تیسری جنس کی اذیت


\"zeffer05\" مادهو لعل حسین کے میلے میں موت کا کنواں اور اس میں ناچتے ہیجڑوں کو اپنے بچپن میں دیکها تها. زمانہ طالب علمی میں پارٹ ٹائم مزدوری کرتے، ساتهی مزدوروں کے ہم راہ، لالہ موسیٰ، گجرات، گوجرانوالہ، پهالیہ اور کئی شہروں میں موت کے کنووں کا تعاقب کیا. یہ تعاقب کنویں میں ناچتے ہیجڑوں کا تها. مکهو، ریما، افشاں اور جانے کتنے نام، جو اب یاد بهی نہیں ہیں.

وزیر آباد کے نصرت گرلز ہائی اسکول میں سکونت پذیر ہیجڑوں سے بهی ایک سے زائد ملاقاتیں رہیں. میرے ہم راہیوں میں سے \’کچه\’ ہیجڑوں کے عاشق تهے، جنهیں ہیجڑوں کی خفیہ زبان میں \’چامکا\’ کہا جاتا ہے. ہیجڑے کو بهی، ان کی مخصوص زبان میں \’زنانہ\’ کہا جاتا ہے. اسی طرح \’نربان\’ اس ہیجڑے کو کہا جاتا ہے، جو پیدائشی نہیں، آپریشن کے ذریعے اس حالت کو پہنچتا ہے. ہیجڑوں میں بهی \’نربان\’ کو اچها نہیں مانا جاتا. ان کی مته کے مطابق، نربان کسی درخت کے تنے سے لپٹ جاے، تو درخت سوکه جاتا ہے.

اس زمانے کی بہت سی داستانیں ہیں، جنهیں اس صفحے میں سمیٹنا ممکن نہیں. بهول نہیں رہا، تو \’مورت\’ اس ہیجڑے کو کہا جاتا ہے، جو مکمل مرد ہوتا ہے، لیکن عادات و خصائل میں عورت کی نقالی کرتا ہے. ہمارے یہاں تمام نہیں تو اکثر زنانوں کا رزق رقص سے وابستہ ہوتا ہے، یا عمر ڈهلنے پر بهیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں. ان میں \’مورت\’ بال بچے دار ہو سکتے ہیں. اس لیے کہا جا سکتا ہے، یہ دو طرح کی زندگی جیتے ہیں.

\"gender-4_3\"

زنانوں کی مردوں سے شادیاں بهی ہوتی ہیں. نکاح کے بول پڑهاے جاتے ہیں، حق مہر، ماہانہ اخراجات مقرر ہوتے ہیں. اسی طرح طلاقیں ہوتی ہیں. یہ مرد عموما ان کے عاشق یعنی چامکے ہوتے ہیں. شادی کا نیوتا الائچی کی صورت بهجوایا جاتا ہے. ظاہر ہے کہ نیوتا اپنی زنانہ برادری کو بهجوایا جاتا ہے. زنانوں میں عورتوں کے مانند سوتنوں سی رنجش بهی پائی جاتی ہے. ایک کے چامکے میں کوئی دوسرا زنانہ دل چسپی لے، تو وہی منظر ہوتا ہے، جو ایسی دو عورتوں کی لڑائی کی صورت دکهائی دے سکتا ہے. زنانہ اپنے چامکے کو بہ ترین لباس، بہ ترین جوتوں، بیش قیمت گهڑی، اور تمباکو نوش ہونے کی صورت میں منہگی ترین سگریٹ کی ڈبیا تهامے دیکهتا ہے. اگر زنانہ چامکے کی محبت میں گرفتار ہے تو وہ اس کے سب اخراجات بهی برداشت کرتا ہے.

بهکاریوں، منشیات فروشوں، چوروں ڈکیتوں کی طرح، زنانوں کے اپنے اپنے علاقے ہوتے ہیں. علاقے کے سر پنچ کو \’گرو\’ کہا جاتا ہے. گرو بہت با اثر ہوتا ہے، بعض صورتوں میں سب زنانے اپنی کمائی اسی کے پاس جمع کرواتے ہیں. \"genderوہ اس میں سے برابر تقسیم کرتا ہے.

آپ میں سے کسی نے ہیجڑوں کا جنازہ نہیں دیکها ہوگا؟ مذہبی طور پہ میرا علم بهی سنی سنائی بات پر ہے، کہ ہم جنس پرستوں کا جنازہ پڑهانا جائز نہیں. وہ ہیجڑے جو ایسی سرگرمیوں سے دور ہیں، انهیں بهی ہم جنس پرست سمجه کر جنازہ نہیں پڑهایا جاتا. جن کا تعارف میں دے رہا ہوں، انهیں جانے دیں، لیکن دوسروں کے ساته بهی یہ معاشرہ اچها سلوک نہیں کرتا. ہوتا یہ ہے، کہ جب کوئی زنانہ اپنے خالق سے جا ملتا ہے، تو اس کے ورثا (عموما یہ گرو ہی وارث ہوتا ہے) اسے عورت کا جنازہ ظاہر کرتے ہیں. تا کہ چہرہ دکهانے کی نوبت نہ آئے.

عورت کے جنازے میں ہیجڑوں کی موجودی کئی سوال پیدا کر سکتی ہے. اس مسئلے کا حل یہ ہے، کہ ان کے چاہنے والے، جنهیں آپ مرد کہ لیں، ان کا عاشق، یا چامکا. وہ سامنے ہوتے ہیں. بعض اوقات حقیقی شرفا بهی ایسے میں ان کی مدد کر دیتے ہیں. رات کی سیاہی، عورت کا جنازہ، چند سوگ وار صورتیں. گم نام قبر. ان کا المیہ یہ بهی ہے، کہ یہ اپنے ہم جنس کو، اس کی آخری آرام گاہ تک نہیں چهوڑنے جا سکتے.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 126 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

3 thoughts on “تیسری جنس کی اذیت

  • 15-04-2016 at 12:56 am
    Permalink

    یہ پاکستان کے برابر کے قانونی شہری ہیں‌۔ لوگوں‌کو اپنے بچے ان لوگوں‌کو دینے کے بجائے ان کو دیگر بچوں‌کی طرح‌نارمل طریقے سے پالنا چاہئیے اور معاشرے کو یہ تبدیلی لانا پڑے گی۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بچوں‌ کی جنس کیا ہے۔ ہر بچے میں‌ بڑا ہو کر ملک کے کارآمد شہری بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ بچے بھی ڈاکٹر، وکیل، پولیس مین، اداکار یا کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

  • 17-04-2016 at 1:03 am
    Permalink

    ایک ادھورہ، بے ربط اور خام مضمون جس میں دور دور تک عنوان کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دی۔ یہ مضمون اتنا خام تھا کہ اسے ایڈٹنگ سے بھی بہتر بنانا ممکن نہیں تھا۔ ایڈیٹر سے درخواست ہے کہ ایسی تحریروں کو شائع کرنے سے گریز کریں جو مسئلے کی جانب ھمدردانہ توجہ دلوانے میں ناکام ہوں۔

  • 17-04-2016 at 8:25 am
    Permalink

    واہ جناب ، کیا خوب لکھا ہے- اچھی خاصی تحقیق ہے

Comments are closed.