پنجاب پولیس کی بے بسی


obese-shos-a-blot-on-the-face-of-police-force-fجنوبی پنجاب میں ڈا کوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سترہ روزہ کارروائی کے دوران دو درجن کے لگ بھگ پولیس اہلکاروں کو اغوا کرلیا گیا ہے جبکہ سات پولیس افسر شہید ہوگئے ہیں۔ اب ایک جزیرے پر محصور گروہ پولیس اہلکاروں کو رہا کرنے کے لئے سودے بازی کررہا ہے۔

پولیس افسروں کے مطابق دریائے سندھ میں ایک جزیرے اور اس سے ملحقہ ترائی کے علاقے میں محصور چھوٹو گینگ پر قابو پانے کے لئے پولیس آپریشن اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب پولیس نے پیش قدمی کرتے ہوئے ان مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کی۔ لیکن گینگ کے ارکان بہتر ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے اونچائی پر بہتر مقام پر مورچے بھی بنائے ہوئے تھے۔ اس سے قبل پولیس نے گن شپ ہیلی کاپٹر طلب کئے تھے لیکن حکام کی جانب فضائی حملہ کے لئے اس درخواست کا جواب موصول نہ ہونے پر کل راجن پور اور رحیم یار خان کے درمیان محصور گینگ کے خلاف زمینی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ حملہ پولیس کے لئے تباہ کن ثابت ہؤا اور اس کے 6 اہلکار مقابلے میں مارے گئے جبکہ پولیس اور رینجرز کے 25 اہلکاروں کو ڈاکوؤں نے یرغمال بنا لیا۔ اب گینگ کا سرغنہ اپنے ساتھیوں کی رہائی اور اس علاقے سے با حفاظت نکلنے کا مطالبہ کررہا ہے۔ سترہ روز سے جاری پولیس آپریشن جس میں چار سے پانچ ہزار پولیس افسر اور جوان شریک ہیں، گزشتہ اڑھائی ہفتے سے اس گینگ پر قابو پانے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن انہیں اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق چھوٹو گینگ کے محصور افراد کی تعداد ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان کے اہل خانہ بھی اس گروہ کے مردوں کے ہمراہ ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

پولیس کے اس ناکام آپریشن سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ پنجاب پولیس کو مجرموں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کرنے کی تربیت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس مناسب ہتھیار اور ساز و سامان موجود ہے۔ اس کے علاوہ منصوبہ بندی اور آپریشن کا نتیجہ حاصل کرنے کی صلاحیت بھی مفقود ہے۔ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے پاس کثیر وسائل ہیں لیکن اس کی پولیس کی یہ ناکامی اور پسپائی صوبائی حکومت کے لئے لمحہ فکر ہونی چاہئے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ صوبے کی پولیس کے بھی نگران ہیں، لیکن وہ اسمبلی کے اندراور باہر شریف فیملی سے وفاداری ثابت کرنے میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ انتظامی معاملات پر ان کی گرفت انتہائی کمزور ہے۔

جنوبی پنجاب طویل عرصہ سے جرائم پیشہ اور دہشت گرد عناصر کا گڑھ بنا ہؤا ہے۔ لیکن پنجاب حکومت نے مسلسل ایسے گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے یا فوج کی مدد لینے سے گریز کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ، چھوٹو گینگ کو بعض دہشت گرد عناصر کی اعانت بھی حاصل ہے جبکہ ایک خبر یہ بھی ہے کہ اس گینگ کے سربراہ نے پولیس کی بجائے فوج کے سامنے سرنڈر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پولیس خود جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کرتی ہے اوران کے خلاف اقدام کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہے۔ اس طرح معاشرے کے لوگوں جن میں بعض سرکش گروہ بھی شامل ہوجاتے ہیں اور پولیس کے درمیان بد اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امن و مان کی بحالی اور جرم کے خاتمہ کے حوالے سے یہ سنگین صورت حال ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے جنوبی پنجاب کو چھوٹو گینگ کے علاوہ دیگر انتہا پسند اور مسلح گروہوں سے نجات دلائی جائے ۔ اس کے بعد پولیس کی تنظیم نو کا کام فوری طور سے شروع کیا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali