تھر پارکر، بچوں کی اموات اور پس پردہ عوامل


mudasar zafarعام طور پر ایسا بے آب و گیاہ علاقہ جہاں سالانہ اوسطاََ 250 ملی لیٹر سے کم بارش ہو ریگستان کہلاتا ہے۔ تھرپارکر، پاکستان کا شمار آبادی کے لحاظ سے دنیا کے چند بڑے صحراؤں میں ہوتا ہے۔

صوبہ سندھ کے مشرق میں واقع ہندوستان کی سرحد سے ملحقہ یہ خطہ گزشتہ چند سال سے بچوں کی اموات کے حوالے سے خبروں میں ہے۔ شیر خوار بچوں کی حالیہ اموات کو ارباب اختیار قحط سالی کے باعث غذائی قلت کے کھاتے میں ڈال کر غذائی اجناس و ادویات کے ٹرک بھجوا کر اپنے فرائض سے پلو جھاڑتے نظر آتے ہیں۔ درپردہ عوامل پر نہ کسی کی نظر ہے نہ جاننے کی کوشش اور نہ سدباب کی کوئی امید۔ تھرپارکر کے عوام صدیوں سے اسی حال میں جی رہے ہیں۔یوں تو قحط سالی اور تھرپارکر کے عوام کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے لیکن کچھ عرصے سے شیرخوار بچوں کی مسلسل اموات میں خطرناک حد تک اضافہ حکومت کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ پس پردہ عوامل کا جائزہ لینے سے پہلے ہندوستان کے ریگستانی علاقے راجستھان اور تھرپارکر پاکستان کے جغرافیائی حالات چونکہ ایک دوسرے سے کافی حد تک مشابہ ہیں اس لئے مناسب سمجھتا ہوں کہ ان کا تقابلی جائزہ پیش کروں۔

تھر پارکر پاکستان:

رقبہ 19638 مربع کلومیٹر، آبادی 1299735، شرح خواندی17.34 % ، سالانہ اوسط بارش سو ملی میٹر۔

راجستھان ہندوستان:

رقبہ 342239 مربع کلومیٹر، آبادی 73529325، شرح خواندگی 67.45%، سالانہ اوسط بارش چارسو ملی میٹر۔

tharآبادی میں بعد المشرقین کے باوجود راجستھان میں بچوں کی اموات کے حوالے ایسی کوئی صورت حال نہیں۔اس قدر فرق کے باوجود راجستھان میں شرح خواندگی تھر پارکر کی نسبت چار گنا زیادہ ہے۔کہیں نہ کہیں یہ جہالت بھی بچوں کی اموات کا سبب ہے۔ تھرپارکر پاکستان میں عورتوں کی شرح خواندگی تقریباََ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اکثریت کو اسکول کی سہولت میسر نہیں اگر کہیں اسکول ہیں بھی تو لڑکیوں کو پڑھانا گویا شجر ممنوعہ ہے۔ پھر میری نظر میں بچوں کی اس قدر قابل فکر تعداد میں اموات کی وجہ لڑکیوں کی نامناسب تعلیم کے ساتھ ساتھ کم عمر میں شادی ہے۔ بارہ سے چودہ سال کی عمر میں بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے۔ کم عمری میں شادی ایک ایسا معاملہ ہے جس کو تھرپارکر میں بچوں کی اموات کے حوالے سے کبھی موضوع بحث نہیں بنایا گیا۔ قحط کی وجہ سے غذائی صورتحال ویسے ہی دگرگوں ہے جس کے نتیجے میں عمومی صحت قابل رحم ہوتی ہے۔ایسے میں وہ کمزور و نحیف کم عمر لڑکی کس قدر صحت مند بچے کو جنم دیتی ہوگی؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو بچے مر رہے ہیں ان میں سے اکثریت کا وزن پیدائش کے وقت بمشکل ایک کلوگرام ہوتا ہے۔ جبکہ طبی ماہرین کے مطابق بچے کی پیدائش کے وقت بچے کا وزن دو سے ڈھائی کلو کے درمیان ہونا چاہیئے۔

یونیسیف کے ایک حالیہ سروے کے مطابق مرنے والے بچوں کی ماؤں میں سے اکثریت کی عمریں چودہ سے سترہ سال کے درمیان ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کم عمر میں بچیوں کی شادی اور ماں بننا بچوں کی اموات کا بڑا سبب ہے، میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ گیارہ ماہ میں چار سو سے زائد بچے غذائی کمی کے باعث ہلاک ہو ئے جس سے معاملے کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، دور دراز علاقوں میں بسنے والے تھرپارکر کے لوگ ذرائع آمد و رفت سے محروم ہیں۔ پختہ سڑکیں ناپید ہیں، گاؤں شہر سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں ہیں۔

tharآج کے جدید دور میں بھی تھر پارکر طبی سہولیات، ذرائع آمد ورفت، بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، سڑکیں اور ذرائع آمد و رفت نہ ہونے کے باعث یہ بات کامل وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم تک پہنچتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی تعداد وہ ہے جو گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح اسپتال پہنچ کر وفات پا جاتے ہیں اور ریکارڈ میں آ جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی وہ تعداد اس کے علاوہ ہے جو کوشش بسیار کے باوجود اسپتال تک پہنچ نہیں پاتے جو گاؤں کی دائیوں، عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم ہر ہوتے ہیں، یا غربت کے باعث اسپیشل گاڑی کرایہ پر لینے کے متحمل نہیں وہ اس اعداد و شمار سے باہر ہیں۔

اسکے بعد خوراک کا عمومی مسئلہ ہے، لوگوں کا ذریعہ معاش بارانی فصلیں اور مال مویشی پالنا ہے ہر دو کا انحصار بارش پر ہے، بارش کے حوالےسے صورت حال مزید فکر انگیز ہے۔ گزشتہ چند سال سے قحط سالی نے تھر پارکر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں پانی ناپید ہو چکا ہے اور جو میسر ہے وہ بھی مضر صحت ہے۔ مجھے تین سال تک تھر پارکر میں قیام کا موقع ملا اس دوران وہاں کے لوگوں کے رہن سہن اور بود و باش کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ایسا پانی پینے کا اتفاق ہوا جس سے شاید آپ پاؤں دھونا بھی پسند نہ کریں۔

تھر پارکر کے لوگوں کی خوراک میں جوار، باجرہ اور گندم شامل ہے، گندم کی روٹی تو گویا شاہانہ خوارک میں شامل ہے۔ وہ دن عید سے تعبیر ہوتا تھا جس دن سبزی مل جاتی ورنہ سبزی کے نام پر پیاز، سانگری ( ایک خار دار درخت کی پھلیاں جسے پکایا جاتا اور خشک کر کے رکھ لیا جاتا )، بارش کے بعد اگنے والی خود رو جڑی بوٹیوں میں سے بعض، سبز و سرخ ثابت مرچ کا سالن پکاتے ہیں، کچے تربوز، ٹینڈے اور گوار۔۔۔  اگر یہ بھی نہ ہو تو لسی میں سرخ مرچ ڈال کر کھا لیتے ہیں۔ باجرہ کو لسی میں ابال کر بنایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں گش کہا جاتا ہے۔ اندرون سندھ سے جانے والے مہمان سبز مرچ بطور تحفہ لے کر جاتے ہیں جسکا سالن بنایا جاتا ہے، پھلوں کا تو تصور ہی دیوانے کا خواب ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب بھی تب ہی میسر ہوتا ہے اگر بارش ہو جائے۔

thar13تھر پار میں عورت کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ صبح طلوع فجر سے بھی پہلے اٹھ کر چکی پیسنا، جانوروں کا دودھ نکالنا، کھانا بنا کر زمینوں پر لے جانا، گھر والوں کے ساتھ زمین پر کام کروانا، جانوروں کا چارہ بنانا وغیرہ یہ سب کام عورتوں کے ذمہ ہیں۔ میں نے خود وہاں عورتوں کو زمین میں ہل چلاتے بھی دیکھا ہے۔ پھر مارچ تا اپریل گندم کی کٹائی کے لئے تھر پار کر کے لوگ اندرون سندھ چلے جاتے ہیں۔ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ اس مشقت میں بھی پیش پیش ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ بچے بھی سنبھالنا انہی کی ذمہ داری ہے۔ تا دم مرگ نہ ختم ہونے والی مسلسل مشقت اور اس کے ساتھ ساتھ فرسودہ مذہبی و معاشرتی روایات میں جکڑا تھری معاشرہ عورت کے لئے جیتے جی کسی جہنم سے کم نہیں۔ بیماری ہو خواہ صحت  کی حالت حتیٰ کہ دوران حمل بھی عورت کا دن کے وقت چار پائی پر لیٹنا یا بیٹھنا نہایت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کھانے پینے میں عورت کےساتھ بھید بھاؤ دیگر پڑھے لکھے معاشروں میں بھی عام ہے تھر کا تو ذکر ہی کیا۔ حفضان صحت کے اصولوں کا خیال کس قدر رکھا جاتا ہوگا اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ بہت کم گھرانے ایسے ہیں جہاں آپ کو صابن ملے گا۔

صرف خوراک ہی مسئلہ نہیں جہالت، ناخواندگی، طبی سہولیات کا فقدان، کم عمر بچیوں کی شادی اور پھر نامناسب تربیت، دائیوں، عطائی ڈاکٹروں، بھوپوں (جھاڑ پھونک کرنے والے ہندو عامل جنہیں مقامی زبان میں بھوپے کہا جاتا ہے) پر انحصار ذرائع مواصلات، یہ سب تھر پار کر کی نسل کشی کے ذمہ دار ہیں۔

1299735 میں سے تھر پارکر کے رجسٹر ووٹرز کی تعداد صرف 256685 ہے، جو کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے کسی خاص کشش کا باعث نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی ووٹ بینک یا دیگر مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مخلص ہو کر سراسر انسانی ہمدردی کی بناء پر مستقل بنیادوں پر تھر کی فلا ح و بہبود کے لئے کام کیا جائے۔ وقتی طور پر گندم کے ٹرک اس مسئلہ کا تدارک نہیں کرسکتے۔


Comments

FB Login Required - comments

9 thoughts on “تھر پارکر، بچوں کی اموات اور پس پردہ عوامل

  • 14-04-2016 at 3:52 pm
    Permalink

    Superb? کاش یہ آواز ارباب اختیار کے کانوں تک بھی پہنچے

    • 16-04-2016 at 12:51 pm
      Permalink

      انشاء اللہ ۔ ۔ ۔

  • 14-04-2016 at 4:17 pm
    Permalink

    بہت عمدہ پیرائے میں تمام مسائل کی نشاندہی کی ہے۔

  • 14-04-2016 at 4:33 pm
    Permalink

    بہت بہترین تحریر اور تجزیہ ۔ ہمارے سیاست دان نجانے کس مٹی کے بنے ہیں ان پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ شریف خاندان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ چاہیں ملک سے غربت اور قحط کا خاتمہ ممکن ہیں ۔ مگر وہ کیوں چاہیں گے آخر شریف کہلانے کا شوق جو ہے ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ وزیر اعظم صاحب کا خاندان صبح دوپہر شام ناشتے میں پیسہ کھاتے ہیں اور نئے نوٹوں کی خوشبو کو عطر کے طور پر استعما ل کرتے ہیں ۔ پیسہ ہی گھول کے پی جاتے ہیں تبھی تو ان کو آئے روز بد ہضمی ہوجاتی ہے ۔ جس کا علاج پاکستان کے کسی ہسپتال میں نہیں ۔ علاج کے لئے انھیں باہر بھاگنا پڑتا ہے وہیں جاکے ان کے معدے کو سکون ملتا ہے مزید پاونڈ جو کھانے کو مل جاتے ہیں

  • 14-04-2016 at 6:12 pm
    Permalink

    محترم مدثر ظفر صاحب.
    ایک عمدہ تحریر اور حقیقی مسائل اور ان کی وجوہات کا گہرا مطالعہ،
    تین سال تک خود اس معاشرے کا حصہ رہنا،
    یقینا آپ کی رائے ان سب پر فوقیت رکھتی ہے جنہوں نے میڈیا کے ذریعہ تھر دیکھا.اور میڈیا پر ہی اس کے مسائل سے کسی قدر روشناس ہوئے.اور چند باتیں کہہ کر مسائل،اسباب اور تدارک سے جان چھڑا لی.

  • 14-04-2016 at 7:12 pm
    Permalink

    خوب است مُدثر بھائی ، ضرورت اس امر کی ہے کہ صاحب اختیار اور مُخیر حضرات بغیر کسی دُنیاوی لالچ کے اس علاقے کے لوگوں کی مدد کو آگے بڑھیں ،
    اندیشہ ہے کہ مذہبی تنظیمیں وہاں پہنچ کر لوگوں کی مدد کرکے پس پردہ اُن پر اپنا مذہب مُسلط کر دیویں ، لیکن چلیں اس طرح بھی منظور ،

    ( ویسے مُجھے یاد ہے کہ برسوں پہلے آپ یہ تو فرمایا کرتے تھے کے تھر میں بچوں کی اموات کا سبب گُندم کی عدم دستیابی نہیں بلکہ پس پردہ عوامل کچھ اور ہیں ، آج آپ نے وضاحت فرما دی )

  • 14-04-2016 at 11:51 pm
    Permalink

    bohat khoob. sahi halaat se aagahi huyi.. chalo saeen Qaim ali shah to Qayem hai.. tharparkar ke logon ki khair hai..

  • 16-04-2016 at 1:59 am
    Permalink

    اچھی تحریر ہے۔

    تھر سمیت پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں رہنے والے غریبوں کی حالت چند سالوں یا عشروں کی غفلت کا نہیں بلکہ صدیوں سے جاری استحصال کا نتیجہ ہے۔ حل یہ ہے کہ لاکھوں ایکڑ اراضی رکھنے والے خونخوار زمینداروں سے زمیںیں چھین کر ان ہاریوں اور غریبوں میں تقسیم کردو۔ ویسے بھی فصل یہ غریب ہاری ہی تیار کرتے ہیں۔ اژدہے جیسے وڈیرے تو صرف خون چوسنے کے وقت کھٹمل کی طرح اپنی شکل دکھاتے ہیں۔

  • 16-04-2016 at 12:53 pm
    Permalink

    شکریہ ۔ ۔ ۔ پڑھنے اور سراھنے کا ۔ ۔ ۔ ۔

Comments are closed.