ضرب ٹویٹ، تقسیم کی حرکت اور تفریق کے ہندسے


 

\"husnainمائنس ون فارمولہ کی اصطلاح ہمارے یہاں گذشتہ پانچ چھ سال سے سننے میں آ رہی ہے لیکن اگر غور کیجیے تو  اس فارمولے کا شکار قیام پاکستان سے اب تک ہر بڑی سیاسی جماعت کو بنانے کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ مولانا کوثر نیازی کی نیشنل پروگریسو پارٹی، غلام مصطفی جتوئی کی نیشنل پیپلز پارٹی، ممتاز بھٹو اور حفیظ پیرزادہ وغیرہ کے بہت سے فرنٹ آج کہاں ہیں؟

دور کیوں جائیں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں آصف علی زرداری کے خلاف جتنی تکلیف دہ میڈیا مہم وطن عزیز میں چلی، شاید ہی اس کی مثال ہم دوبارہ کبھی دیکھ سکیں۔ ایک صاحب تو نام خدا ایسے بھی ہیں جو پانچ سال تک ٹی وی پر بیٹھے زرداری حکومت کے خاتمے اور قیامت آنے کی تاریخیں دیتے رہے لیکن اول الذکر اپنے وقت پر ختم ہوئی اور ثانی الذکر کا وقت جاننا انسانی فہم سے بہرحال بالاتر ہے۔ ان کی اور شیخ رشید صاحب کی پیش گوئیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو ہر روز \’کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور\’ والی صورت حال رہتی ہے۔

ایم کیو ایم کے ساتھ بھی یہی کرنے کی کوشش جاری ہے۔ الطاف حسین کے شدید بیمار ہونے کی خبریں اڑائی گئیں، ان کے خلاف طرح طرح کے مقدمے بنائے گئے، سکاٹ لینڈ یارڈ والے بے چارے جہاں تک ساتھ چل سکتے تھے، وہ بھی چلے، لیکن پھر بھی الطاف حسین مائنس نہ ہو سکے۔ مصطفی کمال آئے، عجیب و غریب بلکہ طفلانہ طور سے ان کی لانچنگ ہوئی، یعنی ایسے میلے لگے کہ پہلے دن ہی تاڑنے والوں کی نگاہ جان گئی کہ استاد یہ محفل جو آج لگی ہے، اس محفل میں سب ہی نازل کیے گئے ہیں کوئی ایک بھی بغیر کسی باقاعدہ پلان کے نہیں آیا۔ تو وہ بھی کچھ پہاڑ نہیں توڑ پائے۔ یادش بخیر! عمران خان بھی اسی مائنس ون کے چکروں میں رہے، ولایت جا کر مقدمے کرنے کا اعلان بھی کیا، کراچی کے لوگوں کو خوف سے نجات دلانے کا بیڑہ بھی اٹھایا اور نہ جانے کیا کیا الٹے سیدھے داو پیچ کیے، نتیجہ اس سب کا حالیہ ضمنی الیکشن میں آپ نے دیکھ لیا۔ الطاف حسین اپنی جگہ پر ہیں بلکہ دو تین ہفتے پہلے باقاعدہ ایک پارٹی میٹنگ میں اپنے کارکنوں کے ہمراہ خوشحال رقص کرتے بھی دکھائی دئیے۔

آج کل یہ بلا میاں نواز شریف کے سر ہے۔ اس حد تک صورت حال پیچیدہ کر دی گئی ہے کہ خادم اعلی شہباز شریف کو ٹویٹ کی صورت وضاحت دینی پڑی جس میں انہوں نے واضح طور پر بڑے بھائی کے خلاف کبھی نہ چلنے کا عندیہ دیا اور اپنے تعلق کی مضبوطی کا عزم دہرایا۔ مریم نواز کا بھی ایک ایسا ہی بیان  آیا اور بہ صورت ٹویٹ آیا کہ خاندان میں کوئی گڑبڑ نہیں، کوئی گروہ بندی نہیں اور ہم سب اکٹھے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ دونوں بیانات کے ساتھ ایک تصویر بھی ہر جگہ نظر آئی جس میں وزیر اعظم لندن رخصت ہونے سے پہلے اپنی والدہ کے ہاتھ چوم رہے ہیں۔ جب تک شریف برادران کے والد حیات تھے تب تک اہم ترین فیصلے باقاعدہ ان کی موجودگی اور رضامندی کے ساتھ مشروط ہوتے تھے۔ ایسی کوئی افواہ اڑتی تو ان کا ایک بیان سب بھائیوں کا اتفاق برقرار رکھنے کو کافی و شافی سمجھا جاتا، آج نظر آنے والی یہ تصویر اسی روایت کی توسیع نظر آتی ہے۔

ایک دل چسپ امر یہ ہے کہ جیسے جیسے دن گذرتے جاتے ہیں، نان سٹیٹ ایکٹرز کے جوہر کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور باوجود سیاسی لبادہ اوڑھنے کے، ان کی حقیقت سب کے سامنے آتی جا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور بلاول زرداری کے حالیہ بیانات بہت امید افزا ہیں اور سیاست کی بساط بہرحال بچھائے رکھنے کے آرزو مند بھی۔ بلاول کا موقف کہ پانامہ لیکس میں لگائے گئے الزامات کے ثابت ہونے تک نہ تو دھرنے کی حمایت کریں گے اور نہ ہی وزیر اعظم سے استعفی مانگیں گے، سیاسی بلوغت کا ثبوت دیتا ہے۔ مولانا نے بھی بغیر سوچے سمجھے کمر باندھ لینے والوں کو پیغام دیا ہے کہ بھئی جان تو لو کہ یہ پانامہ لیکس کیا کہتے ہیں، الزامات ہیں یا ثبوت ہیں، پھر بات کرو۔ اور یہ بھی کہا کہ وہ اس معاملے میں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم کا رد عمل  بھی جمہوری رہا، سینیٹ میں تحریک التوا جمع کروا دی گئی اور فالتو بیان بازی سے پرہیز کیا گیا۔

گویا وہ سب جماعتیں جو مائنس ون فارمولے کا تختہ مشق بنتی رہیں اور زیر بحث معاملے کی نوعیت جانتی ہیں۔ وہ تمام اختلافات کے باوجود نواز حکومت کے ساتھ ہیں اور جو ہمیشہ سے جمہوری عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے آئے وہ آج بھی الگ ہیں۔

تعصبات کی عینک اتار کر فیصلہ کرنے کے لیے یہ وقت بہت اہم ہے۔ کہہ لیجیے کہ ایک لٹمس ٹیسٹ آپ کے پاس موجود ہے۔ وہ جماعتیں جو پہلے سورج مکھی کی مانند اسلام آباد کی طرف منہ اٹھائے رکھتی تھیں وہ اب مایوس ہو کر اس ایک نکتے پر پیالی میں طوفان اٹھانے کے درپے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

کالم کی دم؛ سیاست دانوں کا بیرون ملک جانا ہمیشہ افواہوں کا باعث بنتا ہے، لیکن جب ان کی خواب گاہیں تک محفوظ نہ ہوں (اور یہ المیہ ساٹھ ستر کی دہائی کا ہے) اور موجودہ صورت حال میں جب کہ ایپل فون کا ڈیٹا بھی ڈی کرپٹ کر لیا گیا ہے،  شاید بیرون ملک اہم ملاقاتیں وقت کی ضرورت ہیں۔ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئیے اور انہیں بھی ڈاکٹری معائنوں کے بہانے ختم کر دینے چاہئیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 320 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “ضرب ٹویٹ، تقسیم کی حرکت اور تفریق کے ہندسے

  • 14-04-2016 at 7:27 pm
    Permalink

    ماشااللہ ، حسنین جمال صاحب ، پاکستانی موجودہ بلکہ پاکستانی ابدی سیاست کا خوب نقشہ کھینچا آپ نے ،
    شاید کوئی تیسری قوت ہے جو سیاست دانوں کو ناکام ثابت کرکے جمہوریت کو ہی ناکام ثابت کرنا چاہتی ہے ،
    چیدہ چیدہ لفافہ صحافی بھی اس کار خیر میں برابر کے شریک ہیں ،

    ( آخر میں ایک عرض ، آئی فون کا ڈیٹا ڈی کرپٹ نہیں ریکوور کیا گیا ہے ، آئی فون ڈیٹا کا ان کرپٹ کرتا ہی نہیں )

Comments are closed.