس کے حوالے سے پاکستانی حکمران فیملی سے متعلق وہ انکشافات ہیں جس نے ملک میں تہلکہ مچایا ہوا ہے۔ حکومت اس معاملے میں دباؤ میں ہے اور اسی دباؤ کے پیشِ نظر وزیر اعظم نے نہ صرف قوم سے خطاب کیا بلکہ بادل ناخواستہ ایک کمیشن کا اعلان بھی کرنا پڑا۔ مگر ان سب کے باوجود بلا ٹلنے کو نہیں آرہی، اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا ہوا ہے اور عمران خان دوبارہ دھرنے کی نوید سنا رہے ہیں  ۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیندہ چند مہینے حکومت کے لئے سخت ہونگے۔

بات پاکستان سے نکال کر بیرون ملک کی کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے آئس لینڈ کے وزیر اعظم کا نام ان لیکس میں آیا، عوام اور اپوزیشن کے احتجاج کے بعد ان کو مستعفیٰ ہونا پڑا۔ لندن میں  برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اپنے والد صاحب کا نام آنے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ابتدا میں انکار کرنےکے بعد انھوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ وہ اپنے والد کے غیر ملکی اثاثوں سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ مگر وہاں  یہ نہیں کہا جا رہا کہ یہ قانونی لحاظ سے غلط ہے۔ تاہم اپوزیشن کے پریشر میں اضافہ ہورہا ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے ابھی اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اور یہی حالات ان باقی ممالک کے بھی ہیں جہاں جمہوری حکومتیں ہیں۔

اب واپس آتے ہیں دوستوں کی گفتگو کی جانب، کیونکہ بندے کا تعلق مڈل کلاس سے ہے۔ اور مڈل کلاس کے اس طبقہ سے جو سیاستدانوں سے کبھی خوش نہیں رہا۔ کچھ مطالعہ اور کچھ پاکستان کی تاریخ پر نظر رکھنے کے سبب اپنے احباب میں ان چند افراد میں ہوں جو پاکستان کا مسائل کا حل جمہوری نظام میں سمجھتے ہیں۔ میں اس بات کا قائل رہا ہوں کہ پاکستان کے جو ابھی مسائل ہیں وہ ان ادوار کی دین ہیں جن میں غیر جمہوری قوتیں ملک پر قابض رہیں۔ اس پر احباب ناراض بھی رہے، کچھ نے کافی بحث بھی کی۔ اور ماضی میں جب دھرنا ہوا تو مجھے لعن طعن اس لئے سہنا پڑی کیونکہ میں نے امپائر کی انگلی کا گرد گھومنے والے دھرنے کی زور شور سے مخالفت کی۔ اب ان لیکس کے آنے کے بعد دوست یہ کہہ رہیں ہیں کہ دیکھو ہم نہیں کہہ رہے تھے کہ یہ سیاستدان ہوتے ہی کرپٹ ہیں۔ کیسی جمہوریت ہے جس میں حکمران طبقہ نے عوام کے مال کو مال مفت سمجھ کر غیر ملکی اثاثے بنائے ہوئے ہیں۔ ملک کے مسائل کا حل جمہوریت میں نہیں ہے۔

قانونی نکتہ سے ہٹتے ہوئے اگر مان لیا جائے کہ اس لسٹ میں شامل جتنے لوگ ہیں انھوں نے ٹیکس چوری یا ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ آف شور کمپنیاں کھولی ہوئی تھیں۔ ان کمپنیوں میں جو پیسا گیا وہ غیر قانونی طور پر گیا۔ پانامہ لیکس میں سیاستدانوں اور جمہوری  حکمرانوں کے علاوہ ہزاروں لوگ اور ہیں جن میں سپورٹس سے لے کر شو بزنس کے لوگ شامل ہیں۔ امیتابھ، ایشوریا رائے، ملک ریاض کے صاحب زادے وغیرہ۔ پاکستان سے لے کر سینکڑوں ممالک کے بزنس مین طبقے سے تعلق رکھنے والے سب شامل ہیں۔ اس میں وہ اشخاص بھی ہیں جو آمر ہیں، جو اپنے اپنے ممالک کے اقتدار پر غیر قانونی قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ مگر احتساب کن کا ہو رہا ہے؟ آپ پاکستان سے لے کر دنیا بھر کے اخبارات اٹھا لیں، جہاں جہاں جمہوریتیں ہیں وہاں کے حکمران زیر عتاب ہیں وضاحتیں، عدالتی کمیشن، استعفیٰ یہ سب کہاں سے آ رہے ہیں ؟ اور کہاں خاموشی ہے؟ کہاں سے آوازیں نہیں اٹھ رہیں؟ اسی سکینڈل کے بعد مشرف کے حوالے سے ایک آرٹیکل چھپا اور اس میں دبئی کے یونائیٹڈ بینک کے حوالے سے بتایا گیا کہ مبینہ طور پر وہاں اس کا اربوں روپیہ پڑا  ہے مگر کتنا شور مچا؟

تو کیا یہ بات درست نہیں کہ جمہوری روایتوں نے یہ موقع ہم کو دیا ہے کہ ہم ان حکمرانوں کا احتساب کر سکتے ہیں جن کو ہم نے چنا ہے۔ جمہوریت میں حکمرانوں سے جواب طلبی کی جاسکتی ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن مستقل چیک اینڈ بیلنس رکھے رہتی ہے۔ کیا یہ شور اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ نظام ہی ہم کو آگے لے جائے گا؟ اور وہ خاموشی جو ان ملکوں میں چھائی ہوئی ہے جہاں فرد واحد کی حکمرانی ہے، کیا وہ اس نظام کی ناکامی اور کمزوری کو ظاہر نہیں کرتی؟ آپ چاہے افراد سے اختلاف رکھیں مگر کیا یہ غور کرنا ضروری نہیں کا جو نظام آپ کے پر مبنی ہوگا وہی آپ کی بات سنے گا، اور اسی میں ایسی سکت ہے جو آپ کے غصے کو برداشت کر سکتی ہے۔ غور تو کریں اور اس شور میں چھپی بہتری پر بھی توجہ دیں۔


Comments

FB Login Required - comments