ہمارا خبط بھارت


Zahoorپاکستان کے خلاف بھارتی سازشیں واضح ہیں اور اس میں کوئی دو راۓ نہیں کہ ہمیں ان مشکلات کا ہمیشہ سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں بھارت کا دفاع مقصود نہیں بلکہ ایک متبادل تجزیہ فراہم کرنا ہے۔ سارا الزام بھارت پر ڈال کر یا پرانے گھسے پٹے بیانئے سنا سنا کر ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسلوں کو تاریخ کی اندھی گلی کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ قوم پرست ہونا ایک احسن عمل ہے  مگر ایک ہی فریم ورک میں بیٹھے رہنے سے تنگ نظری کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے اور بظاہر واضح چیزیں دکھائی دینا بند ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ فکری مغالطے ہیں ان سے بلند ہو کر دنیا کو دیکھنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔

جنگوں کی مثال لے لیں، پرانے اخبار اٹھا کر جنگوں کے قصے کہانیاں پڑھ لیں، کچھ ایسا بیانیہ پڑھنے کو ملے گا “بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے جس کے خلاف جب ضرورت پڑی تو کائنات کے خالق نے فرشتے اتار کر ہماری مدد کی۔۔۔۔ مگر المیہ یہ ہوا کہ تقریباً سبھی معرکوں میں ہمیں شکست ہوئی۔ 1965 اور 1971 کی مثال لے لیں۔ اپنی کامیابی کا ذکر پڑھتے پڑھتے جب ہماری نسلیں جوان ہوتی ہیں تو تب کہیں جا کر انہیں پتہ چلتا ہے کہ اصل میں تو کہیں بمشکل جنگ بندی اور کہیں ہتھیار پھینکنے والا معاملہ ہوا تھا۔ پھر شملہ کے راستے فوجیوں کی واپسی ہوئی۔۔ایک مدت بعد حمودالرحمان کمیشن رپورٹ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ جو عزتوں کے محافظ تھے۔ ان کا کردار بھی کوئی قابل تحسین نہیں تھا۔۔۔۔۔۔ایسے میں مکتی باہنی اور انڈیا کے ذکر سے اپنا منہ لال کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔کارگل کا قصہ پرانا نہیں وہاں بھی معروضی تجزیئے کی جگہ پوائنٹ سکورنگ نے لے لی۔ اپنا قد اونچا کرنے کے لئے اور ایک مدت تک پرویز مشرف کو برا بھلا کہنے کے لئے کارگل کا ذکر ہوتا رہا۔

ہم جنگیں جیتے یا ہارے اس پر بحث نہیں اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت نے گزشتہ برس بائیس ممالک سے اسلحہ کی خریداری کی مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انڈیا دنیا کا سب سے بڑا ڈیفنس گڈز ایکسپورٹر بننے کا خواہشمند ہے اور یہ بھی کہ جیوپالیٹکس کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے لئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی کا محور و مرکز صرف عسکری سیکورٹی رہے گا یا ہم معیشت پر بھی پر توجہ دیں گے ۔ نیوکلیئر ڈٹرنس کی اہمیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا مگر کیا ہم انڈو-پاک مسائل سے بالاتر ہو کر ملکی مسائل کے لئے کوشش کریں گے؟

انڈین جاسوس کی مثال لیں جو بلوچستان سے پکڑا گیا اور یقیناً ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگر بھارتی میڈیا ہمارے ایک کبوتر پر اتنا شور مچا سکتا ہے تو  ہم نے بھی ان صاحب کی پریڈ کروا کر ٹھیک کیا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا- بلوچستان کا بحران ایک دن میں پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی میڈیا تھیٹر سے حل ہو گا۔ بنگالیوں کے بارے میں توہین آمیز رویہ اب تاریخ کا حصہ ہے لیکن  لفظ بلوچ کی تعریف کے ضمن میں پنجاب کی سوشیالوجی کی معاون کتاب میں جو کچھ درج ہے وہ تو آج کی ہی بات ہے۔  مگر مجھے حیرت نہیں ہوئی کیوںکہ کیمبرج یونیورسٹی کی ایک ریسرچ سٹڈی کے لئے جب میں نے لوگوں سے سوال کیا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار کون ہے تو ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔ جن جن لوگوں نے بلوچستان پر سروے کا جواب دیا ان میں سے تقریباََ سبھی نے اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ریسرچ میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لیا مگر پنجاب میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے خیال میں بلوچ نیشنلسٹ مجرم تھے۔ حقیقت کہیں ان دونوں خیالات کے درمیان میں ہے مگر جس تن لاگے والا معاملہ ضرور سمجھ میں آیا۔۔۔۔

ہندوستانی جاسوس کی طرف واپس آتے ہیں۔ ان دنوں ایرانی صدر پاکستان میں تھے اور ساتھ ہی ایران-بھارت دوستی پر سوال اٹھنا شروع ہو گئے۔ ہونا بھی ایسا ہی تھا مگر بدقسمتی سے سارا فوکس ایران کے مسلک کی جانب چلا گیا اور تکفیری فکر اپنا سکور بڑھانے کے چکر میں پڑ گئی۔ -بلوچستان میں افغانستان اور بھارتی جاسوسوں کی گرفتاریوں کی کامیابی کے جشن میں ہم بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں ہم افغانستان کو اپنے پانچویں صوبے کی طور پر ٹریٹ کرتے رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے کیا بلوچستان وسائل کی کمی کا شکار ہے یا ہم اسے ایسا ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ بلوچ عوام کی محرومی مایوسی اور دکھوں کا حل کیا ہے۔ پاکستان آزاد ہوئے مدت گزری۔ باقی صوبوں نے کچھ ترقی کر لی۔ بھارت کو الزام دینے سے پہلے بلوچستان کا UNDP ہیومن ڈویلپمینٹ انڈیکس ہی دیکھ لیں—-اب یہ ایک اور بحث ہے کہ اپنے ملک میں مسائل دیکھ کر ہتھیار اٹھانا کس قدر صحیح یا غلط ہے۔یہاں داخلی مسائل پر توجہ دلانا مقصود ہے۔

ایک اور بحث یہ ہے کہ بھارت اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانے کا خواہش مند ہے۔ توانائی ہماری ضرورت ہے اور تقریباً 75 فیصد فنڈ توانائی منصوبوں کے لئے رکھے گئے ہیں۔ ایک لمحے لئے فرض کرتے ہیں کہ باقی سارے پنجاب کے فنڈز لاہور پر خرچ کرنے کا الزام درست نہیں ہے  تو پھر بھی حکمرانوں کی نا الہی ایک حقیقت ہے جس سے نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی تک تو سارے سٹیک ہولڈرز اس اقتصادی راہداری کے مختلف پہلوؤں پر متفق نہیں۔ ایک طرف حکومت پر حقائق چھپانے کا الزام ہے تو دوسری طرف نومبر 2015 میں سنیٹر داؤد خان اچکزئی نے اسے چائنا-پنجاب اقتصادی راہداری کا نام دے دیا۔ ہم اسے گیم چینجر کہتے نہیں تھکتے مگر آج تک ہم اپنی ملکی معیشت پر اس کے مکمل اثرات کا جائزہ تک نہیں پیش کر سکے۔ سب اندازے ہیں اور وہ بھی حسب منشا

چائنا کے لئے ٹریڈ گوادر سے نہیں شروع ہو گی بلکہ پاکستان میں میں داخل ہوتے ہی ان کے لئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کا ہماری مقامی صنعت پر کیا اثر ہو گا؟ گوادر کا ذکر ہوا تو یہ بھی دیکھئے کہ آج تک وہاں صاف پانی کا مسئلہ ہے۔  کیا یہ بھی ایک بھارتی “سازش” ہے کہ گوادر کے باشندے صاف پانی کو ترستے ہیں؟ جنوری 2016 میں ایک واٹر ٹینکر کی قیمت 12000 تک پہنچ گئی تھی۔۔۔۔سپلائی چین کی اپنی ایک قیمت ہے۔ CPEC پاکستان کے لئے کامیابی کے دروازے ضرور کھولے گا مگر ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور ایک اقتصادی عمل کو سیاسی کھیل بننے سے روکنا ہو گا۔

دنیا بدل چکی ہے اور معلومات ایک کلک کے فاصلے پر پڑی ہے۔ مگر ہمارے مزاج میں تحقیق شامل ہی نہیں یا پھر ہم میں اس کی صلاحیت ہی نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہماری گفتگو مضامین اور تقریریں”جب 1965 میں بزدل دشمن نے رات کے اندھیرے میں ہمیں للکارا تو ہماری” سے شروع ہوتی ہیں اور ہندو کی مکاری پر ختم ہو جاتی ہیں۔ حکومتیں نیشنل انٹرسٹ سے چلتی ہیں اور دوستیاں دشمنیاں مستقل نہیں ہوتیں۔ پاکستان کو بھی اپنی سوچ اس عنوان سے بدلنی ہو گی۔ زیادہ نہیں تو خادمین حرمین شریفین سے ہی کچھ سیکھ لیں کہ جنہوں نے نریندر مودی کو سب سے بڑے سیویلین ایوارڈ سے نواز دیا۔


Comments

FB Login Required - comments