فرزندان اسلام اور مغرب کی بے حیا عورتیں


mujahid aliاقبال کے شاہینوں نے ستاروں پر کمند ڈالنے کا آسان اور مقبول راستہ اختیار کیا ہے۔ حال ہی میں جرمنی کے بیشتر شہروں میں اس کا مظاہرہ بھی کیا گیا مگر خاص طور سے کولون کا شہر ان مجاہدین اسلام کی توجہ کا مرکز رہا۔ مفکر اسلام کے ان جیالوں نے لڑکیوں کے پستانوں کو نوچ کر اور ان کے نازک مقامات میں انگلیاں گھسیڑ کر یہ واضح کر دیا کہ بازوئے مومن میں کتنی طاقت ہے۔

پھر کیا عجب کہ نئے سال کے اس جشن میں جب یہ محبان دین و ملت اپنے اس عظیم جہادی مشن میں مصروف و مشغول تھے تو غیبی آسمانی قوتیں زمین پر آ کر ان کی حفاظت کر رہی ہوں۔ یہ تعداد میں کل ایک ہزار تھے اور وہ تعداد میں کئی لاکھ تھے۔ یہ نہتے تھے۔ ان کی پولیس چہار طرف تعینات تھی۔ لیکن جب خداوند چاہتا ہے تو طاقتور کو بے بس کر دیتا ہے۔ جب یہ جیالے اپنے انوکھے مشن میں مصروف ہوئے تو کسی کو انہیں روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔

یوں تو مومن چونکہ ہر طرف سے پیش بندی کر کے کفار کے مقابلے میں اترتا ہے۔ اس لئے احتیاط ان نوجوان جہادیوں نے بھی کی تھی۔ وہ پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ کی ٹولیوں میں حملہ آور ہوئے۔ کسی لڑکی یا عورت کو دیکھ کر اسے گھیرے میں لیتے اور پھر نعرہ مستانہ بلند ہوتا اور وہ عورت چیختی چلاتی مدد کے لئے پکارتی رہتی اور یہ نوجوان حمیت ملی سے سرشار اسے بھنبھوڑنے ، نوچنے اور لوٹنے میں مصروف رہتے۔ ایسے میں اگر نشانے پر آئی ہوئی لڑکی کا پرس ، موبائل ، یا کوئی قیمتی شے قابو میں آ جاتی تو اسے مال غنیمت سمجھ کر قبضے میں کر لیا جاتا اور اگلے شکار کی تلاش میں جنگی نعرے لگاتے آگے بڑھنے کا سلسلہ جاری رہتا۔

ہے کوئی جو ان بلند ہمت جوانوں کے حوصلے کی داد نہ دے سکے۔ انہوں نے جس طرح دشمن کے دانت کھٹے کئے ہیں، اس کا مظاہرہ تو جدید ترین اسلحہ سے لیس فوج بھی نہیں کر سکتی۔ اور وہ بھی اہل کفر کے گھر میں داخل ہو کر ، انہی کے نئے سال کی آمد پر، انہی کی عورتوں کو نشانہ بنا کر جو فقید المثال کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے، اس پر ان سب مبلغوں کو اپنی دستار فضیلت بلند کر لینی چاہئے جو دیار کفر اور کافروں کی کمزوری، بے غیرتی، بے حیائی، لادینیت اور اخلاقی زوال کے بارے میں ہر خطبے اور واعظ میں اپنے نوجوانوں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ تا کہ جونہی دشمن کی ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر برتری حاصل کرنے کا موقع نصیب ہو تو اسے ضائع نہ کیا جائے۔

Police officers patrol in front of the main station of Cologne, Germany, on Wednesday, Jan. 6, 2016. More women have come forward alleging they were sexually assaulted and robbed during New Year’s celebrations in the German city of Cologne, as police faced mounting criticism for their handling of the incident. (AP Photo/Hermann J. Knippertz)

آفرین تو ان استادوں ، ماہرین عمرانیات اور رہنماﺅں کے لئے بھی ہے جو ہر دم نئی نسل کو ذہنی اور عملی طور پر اس عظیم مشن کے لئے تیار کرتے رہتے ہیں۔ ان عظیم اور انتھک کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ہر مسلمان بچہ ہر دم شہوت سے بھرا جنسی درندگی پر آمادہ و تیار رہتا ہے۔ خاص طور سے جب ان کی تربیت کی گئی ہو کہ جب تم یورپ کے دیار کفر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاو¿ تو دیکھو گے کہ ان لوگوں کی عقل پر پردہ پڑ چکا ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنی عورتوں کو بے پردہ کر دیا ہے۔ اب وہ کم عقل جنس کسی قدر و قیمت کے بغیر دستیاب ہے۔ بس جاﺅ اور اپنا حق حاصل کر لو۔

یہ سبق جو اس ملت کے ہر نوجوان کی گھٹی میں ڈال دیا گیا ہے کہ عزت کا تعلق بس اس ٹینٹ نما شے سے ہے جس میں مسلمان خواتین کو محبوس کر دیا گیا ہے۔ اور جو اس غیر فطری قید سے باہر نکلنے کا حوصلہ کریں، ان کا شکار واجب ہے۔ یہی تو موقع ہے جب قوت مسلمان کو اپنے اظہار کا موقع ملتا ہے۔

دیکھو ابھی تو صرف ایک ہزار نے ایک شہر میں اس تعلیم اور سماجی تربیت کا مظاہرہ کیا ہے جو نسل در نسل اس ملت کو عروج کی منازل سے روشناس کروانے کے لئے دی گئی ہے۔ کیا ہاہا کار مچی ہے۔ کیسا غل ہے۔ چہار طرف سے اسلام کے ان سپاہیوں کی ہمت اور حوصلے کے چرچے ہیں۔

یہ ایک باپ ہے
اور یہ شوہر بھی ہے
تم کیا کہنا چاہتے ہو

میں تو اپنی بیٹی اور بیوی کے ساتھ سال نو کا جشن دیکھنے گیا تھا۔ اچانک درجنوں نوجوانوں کے ایک گروہ نے مجھے دھکا دیا اور میری بیٹی اور بیوی کو گھیرے میں لے لیا۔ میں اپنی جگہ چلاتا رہا اور گھیرے کے اندر وہ دونوں شور مچاتی اور حملہ آوروں کو دھتکارتی رہیں۔ وہ بھوکے درندوں کی طرح ان دونوں کو نوچ رہے تھے۔ لگتا تھا جنگل سے جانور کسی آبادی میں داخل ہو کر بدحواس ہو گئے ہیں۔ انہیں تو یہ لحاظ بھی نہیں تھا کہ وہ دونوں ماں بیٹی تھیں۔

وہ انسان نہیں لگتے تھے۔ وہ وحشی اور بے حس تھے۔

ہاں وہ انسان کہاں تھے۔ وہ تو خدائی فوجدار تھے۔ وہ تو دشمن کو للکارنے اور شکست دینے آئے تھے۔

آپ کون ہیں؟

پولیس کمشنر۔ جن کو نوکری سے نکال دیا گیا۔ آپ کے ساتھ کیا بیتی۔

میں اس رات کنٹرول روم میں تھا۔ میں نے ساری زندگی ایسا بھیانک منظر نہیں دیکھا۔ یہ لوگ نجانے کس مٹی کے بنے تھے۔ وہ غول کے غول لڑکیوں پر جھپٹ رہے تھے۔ انہیں تنہا کر کے گھیرتے اور ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے۔

00ہم نے پولیس کی ساری گشتی پارٹیاں شہر کے اس حصے میں روانہ کیں جہاں یہ المناک حادثے رونما ہو رہے تھے۔ لوگوں کا ہجوم تھا۔ پولیس بے بس تھی۔ یہ گروہ لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر تیزی سے غائب ہو جاتے اور ہجوم کے کسی دوسرے حصے میں ایک ویسا ہی گروہ پھر نمودار ہو جاتا۔
مجھے پولیس کی ناکامی پر افسوس ہے۔ مگر ہم اس طرح کے جرائم کے عادی نہیں ہیں۔ جرمنی میں عورتوں کے ساتھ احترام کا سلوک کیا جاتا ہے۔

میں ایک ماں ہوں اور ایک نرس بھی ہوں۔
میں نے 6 ماہ کی چھٹی لے کر یونان میں سمندر سے پرخطر سفر کر کے پناہ کے لئے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک پرائیویٹ تنظیم کے ساتھ کام کیا ہے۔ یہ لوگ جن میں بچے عورتیں اور جوان سب ہی شامل تھے، زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر یونان پہنچتے تھے۔ ہم لوگ انہیں ضروری علاج ، خوراک ، کپڑے اور سونے کی جگہ فراہم کرتے۔ تا کہ وہ آگے روانہ ہونے کے قابل ہو سکیں۔

میں کرسمس کی چھٹیاں منانے جرمنی واپس آئی تھی۔ اس رات میری پندرہ اور سولہ برس کی دو بیٹیاں نئے سال کے جشن میں شریک ہونے گئی تھیں۔ اس رات سے میں نے ان کے زخموں پر اتنے پھاہے رکھے ہیں کہ میرا اپنا دل ریزہ ریزہ ہو گیا ہے۔
اب میں کسی زخمی ، کسی محتاج ، کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کے قابل نہیں ہوں۔
میری چھوٹی بیٹی مجھ سے کہتی ہے: ” ماں تم نے ان لوگوں کی مدد کی تھی۔ یہ تو جانور ہیں۔ یہ تو یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ہم کمسن ہیں اور صرف خوش ہونے اور آتش بازی دیکھنے وہاں گئی تھیں۔“

ایک سیاستدان۔ ایک انتہا پسند۔ ایک سماجی کارکن۔ ایک استاد۔ ایک وکیل۔ ایک جج۔ ایک دکاندار۔ اور کون کون
کس کس کا قصہ سنو گے۔

یہ سب حیران ہیں۔
ہم نے ان درندہ صفت لوگوں کو انسانیت کے ناطے پناہ دی ہے۔

مجھے وہ نارویجئن لڑکی یاد آتی ہے جس نے 40 برس قبل مجھے بتایا تھا: ”میں اس علاقے میں جانے سے گریز کرتی ہوں جہاں پاکستانی مرد اکٹھے ہوتے ہیں۔ ان میں ہر مرد کی نگاہ میں اتنی حرص ہوتی ہے گویا وہ مجھے بھنبھوڑ رہا ہو۔ میرا جسم نوچ رہا ہو۔ میں اس تصور ہی سے ڈر جاتی ہوں۔“

اور وہ لڑکی جو اس بات پر حیران تھی کہ اس کا مسلمان بوائے فرینڈ اسے سور کا گوشت کھانے سے منع کرتا ہے۔ کیونکہ پھر اسے بوسہ لیتے ہوئے کراہت ہوتی ہے۔ اس صاحب ایمان نے بتایا تھا کہ سور کا گوشت اسلام میں حرام ہے۔ کیونکہ اسے کھانے سے انسان بے غیرت ہو جاتا ہے۔
اس لڑکی نے معصومیت سے مجھ سے پوچھا تھا:
” مگر اسلام میں تو شادی سے پہلے جنسی تعلق استوار کرنا بھی منع ہے نا۔ اگر وہ میرے ساتھ سو سکتا ہے تو میرا سور کھانا کیوں برداشت نہیں کر سکتا۔ “

ان لڑکیوں کو اور اس ماں کو اور اس باپ کو کون بتائے گا کہ مذہب کے ان سپاہیوں نے غیرت ، ایمان اور انسانیت کے تعین کے لئے اپنے معیار استوار کئے ہوئے ہیں۔ جو وقت ، ضرورت اور موقع کی مناسبت سے بدلتے رہتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “فرزندان اسلام اور مغرب کی بے حیا عورتیں

  • 18-01-2016 at 11:55 pm
    Permalink

    مذہب کے ان سپاہیوں نے غیرت ، ایمان اور انسانیت کے تعین کے لئے اپنے معیار استوار کئے ہوئے ہیں۔ جو وقت ، ضرورت اور موقع کی مناسبت سے بدلتے رہتے ہیں۔
    یہ افراد نہ تو کسی مذھب کے سپاھی ھیں اور نہ ھی ان کا شمار اقبال کے شاہینوں مین ھوتا ھے ۔ ہاں البتہ مصنف کے زھنی اخترا ضرور ھیں ۔

  • 19-01-2016 at 3:25 am
    Permalink

    جو بھی فرد کسی بھی فعل میں انتہا کو چھو لے،وہ انتہا پسندہ ہے۔
    داعش اور طالبان نے اسلام کی تشریح میں انتہا سے آگے نکل گئے اور انتہا پسند اور دہشت گرد کہلائے
    بالکل ایسے ہی صاحب مضمون بھی سیکولرزم کی آڑ میں اسلام اور اقبال کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
    یہ فرق کیے بغیر کہ ان انتہا پسندوں کی حرکتوں کا جواز نہ اسلام نے پیش کیا ہے اور نہ اقبال نے۔
    لہذا ،،، مصنف بھی انتہا پسند ہے۔

  • 19-01-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    آپ ضلع گجرات کے دیہاتی علاقوں میں نوجوانوں سے گپ شپ کرکے دیکھ لیں قریب سبھی کا یورپ جانے کا خواب گوری میموں کیساتھ جنسی تعلقات پر گھوم رہا ہوتا ہے۔
    یہ شامی، افغانی اور دیگر دنیا کے اور حصوں میں پناہ لینے کیوں نہی جاتے؟
    اس لیے کہ جنت ارضی تو یورپ میں ہے

Comments are closed.