لبرلزم یا جذباتی اقدام


sarfraz rajaسرفراز راجہ

پاکستان میں معاشرتی روایات کے خلاف بات کرنا ان دنوں فیشن بن چکا ہے کوئی ایسی بات جس میں سے تھوڑا سا شر یا تنقید کا پہلو نکلتا ہو فوری طور پراس پر ہاہا کار مچ جاتی ہے اور ایک خاص طبقہ اس کی طرف ایسے کھنچا چلا آتا ہے جیسے صحرا میں بھٹکا ہوا مسافر سرابوں کے پیچھے دوڑتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ سرابوں کے پیچھے دوڑنے والے مسافروں کو سوائے ریت پھانکنے کے کچھ اور نہیں ملتا بالکل اسی طرح اس طبقے کو بھی تھوڑی سی تگ و دو کے بعد سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ہر معاشرے میں بعض روایات پر ایک خاص قسم کی خاموش مفاہمت موجود ہوتی ہے جسے ہر شخص خود بخود ہی سمجھ لیتا ہے اور اس پر واویلا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ یہ روایات صرف خواتین کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہوتیں بلکہ حضرات بھی اس پر عمل کرتے نظر آتے ہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ مر د حضرات نے نعرے لگائے ہوں کہ ہمارے پوشیدہ مسائل بھی میڈیا پر ڈسکس کیے جائیں اور لوگوں کو بر سر عام ان کے بارے میں سبق پڑھائے جائیں لیکن کچھ خواتین ان اقدار کو توڑنے پر ہمیشہ ہی مصر نظر آتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ کسی نہ کسی طرح توجہ حاصل کی جاسکے ۔

گزشتہ دنوں نجی جامعہ کی طالبات کی طرف سے چلائی گئی ایک پراجیکٹ کیمپین کافی زیر بحث ہے ، جہاں اس پر تنقید ہورہی ہے وہیں کچھ لوگ اس کی توصیف میں بھی لگے ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ اس کو طالبات کی اس نادیدہ بہادری سے تعبیر کررہے ہیں جو آنے والے دنوں میں ان کے بچوں کی تربیت میں ان کیلئے مددگار ثابت ہوگی تو کچھ لوگ ان کی اس بات پر تعریف کررہے ہیں کہ انہوں نے اس موضوع کو منتخب کیا جو بالعموم زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ ہوا کچھ یوں کہ نجی یونیورسٹی کی طالبات کے ایک گروہ نے نعرہ مستانہ بلند کیا اور اپنے لبرل ہونے کا ثبوت دینے کیلئے خواتین کے حیض سے متعلق ”سینیٹری نیپکن “ پر کچھ پیغامات لکھ کر یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں کیے جن پر لکھا ہوا تھا مجھ میں کوئی خرابی نہیں ہے نہ ہی میں ناپاک ہوں۔ مجھے شرمندہ کیوں ہونا چاہیے؟،مجھے چھپایا کیوں جا رہا ہے؟ ، میں خاکی لفافہ کیوں استعمال کروں؟،مرد کنڈوم سے شرمندہ نہیں تو میں نیپکن سے کیوں شرمندہ ہوں؟۔ اس کے علاوہ انہی بہادر طالبات نے اپنی سفید قمیضوں پر سرخ نشان لگائے اور لڑکوں کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کیں تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔

مگر رکیے جناب ! کیا وہ طالبات واقعی بہادر تھیں یا ان کی طرف سے چلائی گئی کیمپین صرف ایک جذباتی اقدام تھا۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی اردو اخبارات نے اس کے متنازعہ موضوع کی وجہ سے خبروں کی زینت بنانے سے گریز کیا تاہم کچھ انگریزی روزناموں اور ایک بھارتی اخبار نے اس پراجیکٹ کی خبر بڑے تعریفی انداز میں لگائی ۔ بھارت میں خبر شائع ہونے کے بعد ایک پاکستانی نیوز ویب سائٹ نے تھوڑی سی ہمت دکھا کر اس پراجیکٹ کی خبر کو اپنے روزانہ کے شیڈول میں شامل کرلیا۔ ابھی خبر شائع ہوئے چند گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ کیمپین چلانے والی بہادر لڑکیوں کی گروپ لیڈر کا فون آگیا جو ایک سب ایڈیٹر نے سنا۔ فون سننے والے سب ایڈیٹر کا بیان ہے کہ پراجیکٹ کے ذریعے اپنی بہادری اور بولڈنیس کا ثبوت دینے والی محترمہ نے فون پر منتیں اور فریادیں شروع کردیں اور کہا کہ” ہم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ، ہمارے پروجیکٹ کو غلط رنگ دیا گیا ہے اور لوگ ہمارے مقصد کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں جب سے آپ نے ہمارے پراجیکٹ کی خبر لگائی ہے تب سے ہمارے پاس رشتہ داروں ، دوست احباب اور یونیورسٹی انتظامیہ کے فون کالز آنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، اس ایک خبر کی وجہ سے ہم تو معاشرے میں ”پورن سٹارز“ بن کررہ گئی ہیں ، مہربانی فرما کر ہمارے اوپر احسان کریں اور اپنی ویب سائٹ سے یہ خبر ہٹادیں“۔

سب ایڈیٹر کو جب کچھ سجھائی نہ دیا تو اس نے اپنے شفٹ انچارج کے سامنے فون رکھ دیا جس نے ”بہادر لڑکی“ سے کہا کہ” ہم نے آپ کی خبر کو کسی قسم کا غلط رنگ نہیں دیا بلکہ مثبت انداز میں پیش کرکے لوگوں کو آپ کے اٹھائے گئے مسئلے کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے، آپ نے اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر بڑے فخریہ انداز میں اپنے پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی تصاویر شیئر کی ہیں اور ہم نے جس اخبار کی خبر کا ترجمہ کیا ہے اس کا باقاعدہ حوالہ دے دیا ہے جبکہ ہماری خبر میں آپ کی تصویریں بھی نہیں دی گئیں ادارے کی پالیسی کے مطابق ایک بار شایع شدہ خبر ہٹائی نہیں جاسکتی “۔ شفٹ انچارج سے ٹکا سا جواب سننے کے بعد ’بہادر لڑکی ‘نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردیا اور خدا رسول کے واسطے دینے شروع کردیے۔ شفٹ انچارج نے انسانی ہمدردی کی بنا پر ایڈیٹر سے رابطہ کرنے کے بعد خبر ہٹادی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہم کب تک یونہی غیروں کی اندھا دھند تقلید کرتے رہیں گے؟ ان بہادر لڑکیوں کو اس وقت کیوں خیال نہ آیا جب انہوں نے خاموش مفاہمت کو توڑا اورتمام حدیں عبور کرلیں؟ انہیں اخبارات والوں کے ترلے لینے سے پہلے سوچ لینا چاہیے تھا کہ کپڑوں کی مخصوص جگہوں پر سرخ دھبے لگانے سے ہمیں کس قسم کا ردعمل مل سکتا ہے؟

اکثر لوگ یہ رونا روتے ہیں کہ انہوں نے فلاں بات کی تو اس پر گالیوں کا ڈھیر لگ گیا لوگوں نے خوب دل کی بھڑاس نکالی وغیرہ وغیرہ۔ میرے خیال میں تنقید اور گالی ایک ہی کام کرتی ہیں ، دونوں کا موں سے مخالف فریق کا اشتعال میں آنا یا ردعمل دینا فطری امر ہے۔ مثال کے طور پر اخبارات یا الیکٹرانک میڈیا میں سیاستدانوں کے برے کاموں پر تنقید کی جاتی ہے جس کا اکثر اوقات سیاستدان شکوہ بھی کرتے ہیں مگر اس تنقید سے سیاستدان اشتعال میں آکر یا بطور ردعمل عوامی فلاح کے بہت سے کام کردیتے ہیں ۔ پڑھا لکھا مہذب طبقہ رد عمل کیلئے تنقید کا ہتھیار استعمال کرتا ہے تاہم غیر مہذب لوگ اسی تنقید کیلئے گالیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ جب کوئی شخص ” لبرلزم“ کے نام پر معاشرتی اقدار کو چیلنج کرتا ہے تو وہ بھی اپنے انداز میں پرانے یا روایتی خیالات کے لوگوں کو مہذب گالی دے رہا ہوتا ہے ۔ اگر وہ خود مہذب انداز میں تنقید کر رہا ہے تو اسے بھی اپنے عمل کے بعد خود کو ہر طرح کی مہذب و غیر مہذب تنقید کیلئے ذہنی طور پر تیار رکھنا چاہیے یہ نہ ہو کہ دو گالیاں پڑیں اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونا شروع کردیا اور معاشرے پر عدم برداشت کا لیبل چسپاں کردیا۔

اتنی گزارش ہے کہ علم حاصل کرنے کیلئے چین ضرور جائیں مگر اپنے ہاں موجود علم کو سمجھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ غلامانہ بیمار ذہنیت ہے ہمیں جو چیز مغرب کی طرف سے ملتی ہوئی نظر آتی ہے اس پر ہم گِدھوں کی طرح جھپٹ پڑتے ہیں۔ ہمارا خاص طبقہ جتنے جوش و خروش اور شوق سے انگریزی ادیبوں کو پڑھتا ہے اگر اس سے نصف جذبے کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرلیا جائے تو جو جنگ آج کل سوشل میڈیا اور معاشرے میں نظر آرہی ہے وہ اپنی موت آپ مر جائے گی اور معاشرہ عدم برداشت کے طعنوں سے پاک ہوکر صحت مند سرگرمیوں کی طرف بڑھنے لگے گا۔ کسی دن تھوڑی سی فرصت نکال کر قرآن و حدیث نہیں پڑھ سکتے تو کسی فقہ کی کتاب کا ہی مطالعہ کرکے دیکھ لیں جن میں ان کے تمام مسائل کا حل موجود ہوگااور جن مسائل کو یہ چاہتے ہیں کہ وہ حل ہوجائیں وہ انہیں پہلے سے حل شدہ ملیں گے۔ لبرلزم کو جہاں تک ہم نے جانا ہے تو یہی سمجھ آیا ہے کہ دین اسلام سب سے بڑا لبرلزم کا علمبردار ہے جس میں اقلیتوں اور خواتین سمیت ہر ایک کے حقوق مقرر کردیے گئے ہیں لہٰذا لبرلزم کے خود ساختہ نعرے لگا کر معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “لبرلزم یا جذباتی اقدام

  • 14-04-2016 at 7:57 pm
    Permalink

    تقلید ایک اچھا پہلو بھی رکھتی ہے مگر کیا کہیئے ہمارے معاشرے میں اسکا استعمال اس بری طرح سے کیا جاتا ہے کہ اسکو سوچ کر ذھن بھی کُند ہو جاتا ہے۔ ایک اچھی بات ہے کہ آپ مغربی معاشرے کی اچھی چیزوں کی تقلید کریں مگر اس اندھی تقلید میں کم ازکم یہ تو سوچیں کہ اس سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔ ہماری بہنوں نے مغربی معاشرے کی تقلید میں یہ سب کچھ کر تو دیا مگر آنے والے دنوں میں اسکے اثرات کے بارے میں سوچنے کی کوئی توفیق نہیں کی یہی ایک ایسا المیہ ہے جس سے ہمارا معاشرہ متاثر ہے۔میرے زاتی خیال میں ہر ایک اچھی ماں اپنی بیٹی کو اس فطرتی تبدیلی سے آگاہ کرتی ہے اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ ہمارے معاشرے میں ایسی کوئی کج فہمی پائی جاتی ہے اگر ہماری ان بہنوں نے اس مسئلے پر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا ہوتا تواس قسم کےغیر فطرتی مظاہرہ کو ایک علمی دانش گاہ میں کرنے سے اجتناب کرتیں۔ مظاہرہ کرنے والی تمام بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع پر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اسے ان خواتین تک پہنچائیں جو اس سے بے بہرہ ہیں۔

Comments are closed.