چینی بھائیوں کی کردار کشی بند کی جائے


چار اپریل 2018 کو چند فرض شناس چینی ورکرز کو کام کرنے سے روکا گیا تو سوشل میڈیا اس پر ایسے احتجاج کرنے میں مصروف ہو گیا ہے جیسے یہ بھی ریمنڈ ڈیوس ٹائپ آقا ہوں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہم آپ کے سامنے پورا واقعہ رکھتے ہیں اس کے بعد آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ الزام چینیوں کو دینا چاہیے، پولیس کو یا قسمت کو۔

ہم نے جو تحقیق کی ہے اس میں پولیس اور چینیوں دونوں کا موقف معقول لگا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کی رات چینیوں نے ضد کی کہ وہ بازار حسن جانا چاہتے ہیں۔ پولیس نے ان کی حفاظت کے پیش نظر منع کیا کہ دیکھو کوئی بیماری لگوا بیٹھو گے پھر پردیس میں ہسپتال میں پڑے رہو گے۔ ادھر بازار حسن میں لفنگے بھی ہوتے ہیں، کوئی مار پیٹ نہ دے۔ اب چینی اس پر خفا ہو گئے۔ انہوں نے نہایت غم و غصے کا اظہار کیا کہ پولیس والے ان کو کام کرنے اور فرائض ادا کرنے سے روک رہے ہیں۔

حالانکہ دونوں فریق غور کرتے تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ چینی صرف مقامی روایات کے احترام میں جنگل میں منگل منانا چاہتے تھے اور پولیس والے ان کی صحت کی فکر میں ہلکان ہو رہے تھے اور انہیں روک رہے تھے۔ بہرحال چینی اتنے خفا ہوئے کہ کہنے لگے اگر تم ہماری شام رنگین نہیں ہونے دو گے تو ہماری آہ لگے گی اور تم بھی نہ سو پاؤ گے، رات بھر جاگ کر اختر شماری کرو گے۔ اب اگر رات کو کسی نامعلوم مبینہ شخص نے پولیس کیمپ کی بجلی کاٹ دی تو اس کا الزام چینیوں کو نہیں دینا چاہیے بلکہ ان کی روحانیت کی تعریف کرنی چاہیے کہ انہوں نے کس صحت سے مستقبل کا حال بتایا اور پولیس اہلکاروں کی رات ان کی پیش گوئی کے مطابق جاگتے ہوئے اور مچھر مارتے ہوئے گزری۔

اب صبح سویرے پولیس والے تیار ہونے اٹھے تو پتہ چلا کہ بجلی کے علاوہ پانی بھی نہیں ہے۔ وہ تیار ہونے کے لئے بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ دوسری طرف ہوا ایسا کہ کسی وجہ سے رات بھر چینیوں کے پاس بجلی پانی موجود رہے تھے اور وہ صبح سویرے ہی اٹھ کر تیار ہو گئے تھے۔

چینی ہیں اولے درجے کے فرض شناس فرض شناس۔ ضد کرنے لگے کہ رات کو بھی تم نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا اور اب صبح بھی روک رہے ہو۔ ہم تو ہر صورت کام کریں گے۔ پولیس والوں کے ذمے کسی نے یہ فرض لگا دیا ہے کہ وہ چینیوں کو اکیلے کہیں نہ جانے دیں، کہیں ان کو طالبان بوری میں ڈال کر علاقہ غیر نہ لے جائیں۔ چینیوں نے بہت ضد کی تو پولیس والوں نے ان کو احتیاط سے عمارت میں بند کر کے باہر تالے لگا دیے۔

چینی ورزش کے بہت شوقین ہیں اور مارشل آرٹس کے بھی۔ وہ بیکار بیٹھنا بھی نہیں جانتے۔ چنانچہ چینی کمپنی کے پراجیکٹ مینیجر یو لبنگ بذات خود سب کو ورزش کرانے لگے۔ سب سے پہلے تو انہوں نے پاکستانیوں کی یہ غلط فہمی دور کی کہ جاپانی مشینری چینی مشینری سے بہتر ہوتی ہے۔ وہ چھلانگ مار کر پولیس کی ایک جاپانی گاڑی کے بونٹ پر چڑھ گئے اور خوب اچھل اچھل کر قوم سے ایک ولولہ انگیز خطاب کیا۔ چند چینی بھائیوں نے یہ دیکھا کہ پاکستان بھائی تھک گئے ہیں تو پتہ نہیں کہاں سے کرسیاں لے لے کر آئے اور پاکستانی بھائیوں کی طرف پورے جذبے سے پھینکیں کہ بھائی آپ سکون سے کرسی پر بیٹھ جائیں۔

اس کے بعد چینی بھائیوں نے پاکستانی پولیس والوں کو مارشل آرٹس کی مشق کرائی۔ خاص طور پر ککس اچھالنے اور بازو لہرا کر چاپس مارنے کی بار بار پریکٹس کرائی۔ ویسے تو پولیس اہلکار بھی ان کو پولیس کے روایتی طریقہ تفتیش سے روشناس کرا سکتے تھے جسے چینی تادیر یاد رکھتے پر ان کے ہاتھ کسی نادیدہ رسی نے باندھ رکھے تھے۔ بہرحال علم حرب کے اس دوستانہ تبادلے کو اگر کوئی مار پیٹ اور غنڈہ گردی قرار دے رہا ہے تو یہ مناسب بات نہیں ہے۔

اس معاملے کو سی پیک دشمن قوتوں نے اتنا زیادہ اچھالا ہے کہ حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی انکوائری کروانی پڑ گئی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ پولیس نے دل پر کچھ نہیں لیا۔ بلکہ وہ چینی مارشل آرٹس سے اتنے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کہ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ چینی مارشل آرٹس کے پانچ ماہرین کو واپس چین بھیجا جائے تاکہ وہ ان فنون میں مزید مہارت حاصل کریں اور پاکستانی بھائیوں کو اور زیادہ سبق سکھائیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1036 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar