یہ جرمانے کے چند ٹکوں کی بات تھی


wisi 2 babaعزت ماب چیف جسٹس فرماتے ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیوں نے غلطیاں کی ہیں۔ جناب آپ کیوں بول رہے ہیں۔ آپ کے فیصلے کیوں نہیں بول رہے۔ اب کیا آپ کو بھی بتانا پڑے گا کہ آپ کا بولنا نظرانداز نہیں ہو سکتا۔ آپ کا منصب فیصلے صادر کرنے کا ہے۔جب آپ ایسا کہیں گے تو پھر پوچھنا تو بنتا ہے۔ آپ کی ناک کے نیچے یہ غلط پارٹیاں کر کیا رہی ہیں۔

عثمانی سلطان سلمان عالیشان کا دور تھا شاید جب اس کی سلطنت سے ایک سفیر نے اپنی حکومت کو خط لکھا تھا۔ اس نے کہا کہ  ہمارے ہاں مقدمے چلتے رہتے ہیں عثمانی سلطنت میں بس فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ فیصلے ہوتے رہنا ہی عثمانیوں کے عروج کا دور مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں  بس مقدمے ہی چلتے رہتے ہیں۔ الزام لگتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے پر دعوے کئے جاتے ہیں۔ نہیں ہوتا تو فیصلہ نہیں ہوتا۔

ہمارے مائینڈ سیٹ کا مسئلہ ہے۔ ہم قانون سازی کرتے ہیں تو مقصد عبرتناک سزائیں دینا ہوتا ہے۔ جب انہی قوانین پر مقدموں کی بنیاد اٹھائی جاتی ہے تو نہ جج نہ وکیل اکثر اوقات مدعی سمیت کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اتنی سخت سزا ہو۔ جج تو ایسا کر کے اپنی انسانیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ وہ واقف ہوتے ہیں کہ یہاں مقدمے جعلی ہوتے ہیں۔ جیلوں میں لوگوں کی اصلاح کم ہوتی ہے۔ جیل میں جرائم کرنے کے کورس ہی ہوتے ہیں۔

مدعی اس پر ہی راضی ہو جاتا ہے کہ اس کے مخالفین تھانے کچہری میں خجل و خوار ہیں۔ وکلا کی روٹی ان تاریخوں سے بندھی ہے جو مقدمات میں سائیلین کی قسمت سے باندھ دی گئی ہیں۔ اگر تاریخیں نہ ملا کرتیں، فیصلے ہوا کرتے۔ اگر ہتک عزت کے کروڑوں کے دعوے ہی نہ ہوتے رہتے، کبھی ان مقدمات میں لاکھوں یا ہزاروں روپے کی سزائیں ہی دے دی جاتیں۔ ایسا ہوتا تو ہم ایک زیادہ بہتر ماحول میں زندگی گزارتے۔

ہماری قومی اسمبلی نے سائیبر کرائیم ایکٹ منظور کر لیا ہے۔ اس میں ہولناک سزائیں ہیں۔ چودہ سال کے بچوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ ہمارے یہاں تو سوشل میڈیا پر ابھی اظہار کی آزادیوں کو محسوس کرنا ہی شروع کیا ہے لوگوں نے۔ ان کے لئے اتنے سخت قوانین کی ضرورت ہر گز نہیں تھی۔ بچوں کو تو استثنیٰ مل گیا لیکن ان بڑوں کا کیا سوچا گیا جن کی سوچ اور طریقہ اظہار میں ناپختگی پائی جاتی ہے۔

ہم لوگ تو موٹر وے پولیس کے دو سو روپئے جرمانے سے تیر کی طرح سیدھا چلنے والے لوگ ہیں۔

چودہ سال قید ایک کروڑ روپے جرمانے والے قوانین ضرورت سے زیادہ سخت ہیں۔ کم از کم سزاؤں والے قوانین بھی ہرگز نرم نہیں کہے جا سکتے۔ اکیس قسم کے جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان جرائم پر قید اور جرمانوں کی سزائیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایم این اے عارف علوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بل کی تیاری میں بہت محنت کی۔ علوی صاحب سے بھی زیادہ کپتان کو ضرورت تھی کہ اس بل کو زیادہ سنجیدگی سے لیتا۔ اس کی اصل پاور بیس ہے ہی سوشل میڈیا۔

ہم لوگوں کو اگر اپنا سمجھیں پھر قانون سازی کریں۔ ارکان اسمبلی یہ خیال رکھیں کہ وہ اپنی طاقت ووٹر سے حاصل کرتے ہیں۔ جہاں سے طاقت لیتے ہیں اسی کے بارے قانون سازی کرتے ہوئے مطلوب حساسیت کا بھی مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سائبر کرائم بل جس شکل میں منظور ہوا ہے، اس سے یہ امکان بڑھ گیا ہے، کہ سرکار اس کو اپنے مخالفین کے ساتھ حساب کتاب کرنے کے لئے استعمال کرے۔

ایک سادہ سا نظام وضع کیا جاتا۔ کوئی ریگولیٹری اتھارٹی بناتے۔ دہشت گردی والے جرائم کو الگ رکھا جاتا۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی شکائیت آن لائیں درج کرانے کی سہولت ہوتی۔ فوری فیصلے کرنے کا سسٹم بنایا جاتا۔ پہلی شکائیتوں پر مختصر جرمانے کئے جاتے۔ کسی کی دوبارہ شکائیت ہونے پر جرمانوں کو بڑھایا جاتا۔ عادی ملزموں کے لئے کچھ پابندیاں لگا دی جاتیں۔ ان کے لئے نیٹ کا استعمال محدود کر دیا جاتا۔

ابھی تو ہم نے مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ حکومت کی کی بھد اڑتی ہے تو کیا ، حکومت بھی تو اپنی ہے لوگ بھی تو اپنے ہی ہیں۔ پہلی بار خواتین کو، لڑکیوں کو ایک موقع بھی تو ملا ہے کہ وہ ایک محفوظ فاصلے پر رہ کر لوگوں کو جانیں، آگہی حاصل کریں۔ اگر ہمارے مذہب پسند لوگوں کا یا ہمارے لبرل حضرات کا انداز جارحانہ ہے تو کیا، وہ نزدیک بھی تو آ رہے ہیں۔ یقینا تجاوز ہوتا ہے۔ سائیبر ورلڈ میں ایسا بہت کچھ ہوتا ہے کہ بات جرم کے دائرے میں پہنچتی ہے۔ پھر بھی قانون سازی کا آغاز نرم جرمانوں سے ہونا چاہئے تھا۔

یہ جرماںوں کے چند ٹکوں کی بات تھی۔ یہ قانون صرف جرمانوں تک ہی رہتا تو وقت کے ساتھ حکومت کی رٹ مستحکم کردیتا ۔ ہم سب بھی سیکھ جاتے کہ کوئی ہے جہاں شکایت ہوتی ہے، داد رسی ہوتی ہے اور ازالہ بھی۔ پر شکایت کیا کریں کس سے امید رکھیں۔ جہاں چیف جسٹس کے فیصلے گونگے ہیں جب کہ وہ خود بار بار بولتے سنائی دیتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “یہ جرمانے کے چند ٹکوں کی بات تھی

  • 15-04-2016 at 12:48 pm
    Permalink

    جیو وصی بابا! سچ بتاؤں مجھے تمہاری اور کاکڑ کی طنزومزاح سے مبرّا سنجیدہ تحریریں زیادہ بھاتی ہیں۔

    • 18-04-2016 at 10:29 pm
      Permalink

      ڈاکٹر صاحب آپ کو ہمارا کچھ لکھا پسند آئے تو ہمارے پیسے پورے ہو جاتے ہیں ۔ کاکڑ البتہ ضرور آپ کی طرف کوئی حساب نکال سکتا ہے ۔ خوشی ہوئی آپ کا تبصرہ پڑھ کے

Comments are closed.